تازہ ترین

فینٹسی فکشن ۔۔۔ایک تعارف

 فینٹسی فکشن ۔۔۔فکشن کی ایک ایسی صنف ہے جس میں غیر حقیقی واقع یا کہانی کو اس انداز سے بیان یا پیش کیا جاتا ہے کہ قاری مانوس زندگی کے بجائے تصورات کے ایک ایسے جادوئی عالم میں پہنچ جائے جہاں کے کردار چرندوں و پرندوں، پیڑ پودوں،دیووں پریوں یا مافوق الفطرت مخلوق کی صورت میں انسانوں  کی طرح سوچتے اور باتیں کرتے محسوس ہوں اور کبھی خیر وشر کی کشمکش میں اور کبھی طلسم ہوش ربا جیسے کام کرتے نظر آتے ہوں۔اس میں مافوق الفطرت کرداروں کے ساتھ ساتھ انسانی کردار بھی شامل ہوسکتے ہیں لیکن کہانی کا ماحول بہرحال جادوئی فضاء کا حامل ہو۔عام فکشن میں حقیقت کے امکانات موجود ہوتے ہیں جبکہ فینٹسی فکشن میں تخیل کے گھوڑے دوڑاتے دوڑاتے غیر حقیقی واقعات کو کہانی کا روپ دیا جاتا ہے، جو کہ سائنسی نقط نگاہ سے قابل قبول نہیں بھی ہوسکتے ہیں‘جیسے جانوروں، 'پرندوں وغیرہ کو سوچنے سمجھنے یا بول چال کی صل

سرکاری چاول

سداما گزشتہ کئی ماہ سے راشن کے لیے ڈیلر کے دروازے کا چکر کاٹ رہا تھا. اسکی آنکھوں کے سامنے وہ لوگ بھی بوریاں بھر بھر کے چاول لے کر جا رہے تھے جنکی پکے اونچے گھروں میں دو دو گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔ وہ لوگ گاڑیوں پر بوریاں لاد کر لے جایا کرتے ہیں اور آپ مجھے میرے حصے کا چاول کیوں نہیں دیتے؟ سداما نے ڈیلر سے مخاطب ہو کر کہا تو ڈیلر نے جھلاتے ہوئے پھر سے وہی جواب دہرایا جو وہ پہلے سے ہی سداما کو دیتا آ رہا تھا- ارے سداما! کتنی بار کہوں؟ تمہارا نام راشن کارڈ کی لسٹ سے کٹ گیا ہے اور تمہارے حصے کا چاول میرے پاس اوپر سے ہی نہیں آ رہا ہے تو میں تمھیں کہاں سے دے دوں چاول؟ ڈیلر کی بات سن کر سداما ہر بار کی طرح اس بار بھی بس اتنا ہی کہہ پایا - ڈیلر صاحب؟ سرکار نے میرے گھر میں ایسا کون سا خزانہ دیکھ لیا کہ میرا نام لسٹ سے کاٹ دیا گیا اور اجودھی اور گوپال کا نہیں؟ کیا وہ دونوں اتنے

افسانچے

نیچ ’’مالکن ۔۔۔اس لڑکے کا روز روز گھر میں آنا جانا مجھے بالکل پسند نہیں‘‘ ۔ ’’کیا بکواس کرتے ہو،یہ لڑکا تو ہمارے گھر کا فرد جیسا ہے‘‘۔ ’’مالکن ۔۔۔گھر میں بالغ لڑکی ۔۔۔‘‘۔ ’’تم نیچ لوگوں کی سوچ بھی نیچ ہوتی ہے ۔تم ابھی اپنا بوریا بسترا باندھ لو اوردفع ہو جائو اس گھر سے‘‘۔ دو مہینے بعد بازار میں اچانک صابر سے سلمیٰ کا آمناسامنا ہوگیا۔  ’’مالکن ۔۔۔ بٹیا کیسی ہے ؟‘‘ رسمی علیک سلیک کے بعد صابر نے پوچھاتو سلمیٰ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ ’’مالکن ۔۔۔ خیریت تو ہے‘‘ ؟ ’’صابر۔۔۔ اس کم بخت ذلیل لڑکی نے ہمارے عزت مٹی میں ملادی۔۔‘‘۔۔ اس نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا۔   ۔۔پانی&nbs

