نعت

سبھی کے ہیں شہہِ لولاکؐ مبارک جن کا نامِ پاکؐ   بشارت خیر کی لا ئے محمدؐ شانِ اللہ پاک   فرشتے حیرتوں میں گُم بشر کر پائے کیا ادراک   صداقت اور شجاعت میں نہ کوئی آپؐ سا بے باک   ہوئے سر خم اِسی  در پر یہیں پر چشم کرنمناک    مشتاق مہدیؔ مدینہ کالونی۔مَلہ باغ۔سرینگر موبائل نمبر؛9419072053  

کورونا وائرس

نظم کچھ دن تم نہ باہر جانا ،میرے دادُو، میرے نانا۔ جاؤ بھی تو خالی آنا، بُھولے سے نہ کرونا لانا۔ کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ اور پاؤں دھوتے رہنا دُھوپ میں اکثر سوتے رہنا دُور سے ہی اب ہاتھ ہلانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابوّ امّی بھی گھر بیٹھیں ،سوچیں،سوچیں خُوب وہ سوچیں، کیسے گھر کو خُوب چلانا، کچھ دن تم نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کروناکیسی تو بیماری؟ ہر گھر میں ہے دہشت طاری تجھ کو ہم نے دُور بھگانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھول گئے ہیں پڑھنا لکھنا بھول گئے یاروں سے ملنا یاد آتا ہے دور پرانا کچھ دن تم نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسملؔ آؤ رب کو منائیں دل کی دنیا خوب سجایئں سچّا تو بس ایک ٹھکانا کچھ دن تم نہ باہر جانا۔ میرے دادوُ میرے نانا۔   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی راجوری&nb

راہِ نجات

یہ عذاب تُم پہ کیسا  مُجھے آج تو بتا دے تیرے روز و شب ہیں کیسے ذرا آج تو دِکھادے تیری جُستجو ہے گر یہ کہ عذاب ٹل کے جائے تو  خُدا کے در پہ آکے ذرا اپنا سر جُھکا دے  کبھی چھو نہ پاسکیںگی تُجھے اَن سُنی بلائیں  دل آشنائے احمد ؐ صبح و مسا کر ادے   تُجھے راحت و سُکوں کی مل جائیں گی بہاریں یہ نحیف رشتہ رب سے مضبوط تر بنادے تیرے دل کی یہ دُعائیں کبھی رد نہ ہوسکیں گی  اخلاص و عا جزی سے ذرا ہاتھ تو اُٹھادے  تو سہم گیا ہے کیونکر، تُجھے خوف ہے یہ کیسا شب غم میں روحِ مجروح کو قرآن تو سنادے کوئی بچ نہیں سکا ہے، کوئی بچ نہیں سکے گا   مانگ اپنے رب سے آجا ، مولا مُجھے بچادے    گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛6006081653

کرونا

ابن آدم بے آداب ہے کرونا خُدا کا عذاب ہے بہتر ہے کہ تُو راہِ خدا اپنالے ورنہ مصیبت تو بے حساب ہے   دِل کی نہ ماحول کی صفائی بندے کے لئے بند قصائی پھر آمدِ کرونا پہ شور کیسا یہ فقط اپنے ہاتھوں کی کمائی   عدُو چھوڑ، عداوت چھوڑ فطرت سے بغاوت چھوڑ عذابِ کرونا توٹل سکتا ہے نفس چھوڑ، نفس کی حمایت چھوڑ   بارُود کی بدبو بے نام کردے انساں کو میسر انسانیت کا جام کردے طوفانِ کرونا تو کچھ بھی نہیں تو محبت کی خوشبو عام کردے    موبائل نمبر؛9419166320  

اِک دُعا

مجھ کو یارب تُو شوقِ سفر بخش دے صبر الجھی ہوئی راہ پر بخش دے پَر کٹا ایک شاہین ہوں اے خدا پھر سے یا رب مجھے بال و پَر بخش دے جو تڑپتا رہے صرف تیرے لئے مجھ کو یا رب وہ قلب و جگر بخش دے عرش اور فرش کو جو ہلا کر رکھے مجھ کو یارب وہ آہِ سحر بخش دے میری آنکھوں کے دریا میں جو سیپ ہیں ہیں وہ خالی تُو ان کو گہر بخش دے جو چلے تو دلوں سے گذر کر چلے مجھ کو یارب وہ تیرِ نظر بخش دے ان میں آئے جو پتھر تو ہیرا بنے میرے ہاتھوں کو ایسا ہنر بخش دے غیر کے آگے جو جُھک نہ پائے کبھی یا الٰہی مجھے ایسا سر بخش دے ڈر سکوں نہ کسی سے میں تیرے سوا لا تخف بخش دے, لا تذر بخش دے جو لُٹاؤں تو بس تیرے ہی دین پر مجھ کو یارب تُو وہ مال و زر بخش دے محنتیں میری نہ ہوں کبھی رائیگاں محنتوں کا الٰہی ثمر بخش دے جو بدل دے حِجازی ؔ 

