جُمّہ لیڈر

جدید دور کے علمی دھماکوں نے اگر چہ سماجی زندگی کے بہت سارے شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے تاہم یہ دھماکے قدیم دور کے سیاسی سانپ کی خصلت کو بدلنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔یہ ایسی سخت جان مخلوق ہیں جو ماحول کے مطابق اپنی مکاری کی کینچلی بدلتی رہتی ہیں اور اپنا لالچی پیٹ بھرنے کے لئے کسی بھی برتن سے دودھ چرانے کو سیاسی کرتب سمجھتی ہیں۔میرے ایک دوست کا نام کچھ اور تھا لیکن سیاسی بھوت سر پر سوار ہوتے ہی جمہ لیڈر کے نام سے مشہور ہوا۔ میں نے کئی بار  جُمّہ لیڈرکو سمجھایا کہ سیاست کے اکھاڑے میں اترنے کے لئے کرتب بازی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اس اکھاڑے میں مت کودو کیونکہ نہ تم مداری کا فن جانتے ہو اور نہ ہی سازش رچانے کا ہنر رکھتے ہو۔ سیاست کا کام سیاسی طور طریقوں سے ہی چلتا ہے۔ اس میں چالاکی کے ساتھ مکاری اور ایمانداری کے ساتھ بے ایمانی کے حربوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ بقول شاعر  &nb

بلاک بَسٹَر

  فلم ڈایریکٹر ” دیکھو ڈیوڑ۔ زمین پہ مگر مچھوں کا حملہ۔۔سانپوں کا حملہ۔ٹڈیوں کا حملہ۔کیڑوں کا حملہ۔یہ سب دیکھ دیکھ کے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ہمیں کچھ نیا دکھانا چاہیے۔۔“ ڈیوڑ ” درست فرمایا آپ نے ڈائریکٹر صاحب۔۔لوگوں کو محضوض (Entertain)کرنے کے لیے ہمارے رائٹر نے انوکھی کہانی لکھی ہے۔ مرغیوں کا حملہ۔۔انسانوں پر۔۔۔لوگوں کو بہت پسند آئے گی مو وی۔۔۔“ ڈائریکٹر ” ہاں سکرپٹ میں نے پڑھ لیا ۔مجھے بھی لگتا ہے کہانی ہٹ ہوگی اس بار ۔۔۔۔“ آپس میں یہی باتیں چل رہی تھیں ۔۔۔۔تو دوسری طرف آسمان کے ایک دور دراز ستارے پہ رہ رہی مخلوق ایلینز بھی وہاں مووی کی کہانی لکھ رہے تھے۔۔کہانی کا نام تجویز ہوا ”نیچے زمین پہ انسانوں کی یلغار“۔۔کہانی میں دکھایا گیا تھا ۔۔چلاتے چیختے دریا اور جھیلیں۔۔۔کٹتے گرتے بھاگتے اشجار۔۔سہمے ہوئے جنگلی جانور۔۔۔ لرزتے

افسانچے

①حقیقت اور ڈرامہ گرمیوں کی تعطیلات تھیں۔ ـــ دوپہر کے وقت مَیں اور عزیز حماد  ہاتھ میں روح افزا شربت کا گلاس تھامے دیوان خانے میں ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ـــ اسکرین پر ڈرامہ شروع ہواــــ۔ کردار آتے گئے اور کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا رہاـــ۔ اچانک ایک جذباتی منظر میں جیسے ہی ایک معصوم خستہ حال،  اپاہج کے کردار میں راجو ٹی وی کے پردے پر نمودار ہوا تو قریب میں بیٹھا حماد بے ساختہ رو پڑاـــ۔ شاید وہ ڈرامے کو حقیقت سمجھ بیٹھا تھاــ۔ میں نے اُسے سمجھایا کہ یہ ڈرامہ ہے صحیح سمجھ کر زیادہ سنجیدہ نہ ہوــــا اس نے آنکھیں صاف کی اور ڈرامہ دیکھتا رہاــــ۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک کے ساتھ ایک صدا سنائی دی ــــ تو حماد فوراً دروازے کی طرف لپکاـــــ۔ ایک اپاہج سائل امداد کا سوال کررہا تھاــــ۔ حماد نے اسے آنکھ بھر کے دیکھا پھر دھتکار کر دروازے کو زور سے بند کردیا ـــ۔ عجیب بات یہ رہی وہ ح

