سوشل میڈیا پرالیکشن کی مزاحیہ شاعری

اے ہمارے رب!  الیکشن میں شیر کو پنجرے میں رکھنا  سائیکل کو رستے میں رکھنا  کتاب کو بستے میں رکھنا  تیر کو کمان میں رکھنا  ترازو کو دکان میں رکھنا  بیٹ کو میدان میں رکھنا  پتنگ کو آسمان میں رکھنا  اور ہمیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا ۔۔۔۔    پر چھائیاں  ساحرؔ لدھیانوی ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لیے ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے تو اس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں جنوں کی ڈھال ہوئی ایٹمی بلاؤں سے زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں  

نظمیں

خواہش دھوپ کچھ اونچے مکانوں پہ آگئی ہے ابھی یہ پرندے بھی گھونسلوں کی طرف اُڑانیں بھرنے کو بے تاب نظر آتے ہیں ہوائیں نیم کے پتوں سے چھن کے آتی ہیں چاند کی پہلی کرن  پھوٹنا چاہتی ہے ابھی اُفق سے رنگ کوئی دودھیا سا آناہے شام کے چہرے پہ اُتر جانا ہے پاس بیٹھو کہ ذرا پیار کی باتیں کر لیں   کتنے دن کتنے مہ و سال کے بعد  آئے ہو یہاں اب ذرا دیر سہی رک جاؤ کچھ تو بولو کہ  خموشی کوئی باقی نہ رہے درد بانٹو کہ مرے دل کو چین آجائے   یہ آبشار یہ کہسار ناؤ یہ پتوار تھکے تھکے سے یہ چرواہے بکریوں کی قطار نظر کے سامنے یہ کیسی وادئ گلنار دھوپ پیڑوں پہ سرسراتی ہے شام پانی میں مسکراتی ہے تم جو آئے تو دریچے دل کے نرم آہٹ سے وا ہونے لگے آپ آؤ کچھ د

نظمیں

نظم یہ آشیاں یہ گلستاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے ارض وطن ہندوستان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   اس ملک کی تہذیب تو میری بھی ہے تیری بھی ہے تاریخ میں نام و نشاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   یہ خون جو ہوتے ہیں اکثر تیرے میرے نام پر یہ خون تو اے جانِ جاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   مذہب، سیاست، رنجشوں کی دوریوں کے باوجود کوئی رشتہ درمیان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   کس طرح سے قائم رہے امن و سکوں امن و اماں اس دور میں یہ امتحاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے    کے ڈی مینی پونچھ،جموں وکشمیر  موبائل نمبر؛8493881999     سامراجی طاقتیں آدمیّت کُش ستمگر سامراجی طاقتیں سینہ زور اور کینہ پرور سامراجی طاقتیں امن کے ہر شہر میں کرتی ہیں پیدا روز و شب  وحشت

اِنتخابی جنگ

ہو گیا اعلان جب سے انتخابی جنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا   چھل کپٹ کی عادی جنتا کو لُبھانے کے لئے دُم ہِلاتے دیکھے جائیں گے سیاسی بھیڑئے چہروں پر چہرے لگا کر نِکلیں گے بہروپئے جو بنائیں گے ہمیں خود کو بنانے کے لئے   خوب دورہ ہوگا اب تو ماہرِ نَیرنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا   کھوٹے سِکّے دھرم مذہب کے چلائے جائیں گے جو بھی ہیں ناراض اور رُوٹھے منائے جائیں گے اپنے اپنے ڈھنگ سے چکّر چلائے جائیں گے سبز باغ اندھوں کو بھی اب تو دِکھائے جائیں گے   دیدنی اب ہوگا منظر جوش اور اُمنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا خیریت اپنے پرائے سب کی پوچھی جائے گی جو ہے بُنیادی ضرورت پُوری وہ کی جائے گی جال سڑکوں کا بِچھے گا بِجلی بھی دی جائے گی روٹی کپڑا اور مکا

