تازہ ترین

ابلیس کا ساتھی

سورج کو غروب ہوئے کوئی بیس منٹ گذرے تھے۔محلے کی مسجدسے اذان کی آواز آرہی تھی ۔ میں نماز مغرب کے لئے وضوبنانے جا رہا تھا۔ دروازے سے باہر نکلتے ہی میرے کانوں میں کچھ عجیب و غریب آوازوں نے جنم لیا۔اس طرح کی آوازیں اس سے قبل میں نے کبھی نہ سنی تھیں۔کافی خوفناک تھیں اور ایسا لگ رہا تھا گویا جنگ کا آغاز ہونے کو ہے۔ گھر کی چار دیواری کی وجہ سے میں ارد گرد کا جائزہ نہیں لے سکا اس لئے چھت پر چلا آیا۔ میں نے پورے محلے کا ایک سرے سے دوسرے سرے تک بڑے غور سے جائزہ لیا مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ اب آوازیں بھی ختم ہو چکی تھیں۔ میں پلٹ کر اندر جانے کو تھا کا کہ اچانک میں نے دیکھامحلے کے باہر جہاں سے جنگل کا آغاز ہوتا ہے ایک عجیب قسم کی بلا خاموشی سے زمین پر بیٹھ رہی ہے۔ منظر خوفناک تھا مگر مجھے ڈرنے کی عادت نہ تھی۔ وہ کیا چیز تھی کوئی جہاز،بھوت یا پھر کوئی شرار اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا ۔مگر میرے

من آنگن میں سرگوشی

ہوا کے تھپیڑوں سے پانی تیز لہروں کی صورت میں جھیل کے کنارے شور کررہا تھا۔کان میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اگر کچھ سن یا محسوس کر رہا تھا تو وہ کلائی پر بندھی گھڑی کی ٹک ٹک ،ٹک ٹک! کرتی آواز بھی۔لکڑی سے بنی سیڑھی پر مچھوارے گول ٹوپیاں پہنے ہاتھوں میں کانٹے لگی بانس کی لمبی چھڑیاں لئے مچھلیاں پکڑ رہے ہیں  ۔سر زانوں پہ رکھے ،نظریں پانی کی لہروں پے سوار، میں بھی اکیلے ان ہی سیڑھیوں پہ تماشائی بن کے بیٹھا تھا۔اس پرسکون جگہ کی چاروں اور بھر پور دنیا بسی تھی۔ ہریالی اور خوشگوار موسم ،بچے کھیل میں مصروف ،بزرگ گفتگو میں محو ،دسترخوان بچھے ہوے کشمیری وازوان کی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی۔ میں تنہائیوں کی باہوں میں لپٹا چنار کے زرد پتوں کے مانند خاموش سب کچھ دیکھ کے اَن دیکھا کر رہا تھا۔میری نظروں نے پانی کی گہرائی میری سوچ میں اُتار دی جو مجھے اپنی اور کھنچے جارہی تھی ۔نہ جانے وہ انگنت خیال م

آزاد قیدی

تخلیق کار کو تخلیقی اختصاص کے مقام پر پہنچانے میں قوت تخیّل‘وسعت فکراور منفرد اسلوب وغیرہ جیسے فکری و فنی لوازمات کابنیادی رول ہوتا ہے۔ان لوازمات کے تناظر میں’’آزاد قیدی ‘‘کے سحر طراز افسانوںسے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعہ کے خالق جناب فیصل نواز چودھری (اوسلو‘ناروے) اپنے تخیل کی بلندی‘فکر کی وسعت اور دلنشیں اسلوب کے امتزاج کی بدولت عصری عہد کے سیاسی‘سماجی‘ تہذیبی معاشی‘ اخلاقی اورنفسیاتی مسائل کے مآل اندیش سفیر ہیں۔بقول پروفیسر سید مسعود ہاشمی (پاکستان)  :     ’’فیصل نواز چودھری پاکستان اور ناروے کے سماجی‘تہذیبی‘سیاسی اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔‘‘  ادب میں نظریۂ فن  کے تعلق سے متفرق نظریات کی گہما گہمی ہر جگہ نظر آتی ہے۔فیصل نواز چو

