تازہ ترین

یہ کس جرم کی سزا ۔۔۔۔ ؟

تھانے سے باہر آتے ہی کرامت علی نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو یہ دیکھ کر دل کو یہ تسلی ہوئی کہ انھیں کسی جان پہچان والے نے تھانے سے باہر آتے ہوئے نہیں دیکھا۔وہ سیدھا قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے تاکہ وہاں بیٹھ کر دم سنبھالے اور چائے کی ایک پیالی بھی پی لیںانھوں نے بیرے کو چائے کا آرڈر دیا۔ اتنی سی دیر میںایک خوبرو نوجوان آ کر بولا۔’’جناب میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔میں آپ کے افسانے پڑھتا رہتا ہوں۔آپ اس دور کے ایک بڑے تخلیق کار ہیںمگر ۔۔۔۔۔ آپ کو تھانے سے نکلتے دیکھ کرمجھے حیرانی ہوئی۔خیریت تو ہے۔‘‘ سن کر کرامت علی من ہی من میں سوچنے لگے۔’’یہ واقعی حیرانی کی بات ہے ہر اس شخص کے ذہن میں ہزار طرح کے خدشات پیدا ہونگے‘مجھ جیسے شخص کو تھانے سے نکلتے ہوئے دیکھے گا۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نوجوان سے بولے۔’’مت پو

ریاست کی معاصر خواتین افسانہ نگار ۔۔۔ایک مختصر جائزہ

بر صغیرمیں ریاست جموں وکشمیر اب اردو کا ایک اہم دبستان بن گیا ہے ۔یہاں بولی جانی والی تمام زبانوں میں اردو کو مرکزیت حاصل ہورہی ہے۔یہاں کے بیشتر قلم کار اپنی اپنی مادری زبانوں کو چھوڑ کر زیادہ تر اسی زبان میں اظہار خیال کررہے ہیں،جس کے نتیجے میں یہاں اُردو ادب کی اس قدر ترویج ہوئی ہے کہ اس دبستان کی ایک الگ جامع تاریخ بن سکتی ہے۔ہمارے فکشن نگاروں  نے شروع سے ہی اردو کی تمام تحریکوں اور جحانات کا ساتھ دے دیا ہے اور ہمیشہ عصری ضرورتوں کے پیش نظر فکشن تخلیق کرتے رہے۔جن میں ریاست کی خواتین افسانہ نگار بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ہر دور کا ادب اپنے سماجی ،معاشی اور سیاسی نظام  اوراس سے پیدا ہونے والی مثبت و منفی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔یہ خاصیت ریاست کی معاصر خواتین افسانہ نگاروں کے افسانوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔انھوں نے آج کے مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنا کرمؤثر افسانہ

بڑے لوگ

  ــ’’ماں جو بات غلط ہے وہ غلط ہی کہلائے گی۔  جس طرح کالے کو ہم سفید نہیں کہہ سکتے  ہیں  اسی طرح سفیدکو کالا نہیں کہہ سکتے ہیں‘‘   ــ’’ پر بیٹا  یہ بھی کون سی عقل مندی ہے جو  تم کرنے جا رہے  ہو ‘‘   ’’ ماں مجھ سے یہ سب دیکھا نہیں جاتا  ۔ یہ ظلم ہے نا انصافی  ہے‘‘   ’’ میرے بیٹے تم یہ سب مت سوچ،  ابھی تیرے سوچنے کے دن نہیں ہیں، جب تم بڑے ہو جائوگے تو ہر بات تیری سمجھ میں آ جائے گی، ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔۔۔جا پُتّر پڑھائی کر ۔۔۔۔ جا ـ ‘‘ ماں نے تو مجھے جانے کے لئے کہہ دیا اور میں چُپ چاپ چلا بھی گیا مگر میرا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔۔۔۔ دیکھنے میں تو انسان بہت ہی چھوٹا ہے  اوراس کی سمجھ بھی  بہت

