محبت

سدا میں کوہِ گِراں کی مانند ہزار سختی لئے رہا ہوں دِنوں پہ کتنا گِراں گُزر کر شبوں میں تُرشی لئے جِیا ہوں مگر سدا جب محبّتوں کی  حسین، نازُک سی نرمیوں نے، مُجھے تمہارا خیال بخشا  ہزار سختی سُفوف ہو کر بُجھی بُجھی سی ہوا میں اُڑ کر بنا بتائے رفع ہوئی ہے میں سوچتا ہوںمیرے خُدایا! محبتوں کا مزا عجب ہے میری پسند کی سبھی بندوقیں  میری پسند کا سبھی تسلُّط لگا ہے اکثر خیالِ بے جا  میں پوچھتا ہوں میرے خُدایا میرے لئے بھی، میرے لئے بھی؟ تبھی یہ من سے سُنا کیا ہوں کہ آدمی ہو یہ مان لیجئے طبیعتوں میں محبتیں ہیں ذرا تو سمجھو ، کبھی توسمجھو اساسِ جگ بھی محبتیں ہیں تیرا تبدُّل تیرا تغیُّر کوئی بھی صورت،کوئی بھی منظر محبتوں کی اساس پر ہے ذرا تو سمجھو، کبھی تو سمجھو   &

’’ آؤ کھیلے آنکھ مچولی‘‘

میںاک چھوٹا بچہ ہوں من اور تن کا سچا ہوں  دل کا بھولا بھالا ہوں اب کچھ کہنے والا ہوں آنکھ مچولی کھیلے سارے شام فلک سے سورج اُترا دور کہیں پر چھپ کر بیٹھا چھپا چھپی کے سارے کھلاڑی آنکھ مچولی کھیلے ساتھی چاند، ستارےاور پتنگے  ڈھونڈیں رات کو سورج سارے   آر درختوں کی وہ لے کر  ڈوب،غروب ہوا تھا سورج صُبح سے پہلے کوئی ستارہ چُھو کے گیا تھا جب سورج کو اور یہ تارا چیخ اُٹھا تھا راکھ ہوا ہے ہمارا سورج چاند،ستارے شور مچائے زمیں نگل گئی سورج کل تلک تو زندہ تھاسورج  کیوں؟ جل کر بھسم ہوا     ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی فون نمبر؛9596101499   

تازہ ترین