دو آنکھیں

 شاہد دفتر سے لوٹ کر جب جہلم کے پل پر پہنچا تو جہلم کے بہتے پانی پر نظر پڑتے ہی اس کے قدم رک گئے۔ اسے لگا یہ پانی نہیں خون کا دریا بہہ رہا ہے۔ جس میں لاشوں کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے اعضاء بھی علیحدہ علیحدہ تیر رہے ہیں۔وہ غور سے دیکھنے لگا تو اس کی نگاہیں کبھی جسم سے الگ ہوئے بازوؤں پر پڑتی تو کبھی جدا ہوئی ٹانگوں پر۔ اسے معصوم بچوں کے پھول جیسے نازک جسم بھی تیرتے ہوئے نظر آئے اور عورتوں کی چوٹیاں بھی۔ اس کا دل دہل گیا۔ شاہد اپنے دونوں ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھ کر آنکھیں ملنے لگا۔ اسے لگا شاید یہ میرا وہم ہے جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں۔ آنکھوں پر سے ہاتھ اٹھانے کے بعد جب اس نے دوبارہ بہتے دریا پر نظر دوڑائی اس نے پھر وہی منظر دیکھا۔ اب اسے جہلم کے کنارے لگے چنار بھی لہو میں نہائے ہوئے محسوس ہوئے یا ان کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔  شاہد خاموش و مغموم اس منظر کو دیکھتا

ہند وپاک کے اردو ادب میں انسان دوستی،محبت اور امن کا پیغام

یوں تو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آئے دن مختلف موضوعات پر سیمینار وں اورکا نفرنسوں کا انعقاد ہوتا رہتاہے لیکن وادیِ چناب کے گورنمنٹ ڈگری کالج ڈوڈہمیں 26اور 27ستمبر2018کو منعقدہ ادبی کانفرنس اپنے موضوع اور شرکاء کے اعتبار سے کافی اہمیت اور دور رس نتائج کی حامل تھی کیو نکہ یہ کانفرنس مقامی،صوبائی،ریاستی یا قومی سطح کی نہیں تھی بلکہ یہ ایک بین الاقوامی کانفرنس تھی جس میں ہندوستان کی مختلف جامعات کے علاوہ مصر ، ایران اور بنگلہ دیش کے ادیب اور سکالر بھی شریک ہوئے تھے ۔اتناہی نہیں جہاں تک اس کانفرنس کے موضوع’ ہند وپاک کے اردو ادب میں انسان دوستی،محبت اور امن کا پیغام ‘کا تعلق تھا، اس مناسبت سے اس میں شریک ہونے کے لیے پاکستان کے کئی ادیبوںاوردانشوروںنے بھی حامی بھری تھی لیکن دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین آ ئے دن بگڑتے حالات اور ان سے پیدا شدہ صورت حال اور بروقت ویزا نہ ملنے کی وجہ

نامۂ عبرت

سلام و دعا کے بعد میں چند باتیں گوش گزار کرنا چاہتی ہوں۔ زندگی کے ہر پہلو پر غور کرنے کے بعدیہ سمجھ میںآیا کہ رشتے ، ناطے، دوست و احباب کسی مخصوص وقت تک ساتھ دیتے ہیں۔ افسوس بس اس بات کا ہے کہ سمجھا تو تب جب زندگی اپنے لئے بھی کم پڑرہی ہے۔ کاش چاپلوسی، کم ظرفی اور جھوٹی اپنائیت کا بہت پہلے پتا چل جاتا تو ہم اپنے لئے کچھ کرپاتے، سوچ پاتے۔ تاکہ آج کی لاچاری، لاچاری نہ ہوکر ہمارے لئے سرخ روئی کا سبب بن جاتی۔ ’’کاش ایسا ہوپاتا‘‘۔ لیکن اب آج سوچنا جب ’’چڑیا چگ گئی کھیت‘‘ کے برابر ہے۔ پھر بھی زندگی اور صحت اجازت دے تو ہمیں اپنی ناکام حسرتوں کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں اُٹھائے رکھنی چاہئے۔ زندگی ویسے بھی کسے معلوم ہے کہ کب دغا دے جائے۔ عمر چاہئے کوئی بھی ہو ہمیں اُمید کا دامن تھامے رہنا چاہئے تاکہ اطمینان اور سکون کے سات

