کُتے ۔۔۔ پیارے کُتے

کُتا ایسا ہر دل عزیز جانور بنتا جارہا ہے کہ آپ اس کو ہر گلی، ہر سڑک یہاں تک کہ ہر باغ اور ہر محفل کے آس پاس دیکھ سکتے ہیں۔ کتنا سُہانا اور دلربا منظر ہوتا ہے جب کتوں کے غول سڑک پر دھما چوکڑی اور چھینا جھپٹی کرتے ہوئے ساری سڑک پر اپنی حکمرانی قائم کرکے ثابت کردیتے ہیں کہ ان کی اعدادی قوت انسان کی افرادی قوت سے برتر ہے۔ رنگ برنگے کتے دُم ہلاتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے چاک و چوبندہوتے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی کُتا اپنے علاقے کی حد سے باہر جائے اور کوئی دوسرے علاقے کا کُتا اِدھر آئے۔ اگر بھول کے سبب گُھس پیٹھ ہوئی تو گُھس پیٹھئے کو کھدیڑ کے بھگانا عزت اور غیرت کی بات بن کر رہ جاتی ہے اور سڑک میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ اُس وقت انسان اپنے گھروں میں دُبک کر رہنے میں خیر سمجھتا ہے کیونکہ گندم کے ساتھ گن کا پس جانا حماقت کے مترادف ہے۔ کُتوں کی آبادی کے لئے حکومت نے خاص طور پر ایک منفرد

دور ترقی کا ۔۔۔

میری ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ میں سبھی لوگوں سے جلدی گھُل مِل جاتی تھی کیونکہ میں ہمیشہ ہر ایک شخص سے نرم لہجے میں بات کرتی تھی ۔ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا میں نے نئے اسکول میں داخلہ لیاتھا ۔میں پہلے کانوینٹ اسکول میں پڑھتی تھی لیکن مجھے اچانک سے ہی اردو سے اتنا لگائوہو گیا تھا کہ میں اردو سیکھنے اور پڑھنے کے لئے دیوانی ہو گئی تھی ۔جس طرح ایک محبوب کو محبوبہ سے پیار ہوتا ہے اُسی طرح مجھے اردو سے پیار ہو گیا تھا اور اِس کی اصل وجہ تھی کہ میرے پاپا کے پاس تمام رسائل آتے تھے اور میرے والد بہت سے سیمینار بھی attendکر چکے تھے ۔کبھی میں دیکھتی کہ ’شاعر ‘ آیا ہے کبھی ’رنگ ‘ کبھی ’اسباق ‘ اور کبھی کوئی اور رسالہ۔ چونکہ میرے پاپا ’انتساب‘ کے سرپرست بھی ہیں جس کی وجہ سے انہوںنے میری تربیت ہی اِس ڈھنگ سے کی ہے کہ میں بھی ترقی کر سکوں ۔یہی وجہ ہے کہ م

خوش قسمت

’تین سال ہوئے ہماری شادی کو۔۔۔‘ فہمیدہ اپنی سہیلیوں کے درمیان چہک چہک کر باتیں کررہی تھی۔ ’کیا بتائوں، میں کتنی خوش قسمت ہوں،  آ ج کل وہ جونہی دفتر سے گھر لوٹتے ہیں، تو سیدھے کچن میں آکر مجھے۔۔۔۔  پہلے پہل تو آتے ہی بات بے بات پر آسمان سر پر اُٹھاتے ،  چیزیں الٹ پلٹ کر رکھ دیتے، موقع بے موقع مجھ سے جھگڑتے رہتے۔  آج کل وہ بھیگی بلی بن کر ۔۔۔۔۔،  واقعی میں بہت خوش ۔۔۔۔۔ کیا بتائوں، صبح اگر میں کوئی چیز مانگوں تو شام تک میری فرمائش۔۔۔۔۔ پہلے تو گھر سے باہرمجھے قدم رکھنے ہی نہیں دیتے تھے،  آج اگر میں ہفتہ بھر بھی میکے میں گزاروں، وہ کبھی ناراض نہیں ہوتے، اُف تک نہیں کرتے۔  کسی بھی بات پر شکایت کرنے کا موقع نہیں دیتے،  کیا بتائوں میں کتنی خوش قسمت ہوں۔۔۔ کل ہی میرے لئے ایک بہت