نعت

حُرمتِ نعت کی نغمگی آپؐ ہیں غنچۂ فکر کی تازگی آپؐ ہیں   ’ضامنِ شافیِ اُمتی آپؐ ہیں‘ محشری ہم ہیں تو کوثری آپؐ ہیں   چاندنی کی قسم روشنی آپؐ ہیں ان ستاروں کی بھی دلکشی آپؐ ہیں   بات قرآن ہے قولِ فرقان ہے دین و ایمان کی تازگی آپؐ ہیں   مصطفائی کی آمد مبارک ہمیں ایک اک اُمتی کی خوشی آپؐ ہیں   ہوگیا ختم پیغامِ حق آپؐ پر یا محمدؐ نبی آخری آپؐ ہیں   عشق کیا، فکر کیا، ذکرکیا، شوق کیا ساعتِ نور کی آگہی آپؐ ہیں   اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹ، سرینگر موبائل نمبر؛7780806455

بارگاہِ خُداوندی میں

بخش دے ساری خطائیں سُن لے میری اِلتجا مانگتا تجھ سے دُعا ہے ایک دل ٹوٹا ہوا ہر طرف مایوس ہوکر آیا ہوں تیرے حضور اب تیرا در چھوڑ کر جائے کہاں بندہ تیرا رشتے ناتے، دوستی بے کار سب ثابت ہوئے سب سے بڑھ کر میرے مالک ہے تیرا ہی آسرا کس میں ہے طاقت کرے جو دُور میری مشکلیں بن نہیں سکتا کوئی آدم کبھی مشکل کُشا میری اُمیدیں تو غیروں سے ہی وابستہ رہیں ورنہ ہر نعمت مجھے، تُو نے ہی کردی تھی عطا عرض اتنی سی ہے یارب، وہ گھڑی آسان ہو جب فرشتہ موت کا ہوگا میرے سر پر کھڑا اندھا بنا کر روز محشر میں اُٹھانا تم مجھے منہ دکھائوں کیا میں ہوگا سامنے جب مصطفیٰ ؐ ہے یہ اپنی آخری خواہش میری یوں موت ہو نام ہونٹوں پر ہو تیرا، سر ہو سجدے میں میرا   اے مجیدوانی احمد نگر، سرینگر موبائل نمبر؛9697334305

کشمیر سے آنے والے بتا

 کشمیر سے آنے والے بتا   کیسا ہے میرا پیارا چمن   کیا اب بھی وہاں پر رِستے اور کباب بنائے جاتے ہیں   کیا اب بھی وہاں پر گُشتاب اور پلاؤکھلائے جاتے ہیں   کیا اب بھی وہاں پر قہوہ  اور  نُن چائے پلائی جاتی ہے   کیا اب بھی وہاں پر تندوری مرغے ہی کھلائے جاتے ہیں        کشمیر سے آنے والے بتا      کیسا ہے میرا پیارا چمن کیا اب بھی وہاں پر سلما  اور گلابو ناچاکرتی ہیں   کیا ان کی جوانی اب بھی وہاں پر فتنہ برپا کرتی ہیں   کیا اب بھی وہاں پردادی جاں’قصابہ‘ لگایاکرتی ہیں   کیا پیروجواں کے سر پر اب بھی ٹوپی سجا ئی ہوتی ہے      کشمیرسے آنے والے بتا     کیسا ہے میرا پیارا چمن

مُناجات

یہ ترا کرم ہے جس نے مری کیفیت سنواری   مجھے ورنہ مار دیتی مرے دل کی بےقراری ترے عفو اور کرم میں مری معصیت شعاری   تر ے سامنے ہو اس پر مجھے کیوں نہ شرمساری یہ گناہ وجُرم وعصیاں جو ہے اس جہاں میںجاری   تُو اگر نہ بخش دیگا یہ پڑیگا ہم کو بھاری تری بارگاہِ عالی میں نہ کیوں ہوں میں پشیماں   کہ خطاء و جرم میں ہے میں نے زندگی گزاری تری بارگاہ میں اب میں ہوں سربسجدہ یا رب   ترے قہر سے ہوں لرزاں کہ ہے خوف مجھ پہ طاری وہ جو اولیاء تھے تیرے، ہوئے نفس سے جُدا تھے   کہ نہیں ہے وہ مُوّحِد جو ہے نفس کا پُجاری ترے قہر پر تو غالب ہے ازل سے تیری رحمت   کہ طفیل اسکے بچتی ہے یہ زندگی ہماری کیا میرے غم کا درماں، کیاہے درد کامداوا   ہے ترا کرم وہ یارب ،ہے تری وہ غمگساری مرے

