تازہ ترین

افسانچے

ہارر فکشن ڈرررر۔۔۔   رات اماوس کی ہوتی یا چاند رات کی ۔سر شام ہی ڈر ساری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا۔ مغرب سے پہلے ہی لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے تھے۔ مسجدوں سے بھی اعلان جاری ہوتا تھا کہ اپنے گھروں کی کھڑکیاں دروازے پوری طرح سے مقفل کردو۔ اگر کوئی دروازہ پیٹتا ہے تو دروازہ نہیں کھولنا۔ البتہ اگر کسی دروازے پر دستک ہوتی ہے توجس گھر میں ڈول  ہے وہ لوگ ڈول پیٹیں گے۔ جن کے گھروں میں ٹین کے ڈبے ہیں وہ ڈبے بجا دیں  اور جن کے پاس بجانے والی کوئی چیز نہ ہو وہ برتن بجا لیں یا چھت پر جاکرزور زور سے چلائیں ۔ اب بستی میں ہر شام کسی نہ کسی گلی میں ڈول یا ٹین بجتا تھا تو مسجدوں کے لاوڈاسپیکر کھول دیئے جاتے تھے  اور زور زور سے ہوشیار خبر دار چلانے کا شور برپا ہوجاتا تھا۔ بستی کے لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر، گلے میں ڈول لٹکا کر اور زیادہ تر شور مچاتے گھروں سے باہر ن

ایک یادگار سفر

چند روز قبل ایک دوست کے ہمراہ سوپور جانے کا اتفاق ہوا ۔ موسم گرما کی جھلسا دینے والی دوپہر تھی ۔ ہم پسینے سے شرابور کالی سڑک کے سینے پر دن بھر رینگتے رہے۔ اپنا کام انجام دینے کے بعد جب واپسی کا ارادہ کیا تو عزیز دوست کو اس گرمی میں بھی شرارت سوجھی کہ کیوں نہ واپسی کا سفر لفٹ مانگ کر کیا جائے ۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے تو یقین مانئے کہ آپ غلط فہمی کے شکار ہیں ۔ موصوف نے یہ سفر تجرباتی بنیادوں پر تجویز کیا تھا تاکہ نہ جان سکیں کہ آج کے سائینسی دور کے انسان میں کس قدر ہمدردی کا جذبہ باقی رہا ہے۔ میرے فاضل دوست نے اپنی یہ تجویز ایسے پُراثر اور اس قدر فلسفیانہ انداز میں سامنے رکھی کہ بادل ناخواستہ مجھے قائل ہونا ہی پڑا۔  بہرحال ہم مصروف ترین شاہراہ کی بائیں طرف ہر آتی گاڑی کو روکنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ کافی دیر جب سینکڑوں گاڑیاں ہمیں اَن دیکھا کرکے چلی گ

’ زخموں کے اُجالے ‘

دیپک بُدکی ایک عالمی شہرت کے حامل مصنف و افسانہ نگار ہیں ۔اپنی خدا داد صلاحیتوں و مشاہدات سے وہ اپنے افسانوں میں قارئین کے ادبی ذوق کو تسکین بخشنے کے لئے بہت کچھ رکھ دیتے ہیں ۔ زیر تبصرہ افسانہ بھی اُن کے مشاہدات و بہترین بیانیہ کی عکاسی کرتا ہے ۔ ’’زخموں کے اُجالے ‘‘۔اپنی بنت میں اگر چہ ایک افسانہ ہے مگر افسانے کا بیانیہ ہمارے سماج کی ایک دل خراش حقیقت کی وجہ سے قارئین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتاہے۔ زیر تبصرہ افسانے میں افسانہ نگار نے فن تحریر پر اپنی قدرت سے سماجی حقائق کو اتنا دلچسپ بنایا ہے کہ قاری جہاں افسانہ پڑھ کر افسانے کا لطف حاصل کرتاہے وہیں دوسری طرف اُس پر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آج سچ بولنا کتنا مشکل کام ہے۔ یہ افسانہ ایک ایسے کردار کے گرد گھومتا ہے جو اپنی صدق بیانی سے اگرچہ بہت پریشان ہے مگر نفسیاتی طور سے صدق بیانی اس کی زندگی کا ایک جزء لاینفک