پروفیسر محی الدین حاجنی

ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی آبگاہ ولر جھیل کے کنارے واقع علاقہ بانڈی پورہ کی سر زمین کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علم و اد ب کے لحاظ سے کافی زرخیزیت عطا کی ہے ۔یہاں پر کئی بڑے دانشوروں، سخنورں، ادیبوں اور تاریخ دانوں نے جنم لیا ہے اور اُنہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر علم و ادب کے گلشن کو مہکایا ہے ۔مرحوم پروفیسر محی الدین حاجنی کو ان بلند قد شخصیات میں اعلیٰ مقام حاصل ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی کشمیری زبان و ادب اور تاریخ کی زُلفیں سنوارنے میں صرف کی ۔پروفیسر حاجنی،  جنہیں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس حاصل تھی، نہ صرف کشمیری زبان کے اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے بلکہ ایک سماجی کارکن ،بلند قد عالم اوردانشور بھی تھے، جنہیں ان کی علمی و ادبی خدمات کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ پروفیسر حاجنی کا اصل نام غلام محی الدی

رفیق رازؔکا شعری نخلستان

شاعری تجربات کا فن ہے اور یہ فن تجربات و مشاہدات کی پیش کش  کے لئے فنی لوازمات کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ کسی بھی باشعورانسان کے افکارمقامی ماحول یا حالات وواقعات کی اثرانگیزی سے بچ نہیں سکتے ہیں اور جب کوئی حساس فن کار ایسے ماحول میں سانسیں لیتا ہے تو ان حالات و واقعات کا مشاہداتی اظہار وہ اپنی تحریر /تخلیق میں کرتا ہے‘جس کا اظہار ساحر لدھیانوی نے دلچسپ انداز میں یوں کیا ہے: دنیا  نے تجربات و حوادث کی شکل میں   جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں انہیں تجربات و مشاہدات کا فنی اظہار راز صاحب بھی دل فگار انداز میں کرتے ہوئے خود کو شاعر کی بجائے’ درد ِعظیم‘ کا ’امیں‘ کہہ کر کہتے ہیں کہ میں اپنے کلام میں وہیں امانتیں لوٹا رہا ہوں جو وقت نے مجھے سونپی تھیں۔ شعر کی موضوعاتی مماثلت دیکھ کر ــ ’’خدائے سخن‘‘ می

سفید کتوبر

مجھے اب بہت دن ہوگئے اِس شہر میں۔ آج کام مکمل ہوجائے تو آگے بڑھوں۔ مجھے جلدی سے شہر کے مفامات میںپہاڑی کے دامن میںواقع زیارت گاہ پر پہنچنا ہوگا۔  بابا وہی پر ہونگے۔ اب ڈیڑھ مہینہ ہونے کو آیا ہے جب میں پہلی دفعہ اس قدجع خلائق زیارت گاہ پر اِن سے مِلا تھا۔مجھے یاد ہے کہ بابا نے آواز دیکر مجھے پاس بُلایا اور پوچھا ۔ کون ہو تم؟ جی مسافر۔ کیا کرتے ہو؟ شہر شہر ، گائو ںگائوں بھٹکتا ہوں اور لوگ گیت ، کتھائیں اور کہانیاں جمع کرتا ہوں اور اُنکو لکھ کر محفوظ کر لیتا ہوں ۔ ہوں!یہ بھی کوئی کا م ہوا بھلا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا۔ جی حضرت۔ میرا یہی کام ہے اور شاید میرا مقدر بھی ۔ پھر میں نے پہلی دفعہ بابا کو غور سے دیکھا۔ ایک ایسا بزرگ جس کے  کپڑ ے پُرانے اور میلے تھے لیکن جس کے چہرے پر نور تھا اور ایک عجیب کشش تھی ، سفید چہرے پر بڑی ہو ئی داڑھی اور ماتھے پ

رہائی

سورج حسب معمول پہاڑی کنگروں سے سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ گلشن  کے پھول کھل اٹھے تھے اور بھنورے بھنبھنارہے تھے۔سبزے پر شبنم کے قطرے چمک اٹھے تھے۔ شہر کے پرانے زنداں کے دریچوں سے  سورج کی کرنیں داخل ہوکر مجبور قیدیوں کوجگانے کے لئے بے تاب ہورہی تھیں۔ معروف احمدکو سلاخوں سے گزرتی کرنوں کی چمک نےسوچ کی گہری دھندمیں پہنچادیا۔  "یہ کرنیں کتنی خودمختار ہیں کہ قیدخانوں میں گھس کر سلاخوں کو بھی چیر کر نکل جاتی ہیں۔" قید خانے میں رہ کر معروف بھول چکا تھا کہ قوم جب  اندھیرے میں قید تھی تو وہی پہلا شخص تھا کہ جس نے پہلی بار تاریکی سے بغاوت کا کُھلا اعلان کیا اور مانند خورشید اندھیرے کو چیر کر نکلنے کا باغی ٹھہرا۔ وہ اب کئی برسوں سے اسی جرم کی سزا کاٹ رہا تھا۔ لیکن اتنے برسوں کے باوجود تاریک کوٹھری کا یہ اندھیرا اس کے عزم و ہمت کو توڑنے میں ناکام ثابت ہوا

