جھجھرکوٹلی حملہ سیکورٹی چوک کاشاخسانہ

   جموں//سکیورٹی کی ناکافی کو لیکر قومی تحقیقاتی ایجنسی( این آئی اے) اب اس بات کولیکر تحقیقات کرے گی کہ آیا گزشتہ روز آپریشن جھجر کوٹلی کے دوران سکیورٹی فورسز کو تین غیرملکی عسکریت پسندوں کو مارگرانے میں سکیورٹی فورسز کو کیوں زیادہ مشقت کرنی پڑی۔قابل ذکرہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز یعنی 13ستمبر کو وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن کے بعد 6گھنٹے کے لمبے عرصے تک چلی معرکہ آرائی میںتین غیرملکی عسکریت پسندوں کومار گرانے کا دعوی کیاہے۔ جو سرحد کے اس پار سے داخل ہونے کے بعد وادی کشمیر کی طرف ٹرک میںروانہ ہورہے تھے۔ این آئی اے بھارت سرکار کی اعلیٰ اوربھرپور اختیارات شدہ ایجنسی ہے جو بھارت میں ملی ٹینسی سے بڑھتے جرائم کی روکتھام اور ملی ٹینسی کے خلاف بغیر کسی اجازت صحیح ڈھنگ سے نمٹ رہی ہے۔ لہذا این آئی اے جموں میں اس طرح کے ٹریرر ماڈیول کا پورے نقطہ نظر سے تحقیقات کرے گی اور پردہ ا

وومن کالج پریڈمیںڈاکٹر شفقت ککروکا لیکچر

 جموں//گورنمنٹ کالج فاروومن پریڈ گراﺅنڈجموں کے زولوجی اوربائیوٹیکنالوجی شعبوں کی جانب سے ایم ایس سی زولوجی اوربی ایس سی بائیوٹیکنالوجی کے طلباءکےلئے پوسٹرمیکنگ پروگرام اورایک گیسٹ لیکچرکاانعقادکیا۔اس دوران طلباءنے بڑھ چڑھ کرپوسٹرمیکنگ میں حصہ لیا۔اس دوران ڈپٹی ڈائریکٹر،ڈائریکٹوریٹ آف انیمل ہسبنڈری جموں ڈاکٹر شفقت ککرونے انڈرگریجویٹ طلباءکولیکچردیا۔اس دوران ڈاکٹرپرگیاکھنہ ،آرگنائزنگ سیکریٹری نے مہمان سپیکرکااستقبال کیا۔ڈاکٹرککرونے ریاست جموں وکشمیرمیں زراعتی سیکٹرکی صورتحال کے بارے میں طلباءکوجانکاری دی۔انہوں نے انیمل ہسبنڈری کے بارے میں خیالات کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ جولوگ انیمل ہسبنڈری اورزراعت کے پیشوں سے منسلک ہیں ان کا ریاست کی معیشت کے فروغ میں اہم رول ہے۔لیکچرکے بعدڈاکٹرپرگیاکھنہ نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔اس موقعہ پر ڈاکٹرہیملااگروال پرنسپل نے زولوجی اوربائیوٹیکنالوجی شعبوں

ادبی کنج کااوپی شرماسارتھی کوخراج

 جموں//ادب و ثقافت سے وابستہ مختلف اہمےّتوں کی عکاسی مےں رےاست جموں و کشمےر مےں واحد کثےر اللسانی ادبی تنظےم ادبی کُنج جے اےنڈ کے جموں کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں مےں گذشتہ روز خصوُصی ادبی و ثقافتی نوعےّت سے اِس ہفتے کی دوسری نِشست کا اِہتمام ہُوا۔ جِس کی صدارت کے فرائض اُردوُاورگوجری کے شاعروگلوکارسروَر چوہان حبےب نے سر انجام دِئے۔ جبکہ نِشست کی نِظامت کے فرائض اُردوُوہِندی کے اُبھرتے شاعر بِشن داس خاکنے انجام دِئے۔نِشست کے نظمی دوَر کا آغازتنظےم کے ادبی سےکرٹری بِشن داس خاک کی اِس تخلےق سے ہوُا ، ’اب بُلندی پر چمک ہے اپنے ادبی کُنج کی ، چار سوُ گوُنجی دھمک ہے اپنے ادبی کُنج کی ‘۔ اُتّم سنگھ ساحل کی غزل تھی ’کب اُجالا ہوا کب اندھےرا ہُوا، کب شام ہوُئی کب سوےرا ہُوا‘۔ شاعر و گلوکار چمن سگوچ نے اپنا اےک دھارمک گےت پےش کِےا ۔ جِس کے بول تھے ’د

جمو ں یونیورسٹی میں تین ہفتوں کے اُردوریفریشرکورس کاافتتاح

  جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کاششماہی ادبی وتحقیقی مجلہ ”تسلسل“ 1998سے مسلسل شائع ہورہاہے۔پروفیسرشہاب عنایت ملک چیف ایڈیٹر ،”تسلسل “کی زیرسرپرستی شائع ہونے والے اِس ادبی وتحقیقی مجلے کااُردوزبان وادب کی ترقی میں نمایاں رول ہے۔ان خیالات کااظہاریہاں پروفیسر گیان چندجین سیمینارہال جموں یونیورسٹی میں شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ تین ہفتوں کے اُردوریفریشرکورس کاافتتاح کرتے ہوئے وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسرایم کے دھرنے کیا۔پروفیسرایم کے دھرنے کہاکہ شعبہ اُردوکایہ اعلان کہ شعبے کے تحقیقی مجلہ ”تسلسل “کوبہت جلدمحبان اُردوکےلئے آن لائن کیاجائے گاخوش آئند ہے ۔انہوں نے شعبہ اُردوبالخصوص پروفیسرشہاب عنایت ملک کومبارکبادپیش کی۔انہوں نے کہاکہ جموں یونیورسٹی ماہرین کوبلاکراُردومیں ہونے والی تحقیقی کام بشمول ”تسلسل‘ کوآن