سرخ جہلم

گھنے جنگلات کو پار کرکے اب وہ اپنی منزل کے کافی نزدیک تھا۔ اب صرف خاردار جھاڑیوں کو پار کرنا باقی تھا اور وہ جہلم کے سرخ پانیوں تک پہنچتا۔ جہلم ہمیشہ سے سرخ نہیں تھا بلکہ ایک زمانے میں اس کا پانی بہت صاف و شفاف اور میٹھا ہوا کرتا تھا۔ واحد دریا تھا جو شہر کی تاریخ کا ایک اہم حصہ تھا۔ اس کے کنارے میلے بھی سجتے رہے اور جنگیں بھی ہوتی رہی۔ جہلم ترقیوں کی خوشی میں لہراتا ہوا گاتا بھی رہا اور زوال کے اندھیرے میں بھی خاموشی کے ساتھ بہتا رہا۔  اب اسی جہلم میں کالے دیو نے لہو کی سرخی گھول دی تھی، جو شہر سے باہر رہ کر جہلم کے کنارے پر ہر روز شہر کے معصوم بچوں کو اغوا کرکے ان کی چیر پھاڑ کرتا اور یہ لہو جہلم کے پانی کے ساتھ مل جاتا۔   لوگ اس کالے دیو کے قہر سے خوف زدہ بھی تھے اور اسکے سامنے بے بس بھی۔ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر پاتا اور جو کوئی بغاوت پر اتر آتا اسے شہر میں

ٹوٹی اُمدیں

"جوان بیٹی گھر پر ہے۔ کتنی بار آپ سے کہہ چکی ہوں کہ اِس کی  شادی کروا دو کہیں۔ آخرکار رشتے بھی تو آ رہے ہیں مریم کے لئے ۔کسی ایک کو ہاں کیوں نہیں کہہ دیتے" درد کی ماری صائمہ نے اختر کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔  اختر نے چائے کا پیالہ ختم کرکے بستہ اٹھایا اور کام پر نکل گیا ۔عید منانے کے لئے لوگ شہر سے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے تھے، جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پر اچھا خاصا رش رہتا تھا،جس کے چلتے اختر بھی اچھی خاصی رقم کما لیتا تھا۔ اختر ہر روز اپنی کمائی کا دس فیصد حصہ اپنے گھر میں ایک ڈبے میں علیحدہ سے جمع کر دیتا تھا۔ یہ کام وہ پچھلے پندرہ سال سے کرتا آ رہا تھا۔ اور پھر کچھ روز بعد عید بھی آ گئی۔ نماز اور دن کی مصروفیات کے بعد اختر دیر شام گھر واپس پہنچا۔ کھانا کھانے کے بعد اختر کو خیال آیا کہ کیوں نہ آج جمع کی گئی رقم کر تھوڑا گن لیا جائے ۔ اُس نے

ادب اورا نانیت

’’ اَنا‘‘ کیا ہے؟ بہت غور کیا ، کئی کتابوں کی ورق گردانی کی۔اردو،عربی اور انگریزی لُغات کو کھنگالااور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ لفظ وسیع المعنی اور مختلَف اَلفیہ یعنی معناً ایک اختلافی لفظ ہے۔لغوی اعتبار سے خودی ،پندار،غرور، گھمنڈ ،خودبینی ،خود ستائی، غیر ذمہ داری اور مطلق العنانی وغیرہ سب پر لفظ ’’اَنا‘‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔البتہ اس لفظ کا دائرہ استعمال اس قدر وسیع ہے کہ ہر پہلو سے اس کا احاطہ کرنا کارے دارد والا معاملہ ہے۔یہ لفظ ماہرینِ لسانیات کے پاس جاکر ’میں ،ریاکاری،خود غرضی اور نفسِ ناطقہ ‘‘جیسے معنیٰ پاتا ہے  جبکہ صوفیاء کے یہاں ’اَنا‘کو معرفتِ ذات کے معنی میں لیا جاتا ہےاور فلاسفہ ’انا‘ کے معنی میں تصورات اور تخیلات کی ایک کائنات تخلیق کر بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ براعظم ایشیاء کے فلس

