تازہ ترین

نفرت

چاند اپنے جوبن پر تھا، ستارے جھلملا رہے تھے، جنگل میں درختوں کے پتے ہلکی ہلکی ہوا سے ہل رہے تھے۔ جنگل کے بادشاہ شیر ببر نے آج رات جنگل میں بسنے والے تمام پرندوں ، درندوں اور چرندوں کا اجلاس بلایا تھا۔ جنگل میں رہنے والے تمام جاندار حاضر تھے۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ آج شیر دوٹانگوں پر چلنے والے آدم کے متعلق کچھ خاص باتیں سنانے والا تھا۔ وہ سب بے صبری سے انتظار کررہے تھے کہ اچانک شیر آگیا۔ ہر کوئی اُس کے احترام میں کھڑا ہوا۔ شیر ایک بہت بڑے درخت کی ایک موٹی شاخ پر چڑھا اور جنگل کے باسیوں سے مخاطب ہوا۔ میرے پیارے ساتھیو! آج میں آپ سبھوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بستیوں سے دور دو ٹانگوں پر چلنے والے عجیب و غریب جانور رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں۔ وہ بہت ہی خطرناک اور خونخوار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو لوٹتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خون چوستے ہیں۔ ایک دوسرے

دیوانے کا خواب

اِن تھک محنت کے بعد کبیر آخر کار شہر کے رئیسوں میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب ہوا۔ صرف چالیس سال کی عمر میں وہ ایک بڑی جائیدار کا مالک بن بیٹھا۔ تین ستارہ عالیشان ہوٹل کے علاوہ اُس کے پاس سات منزلہ شاپنگ مال اور تجارتی اعتبار سے اہم منڈی کے متصل دس کنال اراضی کا ایک بڑا رقبہ بھی تھا۔ شہر کی سبزہ زار کالونی میں اُس کا محل نما مکان جو سنگِ سیاہ کا بنا ہوا تھا، سٹون ہائوس کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ اُس مکان میں کبیر کے علاوہ اُس کی دو بیویاں، دو بیٹے اور اُس کا گھریلو ملازم رہتے تھے۔ کبیر کے پاس عیش و عشرت کے سب سامان میسر تھے لیکن اتنی دولت کمانے کے باوجود بھی کبیر مطمئن نہیں تھا۔ دراصل دولت کمانے کے خواب نے کبیر کو دیوانہ جیسا بنایا تھا۔ اسی لئے وہ دَھن دولت جمع کرنے میں اپنا ہر لمحہ بے تحاشہ صرف کرتا تھا۔ کبیر کے پاس اعلیٰ کوالٹی کی کئی گاڑیاں تھیں، جن میں مرسڈیز بینز کی وہ قیم

شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔۔۔

میں ہمیشہ اپنے والد کے ساتھ مندر جایا کرتی تھی جہاں میرے والد تقریباٌ تین سال سے کچھ غریب بچوں کو پڑھایا کرتے تھے اور ان سے پیسے نہیں لیتے تھے کیونکہ میرے والد کا ماننا تھا بس بچے میں شوق پیدا کر دو اس کے بعد وہ ترقی کر ہی لیتا اور ہمیشہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے ساتھ ساتھ ان بچوں کو ایک اچھی تعلیم (education)مل سکے جو اس کے ضرورت مند ہیں ۔اس وجہ سے پاپا ہمیشہ بچوں کو پڑھایا کرتے اور ساتھ ہی انہیں نئی نئی باتیں بتاتے ،کبھی کوئی ہندی رسالہ آتا تو وہاں لے جاتے کہ وہ بچے پڑھ سکیں اور یہی وجہ ہے کہ پہلے بچے اے بی سی ڈی بھی نہیں جانتے تھے اور آج وہ سب کچھ  پڑھ لکھ سکتے ہیں ۔جب بھی میں پاپا کے ساتھ جاتی تو مجھے ان بچوں کو دیکھنا  اوروہ کس طرح پڑھ رہے ہیں، یہ سب چیزیں غور سے دیکھنے میں بڑا لطف آتا تھا ۔میرا بھی یہی ماننا تھا کہ تعلیم آج کے دور کے لئے بہت زی

بیتے موسم کا خط

یہ گناہ ہے اور جُرم بھی ویسے بھی میری پیشہ وارانہ ذمہ داری اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں ایسا کروں۔ پر۔۔۔۔ پر اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو میرے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی۔ یہ بند لفافے میں پڑا خط میرے اعصاب پر بُری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ مجھے لفافہ کھول کر یہ خط پڑھنا ہی ہوگا تب جاکے مجھے چین ملیگا اور قدرے راحت بھی ۔ یہ خط ایک شخص کی دل کی دھڑکن ہے جسے وہ اپنے سے جُدا نہیں کرنا چاہتا تھا پر میرے کہنے پر اُس نے آج یہ کیا ۔ یہ خط منان صاحب کا ہے ۔ منان صاحب کیا غضب کے آدمی ہیں اِس دلچسپ شخص سے ملاقات میری خوش بختی ہے۔  لگ بھگ د و سال قبل جب میری پوسٹنگ یہاں رائے گنج پوسٹ آفس میں ہوئی تو میں پہلے ہی دن سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھانے میں جُٹ گیا ۔ پہلے ہی دن سینکڑوں چھٹیا ںرجسٹر پوسٹ کرنا ، کمپیوٹر سے رسیدیں نکالنا،مسافت کے حساب سے پیسے لینا، ریز گاری نہ ہون