اُڑن طشتر ی

جشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں ،شاہی محل کے خاص مشیر اور درباری خود جشن کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے کیوں کہ دھرتی پر رہنے بسنے والے انسانوں کا صدیوں پرانا سنہری خواب پورا ہونے والا تھا ۔ ہاں! وہی خواب جس کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان نے بے پناہ محنت کے ساتھ ساتھ کافی سرمایہ بھی خرچ کیا ہے ۔ اس خواب کی تعبیر سے یقینًا انسانی زندگی کے ایک نئے ناقابل فراموش انقلاب کی شروعات ہوگی۔اسی عظیم انسانی خواب کے پورا ہونے کی خوشی میں دھرتی پر ایک شاندار جشن کا اہتمام کیا گیا تھا،دھرتی کے شاہی محل کو دلہن کی طرح سجایا اور سنوارا گیا تھا ۔جشن میں شرکت کے لئے دھرتی کے شہنشاہ کے ساتھ ساتھ تمام بادشاہ اور وزیر موجود تھے۔ دفعتاًشاہی محل بارودی دھماکوں کی گن گرج سے گونج اٹھااور درجنوں توپوں کی سلامی سے باضابطہ طورجشن کا آغاز ہو گیا،جس کے ساتھ ہی شہنشاہ، بادشاہ، وزیر ، بڑے بڑے سائینس دان او

رفیق رازؔکا شعری نخلستان

چند حرفوںنے بہت شور مچا رکھا ہے  یعنی کاغذ پہ کوئی حشر اٹھا رکھا ہے (نخل ِ آب۔۔۔ص ۱۵۴)           شاعر کا مقام متعین کرنے میں مخصوص شعری بصیرت (Poetic Vision) بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘جسکی پہچان منفرد شعری لہجہ‘تخئیل آفرینی ‘ تخیلقیی اسلوب   (Creative style)  اور فنی  ہنرمندی وغیرہ جیسے خصائص میں پوشیدہ ہوتی ہے‘ نہیں تو کتنے لوگ شعر کہتے آئے ہیں اور کتنے شعر کہہ کے چلے بھی گئے لیکن صرف چند ہی اس تخئیلی سلطنت میں اپنی نشستیں سنھبالنے میں کامیاب رہے۔ عصری اردو شعری منظرنامے میں رفیق رازاپنے منفرد شعری لہجے‘ تخئیل آفرینی ‘تخلیقی اسلوب اور فنی ہنر مندی کے خصائص کی بدولت مخصوص مقام بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ رفیق رازصاحب کے فنی اختصاص پر معروف نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی گفتگو کرتے ہو

سوغات

ننھی زیبا کے لئے اس کی ساری دنیا چھو ٹی سی پہا ڑی پر ہی بسی ہو ئی تھی۔پہاڑی پر بھی اس کی حدیں محدود تھیں ۔ نا نی کے گھر سے وہ سامنے والے سیب کے با غات تک۔۔۔ہا ں نا نی کے گھر ۔۔۔ ننھی زیبا اپنی نا نی کے گھر رہتی تھی ۔وہ کو ئی پا نچ برس کی تھی جب اس کے امی ابو دونو ں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد نا نی اسے اپنے گھر لے آئی تھی۔کوئی تین برس بعد جب زیبا آٹھ برس کی ہوئی تواس نے نا نی سے امی ابو کے با رے میں پوچھا تھا۔نا نی نے اسے بتا یا تھا کہ اُس کے امی ابو اللہ کے پا س چلے گئے ہیں۔لیکن نا نی ۔۔ ۔۔پڑوس والے فیضان انکل تو کہہ رہے تھے کہ امی ابو کو پولیس نے گولی ما ری ہے۔ زیبا کے اس سوال پر نا نی نے اسے روتے ہوئے سینے سے لگا لیا تھا اور کہا کہ وہ بھی اللہ کی مرضی تھی میری بچی۔۔۔ننھی زیبا یہ نہیں سمجھ پا تی تھی کہ کوئی اس چھوٹی سی بچی کے امی ابو کو گولی ماردے ۔۔یہ بھی اللہ کی مرضی۔۔۔ کیسے ہو سک

