افسانچے

اپنے  موم اب آپ بالکل صحت مند ہیں۔ اس عمر میں آپ نے وائرس کا مقابلہ کیا، کمال ہے! آپ کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی ہے کہ کل صبح دس بجے  وہ آپ کو لینے  آئیں گے ۔ نرس نے پچاسی سالہ مریضہ شالینا سے کہا۔ تم نے اس علاج کے دوران میری اپنی بیٹی کی طرح خیال رکھا۔ میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔ پانچ بیٹے ہیں سب کی شادی  ہوچکی ہے۔ میرے شوہر جنگ میں مارے گئے ۔ میں نے بیٹوںکو پڑھایا لکھایا اور سب کی شادی کروائی۔ ان کے بچے  مجھے گھیرے رہتے ہیں۔ سب مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میرے اپنے میرے بغیر  زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ کل وہ آئیں گے اور مجھے لے جائیں گے۔۔۔۔۔بوڑھی عورت نے نرس سے کہا نرس  نے لائٹ آف کی اور شالینا نیند کی دیوی کی تلاش  میں بھٹکنے لگی۔  صبح ہوگئی نرس نے کھڑکی کھولی اور تازہ پھولوں کا گلدستہ  شالینا کو پیش کیا۔ جواب میں اس نے نرس

للکار

کبیر چاچا پاگل نہیں تھا۔ چالیس سال وہ آن بان اور شان کے ساتھ درس و تدریس کے کام میں محو رہا۔ اس دوران کبیر چاچا نے عزت کی بلندیوں کو چُھوا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ وہ ایک مفکر، ایک فلسفی اور ایک عالم دین تھا۔ اُس میں جلال، جمال اور کمال یہ تینوں عناصر موجود تھے۔ وہ تب جلال کا مظاہرہ کرتا تھاجب کوئی ناگہانی آفت آن پڑتی تھی۔ پھر وہ جنون میں آکر لوگوں کو اپنے مخصوص انداز میں متنبہ کرتا تھا۔ جاہل لوگ دیوانہ کہکر کبیر چاچا کا مذاق اُڑاتے تھے۔ میں نے کبیر چاچا کو ہمیشہ سڑک پر گھومتے دیکھا ہے۔ اُس روز بھی کبیر چاچا سنسان شاہراہ پر چِلّا چِلّا کر لوگوں کو خبردار کرتا تھا۔ ’’لوگو! خالق اپنی مخلوق سے خفا ہے۔ اس لئے اُس نے اپنے گھر بیت اللہ سے لوگوں کو بھگا دیا۔ اپنے محبوبؐ کے روضہ مقدس کا دروازہ بھی بند کروایا۔ اب کہاں جائو گے؟ ابھی بھی وقت ہے اپنی ہستی کو مٹا کر اپنے گنا

آخری نیکی

نظام ا لدّین نے ناشتہ کرنے کے بعد اپنے گھر کے واش بیسن میں ہاتھ دھوئے ۔کُلی کرتے ہوئے اُنھیں سامنے دیوار پر لگے آئینے میں اپنا نُورانی چہرہ نظر آیا تو لمحہ بھر کے لیے اُسے دیکھتے ہی رہ گئے ۔پھر اچانک اُن کی نظر اپنی سیاہ ریشمی داڑھی میں مختلف مقامات پہ اُگے چند سفید بالوں پر پڑی تو اُنھیں دھچکا سا لگا ۔اُنھوں نے اپنی بیوی ضوفشاں سے کہا ’’ضوفشاں…!اری دیکھو میری داڑھی میں سفید بال اُگنے لگے ہیں ۔پہلی بار دیکھ رہاہوں ‘‘ ضوفشاں مُسکراتی ہوئی بولی ’’اب آپ بُزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ بوڑھے ہورہے ہیں ‘‘ نظام الدّین تلملااُٹھے  ’’اری یہ تُم کیا کہہ رہی ہو ! میں تیس سال کانو جوان کیسے بوڑھا ہورہا ہوں ؟‘‘وہ اپنی داڑھی میں اُگے اُن چند سفید بالوں کو اُکھیڑنے لگے تو ضوفشاں نے منع کردیا بولی &