رزلٹ

واٹس ایپ گروپس میں رزلٹ آنے کا زبردست چرچہ تھا اورمحلے میں بھی شور تھا کہ رزلٹ نکل گیا ہے۔رزلٹ کا نام سنتے ہی حمید کے دل ودماغ پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔ اُسے تو اپنا رول نمبر تک یاد نہیں آرہا تھا۔ اور تو اور ایڈمیٹ کارڈ کے علاوہ وہ پرچی بھی نہیں مل رہی تھی جس پر اُس نے یاداشت کے لئے اپنا رول نمبر لکھ رکھا تھا۔ نام سے رزلٹ سرچ کرنے لگا تو ایک لمبی فہرست نکلی۔ کافی تلاش کرنے کے بعد اسے اپنا اور اپنے والد کا نام نظر سے گزرا تو جیسے اُس پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔وہ زور زور سے چیخنے لگا۔ اس کی چیخیں سن کر والدین دوڑتے ہوئے اس کے کمرہ میں داخل ہوئے۔  ’’ کیا ہوا بیٹا، تمہیں کیا ہوا تم خیریت سے تو ہو '' حمید نے سسکیاں بھرتے ہوئے بولا میں بری طرح سے فیل ہو چکا ہوں۔ میں نے تو سارے پرچے خوب سے خوب تر کئے تھے۔ پھر یہ میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔؟؟۔۔۔۔۔۔! کاش میں نے بھی نقل

افسانچے

علاج   اسٹیٹ اسپتال میں کام کرنے والی سینیر نرس شیلا نے جب گھر آکر اپنی ماں کو کینسر کے شدید درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوا۔۔ماں کی حالت ناقابل برداشت تھی۔ اس کی بیماری لاعلاج تھی اور شیلا کی قوت برداشت جواب دے چکی تھی ۔۔وہ ماں کے قریب گئی اپنے آپ سے کہا۔ اب ایک ہی علاج ہے۔۔ اور ایک جھٹکے سے اس کا لایف اسپورٹ منقطع کردیا۔۔چند لمحوں بعد وہ ماں کا سرد جسم دیکھ کر زور زور سے رونے لگی۔۔ تین دن کے بعد وہ پولیس اسٹیشن چلی گئی اور انسپکٹر سے کہا۔۔۔۔میں نے با ہوش و حواس اپنی ماں کا قتل کیا ہے میں اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے آئی ہوں۔۔۔۔     پاپ   آج اس نے جینز اور ٹی شرٹ کی بجائے ا پنا پسندیدہ خان ڈریس اس لیے پہنا کہ اپنی گرل فرینڈ کو نئے سال کی آمد پر سرپرایز دے۔ اس نے لباس پہنا سر پر سفید گول

اور کہانی ٹوٹ گئی

وہ میری ہی کہانی لکھ رہا تھا۔۔۔ میری کہانی جو اُس نے میری زبانی سُنی تھی! تب میں یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کی طالبہ تھی۔ یونس میرے ساتھ ہی پڑھتا تھا۔ میرا ہم جماعتی تھا، بہت ہی ذہین، خوبصورت اور چالاک۔ ڈپارٹمنٹ کا سارا تدریسی عملہ اُس سے محبت کرتا تھا۔ اُس میں وہ سارے گُن تھے جو ایک حساس جوان میں ہونے چاہئیں۔ ہم دونوں فرصت کے لمحات یونیورسٹی کے لان یا لائیبریری میں اکٹھے بیٹھ کر گزارا کرتے تھے۔ یونس دھیرے دھیرے میرے بارے میں سب کچھ جان گیا اور مجھے سے محبت کرنے لگا۔ ہم دونوں اچھی طرح امتحان میں کامیابی حاصل کرکے یونیورسٹی سے فارغ ہوکر نکلے اور دونوں نے ایک نامی گرامی پرائیویٹ سکول میں بحیثیت ٹیچر جوائن کیا۔ یونس اپنی قلیل آمدن کے باوجود میری مدد کرنے لگا۔ اس طرح کما حقہ مجھے افلاس زدہ زندگی سے چُٹھکارا ملا۔ میرے والدین نے میری چاہت کی لاج رکھ لی اور میری شادی یونس کے ساتھ طے ک

گھٹیا

حسبِ معمول میں گھر سے یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوا۔سومو اسٹینڈ کی طرف چلتا بنا کہ رستے میں میرے بچپن کے  ہم جماعتوں میں سے ایک کی ماں نے مجھے روکا اور کہا ”کہاں جا رہے ہو“۔”اننت ناگ جا رہا ہوں“ میں نے جواب دیا۔انہوں نے بولا آجاؤ یہاں میرے ساتھ بیٹھو۔میں نے پوچھا ”آپ کو کہاں جانا ہے“۔انہوں نے جواب دیا کہ ”مجھے سرینگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے“۔یہ سن کر مجھے لگا کہ یہ گاڑی کا انتظار کر رہی ہیں اور اب چاہتی ہیں کہ دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار ہوجائیں گے۔جب مجھے یہ لگا تو میرے دماغ میں کئی طرح کے خیالات رونما ہوئے۔میں اندر ہی اندر خود سے کہنے لگا اب مجھے اس کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔ اس کے روپیہ اور اپنے تیس روپے مطلب مجھے ساٹھ روپیہ دینا ہے ۔۔۔۔خدایا رحم۔ میں اسی سوچ میں محو تھا اور اب تک کوئی گاڑی نہیں آئی تھی کہ اچانک ایک K-10گاڑی ہم