نظمیں

خوبصورت خوبصورت پل جینے والو  کسی کے پل بد صورت تو نہیں کئے ۔ زندگی کا سہانا سفر اپنے ہی کرموں سے  بدل بھی تو سکتا ہے۔ یہ زندگی کی سہانی کہانی غموں کا افسانہ بھی تو بن سکتا ہے ۔ کسی کے ساتھ بتائے روحانی پل کسی کو جا گلے لگایا  کسی کی روح سے روح ملائی پیار کی رسم جاکے کہیں نبھائی تمہارے خون کی روانی  ادھوری ہے کہانی   جسپال کور نئی دہلی،  موبائل نمبر؛9891861497     نظم  مہیب سائے  لڑ کھڑائے تھک گئے آخر وائے وحشت زذدہ کالی رات بوڑھی سو گئی اب چین سے۔۔۔۔۔   ویرانیوں کے موسم ٹھٹھرتے سکُڑتے بدل جائیں گے اک صبح روشن ہو گی پرندے چہچائیں گے اپنے گھروں میں پھول کھلیں گے  خشبوئیںمہکیں گی چار سو اُم

قطعات

چَھنتے ہیںنظریات یہاں اَبلہی میں بیش آتی جو یہاں مکروفن کی خواجگی ہے پیش آوارگی خوشبو کی اگر بھانپ نہ لیتے مسموم ہونے کے لئے کافی تھا ایک نیش      کیسے کیسے چھارہے ہیں ہفت اِقلیمی مزاج جو کہ کمزوروںپہ کرتے ہیں زبردستی کا راج احمقانہ رائے اپنی ٹھونستے رہتے ہیں آج چھینتے ہیں ہر کسی سے غیرتِ دِینی کا تاج     آشفتگی کا روگ پالا نہیں جاتا آمادگی کا یوگ، ٹالا نہیں جاتا کب تک منائیں سوگ، احساس کے بنا کہتے ہیں دانا لوگ، ہالہ نہیں جاتا     ہوتا ہے تصور سدا تصویر سے اچھا ہوتا سُہانا خواب ہے تعبیر سے اچھا لگتی نہیں نظر ہے تصور یا خواب کو ایسا خیال کیوں نہ ہو اِکسیر سے اچھا   ڈاکٹر میر حسام الدین  گاندربل کشمیر،  

نظمیں

تقدیر زَمن موجود ابھی کچھ ہے تاثیر زمانے میں پیدا تو کہیں ہوگا کوئی میرؔ زمانے میں کیا عرشؔ و امیںؔ، ہمدمؔ اُستادِ سُخن ٹھہرے کیا اُن کو کریں غالبؔ تشہیر زمانے میں ناخواندہ صفت قاری دیں دادِ سُخن اُن کو یہ دیکھ کے ہیں خواندہ دِلگیر زمانے میں کُچھ پاسِ ادب کر لو کچھ دورِ ولیؔ جانو دیدے ہے ابھی جس کی تصویر زمانے میں موجود ہندؔ میں ہیں شعر و سُخن کے رانجھے  اُردو ہے زباں جن کی اِک ہیرؔ زمانے میں کرتے ہیں ابھی کچھ کچھ شعروں کی حِنا بندی بیٹھے ہیں ابھی کچھ کچھ بے پیر زمانے میں بسملؔ کے ترانوں کی یہ دین ہے آزادی واپس جو ملی ہم کو جاگیر زمانے میں ہم لوگ ہیں وابستہ اُس خِطّۂ مشرق سے کہتا ہے جِسے عالم کشمیر زمانے میں نشاطؔ گرامی سے یہ فیض مِلا عشاقؔ شعر و سخن ہی ٹھہری تقدیر زمانے میں   عُشّاق ؔکِشتواڑی