کچھوا اور خرگوش

کچھوے اور خرگوش میں کسی بات کو لے کر اختلاف ہوگیا۔ اختلاف جب آپس میں نہیں سلجھا تو سارا معاملہ جنگل کے راجا شیر کے پاس پہنچا۔ شیر نے دونوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن دونوں اپنی ضد پر اڑے رہے۔ آخر کار ایک بزرگ لومڑی کے مشورہ سے یہ طے پایا کہ دونوں کے درمیان ایک دوڑ کرائی جائے گی اور جو جیتے گا فیصلہ اس کے حق میں دیا جائے گا۔ دونوں اس بات پر راضی ہوگئے۔ لیکن بزرگ لومڑی جو کچھوے کی حمایتی تھی، اس نے شیر کو مشورہ دیا کہ، دوڑ میں دونوں کی رفتار کا لحاظ رکھ کر فاصلے کا تعین کیا جائے۔ شیر نے بزرگ لومڑی کی یہ تجویز مان لی اور مقابلے کا دن طے کر دیا۔ طے شدہ دن پر سارا جنگل جمع ہوگیا۔ دونوں جب رفتار کے حساب سے طے شدہ جگہ پر پہنچ گئے تو ایک نوجوان شیر کی گرجدار گراہٹ کے ساتھ دوڑ کا آغاز ہوا۔ سارا جنگل اپنے اپنے حساب سے اندازہ لگا رہا تھا اور سب اس دوڑ کو جیتنے والے کا انتظار کررہے تھے۔

اُجڑتے پلوں کی کھیتیاں

عورت، جس کا میں نام نہیں جانتا، بس اڈے کے ایک پسنجر شیڈ میں بیٹھی تھی۔ وہ دور مغرب کی جانب جنگل میں ڈوب رہے لہولہان، لال سورج کے گولے کو لاشعوری طور جھولتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ شائد اُسکو اِس لہولہان لال سورج کے گولے میں سے اپنی بیتی زندگی کا کوئی ٹکڑا بھی دِکھ رہا تھا۔ بس اڈے میں کوئی گاڑی کھڑی نہیں تھی۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی شام کی ملگجی روشنی میں لوگوں کی ایک بھیڑ گاڑی کے انتظار میں بے چینی کے عالم میں دُھندلی سی اُمید لئے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی۔ شائد یہ وہ لوگ تھے جن کی گھر تک کی مسافت دس کلومیٹر سے کم نہ تھی، نہیں تو یہ بھی اور لوگوں کی طرح پیدل ہی چلے گئے ہوتے۔ جوں جوں وقت بیتتا جارہا تھا عورت اور بھی پریشان ہورہی تھی۔ سوچ میں ڈوبی، بار بار سیل فون پر وقت دیکھ لیتی۔ دوچار قدم چل کر ٹانگوں کی اکڑن دور کر لیتی اور پھر اُسی شیڈ میں آکر بیٹھ جاتی۔ اُکھڑی سوچ کی لڑی کو پھر جوڑ لی