’’شہر‘‘

پلاسٹک کی میز پر چڑھ کر سونو نے نعمت خانے کی الماری کا چھوٹا سا کواڑ وا کیا تو اندر قسم قسم کے بسکٹ، نمک پارے، شکر پارے اور جانے کیا کیا نعمتیں رکھی تھیں۔ پل بھر کو وہ ننھے سے دل پر کچوکے لگاتاہواغم بھول کر مسکرادیا ۔ لباس ِخواب کی لمبی آستین سے سوکھے ہوئے آنسوؤں بھرے رخسار پر ایک تازہ بہا آنسو کا قطرہ پونچھ کر اس نے  بسکٹ کاڈبّہ ہاتھ میں لے لیا اور اپنے پانچ سالہ وجود کا بوجھ سنبھالتا ہوا میز سے نیچے اتر آیا۔ اسے بھوک بھی بہت لگی تھی۔ آج صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایاتھا، اس کی چھوٹی سی اڑھائی برس کی بہن ثوبیہ بھی صبح سے بھوکی تھی۔ سارا دن وہ مسہری  پر لیٹی اپنی ممی کو پکار پکار کر تھک گئی تھی اور بہت زیادہ روتے رہنے کے باعث نڈھال سی ہوکر اس نے اپنا گھنگھریالے بالوں والا ننھا سا سر اپنی امی کے پھیلے ہوئے بازو پر رکھ چھوڑا تھا۔ د ن بھر شاید وہ سوتی رہی تھی اور کچھ دیر پہلے

پاگل

ہسپتال کا ایمرجنسی واڑوہ جگہ ہے جہاں معجزے اور موت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہاں لائے جانے والے مریض تقریباً مردہ حالت سے دو بارہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور کبھی موت انھیں ڈاکٹروں کے ہاتھوں سے یوں اچک لیتی ہے کہ زندگی بھی حیران رہ جاتی ہے۔ میرا نام ڈاکٹر سہیل ہے اور میں گزشتہ تین سال سے شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ایمرجنسی واڑ میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔اس عرصہ میں،میں نے یہاںبے شمار لوگوں کو دم توڑتے اور ان سے بھی زیادہ لوگوں کو شفایاب ہوتے دیکھا ہے۔ڈاکٹروں کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ وہ احساسات اور جذبات سے عاری ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ہمہ وقت حادثوں کا ایک حصہ بنتے ہیںپھر انسانی جذبات پر قابو بھی پالیتے ہیں۔لیکن نہ جانے کیوں ہر مریض کے نقوش میرے ذہن میں گھر کرجاتے ہیں۔میرے ذہن کے کینوس پربہت سی مسکراہٹوں  اور ان گنت آنسوں کی تصوریں آویزاں ہیں۔پانچ ماہ قبل ایک بیس برس کے نوجو

ارمغانِ نحویؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شعر و فکر کا نادر تحفہ

عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ مشرقی علوم وفنون کے رمزشناس ہوتے ہیں ان کی فکر وافکار میں پختگی پائی جاتی ہے۔مولانا غلام حسن نحویؔ کی فکر وافکار اور کلام کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ آپ نہ صرف عربی ‘فارسی‘اردو اور کشمیری زبان کے ادب عالیہ کے رمز شناس تھے بلکہ عملی طورپر‘ اس علمی ‘فکری اور روحانی سرمایہ میں اپنے علم وفضل کے جواہرسے اضافہ کرنے میں شریک بھی رہے ‘جس کا ثبوت’’ارمغانِ نحویؔ‘‘کی صورت میں موجود ہے۔ان کی یہ کوشش معروف اقبال ؔ شناس اور آپ کے خلف رشید پروفیسر بشیر احمد نحویؔ کی محنت شاقہ کی بدولت کتابی صورت میں علم وادب کے شائقین تک پہنچی ہے۔ کتاب گوشۂ منظومات اورگوشۂ مضامین وپیغامات پر مشتمل ہے۔ گوشۂ منظومات کلام نحویؔ پرمشتمل ہے اور گوشۂ مضامین میں کئی معروف دانشوروں اور مصاحبوںکی تحریرات اور پیغامات شامل ہیں ‘جن میں مولانا غ

نئی شروعات

گھر والے اُسے میرا کمرا کہتے ہیں۔ لیکن اصل میں وہ ایک کوڈے دان سے کم نہيں تھا ۔کتابیں،کپڑے، باقی ضرورت کی چیزیں سارے کمرے میں بکھری پڑی رہتیں۔ میں انہیں اور وہ مجھے ایسے دیکھتیں جیسے کہ وہ قیدی اور میں دربان، جو آٹھوں پہر ان کی نگرانی کرتا۔ ہر روز اپنے آپ سے کہتا کہ کل صفائی کروں گا لیکن ہر دن کل پہ ہی چھوڑدیتا ۔اس طرح وہ کل کبھی آیا ہی نہیں۔! ایک کرسی تھی جو میری وفادار تھی ۔میں اکثر اُس پہ ٹیک لگا کر سوجاتا  اور کھبی کھبی اس پر بیٹھ کر کچھ لکھ یا پڑھ لیتا۔ میں آج بھی اسی لکڑی کی کرسی پہ آنکھیں بند کئے ہوے کسی گہری سوچ میں تھا کہ اچانک چوڑیوں کے کھنکنے کی آواز خاموشی کو توڑتی ہوی میرے کان کے پردوں سے ٹکرائی جیسے کوئی سریلا ساز بج اُٹھا ہو اور پھر پائیل کی آواز نے اس ساز میں اور بھی مٹھاس بھر دی ۔کوئی اچانک میرے کمرے میں آگیا ۔آتے ہی اُس کا سامنا بکھری ہوئی کتابوں اور کپڑ

چاند کے پاس جو تارا ہے

گلال رنگوں، روشنیوں، آبشاروں، بہاروں، نظاروں اور چاند تاروں کا دیوانہ تھا۔ یمبرزل وادی کا شہزادہ۔ بچپن میں سے والدین کے سائے سے محروم ہوا تھا۔ ماں کا جب انتقال ہو ا تو باپ نے ایک الگ دنیا بسائی۔ آسودہ حال اور رحم دل نانا نے شہزادوں کی طرح پرورش کر کے گلال کی دنیا آباد کی۔ خوبصورت سراپے اور جگمگاتی ہوئی آنکھوں اور دمکتے پہناوے سے وہ سچ مچ شہزادہ لگتا تھا۔ نانا نے علم کے نور سے بھی منور کرایا۔ اپنی نصف وراثت کا وارث بنا کرعزت بخش دی ۔ برسرِ روزگار ہوتے ہی اس کی شادی سُنبل سے کرا دی۔  سُنبل بھرے بھرے بدن اور درمیانہ قد کی نٹ کھٹ، چنچل اور شریر سی سانولی رنگت والی دلکش لڑکی تھی، جس کے ہونٹوں پر ہمیشہ دلکش سی مسکراہٹ کھلی رہتی تھی۔ بات ایسے کرتی جیسے دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہو۔ ہنستی ایسے جیسے موتی کے دانے ایک ساتھ بکھیر رہی ہو۔  گلال اور سنبل ہم جماعت