راستہ

سیاہ رات گذرتے گذرتے اپنی گذرگاہوں کی آخری حدوں سے گذررہی تھی ۔ہرطرف سکوت کاعالم طاری تھااورپھرآہستہ آہستہ اندھیروں کی کوکھ سے سحرکااُجالہ نمودارہونے لگاتھا۔پرندے گھونسلوں میں بیٹھے حمدوثناکے نغمے گاگاکر آمد ِ سحرکوخوش آمدیدکہہ رہے تھے اورپھرتھوڑی ہی دیرکے بعدجب سحرکے آثاررات کے اندھیروں کوآخری بارالوداع کہہ رہے تھے تومساجدسے اذانوں کی رُوح پرورآوازیں بلندہونے لگی تھیں۔ یہ مخلوقِ خدا کواصلاح وفلاح کی اعلانیہ دعوت تھی مگرمجھ پربدستورنیندکاغلبہ طاری تھا۔اگرچہ سامنے کی گلی میں آتے جاتے نمازیوں کی کھسرپھسرمُجھے بھی ادائیگی ٔ نمازکیلئے اُبھاررہی تھی مگرمن پاپی تھاکہ مانتاہی نہیں تھا۔خوابیدہ ضمیراوّل توانگڑائی لیتاہی نہیں تھااوراگرکہیں لے بھی لیتاتو میرے اندرکاروایتی شیطان اِسے مصلحت کی ایسی ایسی میٹھی لوریاں سناکرسلاتاکہ پھرمشکل سے جگائے جاگتاتھا۔ابھی اِسی کشمکش میں مبتلاتھاکہ یکای

وفا

باپ بیٹے میں آج پھر توتو میں میں ہو گئی تھی۔بیٹے نے کہا ’’آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں ۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور بھرائی آواز میں کہا ’’جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں، تو میں اس گھر میں کیا کررہا ہوں۔؟بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔۔۔تم جیو اپنی زندگی ۔۔۔۔ میں چلا اس گھر سے۔۔۔۔یہ کہہ کر باپ جانے لگا تو بیٹے نے روک لیا اور کہا’’آپ یوںہی چلے جائیں گے تو اس میں ہماری بدنامی ہوگی ،لوگ ہم کو برا کہیں گے۔میں آپ کو آشرم چھوڑ دوں گا ،آپ اپنی تیاری کرلیں۔‘‘ وقت ِ شام کو بیٹا اپنے بوڑھے باپ کو آشرم چھوڑنے جا رہاتھا۔‘‘ دونوں  باپ بیٹے خاموش گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے راستے پر چلتے جا رہے تھے۔خیالات کا ہجوم دونوں کے دماغ میںبرابر امڈرہاتھا۔

’’مفلسی کا گھروندا‘‘

’’فاروق ‘‘نے اپنی جوانی کے دن سادگی سے گزار کر ’’تبسم‘‘ سے نکاح کر لیا کئی ماہ بعد اس کے گھر میں خدا کی نعمت کے طور پر ایک ننھی سی پری نے جنم لیا۔ فاروق صبح کا م کے لئے نکلتا اپنی پیاری سی پری کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہی اپنے کام کو جاتا۔ محلے کے مولوی صاحب نے اس پری کا نام ’’شبنم‘‘ رکھا۔ ماں باپ کی لاڈلی شبنم والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ۔ فاروق شام کو گھر تھک ہار آکر معصوم بچی شبنم کے ساتھ طوطلی زبان میں باتیں کر کے اپنے دن کی ساری تھکان دور کردیتا۔ اسی دوران ایک دن اپنی شریک حیات تبسم سے باتوں ہی باتوں میں فاروق نے کہا:  ’’آج میری کمر جواب دے گئی ہے، سارا دن مجھے سیمنٹ کے بوریاںایک ٹرک سے اُتار کر دوسری چھوٹی گاڑی میں لادنی پڑیں،آج باقی دنوں کی نسبت مجھے کچھ زیادہ ہی کام کرنا پڑا…&l

