کاروانِ حرم

سُن کے بانگِ درا، جھوم اُٹھّی صبا، سوئے منزل چلا، کاروانِ حرم دھیمے دھیمے سے تکبیر کے ساز پر، وقت نے چھیڑ دی داستانِ حرم   چشمِ احباب سے، اشک بہنے لگے، پھر اشاروں میں حسرت سے کہنے لگے  طَوفِ بَیتِ خُدا، دیدِ قبرِ نبی، ہو مُبارک تمھیں زائرانِ حرم   شہر کی رونقوں میں بڑھی دلکشی، راہ کی گرد اُڑ اُڑ کے کہنے لگی  مرحبا مرحبا آفریں آفریں، آگئے آگئے میہمانِ حرم     یا تو یہ رب کی تسبیح و تہلیل ہے، یا صدا ئے مُناجاتِ جبریل ہے  دل کی آواز پر، عشق کے ساز پر، چہچہانے لگے طائرانِ حرم   اب کہیں پہ موافق زمانہ نہیں، ہے کڑی دھوپ کوئی ٹھکانا نہیں  کاش سایہ رہے سب پہ چھایا رہے، بن کے رحمت نشاں سائبانِ حرم   ڈاکٹر سید شیبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ ، سرینگر،موبائل نمبر؛7780937020

نظمیں

صبح دم ہواکیا ستم ڈھا رہی تھی بہت مضطرب سی ہوا چل رہی تھی طُرہ اِس پہ سحری میں شب ڈھل رہی تھی تمازت ہوائوں میں وقتِ سحر تھی گھٹی بُوئے سوسن یہ بتلا رہی تھی سُنا ہم نے بے چین تھی رات ساری فراقِ سحر میں یہ کُملارہی تھی فلک پر بہت نیم روشن تھے اختر فریبِ ضیاء چاندنی کھا رہی تھی سمندر میں جوں ایک طوفاں بپا تھا ہر اک لہر مستی میں اِٹھلا رہی تھی شجر غم زدہ سر جھکائے کھڑے تھے نہ بیلا کہیں کوئی بل کھا رہی تھی یہ کیا وقتِ ناقص تھا ہاوی جگر پر کہ سانسوں میں بوئے کباب آ رہی تھی عجب دل شکستہ یہ منظر تھا عُشاقؔ صبح دم ہوا کیا ستم ڈھا رہی تھی   عُشاقؔ کشتواڑی صدر انجمن ترقی اُردو (ھند)شاخ کشتواڑ  موبائل نمبر؛9697524469     مسیحا   کبھی فرصت ملے تو آنا بس دو لمحوں کے لئے

مناجات

مرے مولیٰ تری بخشش کا طلبگار ہوں میں تری رحمت کا سہارا ہے گنہگار ہوں میں نام لیوا ہوں ترا اور مری حالت یہ ہے سب کے ہاتھوں میں ہیں پتھر سرِ بازار ہوں میں تیرا ہی فضل و کرم ہو تو کوئی بات بنے نامۂ اعمال نہ دیکھو کہ سیاہ کار ہوں میں میری تخلیق میں آدم کی ہے مٹی شامل نسبتیں ملتی ہیں جنّت کا تو حقدار ہوں میں تُو نے ہر دور میں مومن کی حفاظت کی ہے کوئی مُنکر تو نہیں تیرا طرفدار ہوں میں ایک گُمگشتہ مسافر ہوں راہِ منزل کا میرے آگے ہے زمانہ پسِ دیوار ہوں میں میری جانب بھی تو اک نظرِ کرم ہو یا رب کتنا رنجور ہوں شرمندہ و لاچار ہوں میں یہ بھی کیا طرزِ محبت ہے کہ محبوب بھی ایک تُو کہیں مُجھ میں ہے پنہاں ترا دیدار ہوں میں مجھکو درپیش ہے دُنیا میں ہی محشر جاویدؔ سر بھی اُٹھتا نہیں مُجھ سے کہ شرمسار ہوں میں   سردار جاوی

