تازہ ترین

ہٰذا مِن فَضلِ رَ بی

قومی ہیکل اور شاندار ڈیوڑھی کے سامنے، ڈیوڑھی کی شان سے مطابقت رکھتے ہوئے پہناوے کے ساتھ ایک پُروقار شخص کی برف سی سفید داڑھی اور پُرکوشش آنکھوں نے اُس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بھرے ہوئے رخساروں پر آنکھوں کے نچلے کناروں سے آنسوئوں کی دو جھڑیاں، جو داڑھی کو تر کررہی تھیں، دیکھ کر اُس کو حیر ت سی ہوئی۔ اُس نے اخذ کرلیاکہ اس شخص کو شائد اُس کے بیٹوں نے گھر سے نکال باہر کردیا ہے ۔۔۔ از راہِ ہمدردی وہ اُس شخص کے قریب گیا۔۔۔ اُس نے واقعی دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں اور اُس کی تراشی ہوئی سفید داڑھی کسی حد تک بھیگ چکی ہے۔ ’’بابا حوصلہ رکھئے۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائیگا۔۔۔‘‘ ’’بھائی۔۔ ٹھیک تو تب ہی ہوگا جب کچھ بچا ہو۔۔۔‘‘ بابا کی آواز میں تھرتھری اور دُکھ عیاں تھا۔ ’’بچے ہیں۔۔۔ ابھی نادان ہیں۔۔۔آپ کی قدر و ق

زمیں ساز

آفرین آباد پلیٹ فارم ، مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ابھی افروز پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ اس کے سامنے سے ایک عجیب قسم کا شخص گزرا۔ چہرے پہ لمبی داڑھی اور مونچھیں تھیں،چلنے کا اندار بھی عام انسانوں جیسا نہیں تھا۔ افروز اس شخص کے ساتھ -ساتھ چلتا ہوا ٹرین میں جاکر ٹھیک اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ افروز اس سے کلام کرنا چاہتا تھا مگر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بات چیت کیسے شروع کرے۔ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد آخر کار افروز اس سے ہمکلام ہوا ۔ "بابا آپ کہاں جا رہے ہیں؟" "میں آپ کو بابا دکھتا ہوں!" "جی نہیں" افروز لڑکھڑا کر بولا۔  اس پہ اجنبی ہنستے ہوے بولا۔"بھائی میں پی ۔کے، خلائی تحقیق تنظیم کا سائنسداں ہوں" "پی۔ کے " "ہاں بھائی تخلص پی۔ کے، نام پرویز کمال، ویسے آپ کی تعریف ؟" "مجھے افروز کہ

بولوتوسہی

آفتاب صاحب کوبچپن ہی سے بوقت ِ شام چہل قدمی کی عادت تھی اورپھربڑھتی عمرکے ساتھ تویہ عادت اوربھی پختہ ہوگئی تھی۔ نہ جانے کیابات تھی کہ شام کے وقت جیسے ہی سورج ڈوبنے کوہوتا ان کادِل بھی خودبخودڈوبنے لگ جاتاتھا۔ان پریاس وحسرت کی ایک بے نام سی گہری کیفیت چھاجاتی اوراِسی عالم میں وہ گھرسے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔اُس دن بھی وہ اسی حالت میں گھرسے نکلے تواُ ن کارُخ دریائے چناب کی جانب تھا۔وہ ذرا آگے بڑھے تودیکھادریائے چناب پوری طرح اپنے شباب پرتھا ۔موجوں کی باہم تصادم آرائی سے ایک ایسادِلُربااحساس ِ نغمگی پیداہورہاتھا جیسے کہ کہیں کوئی روائتی ساسازبج رہاہو ۔ اب آفتاب صاحب سازِ فطرت کی رُوح پرور موسیقی میں ایساکھوئے کہ آگے بڑھناہی بھو ل گئے ۔وہ جہاں تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔ وہ موجوں کی اِ س کشاکش کواسطرح دیکھ رہے تھے جیسے کہ دُنیاومافیاسے بے نیازہوکر کوئی عاشق اپنی معشوقہ کودیکھتاہے۔