نظمیں

کبھی سوچا نہ تھا  تو اس طرح،  زندگی سے  چلا جائیگا ، کبھی سوچا نہ تھا - تو وعدہ وفا  نہیں کر پائیگا ، کبھی سوچا نہ تھا - ہم بھی خزاؤں سے  پو چھیں گے ہر دن  بہار تھی کیا کبھی  آپ پر - وہ دے کر دغا  چلا جائیگا  کبھی سوچا نہ تھا - زخم دینے سے پہلے ، بتاتا اگر ،  سنبھل گئے ہوتے - ساتھ میرے قدم نہیں ، چل پائیگا ، کبھی سوچا نہ تھا۔   جسپال جسّی بٹھنڈہ، پنجاب،08837531967     نظم   سُنا ہے ایک بستی ہے حقیقت میں جو جنت ہے جہاں چڑیاں چہکتی ہیں جہاں کلیاں مہکتی ہیں جہاں دل شاد ہوتا ہے جہاں پانی کے جھرنے ہیں چمکتی پانی کی بوندیں حسین اک رقص کرتی ہیں برف کی چوٹیاں ہر سُو چمکتی مثلِ

کاروانِ حرم

سُن کے بانگِ درا، جھوم اُٹھّی صبا، سوئے منزل چلا، کاروانِ حرم دھیمے دھیمے سے تکبیر کے ساز پر، وقت نے چھیڑ دی داستانِ حرم   چشمِ احباب سے، اشک بہنے لگے، پھر اشاروں میں حسرت سے کہنے لگے  طَوفِ بَیتِ خُدا، دیدِ قبرِ نبی، ہو مُبارک تمھیں زائرانِ حرم   شہر کی رونقوں میں بڑھی دلکشی، راہ کی گرد اُڑ اُڑ کے کہنے لگی  مرحبا مرحبا آفریں آفریں، آگئے آگئے میہمانِ حرم     یا تو یہ رب کی تسبیح و تہلیل ہے، یا صدا ئے مُناجاتِ جبریل ہے  دل کی آواز پر، عشق کے ساز پر، چہچہانے لگے طائرانِ حرم   اب کہیں پہ موافق زمانہ نہیں، ہے کڑی دھوپ کوئی ٹھکانا نہیں  کاش سایہ رہے سب پہ چھایا رہے، بن کے رحمت نشاں سائبانِ حرم   ڈاکٹر سید شیبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ ، سرینگر،موبائل نمبر؛7780937020

نظمیں

صبح دم ہواکیا ستم ڈھا رہی تھی بہت مضطرب سی ہوا چل رہی تھی طُرہ اِس پہ سحری میں شب ڈھل رہی تھی تمازت ہوائوں میں وقتِ سحر تھی گھٹی بُوئے سوسن یہ بتلا رہی تھی سُنا ہم نے بے چین تھی رات ساری فراقِ سحر میں یہ کُملارہی تھی فلک پر بہت نیم روشن تھے اختر فریبِ ضیاء چاندنی کھا رہی تھی سمندر میں جوں ایک طوفاں بپا تھا ہر اک لہر مستی میں اِٹھلا رہی تھی شجر غم زدہ سر جھکائے کھڑے تھے نہ بیلا کہیں کوئی بل کھا رہی تھی یہ کیا وقتِ ناقص تھا ہاوی جگر پر کہ سانسوں میں بوئے کباب آ رہی تھی عجب دل شکستہ یہ منظر تھا عُشاقؔ صبح دم ہوا کیا ستم ڈھا رہی تھی   عُشاقؔ کشتواڑی صدر انجمن ترقی اُردو (ھند)شاخ کشتواڑ  موبائل نمبر؛9697524469     مسیحا   کبھی فرصت ملے تو آنا بس دو لمحوں کے لئے

مناجات

مرے مولیٰ تری بخشش کا طلبگار ہوں میں تری رحمت کا سہارا ہے گنہگار ہوں میں نام لیوا ہوں ترا اور مری حالت یہ ہے سب کے ہاتھوں میں ہیں پتھر سرِ بازار ہوں میں تیرا ہی فضل و کرم ہو تو کوئی بات بنے نامۂ اعمال نہ دیکھو کہ سیاہ کار ہوں میں میری تخلیق میں آدم کی ہے مٹی شامل نسبتیں ملتی ہیں جنّت کا تو حقدار ہوں میں تُو نے ہر دور میں مومن کی حفاظت کی ہے کوئی مُنکر تو نہیں تیرا طرفدار ہوں میں ایک گُمگشتہ مسافر ہوں راہِ منزل کا میرے آگے ہے زمانہ پسِ دیوار ہوں میں میری جانب بھی تو اک نظرِ کرم ہو یا رب کتنا رنجور ہوں شرمندہ و لاچار ہوں میں یہ بھی کیا طرزِ محبت ہے کہ محبوب بھی ایک تُو کہیں مُجھ میں ہے پنہاں ترا دیدار ہوں میں مجھکو درپیش ہے دُنیا میں ہی محشر جاویدؔ سر بھی اُٹھتا نہیں مُجھ سے کہ شرمسار ہوں میں   سردار جاوی