یکرنگی افسانچے

٭ نہیں میرے بابا! میں نے لاکھ کوشش کی کہ خود کو اس سے چھڑا سکوں لیکن کامیاب نہ ہوئی۔ میرے بابا مجھے معاف کرنا۔ ٭  نہیں میرے بابا! میں اسکول وردی ہی میں ملبوس تھی۔ وہ کل پانچ تھے، چار کو تو میں نہیں جانتی، پانچواں میرا اپنا کزن تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ آپ نے اس کی زمین ہڑپ کی ہے اس لیے…… ٭  اس نے کہا میرے ساتھ گھر آجائو میں نوٹس دے دوں گا تاکہ میں امتحان میں اول آسکوں… نہیں نہیں اُس نے مجھے جُوس پلایا اور پھر مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ ٭  بابا مجھے معاف کرنا، میری وجہ سے آپ کا سر نیچا ہوگیا۔ بابا مجھے معلوم نہیں تھا کہ واش روم میں کسی نے کیمرہ لگارکھا ہے۔ ٭  بابا! آپ بیمار تھے۔ دو دن سے بھیڑوں نے بھی کچھ کھایا نہیں تھا اس لیے میں ان کو جنگل لے گئی۔ نہیں بابا شیر، چیتا، بھالو اور بھیڑیئے نے کچھ نہیں کیا البتہ انسانوں کی شکل کے تین بھ

چاند اوربادل

’’اے۔۔۔۔۔۔ تم نے یہ پھول کیوں توڑا ؟‘‘ مسکان نے احتشام کو ڈانٹتے ہوئے کہا ۔احتشام نے مسکان کی ڈانٹ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دلیر ہو کردوسرا پھول توڑاجس پر مسکان کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنے نازک ہاتھ سے احتشام کے گال پر تھپڑ رسید کر دیا ۔تھپڑ کھا کر احتشام نے آگ بگولہ ہوکر ایک ہاتھ سے مسکان کے بالوں کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے بے تحاشا مارناشروع کیا۔مسکان اپنے آپ کواس کے چنگل سے آزاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے زور زور سے رونے لگی۔اسی کشمکش میں مسکان کی آنکھ کھلی اور وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی،اس کی سانسیں تیز تیز چل رہیں تھیں،اس نے اپنے آپ کو سنبھا لا اور سرہانے رکھے پانی کے گلاس سے چند گھونٹ حلق سے اتارے، جس دوران اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان نمو دار ہوئی اور پورے وجود میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ’’ اوفو میرے خدا ۔۔۔۔۔۔ پھر وہی خواب۔۔

افسانچے

’’ دہشت گرد‘‘ جب انھوں نے حامد کی تلاشی لی توحامد کی جیب سے اسکول کا شناختی کاڑ ،کچھ پیسے اور موبائیل فون نکلا۔ وہ تو بس حامد کو پیٹنے کا بہانہ تلاش کر رہے تھے،اس لئے موبائیل فون ہاتھ میں لیتے ہی انھوں نے حامد سے فون کا پا س ور ڑ مانگا۔ حامد نے بڑے ہی ادب سے کہا کہ کون سا قانون یہ حق دیتا ہے کہ آپ کسی کا فون اس کی مرضی کے بغیر ۔۔۔۔‘‘حامد نے ابھی اپنی بات پوری بھی نہ کی تھی کہ انھوں نے حامد کے نورانی چہرے پر دو چار تھپڑ رسید کر کے کہا ’’سالے! تو پاس ورڑدیتا ہے یا تجھے دہشت گرد نام دے کر تیرا کام یہیں پر تمام کر دیں ‘‘۔   ’’مہندی‘‘ نازیہ ایک پیالی میں مہندی لے کر انتظار کر رہی تھی کہ کب اُس کا بھائی آئے گا۔یہ مہندی شاکر نے عرب سے خاص اپنی شادی کے لئے منگوائی تھی اوراپنی بہن نازیہ کو