اپریل فول

شام کو اسلم کام سے فارغ ہو کر گھر آ رہا تھا۔وہ کسی سوچ میں ڈوبا تھا اور خود سے ہی ہنس رہا تھاکہ اچانک اس نے اپنے دوست کو دوڑتے ہوئے دیکھا ۔ اس کی شکل ہی تبدیل ہو گئی تھی کیونکہ اسکے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اس کے ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ اسلم  نے اس کو روکا اور اس طرح گھبراہٹ کے عالم میں دوڑنے اور پسینے سے تر بہ تر ہونے کی وجہ پوچھی ،اُس نے خوفزدہ نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بتایا کہ اُن کے گائوں کے پرائمری سکول میں گرینیڈ پھٹا ہے۔بہت سارے بچے زخمی ہوگئے۔یہ سن کر اسلم کے ہوش اڑ گئے ، کیونکہ اس کے دو بچے بھی اسی اسکول میں پڑھتے تھے ۔ وہ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا اور چیختے چلاتے گھر کی طرف دوڑنے لگا۔ وہ جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کے دونوں بچے صحن میں کھیل رہے تھے۔ اس نے دونوں کو گلے سے لگایا اور دونوں کے کپڑے اتار کر ان کے انگ انگ کو دیکھنے لگا ۔ جب اس کی بیوی نے دیکھا

ٓٓاَذان

صبح چاربجے کے قریب نینداوربھی پُرکیف ہوگئی تھی ۔ایک نشہ سا تھاجواترنے کانام نہیں لیتاتھا۔چھوٹے چھوٹے خواب یکے بعددیگرے اسطرح آرہے تھے جیسے کہ دماغ کے سکرین پرکوئی خوشنمافلم چل رہی ہو۔پھرجیسے جیسے سحرکے آثارقریب نظرآنے لگے تودِ ل کی کوئی آرزوبڑی بے بسی سے کہہ رہی تھی، ’’کاش ! یہ دلفریب لمحات کچھ اورطویل ہوجاتے حسین خوابوں کاسلسلہ تو مکمل ہوجاتا‘‘ مگروقت آرزُوں کے روکے کہاں رُکتاہے ۔وہ بادشاہ ہے،اپنی رفتارسے چلتاہے۔زمانہ ہے ،خالق ِ کائنات جسکی قسم کھاتاہے۔ابھی میں بحرِ غفلت میں اِسی طرح غوطہ زن تھاکہ توحیدورسالت کی ایک صدابلندہوئی ۔یہ مسجدسے مؤذن کی آوازتھی۔بے خبروں کوخبردارکیاجارہاتھا۔غافلوں کوجگایاجارہاتھا۔حق کیاہے ،بتایاجارہاتھا۔مگرمیں بِسترپرلیٹاوہی کروٹوں پرکروٹیں بدلتے جارہا تھا ۔ اُٹھنے کوجی ہی نہیں چاہ رہاتھا ۔سچ کہومیں تو’جی ‘کا

افسانچے

لاپتہ  ہسپتال میں جلتے ہوئے چراغ نے کہا: ’’میں بڑا ہوں میں نے اس ہسپتال کانام روشن کیا ہے،اگر میں نہ ہوتا تو ہسپتال اندھیر میں ڈوب گیا ہوتا اور لوگ اس ہسپتال میں آنا بند کردیتے اور نہ جانے کتنے مریض موت کے گھاٹ اُتر جاتے‘‘ قبرستان میں روشن چراغ نے کہا:  ’’میں کتوں کو لاشوں کے ساتھ بے حرمتی نہیں کرنے دیتا ہوں۔میں گھپ اندھیرے میں پورے قبرستان کی حفاظت کرتا ہو،اس لئے میں بڑا ہوں‘‘ جھونپڑی میں جلتے ہوئے چراغ نے کہا: ’’میں غریب بچوں کی جھونپڑی میں جہالت کے اندھیرے کو دور کرتا ہوں،اس لئے میں تم دونوں سے بڑا ہوں۔اسی دوران آسمان پر ابرتیرہ چھا گیے ،تیز آندھی کے جھونکے آئے اور تینوں چراغ بجھ کر لاپتہ ہوگئے۔‘‘     سورج فروری کے اختتامی دن تھے مگر اس سال موسم سرم

آخر کب تک !