اجنبی

لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے تھے۔ کچھ اُس کو ملنگ، کچھ فقیر اور کچھ اس کو اجنبی کہتے تھے۔ میرے لئے بھی وہ اجنبی ہی تھا۔ خود تو وہ اِن سب چیزوں سے بے نیاز تھا۔ صرف اپنی دُنیا میں مگن رہتا تھا اور کسی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تنہائیاں اُس کا مقدر بن گئی تھیں ۔ وہ دن بھر بازار میں گھومتا پھرتا تھا۔ اسکی حرکات سے لگتا تھا کہ ضرور اُس کا کچھ کھو گیا ہے اور کھونے کے اُس شدید احساس نے اس شخص کو اجنبی بنا دیا ہے!  جولائی کا مہینہ تھا۔ ہوا یوں کہ ایک دن اجنبی اچانک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ بازار اب اُس کے بغیر سُونا سُونا سا لگتا تھا اور وہ فُٹ پاتھ، جس پر وہ اکثر دراز ہوتا تھا ، اُداس تھا۔ تعجب ہے کہ بازار میں کسی نے بھی اِس کو تلاشنے کی کوشش نہیں کی۔ اُس کی جدائی سے میں خود کو بڑا بے مصرف سا، بے کار سا محسوس کرتا تھا۔ کسی کام میں اب میرا جی نہیں لگتا تھا۔

مہمان نوازی

’’بیگم یہاں دیکھنا یہ قمیض کیسی لگ رہی ہے‘‘ ۔ میں نے نیلے رنگ کی قمیض پہنتے ہوئے بیگم کی طرف دیکھا۔ بیگم نے دیکھے بغیر یونہی کہا ’’اچھی لگ رہی ہے‘‘ ۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا ۔ میں نے قمیض نکال دیا اور ننگا ہوگیا اور بیگم سے مخاطب ہو کر کہا اور یہ قمیض کیسی لگ رہی ہے . بیگم نے اس بار بھی میری طرف دیکھے بغیر کہا ’’ بہت جچ رہی ہے‘‘  میں نے غصے سے کہا ’’اچھا‘‘ بیگم نے میرے بدلتے ہوئے لہجے کو بھانپ لیا اور میری طرف دیکھ لیا۔ میرے ننگے بدن کو دیکھ کر سٹپٹائی اور کہا ارے ! میںکمرے سے باہر نکل گیا  دروازہ زور سے بند کر دیا اور وہاںسے نکل کر دوسرے کمرے میں گھس گیا ۔ وہاں جلدی جلدی قمیض اور پینٹ پہن لیا اور جوتے پہن کر گھر سے نکل پڑا ۔ مجھے جاتا دیکھ کر بیگم باہر نکل آئی اور کہنے لگی آپ

ماتھے کاتِل

لالہ امیں چند شہر کا مشہور ساہوکار تھا۔ وہاورکاروبار کے علاوہ ضرورت مندوں کوسودپرروپیہ ادھاربھی دیتاتھا۔اس وجہ سے غریب غرباء اسکی بڑی تعظیم کرتے تھے کہ  یہ ان کے آڑے وقت میں کام آتاہے ۔ ایک دیہاتی منشی رام کواپنی بیماربیوی کے علاج کیلئے روپوں کی سخت ضرورت پڑی ۔اسکی بھی امیں چندنے حاجت پوری کی۔وہ اس کامرہونِ منت تھا۔ تمام روپیہ علاج پر خرچ کرنے کے باوجودوہ صحت یاب نہ ہوسکی ۔آخرکاروہ اس دُنیاسے چل بسی۔منشی رام قرض پر لیا ہوا پیسہ لوٹانہ سکا اور ایک دن وہ لالہ جی کے پاس ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا۔ اور بولا’’جناب لالہ جی !میری بیٹی کارشتہ آیاہے ۔لڑکے والے منگنی کیلئے جلدی کررہے ہیں مگرمیرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔میں یہ رشتہ گنوانابھی نہیں چاہتاہوں کیونکہ لڑکاصاحبِ روزگار ہے ۔چونکہ ابھی پچھلاقرض چکایا نہیں ہے، اس لئے مزید قرضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ ہورہی ہے۔ مگر میں مانگنے کی ہ