ماب لِنچِنگ

(سانیٹ ) ماب لِنچِنگ کی یہ خبریں آئے دِن جو آتی ہیں ذہن و دِل کو رات دِن رنجُور کرتی رہتی ہیں زِندگی کے آئینے کو چُور کرتی رہتی ہیں چِھین لے جاتی ہیں خوشیاں رنج و غم دے جاتی ہیں   آئینۂ قومی یکجہتی پہ پڑ جاتی ہے خاک نام پر مریادا پُرش اُتّم کے یہ ظُلم و سِتم کالے کالے حرفوں میں تاریخ میں ہونگے رقم آہ ! مُلک و قوم کے حالات ہیں تشویش ناک   بے خبر ہیں رام جی کے وصف اور کِردار سے نفرت و بُغض و تعصُّب کا لگا ہے جِنکو روگ ماب لِنچِنگ میں مولوِّث ذہن و دِل کے کالے لوگ ہو رہے ہیں زعم میں تعداد کے خُونخوار سے   جاں بَلب سونے کی چِڑیا کو جو کرتا رہتا ہے اے نیازؔ اِک جُھنڈ یہ خارِش زدہ کُتّوں کا ہے    ۶۷؍  جالندھری  ،  اعظم گڑھ  ۔  ۲۷۶۰۰۱   (یُو۔پی۔)&nb

نظمیں

خلش چلو مانا کہ آساں ہے کسی کو بھول کر جینا چلو مانا کہ  اچھا ہے کسی کے بن  میرا جانا چلو مانا کہ بہتر ہے اکیلا پن، اکیلا من چلو مانا کہ لوگوں کو نظر انداز ہے کرنا چلو مانا کہ اچھی ہے کسی حد تک یہ دنیا بھی مگر مجھ کو فقط اتنا بتا دے ناصح پھر بھی کہ جب ہم چھوڑ کر ماضی کا سب کچھ بھول جاتے ہیں بہت آگے کو بڑھتے ہیں بہت ہی دور جاتے ہیں  چمن میں پھول کھلتے ہیں تو گُل بھی مسکراتے ہیں گزر جاتی ہے پھر خوشیوں میں اپنی زندگی پیہم مگر جب بھی اچانک سے کبھی ہو سامنا اس کا یا پھر یادوں کے کچھ اوراق بھی اپنے پلٹ جائیں  دریچے جو ہیں ماضی کے اگر وہ پھر سے کُھل جائیں  سبھی دیرینہ راستے بھی ہمیں پھر سے پکاریں تو بہت دشوار ہوتا ہے کسی کو الوداع کہنا بہت دشوار ہوتا ہے کسی کو الوداع کہنا   عقیل فاروق ط

نعت

 ارض وسماء میں چار سُو فیضانِ نعت ہے فرقانِ لا یزال ہی شایانِ نعت ہے   مدح و ثنائے خواجہ ہو دورانِ نیم شب اشکِ سحر گہی سے ہی عرفانِ نعت ہے   شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا "ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"   عشقِ نبیؐ فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں  یہ میرا جذب و کیف بھی احسانِ نعت ہے   میں بے ہنر ہوں تابِ سخن کی طلب مجھے  ارمان کوئی ہے تو بس ارمانِ نعت ہے   ڈاکٹر جوہر قدوسی مدیر ششماہی "جہان حمدونعت"   سفید کتوبر   افسانہ

قطعات

تیغ ہیں اور بے نیام ہیں آنکھیں کس کے قتل کا انتظام ہیں آنکھیں کچھ توازن تو ہو معرکے میں اک نظر میں ہی انتقام ہیں آنکھیں �۔�۔�۔� اپنی نظر سے اُتر جانا، تم نہ سمجھو گے کیا ہے غم میں مر جانا، تم نہ سمجھو گے تم نے راہیں چھانٹی ہیں،تم ڈراؤ راہوں سے کیا ہے خود سے ڈر جانا، تم نہ سمجھو گے    شھزادہ فیصل منظور خان موبائل نمبر؛ 8492838989

