تازہ ترین

سلام

 سارے جہاں میں رات دن چرچا حُسینؑ کا کتنا بلند تر ہے پھریرا حُسینؑ کا نامِ یزید صفحۂ ہستی سے مٹ گیا جاری ہے اک جہان میں خطبہ حُسینؑ کا بے شک حُسینؑ مجھ سے ہے اور میں حُسینؑ سے یہ قومِ مصطفیٰؐ کا ہے نغمہ حُسینؑ کا کوثر پہ نور دیکھ کر بولے ملائیکہ وہ آرہا ہے قافلہ پیاسا حُسینؑ کا اکبرؑ کی لاش دیکھ کر مولاؑ نے یوں کہا کرلے قبول اے خُدا ہدیہ حُسینؑ کا لاریب ہے یہ کارِ رسالت کا فیضِ خاص تاریخ پڑھ رہی ہے قصیدہ حُسینؑ کا قدموں پہ رکھ کے سر کہا حرؑ نے بصد نیاز مل جائے مجھ غلام کو صدقہ حُسینؑ کا یوں اہلِ کربلا کا فرشتوں میں ذکر تھا ممکن نہیں کسی کو بھی رتبہ حُسینؑ کا روزِ شمار سجدۂ آثمؔ کا ذکر کیا محشر میں دیکھا جائے گا سجدہ حُسینؑ کا   بشیر آثمؔ باغبان پورہ لعل بازار سرینگر(حال آگرہ) موبائل نمبر

شاہراہِ کربلا

راکبِ دوشِ نبیؐ ماہِؓتمامِ کربلا   مرگِ زیب و زینتِ دُنیا امامِؓکربلا کربلا ہے بہرِ اُمّت شاہراہِ جاوِداں   کوئی کرتا ہی نہیں ہے اہتمامِ کربلا! کربلا کا ہے نہیں مقصد فقط آہ و فغاں   خاتمۂ یزیدّیت میں ہے دوامِ کربلا کارواں سُوئے حرم گُم گشتہ منزل، حسرتا!   تھامنے والا نہیں کوئی زمامِ کربلا قتل و غارت کا گرم بازار ہے کشمیر میں   ہر صبح ہے کربلا، ہر شام شامِ گربلا اختلاطِ مرد و زن کا ہر طرف سیلاب ہے   بِنتِ مسلم کر رہی ہے اِنہدامِ غلام اہل بیتِ مُصطفیٰؐ کے ہوں غلاموں کا غلام   یہ دلِ مشتاقؔ ہے یا ہے مقامِ کربلا   مشتاقؔ کشمیری رابطہ؛ سرینگر،9596167104

مہنگائی

اُف! یہ مہنگائی ہمارا بیش بھی کم ہو گیا خُوشِیوں کا موسم بھی اب تو غم کا موسم ہو گیا آرزو ، حسرت ، تمنّا جاں بَلب سی ہو گئی ہر خیال اور خواب اب معدُوم و مُبہم ہو گیا پھِر گیا پانی اُمید و حوصلہ و عزم پر سامنے مہنگائی کے کافُور دَم خَم ہو گیا آس پر پڑنے لگی ہے اوس چاروں اور سے ہر ورق اب تو کِتابِ زیست کا نَم ہو گیا نامُناسِب نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے اُف! زخم گہرے ہو گئے اور منہگا مَرہم ہو گیا بڑھتی قیمت پیٹرول، ڈیزل، رسوئی گَیس کی جِس طرف بھی دیکھیئے ہا ہُو کا عالم ہو گیا کھیت پیاسے ، ٹھنڈے چُولہے ، آگے کا مُشکل سفر وار پر اب وار منہگائی کا پَیہم ہو گیا لڑکھڑاتے رہتے تھے پہلے ہی راہِ زیست میں بھاری تھا جو بوجھ پہلے بھاری بھرکم ہو گیا کر دی ایسی تیسی اچّھے اچّھوں کی مہنگائی نے کل جو ڈیگا ڈیگا تھا وہ آج ڈَم ڈَم ہو گی

