تازہ ترین

کُتے ۔۔۔ پیارے کُتے

کُتا ایسا ہر دل عزیز جانور بنتا جارہا ہے کہ آپ اس کو ہر گلی، ہر سڑک یہاں تک کہ ہر باغ اور ہر محفل کے آس پاس دیکھ سکتے ہیں۔ کتنا سُہانا اور دلربا منظر ہوتا ہے جب کتوں کے غول سڑک پر دھما چوکڑی اور چھینا جھپٹی کرتے ہوئے ساری سڑک پر اپنی حکمرانی قائم کرکے ثابت کردیتے ہیں کہ ان کی اعدادی قوت انسان کی افرادی قوت سے برتر ہے۔ رنگ برنگے کتے دُم ہلاتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے چاک و چوبندہوتے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی کُتا اپنے علاقے کی حد سے باہر جائے اور کوئی دوسرے علاقے کا کُتا اِدھر آئے۔ اگر بھول کے سبب گُھس پیٹھ ہوئی تو گُھس پیٹھئے کو کھدیڑ کے بھگانا عزت اور غیرت کی بات بن کر رہ جاتی ہے اور سڑک میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ اُس وقت انسان اپنے گھروں میں دُبک کر رہنے میں خیر سمجھتا ہے کیونکہ گندم کے ساتھ گن کا پس جانا حماقت کے مترادف ہے۔ کُتوں کی آبادی کے لئے حکومت نے خاص طور پر ایک منفرد

دور ترقی کا ۔۔۔

میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں سبھی لوگوں سے جلدی گھُل مِل جاتی تھی کیونکہ میں ہمیشہ ہر ایک شخص سے نرم لہجے میں بات کرتی تھی ۔ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا میں نے نئے اسکول میں داخلہ لیاتھا ۔میں پہلے کانوینٹ اسکول میں پڑھتی تھی لیکن مجھے اچانک سے ہی اردو سے اتنا لگائوہو گیا تھا کہ میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کے لئے دیوانی ہو گئی تھی ۔جس طرح ایک محبوب کو محبوبہ سے پیار ہوتا ہے اُسی طرح مجھے اردو سے پیار ہو گیا تھا اور اِس کی اصل وجہ تھی کہ میرے پاپا کے پاس تمام رسائل آتے تھے اور میرے والد بہت سے سیمینار بھی attendکر چکے تھے ۔کبھی میں دیکھتی کہ ’شاعر ‘ آیا ہے کبھی ’رنگ ‘ کبھی ’اسباق ‘ اور کبھی کوئی اور رسالہ۔ چونکہ میرے پاپا ’انتساب‘ کے سرپرست بھی ہیں جس کی وجہ سے انہوںنے میری تربیت ہی اِس ڈھنگ سے کی ہے کہ میں بھی ترقی کر سکوں ۔یہی وجہ ہے کہ م

خوش قسمت

’تین سال ہوئے ہماری شادی کو۔۔۔‘ فہمیدہ اپنی سہیلیوں کے درمیان چہک چہک کر باتیں کررہی تھی۔ ’کیا بتائوں، میں کتنی خوش قسمت ہوں،  آ ج کل وہ جونہی دفتر سے گھر لوٹتے ہیں، تو سیدھے کچن میں آکر مجھے۔۔۔۔  پہلے پہل تو آتے ہی بات بے بات پر آسمان سر پر اُٹھاتے ،  چیزیں الٹ پلٹ کر رکھ دیتے، موقع بے موقع مجھ سے جھگڑتے رہتے۔  آج کل وہ بھیگی بلی بن کر ۔۔۔۔۔،  واقعی میں بہت خوش ۔۔۔۔۔ کیا بتائوں، صبح اگر میں کوئی چیز مانگوں تو شام تک میری فرمائش۔۔۔۔۔ پہلے تو گھر سے باہرمجھے قدم رکھنے ہی نہیں دیتے تھے،  آج اگر میں ہفتہ بھر بھی میکے میں گزاروں، وہ کبھی ناراض نہیں ہوتے، اُف تک نہیں کرتے۔  کسی بھی بات پر شکایت کرنے کا موقع نہیں دیتے،  کیا بتائوں میں کتنی خوش قسمت ہوں۔۔۔ کل ہی میرے لئے ایک بہت

پروفیسر محی الدین حاجنی

ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی آبگاہ ولر جھیل کے کنارے واقع علاقہ بانڈی پورہ کی سر زمین کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علم و اد ب کے لحاظ سے کافی زرخیزیت عطا کی ہے ۔یہاں پر کئی بڑے دانشوروں، سخنورں، ادیبوں اور تاریخ دانوں نے جنم لیا ہے اور اُنہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر علم و ادب کے گلشن کو مہکایا ہے ۔مرحوم پروفیسر محی الدین حاجنی کو ان بلند قد شخصیات میں اعلیٰ مقام حاصل ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی کشمیری زبان و ادب اور تاریخ کی زُلفیں سنوارنے میں صرف کی ۔پروفیسر حاجنی،  جنہیں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس حاصل تھی، نہ صرف کشمیری زبان کے اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے بلکہ ایک سماجی کارکن ،بلند قد عالم اوردانشور بھی تھے، جنہیں ان کی علمی و ادبی خدمات کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ پروفیسر حاجنی کا اصل نام غلام محی الدی

رفیق رازؔکا شعری نخلستان

شاعری تجربات کا فن ہے اور یہ فن تجربات و مشاہدات کی پیش کش  کے لئے فنی لوازمات کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ کسی بھی باشعورانسان کے افکارمقامی ماحول یا حالات وواقعات کی اثرانگیزی سے بچ نہیں سکتے ہیں اور جب کوئی حساس فن کار ایسے ماحول میں سانسیں لیتا ہے تو ان حالات و واقعات کا مشاہداتی اظہار وہ اپنی تحریر /تخلیق میں کرتا ہے‘جس کا اظہار ساحر لدھیانوی نے دلچسپ انداز میں یوں کیا ہے: دنیا  نے تجربات و حوادث کی شکل میں   جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں انہیں تجربات و مشاہدات کا فنی اظہار راز صاحب بھی دل فگار انداز میں کرتے ہوئے خود کو شاعر کی بجائے’ درد ِعظیم‘ کا ’امیں‘ کہہ کر کہتے ہیں کہ میں اپنے کلام میں وہیں امانتیں لوٹا رہا ہوں جو وقت نے مجھے سونپی تھیں۔ شعر کی موضوعاتی مماثلت دیکھ کر ــ ’’خدائے سخن‘‘ می