پائی کا پیڑ

میں نے بھی بچپن میں سٹاپو کھیلا تھا۔ پائی کے پیڑ کے پاس پائی کے ٹک شاپ کے اندر بیٹھے امیر بچے آلو،مٹر،چھولہ پوری اور ڈبل بسکٹ کھاتے تھے اور میں روز کی ملی چوّنی سے ایک چوّنگم خریدتی تھی اور پھر دن بھر اسی کو چباتی رہتی میٹھا ختم ہونے کے بعد بھی پھینکنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پھر اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی سکول سے چھٹی کے وقت میری کن پیٹوں اور سر میں درد ہوتا تھا۔ دن بھر کے چبانے کی مشقت کا صلہ مجھے ہر روز یہی ملتا تھا۔ پائی کے پیڑ کے ساتھ بڑی یادیں منسوب ہیں۔ ہم لکڑ لکڑ کھیلتے تھے تو ہر دو پھیروں کے بعد پائی کے پیڑ کی باری آتی اور تبھی کوئی نہ کوئی آوٹ ہوجاتا کیونکہ اُس پیڑ کے قریب کوئی دوسرا پیڑ نہ تھا۔ یوں تو وہ دیودار کا پیڑ  تھا خدا جانے وہ بونا کیوں تھا؟ مگر ہم بچوں میں بے حد مقبول تھا اور اب سنا ہ

الوداع الوداع ماہ ِرمضان

الوداع الوداع ماہ رمضان  قلبِ عاشق ہے اب پارہ پارہ  الوداع الوداع ماہ رمضان تیرے آنے سے دل خوش ہوا تھا  اور ذوقِ عبادت بڑا تھا  آہ ! اب دل پہ ہے غم کا غلبہ  الوداع الوداع ماہ رمضان مسجدوں میں بہار آ گئی تھی  جوق در جوق آتے نمازی  ہو گیا کم نمازوں کا جذبہ  الوداع الوداع ماہ رمضان تیرے دیوانے اب رو رہے ہیں  مضطرب سب کے سب ہو رہے ہیں  ہائے اب وقتِ رخصت ہے آیا  الوداع الوداع ماہ رمضان تیرا غم سب کو تڑپا رہا ہے  آتش ِشوق بھڑکا رہا ہے  پھٹ رہا ہے تیرے غم میں سینہ  الوداع الوداع ماہ رمضان بزمِ افطار سجتی تھی کیسی !  خوب سحری کی رونق بھی ہوتی  سب سامان ہو گیا سُونا سُونا  الوداع الوداع ماہ رمضان یاد رمضان کی تڑپا

رمضان خصوصی

مدحتِ قرآن اسی لیے ہے بقائے قرآں کہ ہے محافظ خُدائے قرآں جناں کے باغ و بہار لے کے  مہک رہی ہے فضائے قرآں یہ لفظِ اِقراء بتا رہا ہے  کہ علم ہے ابتدائے قرآں ہے سنگِ بُنیاد کتنا محکم پڑی حِرا میں بِنائے قرآں عمل ہی دُنیا عمل ہی دیں ہے  یہی ہے بس مُقتضائے قرآں نہ رحلِ بالا نہ طاقِ اعلیٰ  ہمارا سینہ ہے جائے قرآں ہوئی ہے جُزدان میں مُقیّد یہ تیری تقدیر ہائے قرآں مقامِ رفعت ہے اہلِ دانش نہ جُھکنے دینا لوائے قرآں ہزار ہو شور و غُل جہاں میں  بُلند رکھنا صدائے قرآں ہواس و ہوش و خرد سے سمجھو  ندِائے قرآں، نوائے قرآں   ڈاکٹر سید شبیب رضوی اندرون کاٹھی دروازہ رعناواری سرینگر  موبائل :-7780937020     نعت نہیں ہے آپ بن کوئی سہا