محبت

سدا میں کوہِ گِراں کی مانند ہزار سختی لئے رہا ہوں دِنوں پہ کتنا گِراں گُزر کر شبوں میں تُرشی لئے جِیا ہوں مگر سدا جب محبّتوں کی  حسین، نازُک سی نرمیوں نے، مُجھے تمہارا خیال بخشا  ہزار سختی سُفوف ہو کر بُجھی بُجھی سی ہوا میں اُڑ کر بنا بتائے رفع ہوئی ہے میں سوچتا ہوںمیرے خُدایا! محبتوں کا مزا عجب ہے میری پسند کی سبھی بندوقیں  میری پسند کا سبھی تسلُّط لگا ہے اکثر خیالِ بے جا  میں پوچھتا ہوں میرے خُدایا میرے لئے بھی، میرے لئے بھی؟ تبھی یہ من سے سُنا کیا ہوں کہ آدمی ہو یہ مان لیجئے طبیعتوں میں محبتیں ہیں ذرا تو سمجھو ، کبھی توسمجھو اساسِ جگ بھی محبتیں ہیں تیرا تبدُّل تیرا تغیُّر کوئی بھی صورت،کوئی بھی منظر محبتوں کی اساس پر ہے ذرا تو سمجھو، کبھی تو سمجھو   &

’’ آؤ کھیلے آنکھ مچولی‘‘

میںاک چھوٹا بچہ ہوں من اور تن کا سچا ہوں  دل کا بھولا بھالا ہوں اب کچھ کہنے والا ہوں آنکھ مچولی کھیلے سارے شام فلک سے سورج اُترا دور کہیں پر چھپ کر بیٹھا چھپا چھپی کے سارے کھلاڑی آنکھ مچولی کھیلے ساتھی چاند، ستارےاور پتنگے  ڈھونڈیں رات کو سورج سارے   آر درختوں کی وہ لے کر  ڈوب،غروب ہوا تھا سورج صُبح سے پہلے کوئی ستارہ چُھو کے گیا تھا جب سورج کو اور یہ تارا چیخ اُٹھا تھا راکھ ہوا ہے ہمارا سورج چاند،ستارے شور مچائے زمیں نگل گئی سورج کل تلک تو زندہ تھاسورج  کیوں؟ جل کر بھسم ہوا     ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی فون نمبر؛9596101499   

اُستاد ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  ان ہی سے ہیں افراد ضیا بار ہمارے جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہے  احساسِ عمل ،فکر بھی ان ہی کی عطا ہے  ان ہی کی ہے تعلیم جو عرفان  خدا ہے  ان ہی سے معطر ہوئے افکار ہمارے  استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  تاریک ہوں راہیں تو یہی راہ سجھائیں  اسرار ِ دو عالم سے یہ پر دوں کو اٹھائیں  سوئی ہوئی قوموں میں یہ ہمت کو جگائیں رہبر بھی یہ، ہمدم بھی یہ، غم خوار ہمارے  اُستاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  اک نور کا مینار لب ِ ساحلِ دریا  اک مشعلِ بیدار سرِ وادی  ٔصحرا ہے ظلمت ِآ فاق میں بس ایک ستارہ  ہیں دست نگر اُن کے ہی شہ کارر ہمارے     استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے   ۳۰۔ گلستان کالونی ، ناگپ

ابر کا گھروندہ

 ٹوٹ گیا وہ شجر آنگن کے پیڑ کا جسکی جڑوں کو سینچا تھا اشک سے بارش کی بوندوں کی طرح ہتھیلی پہ رکھ رکھ کے ہر کلی کی  قبا میں شبنم کے قطرے جڑے تھے سورج اُگنے سے پہلے، شب کی شرمیلی خاموشی میں گماں کے بٹن ٹانکتے ٹانکتے نہ جانے کتنی بارخار محافظ کی شرارتوں نے چبھویا ہے انگلیوں کی چھیڑخوانی کو  تیری الھڑ جوانی کے کھلنے تک بندِ قبا کو بادِ عشقِ صبا نے نرم سرگوشیوں سے چھو کر کھولاتو...! تمناؤں کی باہیں انگڑائیاں لینے لگیں چہچہاہٹ نے ہوا کے تاروں کو چھیڑا تو فضاء میں گنگناہٹ تیرنے نکلی پچھلی بارش کی طرح سوچ کے اس پار کافوری گاؤں کی نیلے رنگ کی جھیل میں سرخ بدن لئے کوئی جل پری سی جھیل جسکے کناروں پہ تتلیاں وفا کی نظموں سے خوشبو تراشتی ہیں  گلوں کے تار تار پیراہن بادِ صر صر کی زد پہ ...تُف .....!!! دھندلی شا