’ گنگ‘

’’باہر نظرماریئے محلہ کمیٹی والے شاید کوئی مدد کریں ‘‘ بیوی کا یہ جملہ سنتے ہی اس کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا۔   گلی سے ہوتے ہوئے شاہراہ اور شاہراہ سے واپس گھر کے کئی چکر لگانے پر بھی جب کوئی سبب نہ بنا تو گل محمد کی ہمت نے جواب دے دیا۔ اسی محلے کی ایک چھت سے توجہ کا مرکز بناگل محمد جب اب کی بار باہر نہ آیا  تو تھوڑی دیر بعد کچھ آدمی اس کے دروازے پر نمودار ہوئے اور راحت ر سانی کا کچھ سامان  دے کرواپس ہو لئے۔ گل محمد کی پریشانی حل ہو گئی مگر شام ہوتے ہوتے وہ جیسے بستر مرگ تک پہنچ گیا۔ '' کیا بات ہے؟.....  درد کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ ''  سوال تو وہ سنتا مگر جواب نہ دے سکا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کن الفاظ سے وہ اس کیفیت کو بیاں کرے کیونکہ تب تک سوشل سائٹس پر اس

شور

رات کا سیاہ اندھیرا  پورے شباب پر تھا۔دور دورتک سناٹا چھایا ہوا تھا۔ لیکن وحشی جانوروں کی آوازیں بلند تھیں۔کتے اوربھیڑیوں کی آوزیں دل کو دہلاجاتی تھیں۔انسانیت اپنے وجود کو چھپائے ہوئے،اپنے تھکے ہوئے اور مردہ جسموں کے ساتھ اپنے اپنے مسکنوںمیں پوشیدہ ہو گئی تھی،جیسے کسی نے اس کو اسیر کر لیا ہو۔ ایسے ماحول میں کون کس کی خبر لیتا۔نفسا نفسی کا عالم تھا۔میں نے دیکھاایک دوشیزہ، جس کی زلفیں بکھری ہوئیں تھیں، کو دیکھا جو نہ جانے کس فکر میں مبتلا تھی۔بیڑیوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ کسی کی غلامی سے بھاگ کرآئی ہے اورکسی پر سکون دنیا کی تلاش میں ہے۔ اس کی آغوش میںدو بچے تھے۔جس میں ایک بچے کی پیشانی پر ٹیکا اور دوسرے بچے کے سر پر ٹوپی تھی۔دوسری طرف مسلسل ایک بھیڑ تھی جس کے ہاتھوں میں ہتھیار اورمشعلیںتھیں۔چہرے ایسے جیسے جانور انسان کے قالب میںآگئے ہوں۔آنکھوں میں خون اترا ہوا

وہ قُربتیں یہ دُوریاں

ڈاکٹر افضل حیات ایک ایسے ملک کا باشندہ تھا جہاں کی نوّے فی صدی آبادی ناستک قسم کی ذہنیت کے ساتھ خدائی ضابطوں کے خلاف زندگی گزارتی تھی ۔اُس ملک کا آئین مادیت پرستی ،دُنیاوی عیش وآرام اور سائنسی وتکنیکی ترقی کی اساس پر مبنی تھا ۔وہ لوگ رُوحانیت کو انسانی واہمہ اور مضحکہ خیز تصّور کرتے تھے ۔وہ اس کائناتی نظام کو ایک خود کار مشین خیال کرتے تھے ۔اُن کے ہاں حرام وحلال کی اہمیت وتفریق کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔اسی لیے وہ کُتّے، لومڑی،بندر ،لنگور ،گلہری ،چمگادڑ ،اُلّو، کچوے، چوہے،سانپ ،بچھّو،مینڈک اور چھپکلی کے علاوہ اُن تمام حشرات الارض کا گوشت کھانے میں لذت محسوس کرتے تھے جن کا نام سُنتے ہی ایک مُتّقی وپرہیز گار آدمی کو مِتلی آنے لگتی ہے ۔ ڈاکٹر افضل حیات میڈیکل سائنس میں اُس ملک کے قابل ترین ڈاکٹروں میں شمار ہوتے تھے ۔اُن کی بیوی بُشریٰ خانم بھی ماہرِ امراض نسواں کے طور پر کافی مشہ

