نعت

 ارض وسماء میں چار سُو فیضانِ نعت ہے فرقانِ لا یزال ہی شایانِ نعت ہے   مدح و ثنائے خواجہ ہو دورانِ نیم شب اشکِ سحر گہی سے ہی عرفانِ نعت ہے   شعروادب کی نوع میں محدود کب رہا "ہر شعبہ حیات میں امکانِ نعت ہے"   عشقِ نبیؐ فزوں سے فزوں تر ہے قلب میں  یہ میرا جذب و کیف بھی احسانِ نعت ہے   میں بے ہنر ہوں تابِ سخن کی طلب مجھے  ارمان کوئی ہے تو بس ارمانِ نعت ہے   ڈاکٹر جوہر قدوسی مدیر ششماہی "جہان حمدونعت"   سفید کتوبر   افسانہ

قطعات

تیغ ہیں اور بے نیام ہیں آنکھیں کس کے قتل کا انتظام ہیں آنکھیں کچھ توازن تو ہو معرکے میں اک نظر میں ہی انتقام ہیں آنکھیں �۔�۔�۔� اپنی نظر سے اُتر جانا، تم نہ سمجھو گے کیا ہے غم میں مر جانا، تم نہ سمجھو گے تم نے راہیں چھانٹی ہیں،تم ڈراؤ راہوں سے کیا ہے خود سے ڈر جانا، تم نہ سمجھو گے    شھزادہ فیصل منظور خان موبائل نمبر؛ 8492838989

پائی کا پیڑ

میں نے بھی بچپن میں سٹاپو کھیلا تھا۔ پائی کے پیڑ کے پاس پائی کے ٹک شاپ کے اندر بیٹھے امیر بچے آلو،مٹر،چھولہ پوری اور ڈبل بسکٹ کھاتے تھے اور میں روز کی ملی چوّنی سے ایک چوّنگم خریدتی تھی اور پھر دن بھر اسی کو چباتی رہتی میٹھا ختم ہونے کے بعد بھی پھینکنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ پھر اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی سکول سے چھٹی کے وقت میری کن پیٹوں اور سر میں درد ہوتا تھا۔ دن بھر کے چبانے کی مشقت کا صلہ مجھے ہر روز یہی ملتا تھا۔ پائی کے پیڑ کے ساتھ بڑی یادیں منسوب ہیں۔ ہم لکڑ لکڑ کھیلتے تھے تو ہر دو پھیروں کے بعد پائی کے پیڑ کی باری آتی اور تبھی کوئی نہ کوئی آوٹ ہوجاتا کیونکہ اُس پیڑ کے قریب کوئی دوسرا پیڑ نہ تھا۔ یوں تو وہ دیودار کا پیڑ  تھا خدا جانے وہ بونا کیوں تھا؟ مگر ہم بچوں میں بے حد مقبول تھا اور اب سنا ہ

تازہ ترین