نئی تاریخ

 اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی لِکھ یہاں ہے روشنی مغلوب ، غالب تیرگی لِکھ یہاں قیمت نہیں قانون کی دستور کی لِکھ بِساطِ زیست پر پرچھائیاں ہیں موت کی لِکھ فصیلِ جِسم و جاں پر جم رہی ہے برف سی اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی جبر و اِستحصال و رنجِش دُشمنی ہے ہر طرف دوستی اخلاص و اُلفت کی کمی ہے ہر طرف شمعِ امن و اماں بے نُور سی ہے ہر طرف حادثوں کی تیز آندھی چل رہی ہے ہر طرف اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی سَرپہ ہے اندیشوں کی تلوار یُوں لٹکی ہُوئی جیسے اِک زہریلی ناگن راستہ بھٹکی ہُوئی شاخِ ذہن و دِل پہ ہے اِنسانیت اٹکی ہُوئی ہر طرف جمہوریت کی لاش ہے لٹکی ہُوئی اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی جِسم نِیلے پڑ رہے ہیں نفرتوں کے زہر سے آدمی ڈرنے لگا ہے آدمی کے قہر سے پوچھ لے جا کر تُو ہر اِک گاو

دورِحاضرہ کی تعریف

 (صرف مطلعوں پر مبنی ایک نظم)   قابلِ تعریف ہی اِس دور کا کردار ہے یہ نمونہ ڈھونڈنا تاریخ میں دشوار ہے شیطنت سے آدمیت برسرِ پیکار ہے آدمیت کی ہی لیکن ہر قدم پر ہار ہے قصرِ ایماں جس طرف بھی دیکھئے مسمار ہے کیونکہ اب عقل و ترقی کی بڑی رفتار ہے خود فروشوں کی بڑی عزت سرِدر بار ہے ہے وہی محروم جو سچا ہے اور خود دار ہے آج تو مادی ترقی کی بڑی رفتار ہے اوراِدھر انسانیت کا مُستقر مِسمار ہے جو زمانہ ساز اِبن الوقت ہے مکّار ہے اب ترقی کا فقط اُس کے گلے میں ہار ہے ہر طرف معبود سب کا زر ہے یا زردار ہے یہ سماجی برتری کا بھی طریقہ ٔکار ہے    موبائل نمبر؛ 7006606571

ہٹے گا گر جو35اے

 ہٹے گا گر جو35 اے  ریاست کا زیاں ہوگا نہیں آئینِ ہِند میں پھِر کہیں اِس کا نِشاں ہوگا یہ کاوِش اور محنت کا صلہ ہے شیخ ؔ صاحب کا زمینِ حبّہؔ میں پیدا کہاں ایسا جواں ہوگا اِسی شِق کی بدولت ہم ہَیں سارے ہِند میں یکتا  اگر یہ ہٹ گئی سمجھو نہ کل پھِر شادماں ہوگا مُقدّر نسلِ نَو کا یُوں رہے گا غیر کے تابع مقیّد دستِ آہن میں یہاں کل کا سماں ہوگا پلٹ کر گر کبھی دیکھو مِیاں تاریخ کے اوراق کہیں تحریر میں شامل ضروری یہ بیاں ہوگا مُبارک شیخؔ صاحب آپ کو آئین کی یہ شِق یہی مد آپ کے سر پر بصورت سائباں ہوگا اُٹھائو اپنا پرچم آپ، ہے آئین کا تحفہ بہت معروف عالم میں اماں ’’ہل‘‘ کا نِشاں ہوگا    صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ:  9697524469

