تازہ ترین

وِتستا کی بیٹی

  وہ گلمرگ کی طرح خوبصورت مگر خوفزدہ اور مایوس تھی۔! اکثر کھوئی کھوئی سی رہتی تھی۔ گوکہ سارہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ سیانی لگتی تھی۔ جب بھی کوئی اُس سے اُس کے گھر کا ایڈرس ، باپ کا نام اور گائوں وغیرہ کا پتہ پوچھتا تھا تو وہ صرف ایک ہی جواب دیتی تھی۔ ’’میں وتستا کی بیٹی ہوں‘‘۔ کشمیر کے ہر ذرے کے ساتھ اُسے بے انتہا اُنس تھا۔ سرسبز درختوں کے کٹائو کا مسئلہ ہو یا جھیل ولر کی خستہ حالی کا سوال، کشمیر کی صنعاکاری سے بیر کا معاملہ ہو یا کشمیری سیبوں کے شہنشاہ عنبری کے زوال کا مسئلہ، یہاں کے روایتی فوک میوزک کے سُکڑتے ہوئے سُروں کا سوال ہو یا بھانڈ پاتھر (بھانڈ ناٹک) کے سسکنے کا غم۔ غرض سارہ بے چاری اکیلی یہ سارے غم اپنے اندر بسائے اپنے بھاشن (لیکچر) سے لوگوں کو ماں کی عظمت کا احساس دلاتی تھی۔ سارہ کا ہر گھائو صندل کی طرح خوشبو بکھیر

افسانچے

لینے کے دینے! ’’ہمیں اللہ نے جتنادیاہے اُسی پر اکتفا کرلیں گے،ہمیں کیا ضرورت ہے شراب ،ڈرگس(Drugs) اور چرس کا کاروبار کرنے کی۔ خدا کا کچھ تو خوف کیجیے۔‘‘ حلیمہ نے اپنے خاوند سجاد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اُس کے سر پر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی دھن سوار ہوچکی تھی۔وہ اُس کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ ’’ارے بے وقوف عورت تم کس پر اکتفا کرو گی۔دفتر میں میرے دیگر ساتھیوں کو دیکھو،اُن کے پاس اونچے بنگلے ہیں، روپیہ ہے،گاڑیاں ہیں۔اُن کے بچے آج  بیرونی ممالک میں پڑھ رہے ہیں۔میں نے ایماندار بن کر آج تک کیا حاصل کیا،نہ بنگلہ ہے اور نہ پیسہ،حتیٰ کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کا داخلہ تک کسی اچھے کالج میں نہ کراسکا۔‘‘   حلیمہ کے پاس اب کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا،وہ خاموش ہوگئی۔          سجاد منشیات

۔100 لفظوں کی کہانیاں

بریکنگ نیوز رپورٹر بھاگتا ہوا ایڈیٹر کے کیبن میں داخل ہوا رپورٹر ۔ سر، ایک بریکنگ نیوز ہاتھ لگی ہے ، دو لوگوں کے آئی آیس آئی سے گہرے تعلقات ہیں اور ہمارے ہاتھ اس کے کافی دستاویز لگے ہیں۔ ایڈیٹر:۔  واقعی، یہ بہت بڑی خبر ہے ہمارے چینل کی ٹی آر پی آسمان چھولے گی، یہ بتاؤ وہ کہاں سے ہیں اور انکا نام کیا ہے۔ رپورٹر:۔ یوپی کے ہیں اور انکا نام منوج اور سنتوش ہے۔ ایڈیٹر:۔ (مایوسی بھرے لہجے میں) یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں ، جاؤ اور ٹی آر پی بڑھانے والی خبر لاؤ۔ رپورٹر کیبن سے سر جھکائے نکل گیا۔ قبر وہ اپنے کروڑپتی دوست کی میت میں گیا تھا۔ جس کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا۔ جنازہ کی نماز کے بعد جب جنازہ کو قبر کے پاس رکھا گیا تو اس کی نظر بغل میں کھودی گئی ایک اور قبر پر پڑی۔ تھوڑی دیر میں وہ جنازہ بھی آگیا اور دونوں میتوں کی تدفین قریب