افسانچے

نشان مہیش کالیا پٹرول پمپ کے نزدیک کھڑا گردن میں لٹکتے ہوئے لاکٹ کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ادھر ادھر ہلا رہا تھا۔۔آج کسی سیاسی پارٹی نے اسٹیٹ بند کی کال دی تھی اس لئے ہر طرف ہو کا عالم تھا۔سڑکیں خالی اور سنسان تھیں۔دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی۔۔مہیش کالیا خوش تھا کہ آج اسے آرام کرنے کا موقع ملا۔۔۔۔وہ اپنے گاؤں اور گھر والوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔چھ ماہ پہلے وہ گاؤں سے شہر آیا تھا اور اسے پٹرول پمپ میں نوکری ملی تھی۔۔وہ اس نوکری سے مطمئن نہیں تھا اور کسی اچھی نوکری کی تلاش میں تھا۔۔۔وہ نوکری کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس نے ایک کمسن اور خوبصورت لڑکی کو سکوٹی پر آتے دیکھا۔ لڑکی نے اس سے کہا۔۔۔۔بھیا تھوڑا پٹرول ملے گا۔ مجھے کسی ضروری کام سے کہیں جانا ہے۔ مہیش کالیا نے لڑکی کو غور سے دیکھا اور کہا۔۔آج تو پٹرول پمپ بند ہے۔ ہاں میرے پاس اندر کمرے میں پانچ

غشی

گلابی بیگم کوئی معمولی خاتون نہیں ہے بلکہ وہ ایک زنانہ کالج کی پرنسپل ہے۔گاڑی خود ڈرائیو کرتی ہے ۔ساڑھی پہننے کی شوقین ہے۔نئی نئی رنگین ساڑھیاں پہن کر کالج جاتی ہے تاکہ کالج کے کسی بھی اسٹاف ممبر کو اس میں ادھیڑ عمری کے آثار نظر نہ آنے پائیں۔ہمیشہ آنکھوں میں کاجل،ہونٹوں پہ لپ اسٹک،کلائیوں میں سونے کی چوڑیاں اورگلے میں ہیرے کالاکٹ سجائے رکھیت ہے۔ اونچی ہیل والی چپل پہننے اور عطر کے بدلے اپنے تھل تھل کرتے وجود پہ پرفیوم کا چھڑکاو کیے بغیر وہ گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی ہے۔وہ سولہ سنگھار کرنے والی عجب مزاج کی خاتون ہے۔پائی پائی کا حساب رکھتی ہے۔بہت زیادہ عجلت پسند اور ہر کسی کی بات پہ فوراً یقین کرلیتی ہے۔اس کے شوہر انقلاب حسین آیور ویدک ڈاکٹر ہیں ۔وہ بولتے کم اور سوچتے زیادہ ہیں۔سارے گھر پہ گلابی بیگم حکومت کرتی ہے۔اس کے مزاج میں تلخی تو ہے ہی ،شوخی بھی کچھ کم نہیں۔وہ دو بیٹوں اور ایک

