تازہ ترین

زینہ

ایک بھیگہ زمین کے چہرے کو اس ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے نے،جو اس کے بیچوں بیچ چیچک کے بدنما داغ کی طرح نظر  آ رہا تھا،  مسخ کر رکھا تھا ۔ جھونپڑے کے گرد پتھریلی زمین میں اُگی خودرو جھاڑیاں اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ اس سارے اثاثے کا مالک ضرور کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگا ۔۔۔۔۔ حالانکہ کبھی یہ جھونپڑا  ایک خوبصورت کاٹیج ہوا کرتا تھا جو عشق پیچان کی بیلوں سے ڈھکا تھا اور کاٹیج  کے ارد گرد دس بھیگے زمین کا خوبصورت اور پر رونق باغ تھا۔سائیڈ میں نوکروں کے کوارٹر بنے تھے اور ننھا عامراپنے والد ماجد علی کے سامنے ہی لان میں اٹکھیلیاںکرتا رہتا تھا۔ کبھی پھولوں کے جھنڈ میں آنکھ مچولی کھیلی جا رہی تھی اورکبھی سیبوں کے پیڑوںسے جھولاجھلایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔  اچانک تنداور تیز ہوا کے جھونکوں سے خوشیوں کے باب الٹ گئے، ماجد علی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ، سب کچھ بکھر گیا۔۔۔ ماجد علی

ادھورا سفر ادھورے قصّے

سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے گاڑیاں رک رک کر چل رہی تھیںغالباََ سال کی پہلی برف ہورہی تھی کچھ مسافت طے کرتے ہی   گاڑیاںاچانک رک گئیں۔ایک آواز آئی۔ ’’سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی لڑھک گئی ہے۔‘‘ یہ سن کر سب پریشان ہوگئے۔موسم پریشانیوں میں برابر اضافہ کرتا جرہا تھا اور چاروں طرف ٹھنڈی برفیلی ہوائیں چلنے سے بس کے اندر موجود لوگ ٹھٹھرنے لگے۔بس سواریوں سے کھچا کھچ بھری پڑی تھی اور اس کے اندر بالکل بھی ہلنے ڈھلنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اب ٹھنڈکے ستائے پرندے بھی اُڑ اُڑ کر گھونسلوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے تھے اور کتوں کی بھاگ دوڑ بھی مسدود ہوچکی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا چھا گیا۔ مسافر بس کے اندرکھسر پھسر کرنے لگیں۔ کچھ کھڑکیوں کے پٹ چڑھا کر آگے کا حال جاننے کی کوشش کرتے رہے مگر اندھیرا اور گہرا ہوگیا تھا،لہٰذا اس گپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دے رہ

افسانچے

فکر آج پھر اس کا باپ شراب پی کر آیا اور اس کی ماں کو مارنا شروع کردیا۔ چنٹو بغل کے کمرے سے اپنی ماں کی چیخ و پکار سن رہا تھا ۔ ایسا پچھلے کئی سالوں سے ہورہا تھا۔ چنٹو کا صبر  جواب دے گیا اور اس نے طے کیا کہ وہ کل اپنے باپ سے بدلہ لے گا۔  دوسرے دن اس کا باپ ہر روز کی طرح اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا تبھی چنٹو لڑکھڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور اپنے باپ پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا باپ بڑی مشکل سے اپنی جان بچاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے جانے کے بعد چنٹو نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے کہا ماں ! تھے اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا بیٹا! مجھے اپنی نہیں,اب تیری بیوی کی فکر ہورہی ہے!!! پیزا وہ آفس سے تھکا ماندا جیسے ہی گھر آیا اس کی چھ سالہ بیٹی دوڑتے آئی اور اس لپٹ کر بولی ، پاپا ، مجھے پیزا کھانا ہے۔ ٹھیک ہے بیٹا، میں فریش ہو جاؤں، پھر

سمینار

کالج میںبڑے جوش و خروش سے سیمنار کی تیاریاں ہو رہیں تھیں۔ہال میں طالب علموں کو بٹھایا جا رہا تھا۔ان کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ دونوں ٹیچر، جو ڈیوٹی پر تھے، بڑی محنت کررہے تھے اور لڑکوں سے کہہ رہے تھے۔ ’’آج منسٹر صاحب آرہے ہیں،آپ سیٹوں پر بیٹھ جاؤ ،وہ آتے ہی ہونگے‘‘۔ دیکھو شور بالکل مت مچانا،آرام سے بیٹھے رہنا،جب منسٹر صاحب اور دوسرے مہمان آجایئں گے تو کھڑے ہو جانا اور تالیاں بجانا‘‘ اور لڑکے بھی بڑی خوش خوشی ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ایک لڑکے نے اندر جاتے ہوئے دوسرے سے پوچھا ’’ہال کے اندر کیا ہو رہا ہے‘‘؟۔ بدھو تمہیں نہیں معلوم۔یہ ہفتہ ماحولیات کا ہے نا۔منسٹر صاحب آرہے ہیں ۔انہیں ماحولیات پر لیکچر دینا ہوگا،میں نہیں جاؤں گا۔‘‘ ’’کب آرھے ہیں؟کیا آج کلاسیں نہ

بے نور زندگی

’’ساری زندگی ایسے ہی گذار دی۔ کیا کروں میں خود جو اس کے لئے زمہ دار ٹھہرا۔ وقت جب تھا تب میں نے پرواہ نہیں کی ۔ اس کی ہر ایک بات کو ٹالتا رہا ۔اس کی ہر خوشی اور ہر بات کو نظرانداز کرتا رہا۔ پر آج میری زندگی میں آہٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ آہ! سلمہ میری سلمہ۔ کاش آج اس کی ایک آواز سننے کو مل جاتی۔خدا نے مجھے اتنا بے بس اور لاچار بنا دیا ہے کہ میں اپنی سلمہ کو نہ تو دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی سن سکتا ہوں۔ نہ جانے کہاں ہوگی ؟کس حال میں ہوگی ؟زندہ بھی ہے یا مر گئی؟‘‘ سلطان خود کلامی کے بعد تیس سال پہلے کے ایک درد ناک حادثے میں کھو گیا۔ کڑکتی دھوپ میں وہ ایک کھاٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اچانک اس کی بیوی سلمہ آہستہ سے اس کے پاس آتی ہے ۔ ’’سلطان آج ماں کی بہت یاد آرہی ہے ۔آپ اگر اجازت دیں تو میں جاکر اُسے دیکھ کے آجائوں ؟‘‘ سلمہ نے ڈرت