کڑوا سچ

مجھے دنگوں میں الجھا کر فسادی قوی اپنے مراسم کر رہے ہیں   وہ اک دوجے کی چاہت میں مگن ہیں میرے بچے  الجھ کر مررہے ہیں   ابھی طے کرنے ہیںکتنے مراحل زباں پر لانے سے بھی ڈر رہے ہیں   میرے کاندھوں پہ بندوقیں چلا کر وہ اپنے منھ کو کالا کر رہے ہیں   نوالہ منہ سے میرے چھین کر اب! مرے کھیتوں میں دیکھو چر رہے ہیں   مجھے روٹی سمجھ کر بانٹنے میں یہ دو بندر گھٹالہ کر رہے ہیں   آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ        

لائحہ عمل

ظلم کا سیلاب تو ہم کو بہا کر لے گیا نا اُمیدی میں نہ ہم کو ڈگمگانا چاہئے اہلِ حق اور اہلِ عرفاں کی کریں تعظیم ہم دوسروں سے بھی ادب اُن کا کرانا چاہئے خصلتِ بد سے کرے گر ہم پہ کوئی ظلم بھی  اس سے بھی برتائو اپنا مخلصانہ چاہئے ظلم اور بُغض و حسد کرتا ہے دنیا کو تباہ اس جلی دنیا کو شفقت سے سجانا چاہئے سب سے ہم برتائو نرمی سے کریں اخلاق سے طَور اپنا تو نہ ہرگز جاہلانہ چاہئے یہ بڑی بدکاری و بدخصلتی کی بات ہے دل کسی کا بھی نہ دنیا میں دُکھانا چاہئے اتنہا پر ہم اگر جائیں تو یہ اچھا نہیں سارے کاموں میں وطیرہ درمیانہ چاہئے کام لوگوں کے بنانا عہدہ داروں کا ہے فرض کرکے حق تلفی نہ اُن کو پھر ستانا چاہئے دل سبھی کا جیت لیں ہم نیکی و اخلاق سے یہ مقام انساں کے دل میں ہم کو پانا چاہئے شفقت و انسانیت میں ہار ہی تو جیت ہے ج

سانحہ النور مسجد نیوزی لینڈ

اس درجہ خوفناک لہو کی تھی سرخیاں خود سے پناہ مانگتی پھرتی تھی بجلیاں منظر تمام خون کی رنگت سے  بھر  گئے گنبد کے  آس پاس  بکھرتی  تھی تتلیاں بارود بھر  کے آگ بکف  آندھی اک  چلی کربل کی طرح خیمہ جلا  دل کا  آشیاں آمد تھی ہر طرف سے جو موسم بہار کی اُزتری شجر شجر پہ خزاؤں کی زردیاں نفرت کی، ہے، فضا نے مسخّر کیا چمن  یا  سرد  پڑگئی ہیں  محبت کی گرمیاں آہوں کی صرصریں کہ ہیں اشکوں کی بارشیں پھر مشتہر فلک پہ وہی دُکھ کی عرضیاں شیداّؔ دلوں کو پھر سے محبت کا درس دیں انسانیت کا رکھ کے صحیفہ ہی درمیاں   علی شیداؔ (نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد کشمیر،9419045087  