ماب لِنچِنگ

(سانیٹ ) ماب لِنچِنگ کی یہ خبریں آئے دِن جو آتی ہیں ذہن و دِل کو رات دِن رنجُور کرتی رہتی ہیں زِندگی کے آئینے کو چُور کرتی رہتی ہیں چِھین لے جاتی ہیں خوشیاں رنج و غم دے جاتی ہیں   آئینۂ قومی یکجہتی پہ پڑ جاتی ہے خاک نام پر مریادا پُرش اُتّم کے یہ ظُلم و سِتم کالے کالے حرفوں میں تاریخ میں ہونگے رقم آہ ! مُلک و قوم کے حالات ہیں تشویش ناک   بے خبر ہیں رام جی کے وصف اور کِردار سے نفرت و بُغض و تعصُّب کا لگا ہے جِنکو روگ ماب لِنچِنگ میں مولوِّث ذہن و دِل کے کالے لوگ ہو رہے ہیں زعم میں تعداد کے خُونخوار سے   جاں بَلب سونے کی چِڑیا کو جو کرتا رہتا ہے اے نیازؔ اِک جُھنڈ یہ خارِش زدہ کُتّوں کا ہے    ۶۷؍  جالندھری  ،  اعظم گڑھ  ۔  ۲۷۶۰۰۱   (یُو۔پی۔)&nb

نظمیں

خلش چلو مانا کہ آساں ہے کسی کو بھول کر جینا چلو مانا کہ  اچھا ہے کسی کے بن  میرا جانا چلو مانا کہ بہتر ہے اکیلا پن، اکیلا من چلو مانا کہ لوگوں کو نظر انداز ہے کرنا چلو مانا کہ اچھی ہے کسی حد تک یہ دنیا بھی مگر مجھ کو فقط اتنا بتا دے ناصح پھر بھی کہ جب ہم چھوڑ کر ماضی کا سب کچھ بھول جاتے ہیں بہت آگے کو بڑھتے ہیں بہت ہی دور جاتے ہیں  چمن میں پھول کھلتے ہیں تو گُل بھی مسکراتے ہیں گزر جاتی ہے پھر خوشیوں میں اپنی زندگی پیہم مگر جب بھی اچانک سے کبھی ہو سامنا اس کا یا پھر یادوں کے کچھ اوراق بھی اپنے پلٹ جائیں  دریچے جو ہیں ماضی کے اگر وہ پھر سے کُھل جائیں  سبھی دیرینہ راستے بھی ہمیں پھر سے پکاریں تو بہت دشوار ہوتا ہے کسی کو الوداع کہنا بہت دشوار ہوتا ہے کسی کو الوداع کہنا   عقیل فاروق ط

نعت

 ارض وسماء میں چار سُو فیضانِ نعت ہے فرقانِ لا یزال ہی شایانِ نعت ہے   مدح و ثنائے خواجہ ہو دورانِ نیم شب اشکِ سحر گہی سے ہی عرفانِ نعت ہے   شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا "ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"   عشقِ نبیؐ فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں  یہ میرا جذب و کیف بھی احسانِ نعت ہے   میں بے ہنر ہوں تابِ سخن کی طلب مجھے  ارمان کوئی ہے تو بس ارمانِ نعت ہے   ڈاکٹر جوہر قدوسی مدیر ششماہی "جہان حمدونعت"   سفید کتوبر   افسانہ

قطعات

تیغ ہیں اور بے نیام ہیں آنکھیں کس کے قتل کا انتظام ہیں آنکھیں کچھ توازن تو ہو معرکے میں اک نظر میں ہی انتقام ہیں آنکھیں �۔�۔�۔� اپنی نظر سے اُتر جانا، تم نہ سمجھو گے کیا ہے غم میں مر جانا، تم نہ سمجھو گے تم نے راہیں چھانٹی ہیں،تم ڈراؤ راہوں سے کیا ہے خود سے ڈر جانا، تم نہ سمجھو گے    شھزادہ فیصل منظور خان موبائل نمبر؛ 8492838989