اُستاد

ہو گئے ہر طرح برباد ،اجی سنتے ہو بنے بیٹھے ہو خود استاد،اجی سنتے ہو شاعری کرتے رہے بچوں کو دیکھاہی نہیں یوں نکمی ہوئی اولاد،اجی سنتے ہو تم نے تو گھر کو بھی چوپال بنا رکھا ہے روز بڑھ جاتے ہیں افراد،اجی سنتے ہو خالی باتوں سے تو گھر بار چلا کرتا نہیں میرے کس کام کی یہ داد،اجی سنتے ہو شاعری ایسی بلا ہے میاں جس کے ہاتھوں ہوگئے کتنے ہی برباد،اجی سنتے ہو ذکر کب ہوتا ہے پرویز کا اس دنیا میں اب نہ شیریں ہے نہ فرہاد،اجی سنتے ہو کھیلتے نوٹوں میں ہیں آج تمہارے چیلے تم ہو بس نام کے استاد،اجی سنتے ہو آگئیں کتنے ہی چیلوں کی کتابیں چھپ کر کیا چھپی آپ کی روداد،اجی سنتے ہو جو بھی کہنا تھا وہ سب کہہ گئے میرؔ و غالبؔ کیا تمہیں یہ بھی نہیں یاد ،اجی سنتے ہو الٹی سیدھی نہ کرو شاعری اب تو للّٰلہ پیچھے پڑ جائیں گے نقاد،اجی سنتے ہو

باپ

کما کر اپنے بچوں کے لیے جو باپ لاتا تھا وہ خود فاقے سے ہوتا اور بچوں کو کھلاتا تھا   نہ چلنے کی کبھی جب ضد کیا کرتے تھے یہ بچے  تو پھر مضبوط کاندھوں پر انہیں اپنے بٹھاتا تھا   کھلونے، عید پر کپڑے نئے، جوتے نئے لاتا  تقاضے اہلِ خانہ کے وہ لکھ کر لے کے جاتا تھا    کبھی میوہ، کبھی مشروب یا ماکول لے آتا کبھی خالی نہیں لوٹا اگر بازار جاتا تھا    تھکا ہارا ہوا جب لوٹتا تھا شام کو یہ گھر  محبت سے بھری آغوش میں ان کو چُھپاتا تھا   وہ جب تشریف رکھتا حلقہ زن ہوتے سبھی بچے بڑی پدرانہ شفقت سے ادب ان کو سکھاتا تھا   وہ جب بستر میں گھس جاتے بُلا لاتے تھے بابا کو یہ بابا پیار سے ان کو کوئی لوری سناتا تھا   بڑے جب ہوگئے بچے بدل کر رہ گیا سب کچھ  وہ

نعتیں

پھیلائی ہر طرف ہے عنایت کی روشنی انسانیت کی اور محبت کی روشنی   آنے سے ان کے دُور جہالت بھی ہوگئی ہاں بیٹیوں کو مل گئی عزت کی روشنی   جھولی کبھی پھیلا کے تم دیکھو مرے عزیز آقا کے در سے ملتی ہے رحمت کی روشنی   ہے ان کا کیا مقام، خدا جانتا ہے بس ان میں ہی تو چھپی ہے حقیقت کی روشنی   ان کو بساؤ دل میں ذرا تم اے غمزدو پھر دیکھنا ہمیشہ مسرت کی روشنی   میدانِ حشر کا کبھی بسملؔ نہ غم تو کر اُس دن تو پائے گا تُو شفاعت کی روشنی   سید بسمل ؔمرتضٰی شانگس اننت ناگ کشمیر طالب علم:ڈگری کالج اترسو شانگس موبائل نمبر؛9596411285      نعت لئے وہ نورکا اک انقلاب آیا ہے  جہاں میں بن کے وہ اک آفتاب آیا ہے ہے جس میں راہ ہدایت کی ہر کسی کے لئے 

