نظمیں

شب و روز گزرتے جاتے ہیں لمحہ لمحہ بکھر جاتا ہے کسک ہے کہ بنتی نہیں سانسیں بھی چھپتی نہیں قضا منظر ہے اس قدر پھر بھی چند سانسوں کی بھیک چند لمحوں کا ساتھ اُمید بن کر میرے ڈھلتے وجود کو سہارا دیئے میری بجھتی آنکھوں کو روشن رکھ کر نہ جانے کب سے میرے انتظار میں خاک ہو کر بھی ۔۔۔ زندہ ہے ابھی ۔۔۔   تبسم ضیاء خاکہ بازار،حول،سرینگر، 9906627974   اس موسم کا حال نہ پوچھو کرتا کیا ہے کمال نہ پوچھو کانپ اُٹھی ہے دِلّی ساری کیسا ہے بھوپال نہ پوچھو آنگن، صحن، دیواریں، پانی بن جائیگا زوال، نہ پوچھو گھر میں سب کو قید کیاہے چلا ہے ایسی چال، نہ پوچھو برف کی چادر ہرسو دیکھو کیسی لگے سُرتال نہ پوچھو دُبکے بیٹھے چُھپ کے سارے کھینچے سردی کھال نہ پوچھو سب کو ہی یہ یاد رہے گا کیسا ہ

نظمیں

سوچتاہوں کبھی کبھی یوں ہی چاند راتوں کو جاگتا کیوں ہے نیند آنکھوں سے بھاگتی کیوں ہے رات بستر پہ ڈولتی کیوں ہے یاد تنہا اُداس موسم میں میرے اندر سے گونجتی کیوں ہے کون پیتا ہے بوند بوند مجھے ہر لمحہ بڑھتی تشنگی کیوں ہے جانتا ہوں کہ تُو نہیں میرا پھر تجھی سے یہ دوستی کیوں ہے؟   سوچتا ہوں کبھی کبھی یوں ہی !   کے ڈی مینی پونچھ،9469557901       رات ہوتے ہی  ذہن کی وادی میں یادوں کی برکھا ہوتی ہے اُمڈ کے آتے ہیں حادثے دن کے، دل کے ویران نگر میں چلنے لگتی ہیں برفیلے موسم کی ہوا، رات ہوتے ہی کرنے لگتا ہوں تاروں کا حساب، آنکھوں کی زر خیر مٹی پر اُگنے لگتے ہیں سُہانے خواب بھولے بسرے چہرے روبہ رو ہوتے ہیں کچھ شکایت اُن کی، کچھ میری

درد ناک عذاب

میں کھو گئی تھی کس جہاں میں خیالوں کے میدان میں اچانک سے کیا ہوا میں ڈر گئی سہم گئی میں چیختی میں چلاتی میں پوری دنیا کو بتلاتی ہائے یہ کیا ہوگیا میری آواز رک گئی میری سانسیں تھم گئیں آنکھوں سے خون بہنے لگا دل بے تحاشا دھڑکنے لگا وہ گود میں میرے پڑی وہ بے تحاشا رو پڑی ہائے میں لٹ گئی میں زندہ کیوں ہوں مر کیوں نہ گئی وہ آہ وزاری کرنے لگی درد سے وہ تڑپنے لگی زخم وہ گہرے تھے مگر کسی کو نہ آئے نظر سچائی سے تھے سب آشنا سامنے کوئی نہ آسکا دولت سے تھا انکا دبدبہ ہمارے پاس تھا بس نامِ خدا ہم ہار نہ جاتے ہرا ئے گئے ہر موڑ پر ڈرائے گئے سینے میں تب جو زخم لگا وہ  ناسور اب بننے لگا وہ یادیں ہمیشہ آتی ہے وجود کو میرے بکھیرتی ہے خون جب آنکھوں سے بہنے لگتا ذہن میں میرے

شاعرِ گمنام

معتبر شاعر وہی ہے اب نگۂ عام میں جو بتوں کے گیت گاتا ہے کھڑا اہرام میں عصرِ نو میں شاعری کا اک یہی پیمانہ ہے شعر کہنا ہو تو کہہ دو آپ طرزِ خام میں کون کہتا ہے کہ رہتا ہے سماں یکساں مزاج فرق ہے کیفِ صبح میں اور لُطفِ شام میں کھولتا ہے وجد میں شاعر رموزِ کائنات بانٹتا ہے اِن کو اکثر جا کے جائے عام میں قابلِ توصیٖف دنیا میں ہے شاعر کا وجود گو مکیٖں ہوتا ہے اکثر گوشۂ گُمنام میں گھومتا رہتا ہے اس کا ذہن شرق و غرب میں اک متاعِ جستجو رہتی ہے اسی کے دام میں لکھتے لکھتے خونچکاں ہوتی ہیں اس کی انگلیاں جانبِ قدرت یہی اس کو مِلا انعام ہے سجدہ ریزی در پہ اسکے کررہے ہیں معتبر گُم نگہ! عُشاقؔ کو رکھیو تو جنسِ عام میں   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