دعاء

دعاء مغز عبادت ہے بڑا اعزاز رکھتی ہے خلوصِ دل سے ہو توطاقتِ پرواز رکھتی ہے دعاء محبوب ہے رب العلیٰ کو اپنے بندوں کی بہت مقبول ہوتی ہے رکوع کی اور سجدوں کی دعاء قرآن کی رونق دعاء یہ جانِ قرآں ہے  دعاء فرمانِ قرآں ہے دعاء عرفانِ فرقاں ہے دعاء قرآن کا سہرا دعاء ہے تاج قرآں کا دعاء ہے حسن قرآں کا دعاء ہے مغز فرقاں کا دعا انعام ہے، اکرام ہے، اعزاز اور احساں جہنم سے رہائی خلد میں جانے کا ہے ساماں دعاء مومن کا ہے ہتھیار اور ہے ڈھال مومن کی بناتی ہے دعاء یوں زندگی خوش حال مومن کی دعاء بندوں کو ہر دم شکر کا خُوگر بناتی ہے دعاء ہی ہے جو مشکل میں ہر اک کے کام آتی ہے دعاء بندوں کو رب سے قرب کا انعام دیتی ہے ہو چاہے نیک و بد سب کو بڑا اکرام دیتی ہے دعاء میں بندۂ ناچیز جب بھی گڑگڑاتا ہے کرم کو ربِ کعبہ کے بڑا ہی جوش آت

تیرے وصل کی راہ میں

تیرے شہر میں مر جائیں  یا تیرے وصل کی راہ میں یہ بھی کبھی تھی منزلیں تیرے وصل کی راہ میں   اب تو قدم ہیں بے خبر دل کی نگاہٍ شوق سے اور دل کی نگاہ ہے بے خبر رفعت آہ ذوق سے اور کھڑے ھیں جس مقام پہ وہ جذبوں کی ذات سے بے خبر   اٹھے جو قدم اس ہوش میں  ہاں اس نیم مردہ جوش میں تم ہی بتاؤ کدھر کو ہیں تیرے وصل کی راہ میں   طالبِ علم،جی-ایم-سی،سرینگر موبائل نمبر؛8492838989                

ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری

ہوئی برف باری جو اِمسال ہے، زمانہ ہوا اُس سے بے حال ہے بِچھا ہر طرف برف کا جال ہے، عمارت گِری اور پامال ہے ہر اِک شے تلے برف کے ہے دھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری نہیں برف ہے اِک یہ سیلاب ہے، کِتابِ حوادث کا اِک باب ہے جہاں جو بھی ہے،ہے مقّید وہیں، مِلن ایک دوجے کا اِک خواب ہے مُلاقات باہم ہے خطروں بھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری جہاں پر بھی جس کی ہے کُٹیا کھڑی، وہ ہے برف میں پوری پوری گڑھی مکینوں میں اُفتاد ایسی پڑی، کہ ہے زندگی بس گھڑی دو گھڑی ہے ہر آنکھ میں آنسوئوں کی جھڑی ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری نہ پانی نہ پاور نہ ٹی وی بحال، نہ ہے فون زندہ نہ لکڑی کا ٹال مَیں کیا ابتری کی دوں اپنی مثال، نہ آٹا نہ چاول نہ ہے گھر میں دال ہے اوپر سے سردی بھی کیا سرپھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری بھرے باغ سیبوں کے ہیں بے ثمر، چناروں کی شاخی

نظمیں

تکان کی چادر میں چھوٹا سا اک گھونسلہ ہے یہاں وقت کی ڈال پہ میرا زندگی بھر کے ہنگاموں کو سمیٹے ہوئے تنکے تنکے پہ کہانی ثبت کئے جہاں خاموشیوں کو گویائی کھلائی ہے میں نے نہتے پنکھوں میں اڑانیں پروئی رُتوں کے تغیّر وتبدل کی جدول سجائی میقات کی ٹِک ٹِک سے رنگ، خوشبو، ہوائیں، بجلیاں،دندھ، دھوپ ، بارشیں چلے گئےسب  اپنا اپنا تماشہ دکھا کر  بوجھل کررہا ہے اب میرے وجود کو اپنے خالی پن کا احساس وہ توتلی خاموشیاں، وہ نازک معصوم پنکھ اپنی اپنی دِشائیں لے کر  منزلوں کی تلاش میں نکلے اپنے خوابوں کے گھونسلے مٹھی میں سموئے  اور میں ....! اپنی تکانیں اوڑھ کر سونا چاہتا ہوں اپنی یادوں کے گھونسلے میں دیر تلک سوچوں کا سفر پسارے خلاؤں سے کہہ دو سارے روزن بند کرلے ..!   علی شیدّا