 تین دن ہوئے بارشیں رک گئی تھیں۔ اب اور ہلکی سی دھوپ کھلنے لگی تھی میں خوشی سے اسکول جارہا تھا۔ راستے میں کافی لوگوں کا سامنا ہوا، مگر اچانک میری نظریں  ایک عورت پہ پڑیں، جسکی نظریں  مجھ پہ جمی ہوئی تھی۔وہ کافی بے بس لگ رہی تھی۔ اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے اور تھرتھرا تے ہاتھوں میں خون سے لت پت ایک پھٹا ہوا کپڑا اور ایک روٹی تھی۔ میں ضرور اُس کا حال پوچھتا لیکن سکول بھی وقت پہ پہنچنا لازم تھا۔ وہ آنسوں کا جھرنا، وہ چہرے کی بے بسی ، وہ تھرتھراتے ہاتھ۔  اُس بے بس عورت کی بے بسی لگاتار چھ دنوں تک میری آنکھوں میں سمائی۔ آج وہ پھر سے میرے سامنے سے گزری۔ وہی حال پھر دیکھنے کو ملا۔ مجھ سے اور سہا نہیں گیا۔ میں اُس کی اور بڑھنے لگا۔ لیکن مجھے دیکھتے ہی وہ تیزی سے چلنے لگی۔ میں نے اُس کو پکارا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ اسکول پہنچتے ہی میں نے اپنے دوست سلمان سے ی

افسانچے

خاص بات محلے میں ایک مشہور ومعروف تاجر کے بیٹے کی شادی کے موقع پر گانے بجانے کی محفل اپنے شباب پر تھی۔۔مکان کی تیسری منزل پر بہت سارے لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔اسلم نچلی منزل سے تیسری منزل پر جارہا تھا اور تیزی سے زینے طے کر رہا تھا۔ سیڑھیوں پر ایک لڑکی، جو اوپر سے نیچے آ رہی تھی، اچانک اس سے ٹکرا گئی۔۔وہ گرنے والی ہی تھی کہ اسلم نے اسے بازووں میں جکڑ لیا۔۔ وقت جیسے تھم گیا۔۔وہ اپنی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سیاہ گھنیری زلفیں اس کے شانوں اور سینے پر بکھری ہوئی تھیں۔ اس کے دہکتے عارض گلاب کی پنکھڑیوں ایسے لب اورصراحی دار گردن دیکھ کر اسلم پر جیسے نشہ چھا گیا۔۔اس کی گرم گرم سانسیں اسلم کی سانسوں میں گھل مل جارہی تھیں۔۔۔ اچانک لڑکی نے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کی مجھے چھوڑ دو۔۔ نہیں چھوڑوں گا۔ کوئی دیکھ لے گا۔ تو کیا ہوگا؟ میری بدنامی ہ

افسانچے

بھنور   مکان بنتے ہیں اینٹ پتھر لوہا لکڑی اور بےشمار سستی مہنگی چیزوں سے۔ یہ چیزیں ہمیں ملتی ہیں خون پسینے کی کمائی سے۔ لیکن گھر بنتے ہیں رشتوں سے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں محبت ، صبر، ایثار اور احساس درگزر سے۔ یہ ساری چیزیں ہمیں ملتی ہیں اپنے اندر بدلاؤ لانے سے۔ کبھی کبھی جھوٹے دعوے کرنے سے،عورت کی ناسمجھی سے، غلط فہمیوں سے، صبر اور شکر نہ کرنے سے، حسد سے اور جلن سے گھر بکھرنے میں دیر نہیں لگتی۔ فریدہ بی بی اور اس کی بہو کے بیچ میں کسی معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور پھر ہر روز ٹکرائواور تکرار کا سلسلہ شروع ہونے لگا۔ دونوں نے اپنا اپنا راگ الاپنا شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے کئی انمول سال کھینچا تانی اور کشمکش کی نذر ہو گئے۔ نہ جانے کس کی بد نصیبی تھی۔  صبر کا دامن کسی ایک نے نہ تھاما۔ بلکہ ایک دوسرے کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے لگے۔ شام کو گھر آتے ہی اس