دریا

 دریا کب کچھ کہتا ہے دریا سب کچھ سہتا ہے دریا خودہی بہتا ہے دریا خود میں رہتا ہے دریا کس کی سُنتا ہے دریا رستہ چُنتا ہے دریا کا کیا مطلب ہے دریا تھا دریا اب ہے دریا کا کیا مذہب ہے دریا کھیتی کا رب ہے دریا نام رضا کا ہے دریا دوست خُدا کا ہے دریا پیاس کے اُوپر ہے دریا باس کے اُوپر ہے دریا آس کے اُوپر ہے دریا یاس کے اُوپر ہے دریا دھوپ سے آگے ہے دریا روپ سے آگے ہے دریا نام نہیں رکھتا دریا بام نہیں رکھتا دریا دام نہیں رکھتا دریا کام نہیں رکھتا دریا گہرا ہے تو ہے دریا ٹھہرا ہے تو ہے دریا نغمے گاتا ہے دریا دل بہلاتا ہے دریا دل دہلاتا ہے دریا کچھ سمجھاتا ہے دریا سب کچھ کھا تا ہے دریا کا کیا جاتا ہے   فاروق احمد فاروقؔ اقبال کالونی انچی ڈورہ اننت ناگ

نظمیں

انسان الٰہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں گُناہوں سے بچنا میں یوں چاہتا ہوں ہے فتنوں سے لبریز سارا زمانہ نہ جانے میں اکثر یہ کیوں بھولتا ہوں یہاں تختِ منصف پہ بیٹھے ہیں ظالم ہے مظلوم بے بس یہ میں جانتاہوں ہے رسموں کی پابند دُنیا ہماری یہ اِصراف سارے کہاں چاہتا ہوں ہے بازو کے بل پر مچی لوٹ ہر سُو میں دنیا میں حق کی ادا چاہتا ہوں ہے فرقوں میں تقسیم اُمت نبیؐ کی حقیقت کا رستہ میں یوں ڈھونڈتا ہوں سنبھل جائے،بگڑا ہے انسان، اک دن خدایا میں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں کوئی باپ بیٹی کو زحمت نہ سمجھے میں نعمت خدا کی اُسے مانتا ہوں اُمیدوں پہ قائم مظفر ؔ ہے دنیا سنور جائے جلدی، دعا مانگتا ہوں   حکیم مظفر حسین باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر موبائل نمبر؛9622171322   عافیت مجھے جنگل سے بستی لے نہ جا

کانگڑ (کانگڑی)

حُسنِ زن کا شباب ہَے کانگڑ آپ اپنا جواب ہَے کانگڑ لوگ کہتے پھِرن کے اندر سے  زندہ رہنے کا باب ہَے کانگڑ کتنا کامل ہے ذہنِ کاشر کا اُس کی سوچوں کا خواب ہَے کانگڑ ایسے کرتے ہیں احترام اس کا جیسے گھر میں نواب ہَے کانگڑ گرم رکھتی ہے جوئے سردی کو کتنی عزّت مآب ہے کانگڑ اس کو تشبیہ دو صنفِ نازک سے حُسنِ فطرت کا خواب ہَے کانگڑ گاہے ہوتی ہے باعثِ فرحت گاہے جاں کا عذاب ہَے کانگڑ مختصر اسکے وصف میں لکھ دوں اک مکمّل کتاب ہَے کانگڑ کتنا خوش بخت عُشاقِؔ احقر ہے پاس اپنے جناب ہے کانگڑ   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

خون بہانا ممنوع ہے

ایوانِ عدالت اور ایوانِ حکومت سے فرمان ہوا جاری اعلان ہوا برپا۔۔۔ خون بہانا ممنوع ہے کتوں، بلیوں، چوہوں اور چور چکوروں، چڑیوں کا البتہ ان جسموں کا لہو بہانا جرم نہیں جو چُپکےچُپکے کہتے ہیں ہم بھی اِس دھرتی کے باسی جیسے تیسے جیتےہیں پیار کے نغمے گاتے ہیں ہنستے اور ہنساتے ہیں امن سے رہنا چاہتے ہیں امن سے رہنا چاہتے ہیں    کپوارہ،موبائل نمبر؛9906624123

نظمیں

بہ آمدہ سالِ نَو 2019   غنیمت ہے کہ سالِ نَو کا سوُرج حِصارِ وقت سے آزاد ہو کر مِثالی جِسم کا چہرہ لِئے اب اُبھر آیا ہے پھر نَو خیز سورج نئی اِک صبح کا اعلان کر کے جہانِ زیست کو باور یہ کر دے مَیں چھایا پھِر سے ہوں جامہ بدل کر ضیا پاشی کیا میری سحر کُن ہے مَیں اپنے نور کی چادر بکھیرے عروسِ نوَ کی صورت باغ و بَن کو متاعِ نور سے نوران کر کے حیاتِ نَو کو یہ بتلا رہا ہوں مِرا ہم عصرِ رفتہ بھول جائو یہ عصرِ نَو میں ابدی ہو چُکا ہے بہت مایوس کُن تاریخ اِس کی  مزاج اس کا بہت ہی فتنہ گر تھا رقم اس میں تھی قوموں میں تفاوت کہیں مندر کہیں مسجد کا جھگڑا شریعت، گائے اور بچھڑوں کا لپھڑا برس وہ نوٹ بندی کا سبب تھا کہ حیراں اس سبب پر آپ رب تھا گِرانی اور بے کاری نہ پوچھو ہنر مند شیشہ گر دستِ ن