کردار

اکرم :ایک نوجوان لڑکا۔ مولانا صاحب:ایک عالم دین۔ احمد : ایک کمسن بچہ۔ (نماز ختم کر کے احمد اور اکرم نے  مولانا صاحب کو سلام کیا اور مسجد سے منسلک حمام کے فرش پر بیٹھ گئے ) مولانا صاحب :کیوں بھئی اکرم آج تمہارا دوست امین نہیں آیا ہے ؟کیا وہ خیریت سے ہے؟  اکرم :مولانا صاحب امین کو  بہت تیز بخار ہے ،جس کے چلتے وہ مسجد نہیں آیا۔ مولانا صاحب :ہاں احتیاط بہت ضروری ہے۔ اچھا یہ بتاؤ  اب وہ کیسا  ہے؟ اکرم:دا جانے مگر اتنا معلوم ہوا ہے کہ اس کا ٹیسٹ، جو اس نے کورونا وائرس کے لئے کیا تھا، منفی آیا ہے۔ احمد: شکر خدا کا جس نے اس کو اس مہلک وائرس سے بچایا۔ مولانا صاحب:ہاں سو تو ہے یہ سب اس اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ احمد:مولانا صاحب میں نے آج ریڈیو پر اس کے بارے میں سنا۔  اکرم:ہاں مولانا صاحب میں نے بھی سنا  اور یہ ب

شہزادہ بسملؔ

وادی کشمیر کے ادبی افق پر سجی کہکشاں میں شہزادہ بسمل کا ایک نمایاں مقام ہے جو عرصہ دراز سے اردو زبان و ادب کے گلشن کو سجانے، سنوانے اور قسم بہ قسم کے گل کھلانے میں مصروف عمل ہیں ۔اردو زبان وادب کے فروغ کے لئے ان کی بے لوث خدمات قابل سراہنا ہیں ۔بسمل صاحب ایک سلجھی ہوئی بہترین شخصیت کے مالک، نہایت ہی ملنسار اور صاف گو انسان ہیں ۔آپ کے اعلیٰ اخلاق ،بہترین طرز کلام اور شرین زبان انسان کو متاثر کئے بنا نہیں رہ سکتے اور ہر ملنے والا ایک ہی ملاقات میں ان کی شخصیت کا اسیر ہو جاتا ہے ۔روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر میں گزشتہ دس سال سے متواتر طور شایع ہورہا ان کا ہفتہ وارمقبول عام کالم ’’چلتے چلتے‘‘ ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔ شہزادہ بسمل کا قلمی سفر کم وبیش پچاس سال پر محیط ہے جس دوران انہوں نے مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کے کالم بہت زیادہ مقبول ہوئے ،حق بات