مانگوں کے حق میںٹیچروں کی سلسلہ واربھوک ہڑتال جاری

 جموں//جموں اورسرینگرمیںٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مطالبات کے حق میں سلسلہ واربھوک ہڑتال جاری ہے۔جموں میں اس ہڑتال کا16 ویں اورسرینگرمیں 12ویں دن میں داخل ہوگئی ہے۔سلسلہ واربھوک ہڑتال کااہتمام ریاستی صدرجے کے آرٹی ٹی ایف کے ریاستی صدرونودشرما،سٹیٹ چیف کوآرڈی نیٹر سکھ دیوسنگھ سمبریااورصوبائی صدر جموں راجیش جموال نے کیاہے۔بھوک ہڑتال میں شامل اساتذہ کاکہناہے کہ ریاستی حکومت کو سرو شکھشا ابھیان کے تحت لگائے گئے اساتذہ کی طرف سوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ساتویں پے کمیشن سے محروم رکھنے کےلئے انتظامیہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معماران قوم کو اس طرح ہڑتال کے لئے مجبور کرنا حکومت کی انتہائی بے حسی کی غماز ہے ۔ انہوں نے گورنر سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملازمین کی طرز پر اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی ادائیگی کے لئے پچھلے چار ماہ سے مسلسل جد و جہد کی ج

اساتذہ کے تئیں انتظامیہ کارویہ باعث تشویش:رانا

 جموں//نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدردویندرسنگھ رانانے ہڑتال پربیٹھے ایس ایس اے ٹیچروں کے تئیں انتظامیہ کے رویے کے خلاف اوران کے ساتھ ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے دھرنے پربیٹھ کرریاستی گورنرانتظامیہ سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ آرای ٹی ٹیچروں کی مانگوں پرہمدردانہ غورکیاجائے ۔اس دوران دویندرسنگھ رانانے سابق پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت پر رہبرتعلیم ٹیچروں کے مسائل کوغیرسنجیدگی سے لینے کاالزام عائد کیا۔یہاں جاری پریس بیان میں دویندرسنگھ رانانے کہاکہ یہ پورے سماج کےلئے تشویش کی بات ہے کہ ہم اساتذہ کوسڑکوں اورگلیوں میں دھرنے اورہرٹالوں پربیٹھ کریوم اساتذہ مناتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اورنوجوانوں کےلئے ان کااحتجاج پراترناتشویشناک ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کواساتذہ کے ساتھ بات چیت کےلئے راستے کھولنے چاہیئے تاکہ ہزاروں ایس ایس اے ٹیچروں اورطلباءکے تعلیمی سا

کشتواڑ سڑک حادثہ: وِیاس نے ہسپتال پہنچ کرزخمیوں کی عیادت کی

 جموں// گورنر کے صلاح کار بی بی وِیاس نے ٹھکرائی سڑک حادثے میں زخمی افرادکی عیادت کرنے کے سلسلے میں میڈیکل کالج بخشی نگر کا دورہ کیا اور وہاں ہسپتال اِنتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جارہی سہولیات کا جائزہ لیا۔مشیر موصوف کے ہمراہ ڈویژنل کمشنر جموں، آئی جی پی جموں ، ڈی سی جموں ، پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور اِنتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی تھے۔زخمیوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مشیر موصوف نے پرنسپل جی ایم سی و دیگر میڈیکل افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام زخمیوں کو ضروری طبی سہولیات مفت فراہم کریں۔اُنہوں نے صوبائی و ضلع حکام سے کہا کہ وہ زخمی مریضوں کے ساتھ رضاکاروں کو تعینات کریںتاکہ ان افراد کی بھر پور خدمت کی جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت اس حادثے میں متاثرین کے حق میں ہر ممکن امداد اور ایکس گریشیا فراہم کرے گی۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر کہ ضلع کشتواڑ میں ٹھکرائی علاقے میں آج یہ

مزید خبریں

بلدیاتی انتخابات کے انعقادکافیصلہ خوش آئند:این سی پی جموں//سابق وزراءاور سینئر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر ٹھاکر رندھیر سنگھ نے اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے میونسپل اوربالدیاتی انتخابات کےلئے طے شدہ شیڈول کے مطابق انتخابات کرائے جانے کے گورنر کے فیصلہ کاخیرمقدم کیاہے۔ انہوںنے اس موقع پر انکشاف کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اورمحبوبہ مفتی اپنی نجی سیاسی مفاد کے خاطر پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات ٹالنے کے فراق میں تھے جبکہ لوکل جمہوری نظام کوتقویت حاصل ہونے کےلئے سرکار مواقع فراہم کرری ہے تاکہ دیہی علاقوں سے لیکر شہروں کی ترقی کویقینی بنا نے کےلئے وافر مقدار میںفنڈز کی الاٹمنٹ کو صحیح اطراف و اکناف میں استعمال ہوسکے ۔ انہوںنے مزید کہاہے کہ آج تک ترقیاتی کاموں کےلئے فنڈز کی واگذاری کی ذمہ داری ممبر پارلیمنٹ اورممبران اسمبلی کے ہاتھوں میںسونپے جاتے تھے ج

تازہ ترین