لہوکا عکس

افسانہ ’’سیاہی کے دریا‘‘ میں اس قوت سے کود پڑیں کہ ہر لفظ کی لہر خم بہ خم آپکے وجود کے ذرے ذرے سے لپٹ جاے ٔ۔۔فاروق سر کتاب کے ہر باب کو پڑھانے سے پہلے یہ جملہ کہا کرتے تھے،ہاں! بس ہر بار اس میں یہ فرق ہوتا تھا کہ وہ اسکی شروعات میں صنف کا نام بدل دیتے تھے۔اب تو یہ جملہ سب نے اتنی دفعہ سن لیا تھا کہ وہ ہر ایک کے دماغ کی رگ رگ میں بس چکا تھا اور جب بھی سر کے لب یہ بولنے کے لئے کھلتے تھے ہم سب یکسر زور دار آواز میں سارا جملہ انکے مکمل کرنے سے پہلے ہی اداء دیتے تھے۔فاروق سر یوں تو ہمیشہ ہی ہمارے بولنے پر دھیمے سے مسکرایا کرتے تھے پر آج انہوں نے بڑی ہی سنجیدگی کے ساتھ ہمیں کہا کہ آج جو ہم پڑھنے جارہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ حقیقی صورتحال پر مبنی فکشس ادب کے اس شہکار کو اپنے قلب کی گہرائیوںں تک اُتار لیں۔ان کی یہ باتیں لگ بھگ ہر دوسرے طالب کے سر کے اُوپر سے راکٹ

’’ویتھ‘‘ کشمیر کہانی کی دلچسپ تمثیلی پیشکش

فنِ تاریخ نگاری میں کشمیر کو یہ امتیاز رہا ہے کہ کشمیر کی صدیوں کی تاریخ کا اہم حصہ منظم انداز سے تحریری صورت میں محفوظ ہے جس کا ثبوت مشہور کتاب'' راج ترنگنی''(کلہن۔۔۔ 1100ء) ہے اگرچہ اس کتاب سے پہلے بھی چند تاریخی دستاویزات لکھی گئی تھیں تاہم راج ترنگنی کی مقبولیت اب بھی قائم ہے۔ اس کے بعد کئی اہم تاریخی تصانیف سامنے آئیں اور کشمیر کی تاریخی 'سیاسی 'سماجی'تہذیبی'معاشرتی روداد مورخین رقم کرتے رہے۔ خیر سردست زیر نظر تصنیف ''ویتھ'' کے ڈسکورس پر مختصر گفتگو کرنا مطلوب ہے تو ''ویتھ'' کشمیر کے معروف افسانہ نگارراجہ یوسف کی تحریر کردہ ایک ایسی تصنیف ہے جس میں کشمیر کے اہم تاریخی واقعات کو تخلیقی پیرائیہ میں تمثیلی روپ دیا گیا ہے جوکہ ایک تو قاری کو کشمیر کی تاریخ سے متعلق جستہ جستہ واقفیت بہم پہنچاتاہے اور دوسرا تمثیلی اسلوب کی

ڈینجر زون !

’’ اے زمین والو۔۔۔۔۔۔؟‘‘ بل کینڈی اپنے دفتر میں کام میں مصروف تھا کہ دفعتاً اس کے پیغام رسانی کے آلے پر کسی نا معلوم مقام سے پیغام موصول ہوا اور حیرت انگیز طور یہ الفاظ اس کی سماعت سے ٹکرائے۔ ’’ہیلو ۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔ میں زمین سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ۔ اوور‘‘۔  اس نے آواز کا جواب دیتے ہوئے واپس تحریری پیغام بھی بھیج دیا اور جواب ملنے کا انتظار کرنے لگا ،لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ خلاء میں سگنل پہ سگنل بھیجتا رہا جس دوران اس نے اپنے تحقیقاتی ادارے کے اوپر سے چند اڑن طشتر یوں کو مسلسل پرواز کرتے ہوئے دیکھا ۔ نامعلوم مقام سے ملے اس مختصر پیغام اور اُڑن طشتریوں کی مسلسل پرواز سے تحقیقاتی ادارے میں ہلچل مچ گئی اور سارا عملہ متحرک ہوکر اڑن طشتریوں کے حرکات وسکنات کاباریک بینی سے مشاہدہ کرنے لگا۔ مشہورخ