نظمیں

ہیں بیٹھے خوار گرمی میں   فضائے پرُ تمازت کی لئے دستار گرمی میں بڑی مُدّت سے بیٹھے ہیں بہُت لاچار گرمی میں یہ سامانِ اذیّت کی فراوانی ارے توبہ! بلکتے شیر خواروں پہ اماں یہ مار گرمی میں کہ بحرِ زیست کا اب کے طلاطم خیز منظر ہے نہ زیبِ تن ہے کُرتا اب نہیں شلوار گرمی میں مزاجِ وقت کا اپنا وطیرہ بے سُرا ٹھہرا کہیں سردی کے متلاشی ہیں بیٹھے خوار گرمی میں الٰہی محوِ حیرت ہوں تِری اس کبریائی پر ہے کوئی قصرِ شاہی میں، کوئی نادار گرمی میں دفینے برق پاروں کے چناب ورودِ جہلمؔ ہیں نکالو یہ متاع ان سے مِری سرکار گرمی میں کبھی عُشّاقؔ ممکن تھا ملن مہ وش سے گلیوں میں نظر آتا نہیں اب کے کوئی گُلنار گرمی میں   عُشّاقؔ کِشتواڑی صدر انجمن ترقی اردو (ہند) شاخ کشتواڑ رابطہ؛ 9697524469       &

رمضان سپیشل

نعت اقدس یہی ہے آرزوئے دل دیارِ مصطفےؐ دیکھوں فراغِ سبز گنبد میں قیامِ مجتبیٰؐ دیکھوں شعورِ چشم لائی ہے اٹھا کر ہحرِ ہجراں سے درِ ایجاب پر پُرنم  متاعِ  التجا دیکھوں اُسے رستہ سُجھائیں گی فضائیں شہرِ آقاؐ کی کہاںتک آسمانوں میں بھٹکتی ہے دُعا دیکھوں عقیدت کا ہے اپنا سلسلہ روضے کی جالی تک ترستی آرزو ہے کب گلستانِ وفا دیکھوں مُعطر ذرّہ ذرّہ اس قدر ہے شہرِ بطحا میں کہاں سے عطر مَل کے آگئی بادِ صبا دیکھوں نگاہِ مضطرب اشکوں سے اپنے ہے وضو کرتی معنبر ذکرِ جاناں خُلد مہکاتی ادا دیکھوں اسی کا ہوں میں شیداؔ جس کے دو عالم ہیں شیدائی عجب ہے عشقِ شیدا ؔبھی کہ محبوبِ خداؐ دیکھوں   علی شیداؔ (نجدہ ون)  نپورہ اسلام آباد کشمیر موبائل نمبر؛9419045087   نعت  تاروں میں ماہتاب مرے مصطفےؐ

نوحہ ٔ دل

تہذیب و تربیت پہ ثقافت پہ نوحہ لکھ لہجہ،زبان، علم و فراست پہ نوحہ لکھ چھینا گیا ہے سر سے ترے آسماں ترا چھینی گئی زمینِ، وراثت پہ نوحہ لکھ دشمن کو اپنے مفت میں تلوار بیچ دی اجداد سے ملی تھی حفاظت پہ نوحہ لکھ ہر فردِ کارواں ہے بھٹکتا سراب میں چہرہ بدلتی روزقیادت پہ نوحہ لکھ بارش، ہوا پہ اَبر پہ دریا پہ ریت پر خوشبو، گلاب، دھوپ، زراعت پہ نوحہ لکھ سیرت میںڈارون کی اُچھل کود آگئی صورت میں آدمی کی متانت پہ نوحہ لکھ کچلے گئے جو راہ میں جگنو بنے پھرے بجھتے چراغ شہرِ عداوت پہ نوحہ لکھ آئینِ، علم وصدق و مساوات وآگہی جمہور کے فریبِ سیاست پہ نوحہ لکھ چُھپتی ہےروز بنتِ حوا اشتہار میں عریان سرخیوں کی صحافت پہ نوحہ لکھ دائم کیا ہے فرض یزیدوںنے کربلا ماتم کناں ہوں روز شہادت پہ نوحہ لکھ ہر سُواُچھالتا ہے تکلّم اُداسیاں

