تازہ ترین

جنگل راج

’’وہاں اندھیر نگری چوپٹ راج تھا۔ لومڑیاں شیروں کا شکار کر رہی تھیں۔ حال یہ تھا کہ شیرکٹتے جارہے تھے، مارے جا رہے تھے ۔ لیکن  وہ بے دست و پا لگ رہے تھے ۔ جنگل کے سارے چرند پرند انگشت بدنداں تھے۔لیکن کوئی بات نہیں کررہا تھا۔‘‘   ’’لیکن کوئی بات کیوں نہیں کر رہا تھا۔‘‘ ’’کیوںکہ سب کو اپنی جان کی پڑی تھی۔ کوئی بھی دوسروں کے لئے اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔‘‘ ’’ خطرہ ۔۔۔ اور وہ بھی حقیر لومڑیوں سے ۔ جن کا سرہم ایک ہی وار میں دھڑ سے الگ کر سکتے ہیں۔ـــ‘‘  ’’جنگل کے سارے جانور ایک دوسرے کااعتماد کھوچکے تھے ۔ اور سبھی جاتیاں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ  رہی تھیں۔‘‘ ’’ لیکن ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ کس طرح

سُرخ بادل

کئی روز بعد ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ،توپوں اور گولیوں کی دھنا دھن اب بند چکی تھیں،فضا میں اُڑ رہے جنگی طیاروں کی چنگھاڑبھی کسی حد تک خاموش ہو چکی تھی ۔ سارے شہر میں اگر چہ ہر طرف قبرستان کی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور شہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ خوش گلو پرندے بھی خوف سے سہمے ہوئے تھے لیکن شہر کے اسپتالوں میں ہُو کا عالم تھا، جہاں ہر طرف شور شرابہ اور چیخ و پکار سنائی دے رہی تھیں۔زخموں سے چور سینکڑوں مرد و زن اور معصوم بچے درد سے کرا رہے تھے ،کئی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ رہے تھے ۔ڈاکٹر ریتا، جواس خوفناک صورتحال سے سخت پریشان اور مغموم تھی ،دن بھر مریضوں کے علاج و معالجے میں مصروٖف رہنے کے بعد تھکی ہاری شام ڈھلتے اسپتال سے گھر کی طرف نکلی۔اس کا انگ انگ جیسے درد میں ڈوبا ہوا تھا اوروہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ گاڑی بھی ٹھیک سے نہیں چلا پا رہی تھی۔ہر طرف بارود کی بو اور ویرانی پھیلی ہوئی تھی اور

سوال

رات کو ڈیوٹی سے لوٹتے ہوئے ڈاکٹر حسیب ڈرائیو کر رہا تھا کہ اچانک سے کسی نے کشمیری میں آواز دی۔ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ بھلا اس اجنبی ملک میں کون اسے جانتاہے- یہاں تو سب عربی ہی بولتے ہیں، ایسے میں اپنی مادری زبان میں دی گئی صدا  کو وہ کیسے نظر انداز کر سکتا تھا۔ اس نے گاڑی روک لی۔ باہر فلڈ لائٹس کی روشنی میں ایک سفید پوش شخص گاڑی کی جانب آ رہا تھا کہ ڈاکٹر حسیب نے اسے دور سے ہی پہچانا۔ یہ حسین کا کا تھا ، اُس کا ایک دور دراز کا رشتہ دار۔ ڈاکٹر حسیب نے اسے گلے لگایا اور حال چال پوچھا -پتہ چلا کہ حسین کا کا یہاں عمرہ کے لئے آیا ہوا ہے۔ پردیس میں کوئی ہم وطن مل جائے اور خاص طور سے وہ جو جان پہچان والا ہو، انسان کیا کچھ محسوس کرتا ہے وہ ڈاکٹر حسیب کے بسوں پر پھیلی ہلکی پھلکی مسکراہٹ سے خوب جھلکتا تھا۔ ڈاکٹر حسیب نے حسین کا کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آج رات ان کے فلیٹ

کہانی کوئی سنائو متاشا!

تمہیں پتہ ہے یہ جو تم اس پہاڑ سے دیکھ رہے ہو کیا ہے؟ بیٹا:نہیں دادی مجھے کچھ خاص دکھائی نہیں دے رہا ہے۔خاموش اور ویران جگہ معلوم ہوتی ہے۔۔۔کیا کچھ اور ہے؟ ہا ہاہا!ارے میرے پیارے تم نے با لکل صحیح سمجھا ،یہاں کے مکینوں کی زندگی اجیرن ہوتی جارہی ہے۔ان کی زندگی تنائو سے بھری پڑی ہیں۔ بیٹا:دادی دادی میں کچھ سمجھا نہیں! دادی:یہاں ایک زمانے میں لوگ آباد تھے۔۔ہائے کیا بتاوں تمہیں وہ کیسے دن تھے۔یہاں کی ہر چیز میںدلنواز اور پُرکشش تھی ،ہر طرف حسین و جمیل مناظر۔تمہیں کیا بتائوں ایک شاعر نے اس  ویران جگہ کو ایرانِ صغیر کے نام سے یاد کیا تھا ۔لیکن۔۔ بیٹا:لیکن کیا دادی؟دادی آپ چپ کیوں ہو گئے ،بولو پھر کیا ہوا۔آخر ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے یہ جگہ ویرانی میں تبدیل ہوگئی۔ دادی:بیٹا کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر ختم۔ بیٹا:دادی pleaseبتائو نا ۔ دادی:یہ تمہارے بس