جنگ آخر جنگ ہے, اِس کو ہے کیا؟

 ہے فضائے امن میں آلودگی پُر مجاول ہے یہاں ماحول پھر ہو نہ ہو پھر سے وبا پھیلے کوئی بے سبب مخلوق کا ہو پھر زیاں ہے نہیں لازم کہ مابیں جنگ ہو جنگ آخر جنگ ہے، اس کو ہے کیا جا بجا بکھریں گے پھر یہ جسم وجاں  خاک میں لتھڑیں گے پھر معصوم رُو مسجد و مندر کے پھر دیوار و در شکلِ آدم کے لئے ہوں بے صبر خون کا جہلمؔ بہے یا سندھؔ پھر رنگ میں ہوں گے یہ دونوں ایک رنگ پھر شبستانوں کا بدلے گا مزاج کونپلیں ہوںگی سراسر نیم جاں اور ہوں گی بستیاں ماتم کدہ الخلق کلہم عیاں اﷲ ہے جب پھر یہ دعوائے جدل ہے کس لئے جب کبھی کھاتی زمیں ہے ضربِ جنگ مدتوں رہتی ہے یہ پامال سر توڑتی ہیں دم سبھی زرخیزیاں ہوتا ہے دہقان پھر محتاجِ مال تین جنگوں کا ہوں میں شاہد عُشاقؔ میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے بس حشر سامانی کا ماخذ ج

جنگ سے نفرت ہے ہمکو

جنگ سے نفرت ہے ہمکو ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے جنگ سے نفرت ہے ہمکو     ہم مُخالِف ایٹمی ہتھیاروں کے اور بَم کے ہیں ہم مُخالِف خون میں ڈُوبے ہُوئے پَرچم کے ہیں ہم مُخالِف خونِ ناحق اور شور و شَر کے ہیں جنگ سے نفرت ہے ہمکو نسلِ آدم سِسکے تڑپے معذور و مظلوم ہو سُرخ سائے موت کے ناچیں بساطِ زِیست پر ہم نہ ایسا ہونے دیں گے  شعلے بھڑکیں لہلہاتے کھیتوں سے اُٹّھے دُھواں سُوکھ جائے کوکھ اِس دھرتی کی اور یہ بانجھ ہو ہم نہ ایسا ہونے دیں گے لاش خود اپنی اُٹھائے کاندھوں پر ماتم کرے تِلمِلائے فاقوں سے اِنسان گُھٹ گُھٹ کر مرے ہم نہ ایسا ہونے دیں گے مانگ ہو سُونی کِسی کی یا کِسی کی اُجڑے گود جیتے جی مَر جائے کوئی ، کوئی ہو جائے یتیم  ہم نہ ایسا ہونے دیں گے کالی آندھی خوف و دہشت کی نہ چلنے دی

نظمیں

آئینہ کشمیر عجب رسمیں، عجب دستور ہیں کشمیر کے اندر یہاں جینا بہت مشکل ہے اک انسان کی خاطر  کسی بیٹی کو گر بچہ خدا نے دے دیا تو پھر  پڑی رہتی ہے سارا سال جا کے اپنی ماں کے گھر اگر بیٹی کو اپنی ماں نہ لے تو عمر بھر طعنے سناتے ہیں اسے سسرال والے رات دن اکثر مطابق رسم کے میکے چلے جانا ہے بیوی کا  بگڑ جاتی ہے ساسو ماں اگر جانے نہ دے شوہر  بہو کو اپنی بیٹی کی طرح رکھتا نہیں کوئی  بہو کے واسطے دل کی جگہ رکھتے ہیں سب پتھر  بہو بھی ساس کو ماں کی طرح عزت نہیں دیتی سمجھتی ہے وہ اپنی ساس کو جیسے کوئی نوکر  تمنّا اپنی بیٹی کے لئے کرتے ہیں خوشیوں کی  بہو پر ہر طرح کے ظلم ہم سارے روا رکھ کر  بہو کو تنگ کرنا بن گیا معمول لوگوں کا  مرے کشمیر کی بیٹی کا جینا ہو گیا دوبھر کہیں پر باپ بیٹ