تنزیلِِ تمناء

 ’’یار۔۔اس سال کیوں نہ ہم سردیوں کی چھٹیوں میں دس دن کے لیے ریاست سے باہر کہیں گھومنے چلے جائیں ۔بولو تم دونوں کی کیا رائے ہے؟‘‘ بھگوان داس نے پی جی کالج کی کنٹین کے باہر لان میں چائے کی چُسکی لیتے ہوئے اپنے دوست اور ہم پیشہ ساتھیوں نیک محمد اور تیترسنگھ سے پوچھا۔ نیک محمد نے جواب دیا۔ ’’یار!  تیرا خیال اچھا ہے ۔بناو پروگرام تینوں چلتے ہیں دس دن کے لیے ۔ہمارا کالج تو ڈیڑھ ماہ کے لیے بند رہے گا‘‘   تیتر سنگھ نے بھی حامی بھرلی۔اس نے پوچھا’’لیکن جائیں گے کہاں؟‘‘ بھگوان داس بولا ’’میرادل چاہتا ہے ہماچل گھوم آئیں‘‘ نیک محمد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’نہیں یار۔۔ہماچل میں بہت زیادہ ٹھنڈ ہوتی ہے ‘‘ تیتر سنگھ نے کہا ’&rs

آنسو محبت کے!

وہ دونوں ایک ہی کالج میں زیرتعلیم تھے۔چونکہ ایک ہی محلے میں بھی رہتے تھے ۔اس لیے اکثراکھٹے کالج کیلئے نکلتے بھی تھے۔ ظاہرہے کبھی کبھی ایک دوسرے سے بات چیت بھی ہوتی تھی۔ یوں انکو ایک دوسرے کوسمجھنے میں بھی آسانی ہوئی۔انکے آپسی تعلقات آہستہ آہستہ بڑھتے بڑھتے دوستی تک پہونچ کر شادی پراختتام پذیرہوئے۔ قریباً دوسال تک انکی آپس میں بہت اچھی طرح نبھتی رہی ۔مگرمحلہ کی ایک منافقہ خاتون کے انکے گھراکثرآنے جانے سے مداخلت ہونے لگی۔ یہ مداخلت انکی ازدواجی زندگی میں خلل انداز ہونے لگی، جس سے رشتوں میں کھٹاس پیداہونے لگی۔کیونکہ وہ کبھی جہیزکے متعلق بات اٹھاتی کہ بہونے جہیزمیں کیا کیا لایاتھا۔کبھی بہوکے پکائے ہوئے کھانے میں نقص نکالتی اورکبھی اسکی پڑھائی کابکھیڑاکھڑاکرتی ۔کبھی تووہ بہوکی ملازمت اوراسکی تنخواہ کامسئلہ اٹھاتی۔اورتواور وہ یہ بھی دریافت کرتی کہ بہوکب صبح جاگتی ہے ۔ناشتہ کون بنات

نیا آدمی

زندگی ایک عذاب بن کر رہ گئی ۔  پریشانیاں دن بہ دن گھٹتی نہیں بلکہ بڑھتی جارہی ہیں ۔  مگر اب شاید خوشیاں …………  کُسم دیوی اپنی پڑو سن نر ملا کو اپنا دکھڑا سُنا رہی تھی ۔  ان کا جب ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا تو اُن ہی دنوں میں نے اُن سے منّت سماجت کی اور خود کا اور بچوں کا واسطہ دیکر کہا کہ وہ ان بیکار اور خوامخواہ کے جھمیلوں میں نہ پڑا کریں اور اُن سے وعدہ بھی لینا چاہا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا ’’کوشش کروں گا وعدہ نہیں کر سکتا‘‘ ۔ پر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے ۔  چند مہینے پہلے کی بات ہے ہمیں ہمارے نانک پور کے رشتہ داروں نے شادی میں بلایا ۔ میں نے انہیں جانے کے لئے راضی کر لیا ۔ جس دن ہم نانک پور شادی میں جانے کے لئے نکل پڑے ، اس دن میں اور بچے بہت خوش تھے ، موسم بھی خوشگوار تھا