’’ شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا‘‘

ہیلو ! ہیلو ! سبحان چچا ۔۔ بِٹو بو ل رہا ہوں، الیکشن ہے الیکشن!۔۔ آپ کے پاس آ رہا ہوں۔ فون رکھتے ہی سبحان چچا گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔ ہائے خدا  یا !۔۔’’ بر سوں کی یاریاں اور رشتہ داریاں پھر سے خطرے میں پڑ گئیں۔ اب کس کو ووٹ دیں اور کس کو نہ دیں؟۔۔ کون قرآن پر ہاتھ رکھوائے گا اور کون گیتا کی قسم دے گا۔ ہائے !! انہیں کیا معلوم کہ یہ ان مقدس کتابوں کی بے حرمتی ہے۔ کون انہیں سمجھائے کہ ووٹ کو  بیّت بھی کہتے ہیں  اور یہ بیعت ان مقدس کتابوں کے ذریعے اللہ ، ایشور سے بندگی کے معاملے میں ہم کر چکے ہیں۔ اے اللہ  ہمیں آسمانی اور زمینی عذاب سے محفوظ رکھنا  ، ہم ایک بار پھر تیری مقدس کتابوں کی  بے حرمتی کرنے لگے ہیں۔ ہم جھوٹ ، مکر و فریب ، دھوکہ دہی، ذاتی مفاد اور اپنے  حریف کو شکست دینے کےلئے  تیرے کلام کی بے حرمتی اور گستاخی کرنے لگے&lsqu

ہارڈ ڈِسک کا نیا جنم

اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ سانسیں چل رہی تھیں۔ہونٹ لرز رہے تھے مگر وہ کچھ کہہ نہیں پارہا تھا۔اس کو دماغی جلطہ (برین ہیومریج) یادل کا شدید عارضہ (ہارٹ اٹیک) لاحق ہوا تھا۔وہ کوما میں چلا گیا تھا۔بات کرنے کی اس میں سکت باقی نہیں تھی۔اس کی کل طاقت ایک TB تھی۔ اس میں چارسو GBکے قریب dataتھا۔ میں نے اسے جیسے ہی کمپیوٹر میں insert کیااور اسے کلک کیا۔ تو اس نے لکھ کر بتایا کہ اس سے گفتگو ممکن نہیں۔ اس کے اعضائے رئیسہ کام نہیں کر پارہے ہیں۔ میں نے اسے بار بار ejectکیا، insertکیا مگر اس نے جواب دینے سے انکار کردیا۔میں نے اسے دوسرے تیسرے کمپیوٹر کے حوالے کیا مگر اس میں جیسے زندگی کی رمق ہی نہ بچی تھی۔ یہ دیکھ کرمیں ششدر رہ گیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ تھی۔میں سوچ رہا تھا کہ ابھی ایک گھنٹہ قبل میں نے اس سے کئی فائلوں کے حوالے سے تبادلۂ خیالات کیا تھا۔اپنی کچھ تحریروں پر نظر ثانی کی تھی۔ مگر کیا

چاند کے پاس جو تارا ہے

گلال رنگوں، روشنیوں، آبشاروں، بہاروں، نظاروں اور چاند تاروں کا دیوانہ تھا۔ یمبرزل وادی کا شہزادہ۔ بچپن میں سے والدین کے سائے سے محروم ہوا تھا۔ ماں کا جب انتقال ہو ا تو باپ نے ایک الگ دنیا بسائی۔ آسودہ حال اور رحم دل نانا نے شہزادوں کی طرح پرورش کر کے گلال کی دنیا آباد کی۔ خوبصورت سراپے اور جگمگاتی ہوئی آنکھوں اور دمکتے پہناوے سے وہ سچ مچ شہزادہ لگتا تھا۔ نانا نے علم کے نور سے بھی منور کرایا۔ اپنی نصف وراثت کا وارث بنا کرعزت بخش دی ۔ برسرِ روزگار ہوتے ہی اس کی شادی سُنبل سے کرا دی۔  سُنبل بھرے بھرے بدن اور درمیانہ قد کی نٹ کھٹ، چنچل اور شریر سی سانولی رنگت والی دلکش لڑکی تھی، جس کے ہونٹوں پر ہمیشہ دلکش سی مسکراہٹ کھلی رہتی تھی۔ بات ایسے کرتی جیسے دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہو۔ ہنستی ایسے جیسے موتی کے دانے ایک ساتھ بکھیر رہی ہو۔  گلال اور سنبل ہم جماعت