افسانچے

می ٹُو ملک میں می ٹُو کا نعرہ بلند ہُوا تو اس نے بھی سنا۔بند زبانوں کے تالے کھلنے لگے۔مردوں کے تشدد کا شکار ہوئی لڑکیاں سامنے آرہی تھی کھُل کے۔وہ دن بھر اپنے بند کمرے میں بیٹھی اسی کشمکش میں تھی کہ آج وہ بھی سامنے آئے یا نہیں۔آخر اس نے می ٹو والوں کا فون ملایا مگر دیوار پہ ٹنگی ماں کی تصویر پہ نظر گئی، جسے مرے ہوے دوسال ہونے کو آرہے تھے۔ماں کی آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔۔اسے محسوس ہُوا کہ ماں کی اداس آنکھیں اس سے کچھ کہہ رہی ہیں۔” بیٹی۔۔گھرانے کی لاج بچا۔۔۔خاموش ہی رہ۔۔۔۔دنیا کا بنانے والا اسے خود سزا دیگا۔۔۔۔۔تمہارا ڑیڈی اس رات ہوش میں نہیں تھا۔۔پی کر گھر آیا تھا۔۔۔۔۔“   تعبیر ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ کوئی انسان اس کو انار کے دس پندرہ دانے دیتا ہے کھانے کے لئے۔اور دوسرا آدمی سرینج سے پندرہ بار خون نکالتا ہے۔وہ پیر بابا کے پاس گیا خواب کی

افسانچے

’’ ہیرے کی پہچان‘‘  ’’امام صاحب آپ ایک بار ڈاکٹر سنگیتا جی سے ضرور مشورہ لیں وہ ان امراض کی اسپیشلسٹ ہیں۔ ‘‘ محلے کے سب سے بزرگ مقتدی نے امام صاحب کو مشورہ دیا۔  دوسرے دن جب امام صاحب ڈاکٹر سنگیتا کے کلینک پہنچے تو کلینک میں بہت بھیڑ تھی۔ تمام لوگ قطار میں بیٹھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے تھے۔  ٹکٹ کاونٹر سے امام صاحب بھی ٹکٹ لے کر قطار میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں کاونٹر پر بیٹھا لڑکا اندر ڈاکٹر کے کیبن میں گیا اور باہر آتے ہی امام صاحب کے پاس آکر کہنے لگا ''مولوی صاحب ڈاکٹر صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔۔‘‘  امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ڈاکٹر سنگیتا نے آداب کہتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹر سنگیتا بولی ''مولوی صاحب یہ کچھ ٹیسٹ کروا لیں۔ ''

پھولوں کے سوداگر

رمضان تانترے جسے لوگ عام طور پر رنبہ تانترے کے نام سے جانتے رُوسا گائوں کا رہنے والا تھا۔ اُن کا خاندان کئی پشتوں سے باغبانی کے پیشے سے وابستہ تھا اور وہ خود بھی ایک ماہر باغبان تھا۔ رُوسا گائوں اُن چند چھوٹے چھوٹے دیہات میں ایک تھا جو پہاڑ کے دامن میں سبز جھیل کے کنارے کئی صدیوں سے آباد تھے۔ کہتے ہیں جب مغلوں نے سبز جھیل کے کنارے کئی باغ بنوائے تومختلف جگہوں سے باغبان لاکے اُنہیں پہاڑوں کے دامن میں بسایا گیا تا کہ ایک تو باغات تعمیر کرنے میں آسانی ہو دوسرے ان کی دیکھ بھال بھی صحیح طریقے سے ہوپائے۔ رُوسا گائوں اور اس کے آس پاس میں رہنے والے بیشتر لوگ اب بھی باغبانی کے پیشے سے منسلک تھے۔ رنبہ تانترے پورے علاقے میں باغبانی کی مہارت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ رنبہ نے جس بھی باغ میں کام کیا اُس میں چار چاند لگادیئے، جیسے اس کے ہاتھ میں جادو تھا۔ لوگ