نفرت

چاند اپنے جوبن پر تھا، ستارے جھلملا رہے تھے، جنگل میں درختوں کے پتے ہلکی ہلکی ہوا سے ہل رہے تھے۔ جنگل کے بادشاہ شیر ببر نے آج رات جنگل میں بسنے والے تمام پرندوں ، درندوں اور چرندوں کا اجلاس بلایا تھا۔ جنگل میں رہنے والے تمام جاندار حاضر تھے۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ آج شیر دوٹانگوں پر چلنے والے آدم کے متعلق کچھ خاص باتیں سنانے والا تھا۔ وہ سب بے صبری سے انتظار کررہے تھے کہ اچانک شیر آگیا۔ ہر کوئی اُس کے احترام میں کھڑا ہوا۔ شیر ایک بہت بڑے درخت کی ایک موٹی شاخ پر چڑھا اور جنگل کے باسیوں سے مخاطب ہوا۔ میرے پیارے ساتھیو! آج میں آپ سبھوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری بستیوں سے دور دو ٹانگوں پر چلنے والے عجیب و غریب جانور رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو انسان کہتے ہیں۔ وہ بہت ہی خطرناک اور خونخوار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو لوٹتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خون چوستے ہیں۔ ایک دوسرے

دیوانے کا خواب

اِن تھک محنت کے بعد کبیر آخر کار شہر کے رئیسوں میں اپنا نام درج کرنے میں کامیاب ہوا۔ صرف چالیس سال کی عمر میں وہ ایک بڑی جائیدار کا مالک بن بیٹھا۔ تین ستارہ عالیشان ہوٹل کے علاوہ اُس کے پاس سات منزلہ شاپنگ مال اور تجارتی اعتبار سے اہم منڈی کے متصل دس کنال اراضی کا ایک بڑا رقبہ بھی تھا۔ شہر کی سبزہ زار کالونی میں اُس کا محل نما مکان جو سنگِ سیاہ کا بنا ہوا تھا، سٹون ہائوس کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ اُس مکان میں کبیر کے علاوہ اُس کی دو بیویاں، دو بیٹے اور اُس کا گھریلو ملازم رہتے تھے۔ کبیر کے پاس عیش و عشرت کے سب سامان میسر تھے لیکن اتنی دولت کمانے کے باوجود بھی کبیر مطمئن نہیں تھا۔ دراصل دولت کمانے کے خواب نے کبیر کو دیوانہ جیسا بنایا تھا۔ اسی لئے وہ دَھن دولت جمع کرنے میں اپنا ہر لمحہ بے تحاشہ صرف کرتا تھا۔ کبیر کے پاس اعلیٰ کوالٹی کی کئی گاڑیاں تھیں، جن میں مرسڈیز بینز کی وہ قیم

شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔۔۔

میں ہمیشہ اپنے والد کے ساتھ مندر جایا کرتی تھی جہاں میرے والد تقریباٌ تین سال سے کچھ غریب بچوں کو پڑھایا کرتے تھے اور ان سے پیسے نہیں لیتے تھے کیونکہ میرے والد کا ماننا تھا بس بچے میں شوق پیدا کر دو اس کے بعد وہ ترقی کر ہی لیتا اور ہمیشہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے ساتھ ساتھ ان بچوں کو ایک اچھی تعلیم (education)مل سکے جو اس کے ضرورت مند ہیں ۔اس وجہ سے پاپا ہمیشہ بچوں کو پڑھایا کرتے اور ساتھ ہی انہیں نئی نئی باتیں بتاتے ،کبھی کوئی ہندی رسالہ آتا تو وہاں لے جاتے کہ وہ بچے پڑھ سکیں اور یہی وجہ ہے کہ پہلے بچے اے بی سی ڈی بھی نہیں جانتے تھے اور آج وہ سب کچھ  پڑھ لکھ سکتے ہیں ۔جب بھی میں پاپا کے ساتھ جاتی تو مجھے ان بچوں کو دیکھنا  اوروہ کس طرح پڑھ رہے ہیں، یہ سب چیزیں غور سے دیکھنے میں بڑا لطف آتا تھا ۔میرا بھی یہی ماننا تھا کہ تعلیم آج کے دور کے لئے بہت زی