ِشنا زبان کا گرائمر۔۔۔ ایک تجزیہ

مسعود الحسن سامون صاحب شنا زبان کے ایک منجھے ہوئے قلم کار ہیں۔ ایک ایسے قلم کار جو دل سے لکھتے ہیں۔ مسعود صاحب نے شنا زبان کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ شنا زبان کے لیے ایک مناسب رسم الخط عطا کر کے اس زبان کو سجاسنوار کر دُنیا کے سامنے پیش کرنے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔اُنہوں نے ’’شنا زبان رسم الخط اور صوتی نظام‘‘ نامی کتاب لکھ کر شنا زبان کے لیے ایک مناسب رسم الخط فراہم کیا اور ساتھ ہی ساتھ شنا زبان کے صوتی نظام پہ مفصل تحقیقی کام کر کے اس زبان میں لکھنے کے اُصول و ضوابط مرتب کیے۔ سامون صاحب یہی پہ نہیں رُکے بلکہ شنا زبان کو جموں کشمیر کے اسکولوں میں لاگو کرانے میں اہم رول نبھایا۔ حال ہی میں آنہوں نے شیخ سعدی شیرازی کی سہی آفاق تصنیف گلستان سعدی کا شنا ترجمہ کر کے شنا ادب کے سرمائے میں ایک خوبصورت کا اضافہ کیا۔ جہاںشنا زبان کو

افسانچے

ناممکن خواجہ ناظم الدین پشاوری کشمیر کے دولت مندوں میں شمار ہوتا تھا اس کے پانچ بیٹے اس کا کاروبار سنبھالے ہوئے تھے  وہ سب عدیم الفرصت تھے۔وہ کبھی کبھار باپ سے ملتے تھے۔ خواجہ صاحب ایک اعصابی بیماری میں مبتلا تھے ان کی بینائی پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے وہ قیمتی سے قیمتی عینک لگا کر بھی کچھ نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اخبار پڑھنا ان کا شوق تھا، ان کا نشہ تھا۔ اخبار پڑھے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے، خاص کر اپنے پسندیدہ اخبار وطن کا مطالعہ کیے بغیر وہ جی نہیں سکتے تھے۔۔۔ان کے بیٹے یہ بات اچھی طرح جانتے تھے اس لیے ان کے سب سے بڑے بیٹے نے ان کے لیے ایک اردو جاننے والے استاد کا انتظام کیا تھا۔احمد علی نامی تیس سالہ شخص صبح آٹھ بجے آتا اور خواجہ صاحب کے سامنے ادب سے بیٹھ کر پہلے صفحہ سے آخری صفحہ تک کی ساری خبریں پڑھتا اور خواجہ صاحب آنکھیں بند کرکے کانوں کو کھلا چھوڑ کے ساری خبریں

منافق

  پیٹرسن سیدھا کنٹین میں پہنچا اپنی مخصوص ٹیبل کی طرف دیکھا۔ اس کے سارے دوست وہاں بیٹھے تھے۔ بھاپ اُڑا رہی چائے ان کے سامنے رکھی تھی۔ آج کسی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے ۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا دوستوں کی طرف بڑھتاگیا۔ آج اسے دیکھ کے کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ کسی نے اسے خوش آمدید بھی نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ سبھی اس کی طرف غمگین نگاہوں سے دیکھ رہے تھے لیکن کوئی کچھ بولا نہیں تھا۔ راکا نے چائے کی کیتلی اس کی طرف بڑھائی ۔ اس نے کیتلی اٹھا کر اپنے لئے چائے بنا ئی۔ جیب سے شوگر فری ٹکی نکالی اور اپنے کپ میں ڈال دی ۔ سبھی خاموش تھے۔ سر جھکائے ۔ کوئی آہستہ آہستہ چائے کی چسکی لے رہاتھا تو کوئی کپ پر نظریں گاڑھے بیٹھا تھا۔ آخر پیٹرسن نے کھنکار کر سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ سبھی دوست حیرانی سے اس کے چہرے کو تکنے لگے۔ لیکن سبھی کے 

عمل

موسم کے بدلتے ہی زندگی کے رنگ بدل جاتے ہیں۔ ہر گھر کا طریقہ اور ترتیب بدل جاتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں اور کھانے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔ بہار کے آتے ہی گرم کپڑوں کی جگہ ہلکے اور کاٹن کے کپڑے لے لیتے ہیں۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے پردے بدل جاتے ہیں۔ کمروں کے دیواروں کا رنگ اور فرش بدل جاتا ہے۔ پالیتھین سے ڈھکی چھپی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ لیکن عمل کے گھر کا موسم اور ترتیب کبھی نہ بدلی۔ کیونکہ گھر میں کسی ایک کی تکلیف پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔  کچی اینٹوں کے دو کمرے، تنگ تاریک غسل خانہ، چھوٹی سی رسوئی اور سُونا سُونا مختصر سا صحن۔ گھر کی بوسیدہ کھڑکیاں اور دروازے، بے جان اور بے رنگ دیواریں، پرانا بستر اور کمبل، بوسیدہ چٹائیاں، اسی ماحول میں عمل نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ لیکن عمل کو اپنا یہ گھر کسی کشادہ حویلی سے  کم نہ لگتا تھا۔ عمل اس گھر میں اپنے بہن بھائی اور والدین کے