آخری داؤ

نفسیاتی امراض کے اسپتال جسے عرف عام میں پاگل خانہ کہا جاتا ہے کی انتظامیہ کی اجازت کے بعد ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائیض کی انجام دہی کے لئے اسپتال کے مختلف اطرا ف میں پھیل گئے تاکہ یہاں زیر علاج نفسیاتی مریضوں کی حالت کا بچشم خود مشاہدہ کر سکیں۔بار باریہاں کے  ناقص انتظام اور مریضوں کے ساتھ نا روا سلوک کی شکائیتیں ملنے کے بعد صحافی برادری نے کچھ ہفتے قبل پاگل خانے کا چکر لگا کر یہاں زیر علاج مریضوں کی زندگی ،حرکات و سکنات اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کرکے ایک رپورٹ تیار کرکے اخبارات اور جرائید میں شایع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وہاں آہنی سلاخوں سے بنے دروازوں والی کوٹھریوں میں بند پا گل عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے ۔ایک کوٹھری میں ایک پاگل پروفیسر بن کر دوسرے پاگلوں کو لکچر دے رہا تھا ۔دوسری کوٹھری میں دو پاگل کھڑے ہو کر سیا سی لیڈروں کے انداز میں باری باری دوسرے پاگلو

کچھ ایسی ہوا چلی ہے

مارکیٹ میں چلتے چلتے وہ اچانک بائیں جانب مڑ کر بولی۔ ’’  بھیا۔۔۔  مجھے تنگ مت کرو۔مجھے ڈیوٹی کے لئے دیر ہورہی ہے۔‘‘ ایک چھوٹا سا بچہ اس کا دوپٹہ زور سے کھینچ رہا تھااور اس کو دکان کی طرف چلنے پر مجبور کر رہا تھا۔ دکان طرح طرح کے کھلونوں سے بھری پڑی تھی اور بچہ کھلونا خریدنے کے لئے اصرار کرتے ہوئے  ’’ دیدی ۔مجھے وہ کھلونا خرید کر دو نا۔‘‘ اس نے Teddy bear کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھ بھیا۔میری جیب میںاتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں تیرے لئے Teddy bear خرید سکوں۔حپ چاپ چلتے بنو ۔ورنہ میں تھپڑ  ماروںگی۔‘‘ یہ سنتے ہی بچہ زمین پر بیٹھ کر پائوں پسارکے رونے لگا۔شگفتہ اس کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی مگر بچہ رویئے جارہا تھا۔اتنے میںراہ چلتے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور شگفتہ ؔسے طرح طرح کے

کیوں دھڑکتا ہے دل؟

 پیشے سے ایک قصاب ہوں ، شاید اس لئے لوگ مجھے مضبوط اوسان کا مالک اور سنگ دل سمجھتے ہیں، لیکن مضبوط سے مضبوط انسان کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور اُس کادل کسی دوسرے کی خاطربے اختیار دھڑک ہی جاتا ہے۔لاکھ پتھر ہولیکن دل، احساس کے طوفان میں ڈوب کر دوسرے دلوں میں اُمڑنے والے درد و غم پر، پسیج ہو ہی جاتا ہے۔یہ کمزور لمحہ میری زندگی میں بھی آیا اوراب تک کی زندگی کا سب سے بے دادگر لمحہ ثابت ہوا۔یہ لمحہ میری زندگی کے ایک ایسے دن میںسربستہ تھاجس دن میںبستی کے دیگرمردوں کے ہمراہ کریک ڈاون میں بیٹھاتھا۔  یوں تو طلوعِ آفتاب سے قبل ہی گولیوں کی گھن گرج مکمل طور پر بند ہو چکی تھی لیکن جھڑپ میں کیا ہوا تھا ،اس سے ہم میدان میں ٹھٹھررہے لوگ بے خبر ہی تھے ۔ نومبر کی اِس ٹھنڈی سی صبح کو مشرق سے آفتاب کی گرم شعائیںتھرتھراتے جسموں کیلئے راحت کا تھوڑا