افسانچے

می ٹُو ملک میں می ٹُو کا نعرہ بلند ہُوا تو اس نے بھی سنا۔بند زبانوں کے تالے کھلنے لگے۔مردوں کے تشدد کا شکار ہوئی لڑکیاں سامنے آرہی تھی کھُل کے۔وہ دن بھر اپنے بند کمرے میں بیٹھی اسی کشمکش میں تھی کہ آج وہ بھی سامنے آئے یا نہیں۔آخر اس نے می ٹو والوں کا فون ملایا مگر دیوار پہ ٹنگی ماں کی تصویر پہ نظر گئی، جسے مرے ہوے دوسال ہونے کو آرہے تھے۔ماں کی آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں۔۔اسے محسوس ہُوا کہ ماں کی اداس آنکھیں اس سے کچھ کہہ رہی ہیں۔” بیٹی۔۔گھرانے کی لاج بچا۔۔۔خاموش ہی رہ۔۔۔۔دنیا کا بنانے والا اسے خود سزا دیگا۔۔۔۔۔تمہارا ڑیڈی اس رات ہوش میں نہیں تھا۔۔پی کر گھر آیا تھا۔۔۔۔۔“   تعبیر ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ کوئی انسان اس کو انار کے دس پندرہ دانے دیتا ہے کھانے کے لئے۔اور دوسرا آدمی سرینج سے پندرہ بار خون نکالتا ہے۔وہ پیر بابا کے پاس گیا خواب کی

افسانچے

’’ ہیرے کی پہچان‘‘  ’’امام صاحب آپ ایک بار ڈاکٹر سنگیتا جی سے ضرور مشورہ لیں وہ ان امراض کی اسپیشلسٹ ہیں۔ ‘‘ محلے کے سب سے بزرگ مقتدی نے امام صاحب کو مشورہ دیا۔  دوسرے دن جب امام صاحب ڈاکٹر سنگیتا کے کلینک پہنچے تو کلینک میں بہت بھیڑ تھی۔ تمام لوگ قطار میں بیٹھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے تھے۔  ٹکٹ کاونٹر سے امام صاحب بھی ٹکٹ لے کر قطار میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں کاونٹر پر بیٹھا لڑکا اندر ڈاکٹر کے کیبن میں گیا اور باہر آتے ہی امام صاحب کے پاس آکر کہنے لگا ''مولوی صاحب ڈاکٹر صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔۔‘‘  امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ڈاکٹر سنگیتا نے آداب کہتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹر سنگیتا بولی ''مولوی صاحب یہ کچھ ٹیسٹ کروا لیں۔ ''

پھولوں کے سوداگر

رمضان تانترے جسے لوگ عام طور پر رنبہ تانترے کے نام سے جانتے رُوسا گائوں کا رہنے والا تھا۔ اُن کا خاندان کئی پشتوں سے باغبانی کے پیشے سے وابستہ تھا اور وہ خود بھی ایک ماہر باغبان تھا۔ رُوسا گائوں اُن چند چھوٹے چھوٹے دیہات میں ایک تھا جو پہاڑ کے دامن میں سبز جھیل کے کنارے کئی صدیوں سے آباد تھے۔ کہتے ہیں جب مغلوں نے سبز جھیل کے کنارے کئی باغ بنوائے تومختلف جگہوں سے باغبان لاکے اُنہیں پہاڑوں کے دامن میں بسایا گیا تا کہ ایک تو باغات تعمیر کرنے میں آسانی ہو دوسرے ان کی دیکھ بھال بھی صحیح طریقے سے ہوپائے۔ رُوسا گائوں اور اس کے آس پاس میں رہنے والے بیشتر لوگ اب بھی باغبانی کے پیشے سے منسلک تھے۔ رنبہ تانترے پورے علاقے میں باغبانی کی مہارت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ رنبہ نے جس بھی باغ میں کام کیا اُس میں چار چاند لگادیئے، جیسے اس کے ہاتھ میں جادو تھا۔ لوگ