کا لے سائے

صبح کی سیر کا جو لطف گر میوں کے مو سم میں ہے وہ ٹھنڈ کے مو سم میں کہاں؟ لیکن کچھ لو گوں کو اس کی پکی عا دت پڑ چکی ہو تی ہے اور وہ سرد گرم مو سم نہیں دیکھتے بلکہ صبح یا شام چلنے کی عا دت بنا لیتے ہیں، میں بھی انہیں میں سے ایک ہوں ۔ آج بھی معمول کے مطا بق  میں نکل گیا تھا اورسیر سے ابھی واپس نہیں آیا تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی۔ ٹھنڈ کا موسم تھا اور میںدستانے پہنے ہو ئے تھا ،دستانے اُتا ر نے اورجیب میں ہا تھ ڈالنے تک فون بند ہو چکا تھا۔ میں نے فون نکالا اور کا  ل لاگ کھول کر دیکھا تو  پڑوسی کا نمبر تھا۔ چند لمحے سو چنے کے بعد میں واپس فون پہ نمبر ڈائل کر نے ہی والا تھا ،کہ اتنے میں پھر فون آیا اور میں نے کال رسیو کی تو وہاں سے فون پہ بھرائی ہوئی آواز سن کر میں کچھ دیر پر یشان ہو ااور ابھی کچھ کہہ پا تا کہ ادھر سے آواز آئی اور اس نے کہا ، ’’  میں شمی

خون کی مہندی

گھر میں شادی کی تقریب کی دھوم دھام تھی۔ تین دن بعد جمیل شادی کے  بندھن میں بندھنے والا تھا - جمیل کی بے تابی کا عجب عالم تھا۔ وہ روز آئینے کے سامنے اپنے بکھرے بالوں کومختلف اسٹالوں میں سجاتا تھا۔ سمیرا جس کے ساتھ جمیل کی شادی طے  ہوچکی تھی بھی آج کل کچھ زیادہ ہی سج دھج کر باہر نکلتی تھی۔ دونوں دلوں میں محبت کی آگ بھڑک رہی تھی اور دونوں بڑی بے تابی سے ان تین دنوں کے گزرنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ اپریل میں کشمیر میں شادیوں کا دھوم دھام رہتی ہے۔ اس کے پیچھے وجوہات ہیں۔ ایک تو موسم کی نرم مزاجی اور دوسری یہ کہ مختلف صحت افزا مقامات جنت کی طرح سجتے ہیں۔ اس سے ایک طرف  دعوت میں پکے پکوان  زیادہ دیر کے لیے اپنی اصل حالت میں رہتے ہیں اور دوسری طرف نئے جوڑے کو مختلف صحت افزا مقامات پر جانے کا موقع ملتا ہے- یہی دن ہوتے ہیں گھومنے پھرنے کے- بھلا شادی کے کچھ عرصہ بعد