قوس قزح

اب بھی رنگوں میں قوس قزح کی لکیر اپنی تمام رعنائیوں سے اُبھرتی ہیں۔ وہ ، وہ قوس قزح ہے جو اُبھر تی ہے، کھوجاتی ہے اور میں چپکے سے اس کے کان میں کہہ دیتا ہوں  ۔  ۔  ۔ ’’تم قوس قزح ہو! ‘‘ وہ اپنی بڑی بڑی ، موٹی موٹی آنکھوں سے خاموش رہنے کا حکم دیتی، وہی آنکھیں جن میں درد اور کرب کی پرچھائیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن ان آنکھوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا  ۔  ۔  ۔  اب  ۔  ۔  اب میں اپنے آپ کو اضطراب، بے چینی، بے بسی کے عالم میں تڑپتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ وہ کتابی چہرہ اب بھی نظر کے سامنے ہے جس پر دو موٹی موٹی آنکھیں سنجیدگی اور خاموشی کی پرچھائیاں معلوم ہوتی تھیں۔ اس کی کمر پر بالوں کی لمبی چوٹی، اس کی صحت مند پیٹھ اور اس کے کانوں میں چمکتی اور جھولتی ہوئی بڑی بڑی بالیاں! دو سال ہوگئے  ۔  ۔&

آدھا لَنچ

گھنٹی بج گئی۔لنچ کا وقت ہوگیا۔سبھی بچوں نے اپنا اپنا ٹفن کھولا اور کھانا کھانے میں مشغول ہوگئے۔اساتذہ صاحبان اپنے اپنے کلاس روموں میں بیٹھے بچوں کے کھانا کھانے کے الگ الگ انداز سے لطف اٹھا رہے تھے۔اسی اثنا میں نقاش نام کا ایک شاگرد اپنے استاد سے کہنے لگا ”سر آئیے ہمارے ساتھ کھانا کھائیے“۔ ”آپ کھاؤ بیٹا“ استاد نے کہا۔ نقاش کے بار بار اصرار کرنے پر صنان نام کے اِس استاد نے آخرکار دو،تین چمچ تناول کئے اور ٹفن اس کو واپس کر دیا۔ دوسرے دن جب لنچ ٹائم ہوگیا تو تھوڑی دیر بعد نقاش نے خود آدھا کھانا کھا کر اسی استاد کو ٹفن دے کر بچاہوا کھانا کھانے کے لیے دیا۔چونکہ بچپن میں ہی صنان نے ”کھانے پینے کے آداب“میں یہ بات پڑھی تھی کہ ”اگر کوئی آپ کو  کچھ کھانے پینے کے لیے پیش کرے تو اس کو ہر گز ٹھکرانا نہیں چاہیے، حتیٰ کہ اگر آپ اس چیز

رکھشا بندھن

وہ ضلع اننت ناگ کے ا یک خوبصورت گاؤں سے جب سرینگر آیا تو اس کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ اس کے گاؤں میں پنڈت اور مسلم صدیوں سے ایک ساتھ مل جھل کر رہتے آ رہے تھے۔ وہ ایک غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ خدا نےاس کو شکل و صورت کے علاوہ قابلیت اور ذہانت سے نوازا تھا۔ اس نے انٹرنس کا امتحان امتیازی مارکس کے ساتھ پاس کر کے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے لیے داخلہ لیا۔ پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ رمیز چاچا کا بیٹا شاداب ڈاکٹر بن گیا۔ گاؤں کے سارے لوگ ، مسلم و پنڈت یکجا، رمیز چاچا کے گھر مبارکباد دینے کے لیے آئے۔ رمیز چاچا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ مگر اندر ہی اندر انہیں اس بات کی فکر ہو رہی تھی کہ اب شاداب کی پڑھائی اور رہنے کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا۔ بیٹے کی خاطر انہوں نے یہ بات دل میں ہی چھپا لی اور کچھ پیسوں کا انتظام کر کے سرینگر پہنچ گئے۔کالج میں بیٹے