آمد رمضان

 آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ماہِ اِنعام و فیضان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ پچھلی قوموں کی طرح مُسلمان پر فرض روزے ہُوئے اہلِ ایمان پر کہہ رہا ہے یہ قُرآن اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ خوش نصیبوں کو پِھر یہ مہینہ مِلا رحمتوں برکتوں کا خزینہ مِلا ہو گئے قید شیطان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ لیلتُ القدر والا مہینہ ہے یہ غزوۂ بدر والا مہینہ ہے یہ اُترا اِس ماہ میں قُرآں اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ہِیرا،موتی،جواہر،نگینہ ہے یہ سب مہینوں سے افضل مہینہ ہے یہ ماہِ رمضان کی شان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ دین و دُنیا بنانے کے دِن آ گئے مانگنے اور پانے کے دِن آ گئے خوش ہُوئے اہلِ ایمان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ یاد اللہ تعالٰی کو دِن رات کر

ماہِ رمضان

روحِ ایماں مبارک ہو سبھی کو ماہِ رمضاں مبارک ہو سبھی کو رحم و برکت کا یہ واحدمہینہ دین  کی  جاں مبارک ہو سبھی کو چاند رمضاں کا یوں پھر سے عیاں ہے ختمِ شعباں مبارک ہو سبھی کو تا فلق آج ہیںغالب اُجالے ماہِ تاباں مبارک ہو سبھی کو رکھ کے روزہ تُو بن متقّی اب حُکمِ قرآں مبارک ہوسبھی کو اب تو یوں قید ہے شیطاں کی بستی اب سے ایماں مبارک ہو سبھی کو سیرابؔکشمیری دیورلولاب(کپوارہ) رابطہ:9622911687

صدائے کشمیر

سنگ دل کو موم کرتی ہے صدا کشمیر کی خون کے آنسو رُلاتی ہے ادا کشمیر کی   سر کٹی لاشیں جوانوں کی بیاں کرتی ہیں یہ خون کے رنگوں میں رنگی ہے رِدا کشمیر کی   نقش ایسےدوستوں کی آرسی دکھلاگئی بھاڑ میں کانٹوں کی اٹکی ہے قبا کشمیر کی   شعلہ سامانی میں بھی سنتے ہیں ہم ایسی صدا روح افزائی کا پیکر تھی فضا کشمیر کی   زخم دل کے اشکباری سے کبھی بھرتے ہیں کیا؟ روز و شب بیٹے کا غم سہتی ہے ماں کشمیر کی   باپ کے کاندھے پہ بیٹے کا جنازہ چل پڑا  خون میں نہلا گئی رسمِ حنا کشمیر کی   جال میں صیاد کے جکڑے گئے بلبل یہاں خوف کی تُرشی سے اٹکی ہے زبان کشمیر کی    آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ  

نظمیں

اِنتباہ شَر پسندوں ، سرَ پِھروں کے حوصلے بھی خوب ہیں لگتا ہے اقلیتیں اِس دیش کی مغلوب ہیں قتل کر دو یا جلا دو یا کِسی کو لُوٹ لو نام پر مذہب دھرم کے خوب من مانی کرو ہوتا ہے قانون اندھا یہ تو سُنتے آئے ہو گُونگا اور بہرا بھی اب یہ ہو گیا ہے دیکھ لو جو یہاں قانون سے کھیلے وہی سَرتاج ہے خود سَری ، مَن مانی چاروں اور جنگل راج ہے اِس طرح اِنصاف کا پہیہ گُھماتے جاؤ تم جو ہے مُجرِم بے قصور اُس کو بتاتے جاؤ تم حوصلہ فِرقہ پرستوں کا بڑھاتے جاؤ تم قومی یکجہتی کو مِٹّی میں مِلاتے جاؤ تم سِکھ مُسلماں ہِندو عیسائی نہ مِل کر رہ سکیں الغرض اب بھائی سے بھائی نہ مِل کر رہ سکیں سَر ہِمالہ کا جُھکے تم حرکتیں ایسی کرو ایکتا کا خون کر دو قتلِ آزادی کرو دیش میں سُکھ شانتی کے بات نفرت کی کرو ہم پسِ پردہ تمہارے ساتھ ہیں کچھ بھی کرو