دورِ حاضر

صرف مطلعوں پر مبنی ایک نظم   آج ننگا حُسن ہی تہذیب کا شہکار ہے آبرو انسان کی رسوا سرِ بازار ہے   دھاندلی اب ہر حکومت کا ہی کاروبار ہے قوم کی ہر دور میں جس پر کہ یہ پھٹکار ہے   اب سفارش اور رشوت سے ہی بیڑا پار ہے قابلیت اور خوبی آج کل بیکار ہے   کنبہ پرور اور راشی ہے جو عہدیدار ہے ظلم و حق تلفی کی جس کے ہاتھ میں تلوار ہے   جو بڑھا کر بال کرتا فُقر کا اظہارہے اس کو در پردہ سیہ کاری سے بھی کب عار ہے   ہے زمانہ اُس کا جو عیّار و بدکردار ہے اب شریفوں کے لئے جینا بہت دشوار ہے   کیا بشیرِؔ بے نوا تجھ کو بھی کچھ آزار ہے کیونکہ اب نقد و نظر ہی تیرا کار روبار ہے   بشیر احمد بشیرؔ(ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571  

غزلیات

فیصلہ ہے کہ ترے دل میں ٹھہرنا ہے مجھے اور اک  درد کے عالم سے گزرنا ہے مجھے   رات کیا جانے ابھی کام ہے کتنا باقی شام کو ڈوبنا ہے صبح اُبھرنا ہے مجھے    ایک طوفاں سے ہے مجھ کو بھی پرانی رنجش یہ اگر وہ ہے تو پانی میں اُترنا ہے مجھے   میرا کمرہ ، میری راتیں، میری نیندیں ہیں مگر میرے ہی خواب ڈراتے ہیں تو ڈرنا ہے مجھے   ان کی نظروں میں اگر رہنا ہے پھولوں کی طرح روز  خوشبوؤں کی مانند بکھرنا ہے مجھے   جب سے قسطوں میں ہی ملنے لگیں سانسیں بلراجؔ روز جینے کے لیے روز ہی مرنا ہے مجھے  بلراج ؔبخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  Mob: 09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com     اظفر کاشف پوکھریروی  بی ایڈ

سُوئے حرم

  چلے ہیں شوق سے سب خوش نصیب سُوئے حرم لبوں پہ کلمہ، دلوں میں میں ہے آرزوئے حرم! کوئی ہے رُوبہ حرم کوئی رُوبروئے حرم ہے اہلِ حق کے لئے راہِ خلد کُوئے حرم! یہیں گناہ کے سب داغ دھبے دُھلتے ہیں شفا اثر ہے یہ آبِ حیاتِ جُوئے حرم! فضا ہے وجد میں ’’لبیک‘‘کی صدائوں سے بہشتِ گوش و نظر ہے یہ گفتگوئے حرم! ’’وہاں وہاں ‘‘ پہ کِھلے باغ مہر و اُلفت کے  ’’جہاں جہاں‘‘ سے بھی گزری ہے مُشک بُوئے حرم! ہم اِس کے واسطے جانوں پہ کھیل جائیں گے ہمیں عزیز ہے جانوں سے آبروئے حرم گُناہ گار تو زائرِ ؔساکون ہے یا رب؟ دکھا پھر اپنے کرم سے اِسے بھی کُوئے حرم!   ماسٹر عبدالجبار، زائر ؔبھدرواہی جموں وکشمیر، ضلع ڈوڈہ

کشمیر

 کشمیر تیرے روپ کے صدقے کہ تیرے پاس مدّت کے بعد آیا ہوں لیکن بہت اُداس گزرے ہوئے دنوں کی نظر کو تلاش ہے پانی کے بیچ پھولوں کے گھر کی تلاش ہے آخر ترے حسین نظارے کہاں گئے ڈل پر جو تیرتے تھے شکارے کہاں گئے وہ باغ شالیمار کی نکہت کہاں گئی تیرے نسیم باغ کی نُزہت کہاں گئی اب بھی تری زمین پر اونچے چنار ہیں لیکن ہوائے خنجرِ غم کے شکار ہیں موسم کے لوک گیت بھی ناپید ہوگئے نغماتِ انبساط کہاں جانے کھوگئے تیرے چمن میں پہلی سی رعنائیاں نہیں جہلم کے تیز دھارے میں انگڑائیاں نہیں جنت نشان تجھ میں کوئی خُو نہیں رہی کھیتوں میں زعفران کی خوشبو نہیں رہی بازارِ لالچوک میں رونق نہیں ہے اب دیوار و در میں خوف کی دیوی مکیں ہے اب تفریح کی شراب ترے جام میں نہیں کوئی چہل پہل ہی پہلگام ہی نہیں ہے برف غم کی آگ سے بے نور و بے قرار