نظمیں

شب و روز گزرتے جاتے ہیں لمحہ لمحہ بکھر جاتا ہے کسک ہے کہ بنتی نہیں سانسیں بھی چھپتی نہیں قضا منظر ہے اس قدر پھر بھی چند سانسوں کی بھیک چند لمحوں کا ساتھ اُمید بن کر میرے ڈھلتے وجود کو سہارا دیئے میری بجھتی آنکھوں کو روشن رکھ کر نہ جانے کب سے میرے انتظار میں خاک ہو کر بھی ۔۔۔ زندہ ہے ابھی ۔۔۔   تبسم ضیاء خاکہ بازار،حول،سرینگر، 9906627974   اس موسم کا حال نہ پوچھو کرتا کیا ہے کمال نہ پوچھو کانپ اُٹھی ہے دِلّی ساری کیسا ہے بھوپال نہ پوچھو آنگن، صحن، دیواریں، پانی بن جائیگا زوال، نہ پوچھو گھر میں سب کو قید کیاہے چلا ہے ایسی چال، نہ پوچھو برف کی چادر ہرسو دیکھو کیسی لگے سُرتال نہ پوچھو دُبکے بیٹھے چُھپ کے سارے کھینچے سردی کھال نہ پوچھو سب کو ہی یہ یاد رہے گا کیسا ہ

نظمیں

سوچتاہوں کبھی کبھی یوں ہی چاند راتوں کو جاگتا کیوں ہے نیند آنکھوں سے بھاگتی کیوں ہے رات بستر پہ ڈولتی کیوں ہے یاد تنہا اُداس موسم میں میرے اندر سے گونجتی کیوں ہے کون پیتا ہے بوند بوند مجھے ہر لمحہ بڑھتی تشنگی کیوں ہے جانتا ہوں کہ تُو نہیں میرا پھر تجھی سے یہ دوستی کیوں ہے؟   سوچتا ہوں کبھی کبھی یوں ہی !   کے ڈی مینی پونچھ،9469557901       رات ہوتے ہی  ذہن کی وادی میں یادوں کی برکھا ہوتی ہے اُمڈ کے آتے ہیں حادثے دن کے، دل کے ویران نگر میں چلنے لگتی ہیں برفیلے موسم کی ہوا، رات ہوتے ہی کرنے لگتا ہوں تاروں کا حساب، آنکھوں کی زر خیر مٹی پر اُگنے لگتے ہیں سُہانے خواب بھولے بسرے چہرے روبہ رو ہوتے ہیں کچھ شکایت اُن کی، کچھ میری

درد ناک عذاب

میں کھو گئی تھی کس جہاں میں خیالوں کے میدان میں اچانک سے کیا ہوا میں ڈر گئی سہم گئی میں چیختی میں چلاتی میں پوری دنیا کو بتلاتی ہائے یہ کیا ہوگیا میری آواز رک گئی میری سانسیں تھم گئیں آنکھوں سے خون بہنے لگا دل بے تحاشا دھڑکنے لگا وہ گود میں میرے پڑی وہ بے تحاشا رو پڑی ہائے میں لٹ گئی میں زندہ کیوں ہوں مر کیوں نہ گئی وہ آہ وزاری کرنے لگی درد سے وہ تڑپنے لگی زخم وہ گہرے تھے مگر کسی کو نہ آئے نظر سچائی سے تھے سب آشنا سامنے کوئی نہ آسکا دولت سے تھا انکا دبدبہ ہمارے پاس تھا بس نامِ خدا ہم ہار نہ جاتے ہرا ئے گئے ہر موڑ پر ڈرائے گئے سینے میں تب جو زخم لگا وہ  ناسور اب بننے لگا وہ یادیں ہمیشہ آتی ہے وجود کو میرے بکھیرتی ہے خون جب آنکھوں سے بہنے لگتا ذہن میں میرے

