تازہ ترین

یہ کس جرم کی سزا ۔۔۔۔ ؟

تھانے سے باہر آتے ہی کرامت علی نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو یہ دیکھ کر دل کو یہ تسلی ہوئی کہ انھیں کسی جان پہچان والے نے تھانے سے باہر آتے ہوئے نہیں دیکھا۔وہ سیدھا قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے تاکہ وہاں بیٹھ کر دم سنبھالے اور چائے کی ایک پیالی بھی پی لیںانھوں نے بیرے کو چائے کا آرڈر دیا۔ اتنی سی دیر میںایک خوبرو نوجوان آ کر بولا۔’’جناب میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔میں آپ کے افسانے پڑھتا رہتا ہوں۔آپ اس دور کے ایک بڑے تخلیق کار ہیںمگر ۔۔۔۔۔ آپ کو تھانے سے نکلتے دیکھ کرمجھے حیرانی ہوئی۔خیریت تو ہے۔‘‘ سن کر کرامت علی من ہی من میں سوچنے لگے۔’’یہ واقعی حیرانی کی بات ہے ہر اس شخص کے ذہن میں ہزار طرح کے خدشات پیدا ہونگے‘مجھ جیسے شخص کو تھانے سے نکلتے ہوئے دیکھے گا۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نوجوان سے بولے۔’’مت پو

ریاست کی معاصر خواتین افسانہ نگار ۔۔۔ایک مختصر جائزہ

بر صغیرمیں ریاست جموں وکشمیر اب اردو کا ایک اہم دبستان بن گیا ہے ۔یہاں بولی جانی والی تمام زبانوں میں اردو کو مرکزیت حاصل ہورہی ہے۔یہاں کے بیشتر قلم کار اپنی اپنی مادری زبانوں کو چھوڑ کر زیادہ تر اسی زبان میں اظہار خیال کررہے ہیں،جس کے نتیجے میں یہاں اُردو ادب کی اس قدر ترویج ہوئی ہے کہ اس دبستان کی ایک الگ جامع تاریخ بن سکتی ہے۔ہمارے فکشن نگاروں  نے شروع سے ہی اردو کی تمام تحریکوں اور جحانات کا ساتھ دے دیا ہے اور ہمیشہ عصری ضرورتوں کے پیش نظر فکشن تخلیق کرتے رہے۔جن میں ریاست کی خواتین افسانہ نگار بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ہر دور کا ادب اپنے سماجی ،معاشی اور سیاسی نظام  اوراس سے پیدا ہونے والی مثبت و منفی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔یہ خاصیت ریاست کی معاصر خواتین افسانہ نگاروں کے افسانوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔انھوں نے آج کے مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنا کرمؤثر افسانہ

بڑے لوگ

  ــ’’ماں جو بات غلط ہے وہ غلط ہی کہلائے گی۔  جس طرح کالے کو ہم سفید نہیں کہہ سکتے  ہیں  اسی طرح سفیدکو کالا نہیں کہہ سکتے ہیں‘‘   ــ’’ پر بیٹا  یہ بھی کون سی عقل مندی ہے جو  تم کرنے جا رہے  ہو ‘‘   ’’ ماں مجھ سے یہ سب دیکھا نہیں جاتا  ۔ یہ ظلم ہے نا انصافی  ہے‘‘   ’’ میرے بیٹے تم یہ سب مت سوچ،  ابھی تیرے سوچنے کے دن نہیں ہیں، جب تم بڑے ہو جائوگے تو ہر بات تیری سمجھ میں آ جائے گی، ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔۔۔جا پُتّر پڑھائی کر ۔۔۔۔ جا ـ ‘‘ ماں نے تو مجھے جانے کے لئے کہہ دیا اور میں چُپ چاپ چلا بھی گیا مگر میرا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔۔۔۔ دیکھنے میں تو انسان بہت ہی چھوٹا ہے  اوراس کی سمجھ بھی  بہت

رزلٹ

واٹس ایپ گروپس میں رزلٹ آنے کا زبردست چرچہ تھا اورمحلے میں بھی شور تھا کہ رزلٹ نکل گیا ہے۔رزلٹ کا نام سنتے ہی حمید کے دل ودماغ پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔ اُسے تو اپنا رول نمبر تک یاد نہیں آرہا تھا۔ اور تو اور ایڈمیٹ کارڈ کے علاوہ وہ پرچی بھی نہیں مل رہی تھی جس پر اُس نے یاداشت کے لئے اپنا رول نمبر لکھ رکھا تھا۔ نام سے رزلٹ سرچ کرنے لگا تو ایک لمبی فہرست نکلی۔ کافی تلاش کرنے کے بعد اسے اپنا اور اپنے والد کا نام نظر سے گزرا تو جیسے اُس پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔وہ زور زور سے چیخنے لگا۔ اس کی چیخیں سن کر والدین دوڑتے ہوئے اس کے کمرہ میں داخل ہوئے۔  ’’ کیا ہوا بیٹا، تمہیں کیا ہوا تم خیریت سے تو ہو '' حمید نے سسکیاں بھرتے ہوئے بولا میں بری طرح سے فیل ہو چکا ہوں۔ میں نے تو سارے پرچے خوب سے خوب تر کئے تھے۔ پھر یہ میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟؟۔۔۔۔۔۔! کاش میں نے بھی نقل