’’سکوت ‘‘

کچھ افسانے ایسے ہوتے ہیںجن میں زیادہ تر عبارت آرائی‘ زباندانی اور محاورات کی بھر مار ہوتی ہے۔ ایسے افسانہ نگاروں کو زبان پر کافی  عبور حاصل ہوتا ہے اور وہ عبارت کو پر کشش اور پرلطف بنانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان افسانوں میںتصوراتی، تخلیاتی اور موہوم موضوعات سمٹے ہوتے ہیں پڑھنے میں۔ بیشک بڑا لطف آتا ہے لیکن کچھ مدت کے بعد یہ لطف ‘ چاشنی اور مٹھاس معدوم ہوجاتی ہے کیونکہ ان میں کوئی مخصوص واقعہ یا مسایل ہی زیر بحث آتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں کہانی پن کا فقدان ہوتا ہے۔ اگر چہ ایسی کوشش زبان وادب کی خدمت گزاری اور نشو ونما میں کے لئے اہم سرمایہ ہوتی ہیں۔ لیکن تا اس کو ہم ادب برائے ادب کا ہی نام د ے سکتے ہیں۔ جس قاری کو ادب وزبان سے خاص شغف ہو وہی ایسے ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں  ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِلیکن عام قاری کو ان فن پاروں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی ہے، اس لئے یہ ا

خون کے آنسو

شوہر کے جانے کے بعد ساجدہ نے اپنے اکلوتے بیٹے عثمان کو انجینئر بنانے میں کوئی قصر اُٹھائے نہیں رکھی۔ اپنی قلیل آمدن سے بیٹے کے لئے ایک خوبصورت یک منزلہ مکان بھی تعمیر کروایا۔ سرکاری نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد ماں نے اپنی گریجوٹی اور کمیوٹیشن کی رقم سے اپنے لخطِ جگر کی شادی ایک امیر گھرانے کی لڑکی تبسم، جو پیشے سے ایک لیکچرر تھی، سے کروائی۔ بیٹے کی شادی کے فوراً بعد شفیق ماں نے بہو بیٹے کی خوشحال زندگی کے لئے زیارت گاہوں کے چکر کاٹنے شروع کئے۔ شادی کے دو سال بعد بہو نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔ اُس دن گھر میں عید کے جشن کا جسا سماں تھا۔ نوزائیدہ بچے کا عقیقہ منانے کے لئے ساجدہ نے گھر میں ایک اعلیٰ دعوتِ طعام کا اہتمام کیا، جس میں تمام رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ بستی کے سب لوگوں کو مدعو کیا گیا۔ گھر میں پوتے کی آمد سے ساجدہ نے راحت کی سانس لی۔ اب اس کی ایک ہی تمنا تھی کہ اُس ک

فیصلوں کے درمیان

پڑوس کی خالہ نے تمہارے لیے رشتہ لایا ہے بیٹے!اچھے خاندان کی پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے، شکل صورت میں بھی لاجواب ہے۔ تمہیں اس کی تصویر بھیج رہی ہوں۔ تم پر کوئی دباؤ نہیں ہے، سوچ سمجھ کر جواب دینا بیٹا۔ پسند آئے تو ہم بات آگے بڑھائیں گے۔ یہ باتیں ملتجیانہ انداز میں فرخندہ بیرون ملک میں رہ رہے اپنے بیٹے پارس کو فون پر بتا رہی تھی۔ ماں میں نے کتنی بار تمہیں بتایا ہے کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں جب شادی کروں گا تو اپنی پسند کی لڑکی سے کروں گا۔ ہاں ماں! ایک اور بات یہ ہے کہ میں نے یہاں ایک اپنا گھر خریدنا ہے، جس کے لئے مجھے کافی پیسہ درکار ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ میں نے یہاں نیا نیا ہی اپنا کریئر شروع کیا ہے۔ نہیں بیٹا وہاں گھر نہیں خریدنا، یہاں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ تم لوٹ کے آجاو تمہیں یہاں کام اور کامیابی ضرور ملے گی۔ یہاں پر بھی بہت سارے انجینئر ہیں جو سرکاری یا