شرابی

سر درد سے جوجھتا ہوا سلیم صبح ہوتے ہی ہر روز کی طرح نہانے چلا گیا۔نہانے سے فارغ ہوکر کچن میں جلدی جلدی اپنے لئے روٹیاں اور چائے بناکر ناشتہ کرلیا حسب معمول اپنے ٹھیلے (ریڈھی) پر مال سجا کر گھر سے روانہ ہوگیا۔وہ سڑک کنارے ریڈھی لگا کر موزے بیچا کرتا تھا۔ آج اُس نے اپنی ریڈھی لگائی ہی تھی کہ اکرم صاحب زور زور سے اسے آواز دینے لگے، سلیم او سلیم! انکی آواز میں آج بھی حکم نمایاں تھا۔ سلیم اپنا کام چھوڑکر فوراً انکے پاس چلاگیا۔ سلیم میں دفتر جا رہا ہوں، گھر میں پانی کے نل میں کچھ خرابی آ گئی ہے، اسے ٹھیک کردینا۔اگلے ایک گھنٹے تک سلیم انہی کے یہاں نل ٹھیک کرنے میں لگا رہا، پھر اپنی ریڈھی کے پاس واپس آکے کھڑا کر خریداروں کو آواز لگانے لگا۔ابھی کچھ لمحے ہی ہوے ٔ تھے کہ عارفہ خالہ اپنی کھڑکی سے اُسے بلانے لگی۔۔سلیم ذرا ادھر آنا۔ سلیم پھر اپنا کام چھوڑکر خالہ کے یہاں چلا گیا۔ارے سلیم یہ ب

زخمی دُلہن

قدرت کا کتنا انمول تحفہ ہے یہ ،بے مثال کاریگری اور مصوری کا نادر شاہکارجس کے نام پر لاکھوں دل دھڑکتے ہیں۔اگر فردوس بریں کے نام سے موسوم یہ وادی ایک دلہن ہے تو یہ خوب صورت جھیل بلا شبہ اس دلہن کے ماتھے کا جھو مر ہے ۔ نہیں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔ یہ پر کشش جھیل تو خود ایک دلہن کے مانند ہے ،جس کے حسن و جمال اور دلکشی کا کوئی ثانی نہیں ۔۔۔۔۔۔ ’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ ذرا وہاں جا کر شکار! روک لیجئے‘‘۔ شکارے میں بیٹھا ڈل جھیل کی سیر کے دوران میں دل ہی دل میں قدرت کی اس بے مثال کاریگری کی داد دے رہا تھا کہ دفعتاً راجا، جو میرے ساتھ تھا ، نے ڈل کے بیچوں بیچ ایک جزیرہ نما جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شکارے والے سے کہا، جس نے بغیر کسی تامل کے وہاں جا کر شکارہ روکا اور ہم شکارے سے اتر کر اس دلکش جزیرہ نما جگہ پر بیٹھ کر ڈل جھیل کی سحر انگیز خوب صورتی سے لطف انداز ہونے لگے ۔در

۔100لفظوں کی کہانیاں

شادی ” یار ساجد۔۔! تمھاری بیٹی کی اگلے ہفتے شادی ہے۔۔۔ تھوڑی بہت ضیافت کا بھی انتظام نہ کروگے مہمانوں کے لیے۔؟ پلاٹ بیچ کیوں نہیں دیتے؟ رفیق نے مکان بیچ دیا، شریف نے حج کے روپے لگا دیئے۔۔۔۔۔ میں نے خود پرویڈنٹ فنڈ کی قربانی دے دی۔۔۔۔۔ مگر! ہم نے بیٹیوں کو بڑی شان سے وداع کیا۔۔۔ بارات چوکھٹ پر ہوگی تو کیا دو گے۔۔۔! سرپرائز۔۔۔؟؟“ شکیل نے ساجد کو سمجھایا۔ ” ہاں “ساجد نے جواب دیا۔ ” مطلب۔۔؟ “شکیل حیران تھا۔ ساجد بولا،’’ پلاٹ بیچ کر بیٹی کی شادی کرنے سے بہتر ہے۔۔ وہ پلاٹ اسے دے دوں۔۔۔ حصے کے طور پر!!‘‘   دردکی گولیاں چھوٹے بھائی ڈاکٹر فرحان نے سفر کا احوال پوچھا تو میں نے کہا، ” بال بھارتی پہنچنے کے بعد پہلی ہی رات پیر میں موچ آگئی۔ مشکل سے دوسری منزل تک پہنچا۔ بیگ ٹٹولا تو تمہاری دی ہوئی