محبت کس کو کہتے ہیں

صنم جی آج کہیے نا  محبت کس کو کہتے ہیں محبت کونسی شے ہے مگر اِک بات ہے چاہت  زمانے کے رِواجوں سے ذرا ہٹ کے مجھے کہنا عقیدت کے حِجابوں کو پَرے رکھ کے مجھے کہنا  محبت کس کو کہتے ہیں  اُصولِ عصر مت کہنا  کہ محبت اک تجارت ہے وہ جس میں شِرک ہوتے ہیں مُسلسل کُفر ہوتے ہیں سِتمگر ، بد عہد پھر بھی فسانے، ڈُھونگ رچتے ہیں مجھے تم سے محبت ہے صرف تم سے محبت ہے میں اِس دنیا سے نا واقف  مجھے کچھ بھی نہیں معلوم مگر اب کچھ تو کہتے ہیں صرف ناراض مت ہونا مجھے بد عہد مت کہنا محبت ایک عبادت ہے جفائیں جس میں ہوتی ہیں  شرک ہر گز نہیں ہوتے خطائیں ہو بھی سکتی ہیں کفر ہر گز نہیں ہوتے وفا کا ایک پروانہ مہر سی ایک شمع کو  جھلس کر راکھ ہوتے بھی مروت کی صدا دیتا ہے

سوشل میڈیا پرالیکشن کی مزاحیہ شاعری

اے ہمارے رب!  الیکشن میں شیر کو پنجرے میں رکھنا  سائیکل کو رستے میں رکھنا  کتاب کو بستے میں رکھنا  تیر کو کمان میں رکھنا  ترازو کو دکان میں رکھنا  بیٹ کو میدان میں رکھنا  پتنگ کو آسمان میں رکھنا  اور ہمیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا ۔۔۔۔    پر چھائیاں  ساحرؔ لدھیانوی ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لیے ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے تو اس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں جنوں کی ڈھال ہوئی ایٹمی بلاؤں سے زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں  

نظمیں

خواہش دھوپ کچھ اونچے مکانوں پہ آگئی ہے ابھی یہ پرندے بھی گھونسلوں کی طرف اُڑانیں بھرنے کو بے تاب نظر آتے ہیں ہوائیں نیم کے پتوں سے چھن کے آتی ہیں چاند کی پہلی کرن  پھوٹنا چاہتی ہے ابھی اُفق سے رنگ کوئی دودھیا سا آناہے شام کے چہرے پہ اُتر جانا ہے پاس بیٹھو کہ ذرا پیار کی باتیں کر لیں   کتنے دن کتنے مہ و سال کے بعد  آئے ہو یہاں اب ذرا دیر سہی رک جاؤ کچھ تو بولو کہ  خموشی کوئی باقی نہ رہے درد بانٹو کہ مرے دل کو چین آجائے   یہ آبشار یہ کہسار ناؤ یہ پتوار تھکے تھکے سے یہ چرواہے بکریوں کی قطار نظر کے سامنے یہ کیسی وادئ گلنار دھوپ پیڑوں پہ سرسراتی ہے شام پانی میں مسکراتی ہے تم جو آئے تو دریچے دل کے نرم آہٹ سے وا ہونے لگے آپ آؤ کچھ د