ہٰذا مِن فَضلِ رَ بی

قومی ہیکل اور شاندار ڈیوڑھی کے سامنے، ڈیوڑھی کی شان سے مطابقت رکھتے ہوئے پہناوے کے ساتھ ایک پُروقار شخص کی برف سی سفید داڑھی اور پُرکوشش آنکھوں نے اُس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بھرے ہوئے رخساروں پر آنکھوں کے نچلے کناروں سے آنسوئوں کی دو جھڑیاں، جو داڑھی کو تر کررہی تھیں، دیکھ کر اُس کو حیر ت سی ہوئی۔ اُس نے اخذ کرلیاکہ اس شخص کو شائد اُس کے بیٹوں نے گھر سے نکال باہر کردیا ہے ۔۔۔ از راہِ ہمدردی وہ اُس شخص کے قریب گیا۔۔۔ اُس نے واقعی دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں اور اُس کی تراشی ہوئی سفید داڑھی کسی حد تک بھیگ چکی ہے۔ ’’بابا حوصلہ رکھئے۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائیگا۔۔۔‘‘ ’’بھائی۔۔ ٹھیک تو تب ہی ہوگا جب کچھ بچا ہو۔۔۔‘‘ بابا کی آواز میں تھرتھری اور دُکھ عیاں تھا۔ ’’بچے ہیں۔۔۔ ابھی نادان ہیں۔۔۔آپ کی قدر و ق

زمیں ساز

آفرین آباد پلیٹ فارم ، مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ابھی افروز پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ اس کے سامنے سے ایک عجیب قسم کا شخص گزرا۔ چہرے پہ لمبی داڑھی اور مونچھیں تھیں،چلنے کا اندار بھی عام انسانوں جیسا نہیں تھا۔ افروز اس شخص کے ساتھ -ساتھ چلتا ہوا ٹرین میں جاکر ٹھیک اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ افروز اس سے کلام کرنا چاہتا تھا مگر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بات چیت کیسے شروع کرے۔ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد آخر کار افروز اس سے ہمکلام ہوا ۔ "بابا آپ کہاں جا رہے ہیں؟" "میں آپ کو بابا دکھتا ہوں!" "جی نہیں" افروز لڑکھڑا کر بولا۔  اس پہ اجنبی ہنستے ہوے بولا۔"بھائی میں پی ۔کے، خلائی تحقیق تنظیم کا سائنسداں ہوں" "پی۔ کے " "ہاں بھائی تخلص پی۔ کے، نام پرویز کمال، ویسے آپ کی تعریف ؟" "مجھے افروز کہ

بولوتوسہی

آفتاب صاحب کوبچپن ہی سے بوقت ِ شام چہل قدمی کی عادت تھی اورپھربڑھتی عمرکے ساتھ تویہ عادت اوربھی پختہ ہوگئی تھی۔ نہ جانے کیابات تھی کہ شام کے وقت جیسے ہی سورج ڈوبنے کوہوتا ان کادِل بھی خودبخودڈوبنے لگ جاتاتھا۔ان پریاس وحسرت کی ایک بے نام سی گہری کیفیت چھاجاتی اوراِسی عالم میں وہ گھرسے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔اُس دن بھی وہ اسی حالت میں گھرسے نکلے تواُ ن کارُخ دریائے چناب کی جانب تھا۔وہ ذرا آگے بڑھے تودیکھادریائے چناب پوری طرح اپنے شباب پرتھا ۔موجوں کی باہم تصادم آرائی سے ایک ایسادِلُربااحساس ِ نغمگی پیداہورہاتھا جیسے کہ کہیں کوئی روائتی ساسازبج رہاہو ۔ اب آفتاب صاحب سازِ فطرت کی رُوح پرور موسیقی میں ایساکھوئے کہ آگے بڑھناہی بھو ل گئے ۔وہ جہاں تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔ وہ موجوں کی اِ س کشاکش کواسطرح دیکھ رہے تھے جیسے کہ دُنیاومافیاسے بے نیازہوکر کوئی عاشق اپنی معشوقہ کودیکھتاہے۔