مقطع

ہیلو! آپ کون؟ ’اوہ۔۔۔ نہیں پہچانا۔۔۔ ہاں پہچانو گے بھی کیسے۔۔۔ تیس سال کا عرصہ بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔‘‘ دیکھئے محترمہ ۔۔۔ آپ پہلے اپنا تعارف تو کروائیے۔۔۔ ’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ تو میں کروائونگی ہی، لیکن آپ بتایئے۔۔۔ آپ خیریت سے ہیں نا۔‘‘ ہیلو! محترمہ ۔۔۔ شائد آپ نے رانگ نمبر ملایا ہے۔ ’’ہاہاہا! رانگ نمبر ۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ میں نے زندگی میں کبھی کوئی رانگ لائن چُنی ہی نہیں۔ آج یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟‘‘ محترمہ کون ہیں آپ۔۔۔؟ شائد آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ ’’ہاہاہا! غلط فہمی۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ میں نے تیس سال بعد بھی فوراً آپ کو آپ کے لب و لہجہ سے پہچانا۔ ویسے کا ویسا ہی ہے، اب بھی۔۔۔‘‘ ’’لو جی سُنیے اب۔۔۔ میں دوبئی سے بول رہی ہوں۔۔ اپنا نام بعد میں ب

’’برکتِ رمضان‘‘

دو سال پہلے میں ایک دوست کے ساتھ دہلی گیا تھا، ایک کام کے سلسلے میں ۔ کام نپٹانے کے بعد سوچا کہ کچھ خریداری کرلیں۔ اس غرض سے ہم کرُول باغ کے مارکیٹ میں گئے۔ ایک دوکان میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دُکان دار نے موٹے حروف میں بورڈ پر Fixed Price لکھا تھا۔ ہم نے ضرورت کی چیزیں اُٹھائیں اور قیمت ادا کرنے کے لئے کاونٹر کے پاس کھڑے ہوگئے۔ دوکاندار نے بل بنا کر ہمیں تھما دیا۔ میں نے جب بل دیکھا تو اِس پر 15% کم کر دیا گیا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپکی Rates تو Fixed ہیں پھر 15% کم کیسے؟ اُس نے دوسرے بورڈ کی طرف اشارہ کیا، جس پر لکھا تھا ’’دیوالی کے شُبھ اَوسَر پر 15% کی چھوٹ‘‘۔ مجھے فوراً اپنا کشمیر یاد آیا۔ ہم کتنے اچھے لوگ ہیں، ماہ رمضان کا معتبر مہینہ شروع ہوتے ہی نانبائی روٹی کا وزن گھٹا دیتا ہے،  شائد یہ سوچ کر اس مبارک مہینے میں لوگ زیادہ کھاتے نہیں، ل

شکور بھنگی

قرعہ اندازی میں شکور بھنگی کے نام کی پرچی نکلتے ہی نتیجے کے انتظار میں دل تھام کے بیٹھے مل کے مزدوروں میں ہل چل مچ گئی اور وہ مایوسی کے عالم میں اس کی نکتہ چینی میں جٹ گئے ۔    ’’واہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔۔۔۔۔۔ جسے کلمہ یاد نہیں وہ حج پر جائے گا‘‘ ۔ سلام الدین نے اپنی لمبی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا ۔ ’’آج تو مجھے اپنے مالک پر بھی شک ہورہا ہے ،ورنہ ہر سال اسی بھنگی چرسی کا نام کیوں نکل آتا ہے‘‘ ۔ انصار احمد ،جو مل کی مسجد میں امامت کے فرائیض بھی انجام دیتا تھا،نے جھجھلاکر کہا۔۔۔۔۔۔ ۔  غرض جتنے مُنہ اتنی باتیں ۔  ’’آپ لوگ خاموش ہوجائیں،قرعہ اندازی میں شکور کا نام نکل آیا ہے،ہم اسی کو حج پر بھیجیں گے‘‘ ۔ مل کے مالک احسان احمد نے ذرا سخت لہجے میں کہا

سفید کبوتر

وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام  سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس طبیعت لوگوں نے دھندلے ماحول کی انفکشن سے احتیاط برتنے کے لئے منہ پر ماسک لگارکھے تھے۔نصف النہار کی شدید گرمی سے بس میں سوارسبھی مسافرپسینے سے شرابور ہورہے تھے۔ انہیں اپنا آپ دہکتے تندور میں تڑپتے ہوئے کبوتر کی طرح محسوس ہورہا تھا۔اْس نے کھڑکی سے باہرکھڑے ایک پولیس والے سے دھیمی آواز میں پوچھا:   ’’بھائی صاحب!یہ جام کب ختم ہوگا؟‘‘  پولیس والا نزدیک آکر اْس کے حْلیے کو گھورتے ہوئے بڑی ناگواری سے پوچھ بیٹھا:    ’’کیا کہہ رہا ہ