تازہ ترین

راستہ

سیاہ رات گذرتے گذرتے اپنی گذرگاہوں کی آخری حدوں سے گذررہی تھی ۔ہرطرف سکوت کاعالم طاری تھااورپھرآہستہ آہستہ اندھیروں کی کوکھ سے سحرکااُجالہ نمودارہونے لگاتھا۔پرندے گھونسلوں میں بیٹھے حمدوثناکے نغمے گاگاکر آمد ِ سحرکوخوش آمدیدکہہ رہے تھے اورپھرتھوڑی ہی دیرکے بعدجب سحرکے آثاررات کے اندھیروں کوآخری بارالوداع کہہ رہے تھے تومساجدسے اذانوں کی رُوح پرورآوازیں بلندہونے لگی تھیں۔ یہ مخلوقِ خدا کواصلاح وفلاح کی اعلانیہ دعوت تھی مگرمجھ پربدستورنیندکاغلبہ طاری تھا۔اگرچہ سامنے کی گلی میں آتے جاتے نمازیوں کی کھسرپھسرمُجھے بھی ادائیگی ٔ نمازکیلئے اُبھاررہی تھی مگرمن پاپی تھاکہ مانتاہی نہیں تھا۔خوابیدہ ضمیراوّل توانگڑائی لیتاہی نہیں تھااوراگرکہیں لے بھی لیتاتو میرے اندرکاروایتی شیطان اِسے مصلحت کی ایسی ایسی میٹھی لوریاں سناکرسلاتاکہ پھرمشکل سے جگائے جاگتاتھا۔ابھی اِسی کشمکش میں مبتلاتھاکہ یکای

وفا

باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا ’’آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں ۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور بھرائی آواز میں کہا ’’جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں، تو میں اس گھر میں کیا کررہا ہوں۔؟بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔۔۔تم جیو اپنی زندگی ۔۔۔۔ میں چلا اس گھر سے۔۔۔۔یہ کہہ کر باپ جانے لگا تو بیٹے نے روک لیا اور کہا’’آپ یوںہی چلے جائیں گے تو اس میں ہماری بدنامی ہوگی ،لوگ ہم کو برا کہیں گے۔میں آپ کو آشرم چھوڑ دوں گا ،آپ اپنی تیاری کرلیں۔‘‘ وقت ِ شام کو بیٹا اپنے بوڑھے باپ کو آشرم چھوڑنے جا رہاتھا۔‘‘ دونوں  باپ بیٹے خاموش گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے راستے پر چلتے جا رہے تھے۔خیالات کا ہجوم دونوں کے دماغ میںبرابر امڈرہاتھا۔

’’مفلسی کا گھروندا‘‘

’’فاروق ‘‘نے اپنی جوانی کے دن سادگی سے گزار کر ’’تبسم‘‘ سے نکاح کر لیا کئی ماہ بعد اس کے گھر میں خدا کی نعمت کے طور پر ایک ننھی سی پری نے جنم لیا۔ فاروق صبح کا م کے لئے نکلتا اپنی پیاری سی پری کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہی اپنے کام کو جاتا۔ محلے کے مولوی صاحب نے اس پری کا نام ’’شبنم‘‘ رکھا۔ ماں باپ کی لاڈلی شبنم والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ۔ فاروق شام کو گھر تھک ہار آکر معصوم بچی شبنم کے ساتھ طوطلی زبان میں باتیں کر کے اپنے دن کی ساری تھکان دور کردیتا۔ اسی دوران ایک دن اپنی شریک حیات تبسم سے باتوں ہی باتوں میں فاروق نے کہا:  ’’آج میری کمر جواب دے گئی ہے، سارا دن مجھے سیمنٹ کے بوریاںایک ٹرک سے اُتار کر دوسری چھوٹی گاڑی میں لادنی پڑیں،آج باقی دنوں کی نسبت مجھے کچھ زیادہ ہی کام کرنا پڑا…&l

’’سکوت ‘‘

کچھ افسانے ایسے ہوتے ہیںجن میں زیادہ تر عبارت آرائی‘ زباندانی اور محاورات کی بھر مار ہوتی ہے۔ ایسے افسانہ نگاروں کو زبان پر کافی  عبور حاصل ہوتا ہے اور وہ عبارت کو پر کشش اور پرلطف بنانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان افسانوں میںتصوراتی، تخلیاتی اور موہوم موضوعات سمٹے ہوتے ہیں پڑھنے میں۔ بیشک بڑا لطف آتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد یہ لطف ‘ چاشنی اور مٹھاس معدوم ہوجاتی ہے کیونکہ ان میں کوئی مخصوص واقعہ یا مسایل ہی زیر بحث آتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں کہانی پن کا فقدان ہوتا ہے۔ اگر چہ ایسی کوشش زبان وادب کی خدمت گزاری اور نشو ونما میں کے لئے اہم سرمایہ ہوتی ہیں۔ لیکن تا اس کو ہم ادب برائے ادب کا ہی نام د ے سکتے ہیں۔ جس قاری کو ادب وزبان سے خاص شغف ہو وہی ایسے ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں  ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِلیکن عام قاری کو ان فن پاروں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی ہے، اس لئے یہ ا