سوچ کے زخم

ہمارے سماج میں خدا کے قہر سے نہ ڈرنے والے کچھ بے رحم لوگ موجود ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ خود چوکیداری پر مامور ہو کر ہر طرح کی خبر رکھنے کے علاوہ کسی اچھے سچے انسان کی اچھائی سچائی کو عام لوگوں کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جھوٹی بات کو سچائی کے انداز میں دوسروں تک پہنچانے،پھیلانے اور یقین دلانے کا ہنر جانتے ہیں۔ کبھی کبھی سات پردوں میں رہنے والی کسی کی بہو بیٹی کو بھی نہیں بخشتے۔ کسی پر تہمت لگانا، کسی کی زندگی کو جہنم بنانا ، کسی کا گھر جلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ ان ہی جیسے لوگوں میں سے کسی ایک کو طالب اور حرمت کی خوشیوں سے بھری زندگی دیکھی نہ گئی۔ طالب کے دل پر شک کا تیر چلا کر اسے حرمت کی طرف سے بدگمان کردیا اور بدگمان ہوتے ہی طالب کے دل میں طرح طرح کی باتیں جنم لینے لگیں۔ وہ باتیں جو حرمت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں۔ پھر اس کے دل میں خطرناک ہلچل م

اجنبی لڑکی

صبح سویرے جوں ہی بازار کُھلتا تھا وہ نوجوان خوبصورت لڑکی چوک میں نمودار ہوجاتی تھی۔ اُس کے کُھردرے سنہرے بال، اُسکی ہرنی جیسی چال اور نازک بدن پر وہ پھٹے پرانے کپڑے آج بھی میرے اِدراک کے دریچے پر دستک دے رہے ہیں! وہ غریب حسینہ آج بھی میرے محسوسات کی دُنیا پر حکمرانی کررہی ہے۔ اُس کی غزالی آنکھوں میں مانسبل کی جھیل سُکڑ سمٹ رہی تھی۔ اُس کے پاس ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔ اُس کے ہر ادا نرالی تھی۔ پتھریلی زمین اُس کے ننگے پیروں کو چومتی تھی۔ اُس بھرے بازار میں صرف میں ایک تھا جسکی سوچ کو سِیاہی چوس کی طرح اس جوان لڑکی نے چوس لیا تھا۔  میں اس لڑکی کے بارے میں اتنا فکر مند کیوں ہوں؟ میرا اُس سے کیا رشتہ ہے؟ ایسے ہی اور بھی کچھ سوالات میری سوچ کی تختی پر اکثر ابھرتے تھے۔ تیز دھوپ جب اُس کا گورا بدن جھلس جاتا اور اُس کے پھیلے ہوئے نرم خوبصورت ہاتھ تھر تھرانے

لمحوں کی ڈور

جھیل ڈل کا بغور جائزہ لینے کے بعد یاور ؔ نے مانجھی کو اشارہ کر کے بلایا اور کہا۔ ’’ہمیں جھیل کی سیر کروائوگے۔‘‘ وہ جلدی کرتے ہوئے بو لا۔’’آئیے صاحب بیٹھئے۔میں ساری جھیل گھما لے آوںگااور محنتانہ بھی مناسب ہی لوں گا۔‘‘ اتنے میںبھیڑ لگ گئی ہر ایک مانجھی انھیں اپنی طر ف رجھانے کی کوشش کرتا رہا۔یاورؔ اور شبنمؔ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاںاترتے کشتی میں بیٹھ گئے ۔ ’’صاحب مجھے یقین تھا کہ آپ میری ہی کشتی میں بیٹھیں گے، آپ نے مجھے بلایا تھا۔‘‘ ’’مجھے تمہا ری کشتی پسند آئی ۔تم نے خوب سجایا ہے اس کو ۔‘‘ ’’ صاحب!لگتا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔‘‘ اس پر یاور ؔ نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کی چپی دیکھ کر مانجھی کچھ توقف کے بعد پھر بولا۔ ’