! لوٹ آیا ہوں ساتھ نبھانے کیلئے

 ناصر کاظمی مرحوم کا ایک مشہور شعر ہے۔ میں نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیر ا نام لکھا تھا اُن کی روح سے معذ رت کے ساتھ، میں نے اس شعر کے ساتھ تھوڑی سی چھیڑ خانی کی ہے، عرض کیا ہے۔ میں نے جب لکھنا سیکھا تھا  پہلے اُرد و میں لکھا تھا جی ہاں، اُردومیرا پہلا عشق ہے۔ لیکن خیال رہے کہ مجھے اُردو زبان میں مہارت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ رسمی طور دیکھا جائے تو اُردو سے میری جان پہچان پہلی جماعت سے لے کر فقط آٹھویں جماعت تک ہی رہی ہے۔ ـیعنی ’ایک پہاڑ اور ایک گلہری‘ سے لے کر ’گائے ایک پالتو جانور ہے‘ تک۔ لیکن اس زبان کی چاشنی نے کچھ ایسا جادو کردیا کہ بغیر کسی رہبر یا اُستاد کے اُردو ادب کی بھول بھلیوں میںکھو گیا ۔ بس پھر کیا تھا۔ بقول فیاض دلبر اُترا جو سیڑھیاں تو اُترتا چلا گیا اُس باولی کا دل بھی کسی باولی سا تھا لیکن پھر انگریزی

سوداگر

    بابو مانک رام پیشے سے نیتا تھا اور نیتا گری سے ہی اسکی پہچان تھی ۔ علاقے کے لوگ اسے جب کبھی بھی چائے پانی آفر کرتے تو صرف اسکے نیتا ہونے کی بدولت۔ گویا کہ اسکی تمام تر شہرت ہی اسلئے تھی کیونکہ وہ ایک پیشہ ور نیتا تھا ۔مانک رام نے اپنی زندگی کا آدھا عرصہ اسی پیشے میں صرف کیا تھا ۔وہ اکثر اپنے انتخابی حلقہ کا دورہ کیا کرتا ۔عوام کا حال پوچھنا، انکی پریشانیوں سے روبرو ہوتا اور در پیش مسائل کو جاننا، یہیں تک محدود تھی بابو کی نیتا گری ۔ علاقے کے لوگوں کی ہر ہر پریشانی سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اس نے اپنے حلقہ میں نہ تو کوئی سڑک بنوائی نہ کوئی ہسپتال اور نہ ہی اسکول بنوایا۔اتنا ہی نہیں لوگوں کی اولین ضروریات کو بھی طاق پر رکھتے ہوئے بڑی آسانی سے ۱۴ سال مکمل کر لئے ،پر لوگ پھر بھی اپنے ہر دلعزیز نیتا کی شان میں قصیدے پڑھنے کا کوئی موقع نہیں گنواتے ۔   مانک رام کے

ٹھنڈی چھائوں

  انسپکٹر راشد شام کو جب گھر پہنچا تو احسان کو گم سُم ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا ۔اس نے بغیر کچھ پوچھے نہ صرف اس کو ڈانٹنا شروع کردیا بلکہ اس کے معصوم گالوں پر کئی زنا ٹے دار چانٹے ایسے رسید کئے جیسے کسی مجرم سے پوچھ تاچھ کرتا ہو۔مار کھاتے ہوئے احسان ،جس کے گال کشمیری سیب کی طرح سرخ ہوگئے ،کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے اور وہ ممی ممی پکارتا رہا لیکن ممی ، جو اس کے چھوٹے بھائی کو گود میں لئے پیار سے کھانا کھلا رہی تھی ،کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ احسان کی پٹائی کرنے کے بعد جب راشد اپنے کمرے میں داخل ہوگیا تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی۔ ’’ میں احسان بیٹے کے لئے سخت پریشان ہوں ۔یہ کسی کی ایک بھی نہیں سنتا ہے ۔اپنی ہی من مانی کرتا ہے اور دن بدن بگڑتا ہی جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔   اس نے فکر مند لہجے میں راشد کا کوٹ