شاعرِ گمنام

معتبر شاعر وہی ہے اب نگۂ عام میں جو بتوں کے گیت گاتا ہے کھڑا اہرام میں عصرِ نو میں شاعری کا اک یہی پیمانہ ہے شعر کہنا ہو تو کہہ دو آپ طرزِ خام میں کون کہتا ہے کہ رہتا ہے سماں یکساں مزاج فرق ہے کیفِ صبح میں اور لُطفِ شام میں کھولتا ہے وجد میں شاعر رموزِ کائنات بانٹتا ہے اِن کو اکثر جا کے جائے عام میں قابلِ توصیٖف دنیا میں ہے شاعر کا وجود گو مکیٖں ہوتا ہے اکثر گوشۂ گُمنام میں گھومتا رہتا ہے اس کا ذہن شرق و غرب میں اک متاعِ جستجو رہتی ہے اسی کے دام میں لکھتے لکھتے خونچکاں ہوتی ہیں اس کی انگلیاں جانبِ قدرت یہی اس کو مِلا انعام ہے سجدہ ریزی در پہ اسکے کررہے ہیں معتبر گُم نگہ! عُشاقؔ کو رکھیو تو جنسِ عام میں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

دریا

 دریا کب کچھ کہتا ہے دریا سب کچھ سہتا ہے دریا خودہی بہتا ہے دریا خود میں رہتا ہے دریا کس کی سُنتا ہے دریا رستہ چُنتا ہے دریا کا کیا مطلب ہے دریا تھا دریا اب ہے دریا کا کیا مذہب ہے دریا کھیتی کا رب ہے دریا نام رضا کا ہے دریا دوست خُدا کا ہے دریا پیاس کے اُوپر ہے دریا باس کے اُوپر ہے دریا آس کے اُوپر ہے دریا یاس کے اُوپر ہے دریا دھوپ سے آگے ہے دریا روپ سے آگے ہے دریا نام نہیں رکھتا دریا بام نہیں رکھتا دریا دام نہیں رکھتا دریا کام نہیں رکھتا دریا گہرا ہے تو ہے دریا ٹھہرا ہے تو ہے دریا نغمے گاتا ہے دریا دل بہلاتا ہے دریا دل دہلاتا ہے دریا کچھ سمجھاتا ہے دریا سب کچھ کھا تا ہے دریا کا کیا جاتا ہے   فاروق احمد فاروقؔ اقبال کالونی انچی ڈورہ اننت ناگ

نظمیں

انسان الٰہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں گُناہوں سے بچنا میں یوں چاہتا ہوں ہے فتنوں سے لبریز سارا زمانہ نہ جانے میں اکثر یہ کیوں بھولتا ہوں یہاں تختِ منصف پہ بیٹھے ہیں ظالم ہے مظلوم بے بس یہ میں جانتاہوں ہے رسموں کی پابند دُنیا ہماری یہ اِصراف سارے کہاں چاہتا ہوں ہے بازو کے بل پر مچی لوٹ ہر سُو میں دنیا میں حق کی ادا چاہتا ہوں ہے فرقوں میں تقسیم اُمت نبیؐ کی حقیقت کا رستہ میں یوں ڈھونڈتا ہوں سنبھل جائے،بگڑا ہے انسان، اک دن خدایا میں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں کوئی باپ بیٹی کو زحمت نہ سمجھے میں نعمت خدا کی اُسے مانتا ہوں اُمیدوں پہ قائم مظفر ؔ ہے دنیا سنور جائے جلدی، دعا مانگتا ہوں   حکیم مظفر حسین باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر موبائل نمبر؛9622171322   عافیت مجھے جنگل سے بستی لے نہ جا