خط بنام خالق ِ کائنات

سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں -وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جن سے آپ کی تعریفیں کروں- خط شروع کرتے ہوئے جہاں اپنے اوپر ہنسی آرہی ہے کہ کہاں میں جو اس کائنات میں ایک ریت کے ذرے کی مانند بھی نہیں  اور کہاں آپ جس کی بالادستی پورے عالم پر قائم ہے مگر شرم ساری کے اس عالم میں خط لکھنے کی جرأت کر رہا ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ بڑے معاف کرنے والوں میں سے ہیں- گزشتہ مہینوں سے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں- جب اس دنیا میں اپنے وجود کو دیکھتا ہوں تو خون کے آنسو روتا ہوں- میرے خالق آپ نے تو انسان کو ایک بہترین ساخت سے پیدا کیا تھا- آپ نے ہر انسان کو اس کائنات میں برابر کا درجہ دیا تھا -آپ نے اس کو ذہن دیا تھا کہ وہ آپ کی اس حسین کائنات کا نظارہ کرے اور آپ کی حمد بجا لائے- آپ نے انسان کو انسان کا ہمدرد بنایا تھا مگر اے زمين و آسمان کے حاکم  یہ سب دنیا میں کیا

ضدی

 میری ماں کے چہرے پر یاس اور ناامیدی کا پہرا تھا۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔اس کا چہرا بتا رہاتھا کہ وہ   دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی ہے لیکن ضبط کئے ہوئے تھی ۔ اس نے دل پر صبر کا کاغذی پتھر رکھا ہوا تھا اور کلیجے کو امید کے نحیف ہاتھوں سے تھام رکھا تھا۔ وہ میرے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر تکتی جا رہی تھی، شاید میرے دل میں چھپے غموں کا طوفان  میری آنکھوں میں تلاش کر رہی تھی ۔ وہ منتظر تھی کہ کب میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ پڑے اور میں چیخ چیخ کر رو پڑوں اور وہ میر ا سر اپنی گود میں رکھ کر  اپنی پلکوں کانرم باندھ کھول کر میرے ساتھ ساتھ زار و قطار رو لے تاکہ میرے درد کا کچھ مداوا ہوجائے۔ لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں کی ا ٓنکھیں میرے دکھ کی وجہ سے تر ہوجائیں ۔ اپنی ماں کے ایک ایک آنسو پر ایسی ہزار جانیں قربان کر سکتا تھا۔   ایک سانحہ تھ

پانی کی لڑکی

ریت کے اونچے ٹیلے پربیٹھ کے حد نظر تک پھیلے نیلے سمندر کی لہروں کو تکتے ہوئے سوچ کی وادی میںدور نکل جانا ،سنہری سبزسرخ مچھلیوں کا سطح آب پہ آکے اُچھلنا ناچنا اُسے اچھا لگتا تھا۔فرصت کے لمحات میںاکثر یہاں آتا تھا ۔لیکن ایک بات ہے پہلے وہ خود کو جوش سے بھرا ہوا پاتا تھا ۔اب اُس جوش میںکچھ کمی سی آگئی تھی ۔جیسے انتظار تھک چکا تھا ۔امید بھری آنکھ میں کوئی دھند سماگئی تھی۔آج چھٹی ہونے کے سبب وہ سویرے ہی چلاآیا تھا۔دھوپ میں زیادہ تمازت نہ تھی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔سمندر کی لہریں شانت تھیں۔وہ اپنی کسی سوچ میں کھویاہوا تھا کہ یکایک اسکے چہرے پر ایک چمک سی پیدا ہوئی ۔اس نے دور سمندر میں ایک جواں سال لڑکی کے اوپری دھڑکو  لہروں پرناچتے لہراتے ہوئے دیکھا  ۔پہلے اس نے سوچا فریب نظر ہے لیکن دوسرے ہی لمحے لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے پایا۔وہ اُسے اپنی جانب بلا رہی تھی۔اُس نے آس پاس دیکھ