بیتے موسم کا خط

یہ گناہ ہے اور جُرم بھی ویسے بھی میری پیشہ وارانہ ذمہ داری اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں ایسا کروں۔ پر۔۔۔۔ پر اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو میرے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی۔ یہ بند لفافے میں پڑا خط میرے اعصاب پر بُری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ مجھے لفافہ کھول کر یہ خط پڑھنا ہی ہوگا تب جاکے مجھے چین ملیگا اور قدرے راحت بھی ۔ یہ خط ایک شخص کی دل کی دھڑکن ہے جسے وہ اپنے سے جُدا نہیں کرنا چاہتا تھا پر میرے کہنے پر اُس نے آج یہ کیا ۔ یہ خط منان صاحب کا ہے ۔ منان صاحب کیا غضب کے آدمی ہیں اِس دلچسپ شخص سے ملاقات میری خوش بختی ہے۔  لگ بھگ د و سال قبل جب میری پوسٹنگ یہاں رائے گنج پوسٹ آفس میں ہوئی تو میں پہلے ہی دن سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھانے میں جُٹ گیا ۔ پہلے ہی دن سینکڑوں چھٹیا ںرجسٹر پوسٹ کرنا ، کمپیوٹر سے رسیدیں نکالنا،مسافت کے حساب سے پیسے لینا، ریز گاری نہ ہون

نالائق

 ’’اے نالائق ۔۔۔ کیا لکھ دیا یہ ۔‘‘ امجد نے ارشدکی ہوم ورک کاپی اُسکے ہاتھ سے چھین لی۔  ’’نالایک‘‘ ارشد کا معصوم سا جواب تھا۔   ’’ اس طرح سے لکھا جاتا ہے ۔؟  تم واقعی نالائق ہو ۔یار ارشد کب سمجھے گا  تو ۔  صحیح لفظ لکھنا کب سیکھ جائے گا ۔‘‘   ’’ مجھ سے نہیں ہو پاتا امجد ڈئیر ۔ کیا کروں‘‘   ’’ دیکھ کیسے لکھا جاتا ہے ۔  ۔ اب سیکھ بھی لے ، نہیں تو فیل ہوجائے گا ۔‘‘  امجد بہت دیر تک اپنے دوست ارشد کو مشکل الفاظ لکھنا سکھاتا رہا لیکن ارشد پھر بھی غلطی پر غلطی کرتا جا رہا تھا۔  ’’ نالائق  ‘‘۔ امجد نے ارشد کے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر کہا اور ارشد ہمیشہ کی طرح زور دار 

بویاپیڑ ببول کا ۔۔۔

عامر اورسعیدہ کی شادی قریباً چھ ماہ قبل ہوئی تھی ۔ دونوں خوش وخرم تھے۔دن رات ہنسی خوشی گذرتے تھے۔کسی کوبھی انکے ایسے ماحول میں زندگی گذارنے پہ رشک آسکتاتھا جوبھی رشتہ دار ،یاردوست ،انکے ہاں آتے وہ ضرورکہتے۔ اللہ کرے! آپ دونوں کوکسی کی نظرنہ لگے۔ عامرایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جونیئر آفیسر تھا۔ سعیدہ پڑھی لکھی تھی مگر نہ اسکو اورنہ ہی عامرکو اسکی ملازمت کرنے میں کوئی دلچسپی تھی ۔ عامرکی پروموشن کئی مہینوں سے زیرغورتھی۔ اسکی فائل ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل بھیجی جاتی ۔کبھی اس میٹنگ میں توکبھی دوسری میٹنگ میں اسکے فیصلے کایقین دلایاجاتا۔ اس وجہ سے عامر کبھی کبھی بڑاپریشان ہوجاتا مگرسعیدہ اسکویہ کہہ کرتسلی دیتی کہ وہی ہوتاہے جومنظورخداہوتاہے ۔ہمارے پریشان ہونے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہرکام کااللہ نے ایک وقت مقررکررکھاہے۔ ایک روزصبح سویرے جب عامرکچھ سوداسلف لینے بازارنکلات