آخری داؤ

نفسیاتی امراض کے اسپتال جسے عرف عام میں پاگل خانہ کہا جاتا ہے کی انتظامیہ کی اجازت کے بعد ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائیض کی انجام دہی کے لئے اسپتال کے مختلف اطرا ف میں پھیل گئے تاکہ یہاں زیر علاج نفسیاتی مریضوں کی حالت کا بچشم خود مشاہدہ کر سکیں۔بار باریہاں کے  ناقص انتظام اور مریضوں کے ساتھ نا روا سلوک کی شکائیتیں ملنے کے بعد صحافی برادری نے کچھ ہفتے قبل پاگل خانے کا چکر لگا کر یہاں زیر علاج مریضوں کی زندگی ،حرکات و سکنات اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ کرکے ایک رپورٹ تیار کرکے اخبارات اور جرائید میں شایع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وہاں آہنی سلاخوں سے بنے دروازوں والی کوٹھریوں میں بند پا گل عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے ۔ایک کوٹھری میں ایک پاگل پروفیسر بن کر دوسرے پاگلوں کو لکچر دے رہا تھا ۔دوسری کوٹھری میں دو پاگل کھڑے ہو کر سیا سی لیڈروں کے انداز میں باری باری دوسرے پاگلو

کچھ ایسی ہوا چلی ہے

مارکیٹ میں چلتے چلتے وہ اچانک بائیں جانب مڑ کر بولی۔ ’’  بھیا۔۔۔  مجھے تنگ مت کرو۔مجھے ڈیوٹی کے لئے دیر ہورہی ہے۔‘‘ ایک چھوٹا سا بچہ اس کا دوپٹہ زور سے کھینچ رہا تھااور اس کو دکان کی طرف چلنے پر مجبور کر رہا تھا۔ دکان طرح طرح کے کھلونوں سے بھری پڑی تھی اور بچہ کھلونا خریدنے کے لئے اصرار کرتے ہوئے  ’’ دیدی ۔مجھے وہ کھلونا خرید کر دو نا۔‘‘ اس نے Teddy bear کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھ بھیا۔میری جیب میںاتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں تیرے لئے Teddy bear خرید سکوں۔حپ چاپ چلتے بنو ۔ورنہ میں تھپڑ  ماروںگی۔‘‘ یہ سنتے ہی بچہ زمین پر بیٹھ کر پائوں پسارکے رونے لگا۔شگفتہ اس کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی مگر بچہ رویئے جارہا تھا۔اتنے میںراہ چلتے لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور شگفتہ ؔسے طرح طرح کے

کیوں دھڑکتا ہے دل؟

 پیشے سے ایک قصاب ہوں ، شاید اس لئے لوگ مجھے مضبوط اوسان کا مالک اور سنگ دل سمجھتے ہیں، لیکن مضبوط سے مضبوط انسان کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ کمزور پڑ جاتا ہے اور اُس کادل کسی دوسرے کی خاطربے اختیار دھڑک ہی جاتا ہے۔لاکھ پتھر ہولیکن دل، احساس کے طوفان میں ڈوب کر دوسرے دلوں میں اُمڑنے والے درد و غم پر، پسیج ہو ہی جاتا ہے۔یہ کمزور لمحہ میری زندگی میں بھی آیا اوراب تک کی زندگی کا سب سے بے دادگر لمحہ ثابت ہوا۔یہ لمحہ میری زندگی کے ایک ایسے دن میںسربستہ تھاجس دن میںبستی کے دیگرمردوں کے ہمراہ کریک ڈاون میں بیٹھاتھا۔  یوں تو طلوعِ آفتاب سے قبل ہی گولیوں کی گھن گرج مکمل طور پر بند ہو چکی تھی لیکن جھڑپ میں کیا ہوا تھا ،اس سے ہم میدان میں ٹھٹھررہے لوگ بے خبر ہی تھے ۔ نومبر کی اِس ٹھنڈی سی صبح کو مشرق سے آفتاب کی گرم شعائیںتھرتھراتے جسموں کیلئے راحت کا تھوڑا