سپاری

ریل سے اتر کر ماجد کچھ لمحے ادھر اُدھر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو کر خوش وخرم اپنے نئے دفتر کی طرف جانے لگا ،اس کی نئی نئی ترقی   ہوئی تھی اورنیا عہدہ ملنے کے ساتھ ہی اس کا تبادلہ دوسرے شہر میں ہوا تھاجہاںوہ آج ہی ڈیوٹی جوائین کرنے جا رہا تھا ۔ ’’ او مائی گا رڑ ۔۔۔۔۔۔ یہ مصیبت یہاں بھی پہنچ گئی ہے ‘‘۔ چلتے چلتے دفعتاًہاتھ میں لاٹھی لئے انسپکٹر شہباز کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے اورمُنہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ۔اس نے گھبراہٹ کے عالم میں دائیں بائیں دیکھا اور چپ کے سے راستہ بدل کر نکل گیا کیوں کہ وہ کسی بھی حال میں انسپکٹر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔بہر حال جوں توں کرکے وہ انسپکٹر کا سامنا کئے بغیر جب ریلوے سٹیشن سے باہر نکلا تو اس نے اطمینان کی سانس لی اور جلد ہی دفتر پہنچ گیا جو یہاں سے تھوڑی ہی دوری پر واقع تھا ۔    &rsqu

’جہانِ حمد و نعت‘

محمد عربی نور سرمدی ﷺ کی ذات ارفع و اعلی صفات ہے،آپ ؐ کی محبت جانِ جاں ، جانِ ایماں ، یقین کی آن ، اسلام کی شان ، دین کی روح اور شریعت کی اساس ہے۔جس کے دل میں آپؐ کی محبت کی آنچ نہ ہو، وہ کافر بھی ہے منکر بھی۔ دنیا کی تمام عظمتیں آپؐ کی بارگاہ میں سرنگوں ، ساری رفعتیں آپؐ کے قدموں کی دھول اور ساری نیک نامیاں آپؐ پہ نثارہیں۔ ازخاک تا عالم پاک ، ازفرش زمیں تا عرش بریں ،از ثری تا ثریا ہر شئے آپؐ کی عظمت کی گواہ ، فضیلت کی شاہد ، کمال کی قصیدہ خواں ، جمال کی نغمہ سرا اور نوال کی بانگ درا ہیں۔زندہ  جاوید ہیں وہ زبانیں جن سے نعت ِ رسول مقبول ﷺ کے زمزمے بلند ہوں ، قابل رشک ہیں وہ قلم جن سے منقبت ِ نبیؐ کے آبشار پھوٹیں ، لائق ناز ہیں وہ صلاحیتیں جو مدحت ِ نبی رحمتؐ کی پاکیزہ فضا اور مقدس جولان گاہ میں شب و روز اڑان بھرتی ہوں۔ رسالت مآب ﷺکے عہد فرخ فال سے لے کر دنیا کی ہر زبان می

تمہیں دل لگانے کوکس نے کہاتھا۔۔۔

وہ بلاکی خوب صورت ،بہترین نقش ونگارکی مالکہ تھی۔ اسکے خدوخال بہترین ڈھانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسکی سرمئی آنکھوں میںڈوب جانے کودل کرتاتھا۔  کالی گھنی زلفیں ماتھے پر ہروقت اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھیں ۔وہ بات کرتی تو جیسے موتی بکھیرتی ۔چہرہ ہنسی کے بغیربھی ہنستادکھائی دیتا تھا۔ غرض وہ خوب صورتی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھی۔ اس کے برعکس اس کاخاوند عام سی شکل وصورت کامالک تھا، جسکو کپڑے پہننے کاڈھنگ بھی کچھ کم ہی تھا ۔ و ہ بڑابددماغ اوربداخلاق بھی تھا۔ایک دفترمیں بڑاافسرتھا لیکن افسرانہ رکھ رکھائو اُس کو چھو کر بھی نہیں گیاتھا۔اسکی بات چیت اوربرتائوسے اسکے دفتروالے بہت نالاں تھے۔وہ محلہ میں بھی کسی سے بات وغیرہ نہیں کرتاتھا۔ اسکے گھرمیں بھی کسی کا آنا جانا بھی نہیں تھا۔صرف ایک وکیل صاحب، جو انکے کلاس فیلوتھے، تقریباً ہرروز انکے ہاں آتے تھے،باقی کسی کونہ آتے دیکھانہ جاتے ۔