آخری گولہ

 شْوں ں ں ں ں ں ں ……………ڈم م م …………………… زور دار آواز چاروں طرف فِضاؤ میں گونج گئی اور  پھر خاموشی چھا گئی ……،، لیکن یہ خاموشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی، ایک شور کے ساتھ گاؤں کے تمام لوگ یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگے، زمیندار کے مکان پر گولہ گرا _______،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا________،، گلابو جو صْبح سویرے گاؤ خانے سے مویشیوں کا گوبر سمیٹ کر مکان سے تھوڑی دور ڈھیر  پر ڈالنے نکلی تھی اْس کے کانوں میں یہ آواز پڑتے ہی وہ قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگی،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا______،، زمیندار کے گھر پر گولہ گرا ______،،وہاں سے گْزرنے والے لوگ اْس کی طرف حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے، اْن کی نظروں میں اس وقت اْس کی حثیت ایک پاگل کی تھی، ایک نے کہا،، اسی منحوس کی

موت۔۔۔۔ میڈ اِن چائنا؟

باپ کے ساتھ چلتے چلتے بیٹا بولا ’’پاپا جی ،ادھر دیکھئے کتنی اچھی گھڑی ہے، یہ کس ملک سے آئی ہے؟‘‘  باپ نے جواب دیا’’بیٹا یہ میڈ ان چائنا ہے‘‘۔ ٹھیک ہے۔اچھا یہ LCD TV کس ملک سے آیا ہے؟  باپ  بولا’’ بیٹا یہ بھی میڈ ان چینا ہے‘‘۔ ’’پاپا جی آپ  مجھے بولئے یہ چائنا والے کتنی چیزیں بناتے ہیں؟ کیا یہ بناتے بناتے تھکتے نہیں ہیں؟‘‘۔ باپ بولا’’بیٹا تو تھکنے کی بات کرتا ہے،انہوں نے تو دنیا کو دوڑانے والے لاعلاج وائرس بھی پیدا کر دیا‘‘۔ ’’وہ کیا ہے؟ ‘‘۔ ’’ارے احمق تجھے اتنا بھی نہیں پتا ہے؟ وہ بلا کورونا وائرس ہے ، جس کی وجہ سے آج ساری دنیا میں بھاگ دوڑ مچی ہوئی ہے۔ ‘‘ ’&r

افسانچے

اور پھر اور پھر میں نے اس کی پرورش کی ۔میں نے دوسری شادی اس لئے نہیں کہ کہ کہیں سوتیلی ماں اسے دکھ نہ دے ۔میری بیوی اور میں شادی کے بعد پانچ سال تک اولاد کے لئے ترستے رہے ۔ہم دونوں نے ہر زیارت گاہ کے چکر لگائے، منتیں مانگیں، نذر و نیاز کئے جہاں کہیں کسی پیر فقیر کا نام سنا وہاں حاضری دی۔ ان سب چیزوں کے لئے مجھے ساری زمین بیچنی پڑی لیکن اس کا مجھے کوئی غم نہیں۔ مگر اللہ  نے ہمیں ایک پیارا سا لڑکا دیا اورہمیں ساری دنیا کی خوشیاں مل گئیں ۔ مگر چند برسوں بعد میری شریک حیات  مجھے داغ مفارقت دے کر چلی گئی۔ اور پھر میں نے اکیلےاپنے بیٹے رحمت کی پرورش کی۔ اسے پڑھایا لکھا یا اور اس قابل بنایا کو وہ ایک بہت بڑا آفیسر بن گیا۔ اور پھر اس نے شادی کی۔۔ اس کی بیوی ایک الٹرا ماڈرن عورت ہے۔ وہ دونوں خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ اور پھر میں اکیلا رہ گیا اور یہاں پہنچ گیا ۔۔