کاہل

سلیم  :  ’’بھائی کیا کررہے ہو؟‘‘ امین  :  ’’مچھلی پکڑ رہا ہوںصاحب۔‘‘ سلیم :  ’’بھائی گھنٹوں مچھلی پکڑنے کے بجائے کوئی محنت مزدوری کرتے دن میں دو تین سو روپے کماتے۔‘‘ امین  :  ’’اچھا صاحب! یہ تو میرا شوق ہے اور یہی میرا کام بھی۔‘‘ سلیم  :  ’’اور محنت کرتے پیسے جمع کرتے، کسی بزنس میں لگاتے، لکھ پتی اور کروڑ پتی بن جاتے۔‘‘  ’’پھر اطمینا ن سے مچھلی پکڑتے رہتے۔‘‘ امین:  ’’ارے واہ واہ صاحب! یہی کر نا ہے تواتنی محنت کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ’’ میں تو پہلے ہی مچھلی پکڑ رہا ہوں۔‘‘   رابطہ؛پیلی حویلی کامٹی،ضلع ناگپور،

ڈائیل کیا گیا نمبر وِیست ہے

آخر کار وہ موبائل فون میں ہی تحلیل ہو گیا! اُس کے احساسات، خواہشات اور جذبات یخ بستہ ہوکر رہ گئے۔ اُس کی گفت و شنید میں کڑواپن پیدا ہوچکا تھا۔ بار بار ڈائیل کرنے سے اُس کے سارے رابطے گِھس گئے تھے۔ اُس کا فون نمبر اکثر یا تو بزی(BUSY)آتاتھا یا اُس کے فون سے وہی ایک جواب بار بار ملتا تھا’اِس روٹ کی سبھی لائنیں ویست ہیں‘۔ رزاق اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ دونوں میاں بیوی دن بھر مزدوری کرکے شام کو کھاتے تھے۔ جس دن اُنہیں مزدوری نہیں ملتی تھی اُس دن وہ نان شبینہ کے محتاج بن جاتے تھے۔ اُن کے پاس کچی جھونپڑی اور ایک عدد بکری کے سوا اور کوئی اثاثہ نہیں تھا۔ رزاق کا باپ علی بکری بھی ہمسائے کے درختوں کے پتوں پر ہی پالتا تھا۔ لیکن اس افلاس زدہ حالت میں بھی علی اور اس کی بیوی سارہ نے اپنے بیٹے رزاق کو سکول بھیجا۔ رزاق بھی ایک قابل، محنتی اور ہونہار لڑکا تھا۔ وہ ہر سال امتحان میں ا

گھر واپسی

دنیا میں کون ایسا سنگ دل ہوگا جو زندگی کے آخری مرحلے میں بھی اپنے وطن جانے کا متمنی نہ ہو ۔ کس کی آنکھیں اتنی پتھرائی ہونگیں جو بچپن کی یادوں سے منور اپنے چمن کو دیکھنے کی تمنا نہ کریں۔ شاہد احمد نوجواانی کے عالم میں تلاش معاش کی غرض سے انگلستان آیا تھا اور پھر یہیں کا ہوکر رہ گیا ۔ اپنے وطن سے دور رہ رہا شاہد گھر میں والدین اور دو بھائیوں کو چھوڑ کر آیا تھا۔ابھی ایک بھائی زندہ ہے ۔ والدین کا انتقال کچھ برس قبل ہو چکا ہے اور چھوٹا بھائی تشدد اور افراتفری کی نذر ہوگیا ۔ شاہد احمد دوبارہ کبھی واپس نہ کیا ۔ نہ والدین کے جنازے میں اور نہ بھائی کے قتل کا حساب مانگنے۔ شاہد میاں جدید سوچ کا قابل اور ہونہار نوجوان تھا لیکن پر آشوب حالات سے تنگ آکر انگلستان چلا آیا تھا۔ اسے تشدد سے کافی نفرت تھی ۔ اسی لئے وہ واپس جانے کا خیال تک ذہن سے نکال چکا تھا۔ اسے کوفت تھی کہ اسے کربناک اور لہولہان