غم زندگی

حامد بلند قامت طویل عمر چنار کے سائے تلے مغموم بیٹھا اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔  "زندگی کتنی بے رحم ہے ۔ آج پانچ سال سے کافی کوششوں کے باوجود بھی  میری پروموشن رکی ہوئی ہے ۔ بچے بڑے ہورہے ہیں ۔ اور گھر کے اخراجات بھی اب پورے نہیں ہوپاتے ۔ میں کیا کروں ؟ یا خدا ۔" وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے سگریٹ کی ڈبیا سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور اس کے دھویں سے خود کو راحت پہنچانے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔ وہ کبھی اپنی صلاحیتوں کو کوستا اور کبھی قسمت کو ۔ وہ ابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ چار پانچ سال کا ایک لڑکا ہاتھ میں غبارے لئے اسکے سامنے کھڑا ہوا۔ "صاحب ۔ لے لو نا غبارہ "  حامد اسے دیکھتا رہا ۔ میلے ملبوسات، ہاتھ پاؤں گندے، ننگے پیر اور قمیض جسکے اوپر کے بٹن ٹوٹ چکے تھے ۔ حامد اسے دیکھتا رہا اور وہ بچہ غبارے خریدنے کی فرمائش

افسانچے

دوری ڈاکٹر جلیل ملک زادہ خوشی سے ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ آج لندن میں اُسکی تحریر کردہ کتاب ’’بوڑھوں کے مسائل‘‘ کو ایک اعلیٰ لٹریری ایوارڑ سے نوازا گیا تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے اُسے مبارکباد پیش کی۔ کتاب کے پبلیشر نے اُس سے کہا کہ اِس کتاب کی لاکھوں جلدیں فروخت ہوں گی۔ رات کو وہ اپنی بیوی کے ساتھ شراب سے دل بہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ فیس بک پر اپنے چاہنے  والوں کے تاثرات و لوگوں کے لائکس پڑھ کر ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو رہا تھا۔ فیس بک پر سرچ کرتے کرتے اُسکی نظروں میں ایک تصویر آگئی۔۔۔ وہ چونک پڑا۔۔۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا ’’اس بوڑھی ضعیف اور اکیلی بدنصیب عورت کو اپنے عالی شان مکان کے بیڈروم سے کئی دنوں کے بعد مردہ حالت میں نکالا گیا۔ محلے والوں نے چندہ جمع کر کے اسکی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔۔۔اُس کے ہاتھ سے شراب کا جام گر پڑا اور اُس کے حلق سے

فیصلہ

جب اسے پتہ چلا کہ اس کی نسبت بچپن میں ہی حمزہ سے طے ہے تو اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین اڑ گیا۔اُسے تو وہ ایک لمحہ برداشت نہیں کرسکتی تھی اور کہاں پوری زندگی گزارنے کا سوال ۔۔۔۔۔نہیںایسا نہیںہو سکتا ۔۔۔مجھے کچھ تو کرنا ہوگا۔۔ہونٹ چباتے وہ مضطرب سی کمرے میں ٹہلنے گلی۔مچھے پاپا سے بات کرنی چاہے۔ وہ کسی بھی صورت  میںمیرے ساتھ زبردستی نہیں کریں گے ۔اس نتیجے پر پہنچ کراس نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو شام کے سات بجارہا تھا۔اس وقت مما باورچی خانے میں اور پاپااسٹڈی روم میں تھے۔پاپا سے بات کرنے کا یہ اچھا موقع ہے وہ یہ سوچتے ہوئے اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گئی۔آہستہ دستک دے کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی پاپا کو کسی کتاب کے مطالعے میں منہمک پایا۔انہوں نے سراُٹھا کر حیرانی سے دیکھا۔ دراصل وہ بہت ہی کم ان کے اسٹڈی روم میں آئی تھی سو ان کا حیران ہونا بجا تھا۔ ’’خیریت ہے بی

افسانچے

کیر ئر دلاور خان کے بیٹے نے دسویں جماعت میں تیسری پوزیشن حاصل کی تو علاقے کے لوگوں نے ان کے گھر جاکرانھیںمبارک باد دے دی ۔ محمد اکرم نحوی کی بیٹی مصباح نے ایم۔بی۔بی۔ایس میں داخلہ کی سیٹ نکالی تو سارے علاقے میںخوشی کی لہر دوڑ گئی۔سید محمد افضل کے بیٹے کو درجہ چہارم کی نوکری کا آڈر مل گیا تو انھیںمبارک باددینے کے لئے لوگوںکا تانتابندھ گیا۔ محمد حنیف موچی کے بیٹے نے پانچ سال کی عمرمیںقرآن اپنے سینے میںمحفوظ کر لیاتو لوگوں کی زبان پر صرف یہ ایک بات تھی۔۔۔ ’’اس موچی کو کیا ہوگیا۔ کیا اسے ہمیشہ جوتے ہی پالش کرنے ہیں۔اس نے اپنے بچے کا کیر ئر خراب کر دیا۔‘‘   سرکاری ملازم  وہ سوشل میڈیا پر کوئی ویڈیو،تصویر یا کوئی تحریر شئیرکرتا تھا۔  وہ ڈیڑھ منٹ کی یہ ویڈیو بھی، جس میںدس سال کی معصوم بچی کی عزت تار تار کرنے کے بعدبے دریغ مارا جا