ایثار

آٹھ سالہ عامر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اپنی ماں خدیجہ کا دُلارا اور اپنے باپ سلطان کی آنکھوں کا تارا! عامر نہ صرف شکل و شمائل میں بے نظر تھا بلکہ اُس کی حرکات و سکنات بھی متاثر کُن تھیں۔ جب چلتا تھا تو راستہ اُس کے پیر چومتا تھا اور جب وہ بولتاتھا تو ہونٹوں پہ گلاب کھلتے تھے۔ معصوم ہونے کے باوجود بھی وہ اکابروں جیسی باتیںکرتے تھا۔ معصومیت میں اُس کی عادات بھی کچھ نرالی تھیں۔ اپنے محلے میں گھر گھر جاکر مکینوں سے اُن کی خیر وعافیت دریافت کرنا، محلے میں کوئی بیمار ہو تو اُس کی خبر پُرسی کرنا، کوئی حاجت مند ہو تو اپنے جیب خرچہ میں سے کما حقہ ہُو اُس کی مدد کرنا وغیرہ۔ بچہ ہونے کے باوجود بھی وہ اقدار کا قائل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عامر سارے محلے کا سب سے پیارا بچہ تھا۔ محلے کی تمام مائیں اُس کو دعائیں دیتی تھیں اور تمام والدین اُس کی راہیں تکتے تھے!  ایک دن کسی نے عامر سے

نیا شہر

شہر کی آلودگی ،گہما گہمی اور اکتاہٹوں سے تنگ آکر سکون کے چند دن گزارنے کے لئے میں کئی مہینوں سے کسی دور دراز ،خاموش، صاف و شفاف جنگلی علاقے میں کچھ وقت گزارنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ،لیکن میرے ذہن میں ایسی کوئی جگہ نہیں آرہی تھی ۔ایک دن میں نے اپنے ڈرائیور نیاز احمد ،جس سے میں نیازی کہہ کر پکارتا اب میرا اچھا دوست بھی بن گیا ہے ،سے اس بات کا ذکر کیا تو چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ گویا ہوا ۔ ’’جناب ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ میری مانیں تو یہاں سے سو میل کی دوری پر ایک شہر ہے ۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔ ’’تم پھر شہر کی بات کر رہے ہو‘‘ ۔ میں نے ہنسی میں لوٹ پوٹ ہو کر اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔ ’’حضور ۔۔۔۔۔۔ آپ میری پوری بات تو سنیے ۔وہ شہر سر سبز جنگلوں کے دامن میں واقع ایک صاف ستھرا شہر ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ آپ جس چیز کے متلاشی

اُداس لمحے

لوگ جسے بچپن کہتے ہیں ہمارے لئے وہ احساس اور جذبات کا وہ سمندر تھا جہاں سوائے گہرائی کے اور کچھ بھی نہیں۔ آج بھی خیالوں میں ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کسی ندی کے کنارے دوڈتے ، لہراتے بل کھاتے دور تک نکل جاتے ہیں  خیالوں میں کبھی ہنستی اور کبھی روتی رہتی ہوں۔ من ہی من میں ان لمحوں کو یاد کرتے ہوئے عماو کا مسکراتا چہرہ دیکھتی اور وہ نہ بھولنے والا پل جب عماد میری چوٹی کھینچ کر مجھے تنگ کرتا۔ خیام برف کے گولے عماد پر پھینکتا اور ہم دونوں دور  تک اُس کے  پیچھے دوڑتے اور اُس کو پکڑ کر برف پر گھسیٹتے ہوئے ہنستے کھیلتے کب گھر پہنچ جاتے پتا ہی نہیں چلتاتھا۔ سب ہماری دوستی کی مثال دیتے اور اس پر رشک کرتے یہ ہمارے لئے دوستی نہیں روح کا رشتہ تھا۔ ہم دور سے ہی ایک دوسرے کے چہرے سے من کی باتیں پڑھ لیتے تھے۔  اگر دوستی یہی ہوتی ہے تو لاجواب ہوتی ہے؟ کھانا، اسکول جانا ،اسکول ک