حج کرانے مجھ کو لے جائیں مہکتے راستے

چاہتی ہوں مجھ کو مل جائیں مہکتے راستے حج کرانے مجھ کو لے جائیں مہکتے راستے   چاہتی ہوں میں کہ راس آئیں مہکتے راستے یوں ہی مہکیں اور مہکائیں مہکتے راستے   کاش مجھ کو بھی ملے اذنِ حضوری کی نوید میری آنکھوں میں بھی لہرائیں مہکتے راستے   میں یہ سمجھوں اضطراب شوق ہے محو طواف کوہ و صحرا میں بل کھائیں جو مہکتے راستے   ہے اجازت اپنے آقا کی ردائے نور میں چاہتے جتنے پاؤں پھیلائیں مہکتے راستے   میں بھی مکہ و مدینہ کی فضائیں دیکھ لوں پیار سے مجھ کو بھی اپنائیں مہکتے راستے   جامۂ احرام پہنوں میں بعد عجز و نیاز پھر اڑا کر لے جائیں مہکتے راستے   چھوڑ دیں سیماؔ ہمیں کچھ دن ہمارے حال پر جب در اقدس پر پہنچائیں مہکتے راستے        

قطعات

 پہلا رشتہ جان کر بھی بنتے ہو انجان کیوں دور یہ موبائل و ٹی وی کا ہے   آدم و حوا سے کیا ثابت نہیں سب سے پہلا رشتہ بس بیوی کا ہے   صدقہ یہ سمجھ میں کسی کے آتا نہیں مولوی ٹھیک سے بتاتا نہیں   ہر بلا سے بچاتا ہے صدقہ کیوں یہ بیوی سے پھر بچاتا نہیں   ڈنڈا ہمارے دیش میں ہر پارٹی کا جھنڈا ہے ہر ایک نیتا کا اپنا الگ ایجینڈا ہے   سوال ایک یہی پوچھتا ہوں تم سب سے تمھیں خبر ہے یہ جھنڈے میں کس کا ڈندا ہے   جنت کل رات میں نے دیکھا ہے یارو عجیب خواب سونا بھی جس نے چین سے دشوار کر دیا   بیوی کو اپنی دیکھ کے حوروں کی بھیڑ میں جنت میں میں نے جانے سے انکار کر دیا    بانی علامہ قیصر اکیڈمی،علی گڑھ آباد مارکیٹ دودھ پور علی گڑھ موبائل:9897

نظمیں

قطعات اُڑی ہیں دھجیاں شرم و حیا کی نئی تہذیب کی جلوہ گری سے   یہ روشن دور مغرب کو مبارک ہم اندھے ہوگئے اس روشنی سے   خودنمائی کی عام دعوت ہے ہر بُرائی کی عام دعوت ہے   منہ چھپانے لگی ہے شرم و حیاء بے حیائی کی عام دعوت ہے   مغربی تہذیب سب پر چھا گئی حق پرستوں کو بھی اب یہ بھا گئی   آہ! اب یہ خوش نُما رنگین بَلا رقص کرکے سب گھروں میں آگئی   ہم ترقی کرکے ننگے ہوگئے بچے بالے گھر کے ننگے ہوگئے   جیتے جی مرتے رہے مغرب پہ ہم اور آخر مرکے ننگے ہوگئے   ماسٹر عبدالجبار گنائی موبائل نمبر؛ 8082669144   منحرف ہو جاؤں گی دل حزیں نالہ فضا میں دیکھئے گونجا کہیں غالباً پھِر سے کوئی ماں ہے کہیں محوِ فُغاں دور اُس سے اُس کا شاید ہو گی