پاگل

ابھی انس کالج سے گھر  آکے اپنا لباس تبدیل کر ہی رہا تھا کہ چُھٹکی ہانپتے ہوئے آکر بولی انس بھیا ! انس بھیا ! کیا ہے ؟ انس نے پوچھا بھیا باہر پاگل آیا ہے چلو چل کر دیکھتے ہیں۔ نہیں چھٹکی مجھے پریشان مت کر مجھے نہیں جانا ، نہیں بھیا چلیے! چُھٹکی کے بار بار اصرار کرنے پر انس تیار ہو گیا۔ باہر سڑک پر اس نے آ کر کچھ عجیب سا منظر دیکھا ، میلا کچیلا خاتونی لباس زیب تن کئے ایک آدمی ہاتھ میں ایک ریڈیو لئے کھڑا تھا۔ پھٹے پرانے کپڑے اس کی روداد زندگی بیان کر رہے تھے کہ اسے زمانے نے کتنی ٹھوکریں دی ہیں مگر اس کے چہرے سے رنگ آفرینیت جھلک رہا تھا، جس سے لگتا تھا جیسے اسے اپنے حالات کی کوئی پرواہ نہیں اس کی خوش کلامی سے یہ ظاہر ہو رہا تھا جیسے اسے کوئی غم نہ ہو۔ پاگل کو دیکھ کر انس کو عجیب حیرت ہوئی اور اُس نے اپنے دل ہی دل میں کہا، یہ کیا ؟ کیا وہ اپنی پسند سے ایسا لباس زیب تن کیے ہوئے ہے

سجدہ

زارا بارہویں جماعت کی طالبہ تھی اور بہت ہی ذہین، پڑھنے میں نہایت کامل، گھر کی لاڈلی، اپنے ماں باپ سے بے حد پیار کرتی تھی لیکن اس کے مزاج میں تکبر تھا اور بلا وجہ اپاہجوں سے نفرت کرتی تھی کیونکہ زارا سمجھتی تھی کہ اپاہج کی زندگی ایک مجبور اور محتاج کی زندگی ہے، جس میں نہ خواہشات کی کوئی بہار ہے اور نہ ہی تمنائوں کے گُل بوٹے۔ بس ایک بنجر اور بے کیف دنیا، جس سے موت بہتر ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے زارا کے ماں باپ اُسے نصیحت کررہے تھے اپاہج بھی ہماری طرح انسان ہوتے ہیں، وہ بھی کسی کے بھائی بہن یا بیٹا بیٹی ہوتے ہیں، لہٰذا ہمیں اُن سے نفرت کرکے گمراہی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ وہ اسے پیار سے سمجھاتے رہے لیکن زارا سمجھنے کے بجائے کھانا کھائے بغیر  روٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اسی وقت اُس کو اپنی ساری پریشانیاں یاد آئیں۔ وہ اپنی پریشانیوں سے اب کہیں دور جاناچاہتی تھی تاکہ سکون کے کچھ لمحے میسر

چھپانے کی عادت

     ایک عورت نے اپنے گھر والوں سے چھپایا کہ اُسے ایک بیماری ہے ‘جس کا نام کینسر تھا۔ایک دن جب وہ اچانک بے ہوش ہوگئی تو گھر والے اسے اسپتال لے گئے۔چند دنوں تک علاج چلتا رہا اور جب ٹیسٹ رپورٹس آگئیں تو اسے شہر کے ایک بڑے اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا۔وہاں پر جب اصلی بیماری کا پتہ چلا تو سب لوگ پریشاں ہوگئے۔اب اس کے رشتہ دار بھی اسپتال میں آگئے۔وہ مایوس ہوکر ہر ایک رشتہ دار سے کہتی کہ اس کے چھوٹے بچوں کا خیال رکھنا۔ہر کوئی اسے دلاسہ دیتا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا وہ جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی۔چند دنوں تک اسے لگا کہ وہ ضرور ٹھیک ہوجائے گی کیونکہ ڈاکٹر بھی کافی محنت کرتے تھے۔ایک دن اس کا بوڑھا باپ بھی اسپتال میں آگیا اور بیٹی کی نازک حالت دیکھ کر بہت رویا، تاہم صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ بیٹی تیرے علاج کے لئے میں سب کچھ کرونگا ۔تم ضرور ٹھیک ہوجاؤگی۔ بیٹی نے باپ کی با