ہستیٔ محروم

ہیں نہیں آزادؔ و عابدؔ اور ہیں محروُمؔ اب ہیں کِتابِ عصرِ نَو میں نقش یہ مرحوُم اب ہو مُبارک آپ کو ہی رونقِ بزمِ حیات واسطے اپنے یہ مطلق ہو گئی معدوم اب بعدِ مردن کون رکھتا ہے بھلا رشتوں کو یاد کون ہوتا کِس کی خاطر دوستو مغموم اب جیتے جی رُقعۂ مُشفق سے رہے محروم ہَم بعد مردن آ رہے ہیں سینکڑوں مرقوم اب زلف و عارض کے اسیروں کی یہ حالت الاماں کوستے رہتے ہیں اکثر اپنا ہی مقصوم اب کم نگاہی کے سبب ہم نے کبھی سوچا نہیں ہیں شکارِ گردشِ دوران ہم معصوم اب زندگی کی ابتداء اور انتہا ہوتی ہے کیا کر رہے ہیں دوستوں سے دوست یہ معلوم اب یہ تِرے ذوقِ تجسّس کا مِلا آخر صلہ ہو گئے ہستی سے اپنی آپ ہی محروم اب ہے دلِ عُشّاقؔ میں اتنی مگر حسرت ہنوز دیکھنا چاہتا ہوں پھر سے ریختہ کی دھوُم اب   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن

نعت

احمدؐہی ہر رسول سے اعلیٰ رسول ہے لازم ہر اِک نبی پہ اِتّباع قبول ہے اِرض و سما کا سارا یہ حُسن و جمال بھی احمد ؐکے پائے نازکی تھوڑی سی دُھول ہے تخلیقِ کائینات کا باعث بھی وہی ہے مدحت سے اُن کے ہوتی عبادت قبول ہے سجدے سے لامکاں تلک کیسے کیا سفر  اللہ کی عطائوں کا کیسا حصول ہے یہ معجزہ نبیؐ کا ہے ٹکڑے ہوا قمر مفلوج اس کے سامنے عقل و اصول رتبہ عظیم اُس کا ہے ہر اِک جہان میں وہ ساری کائینات کا واحد رسولؐ ہے ہوگا نہ عشق کیسے محمدؐ کی ذات سے مرضی ہے یہ خدا کی اور راضی رسولؐ ہے محشر کی سخیتوںکا مظفرؔ کو غم نہیں بس اک نگہ بہشتِ بریں کا حصول ہے   حکیم مظفر ؔحسین باغبانپورہ، لعل بازار سرینگر،موبائل نمبر؛9622171322

نظم

محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے ادا ہر اک تمہاری ہے جدا جاناں جو دیکھیں اندھے ہوجائیں فدا جاناں کہوں کیا؟ تُو بہت ہی خوبصورت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   سکوں ملتا ہے تیرے مسکرانے سے ہیں بہتے آنسوتیرے دور جانے سے نہیں سہہ پاتا ہوں تیری جدائی میں اے دلبر میرے، ہوں تیرا فدائی میں بہت ہی میرے دل کو تیری چاہت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   مجھے اکثر ستاتی یاد تیری ہے میرے بن جاؤ تم فریاد میری ہے یہی خواہش یہی دل کی تمنا ہے محبت میں تری خود کو مٹانا ہے تُو ہے تو تیرا شیدا یہ سلامت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   بھَلا دیکھوں میں کیونکر آئینہ یارا مجھے دکھتا ہے تیری آنکھوں میں سارا مری خاطر ترے دل میں بھی ہے الفت تو بھی ہر روز تکتا ہے مری صورت

طلوعِ خورشید

اندھیرا ڈوبنے کو ہے طلوع خورشید ہونا ہے ذرا سی دیر میں دیکھو مہک آنی چمن میں ہے  دھواں اب دور ہونا ہے  مساکن کا بھی یہ حلیہ سنورنے کو ہے یہ دیکھو فضاؤں میں چمک اپنی  بحال ہونے کو ہے آئی پھریرا روشنی کا پھر  میں لہرانے کو ہوں آیا   مگر دل تھام کر بیٹھو اندھری شاہراہوں پہ ہے اک طوفان آنے کو   کبھی پھر نامِ تاریکی  رہے نا دور تک باقی                                   طفیل شفیع طالبِ علم (MBBS  ) گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر  

بیٹی کی رخصتی

(وادی کے معروف افسانہ نگار شیخ بشیر احمدکی صاحبزادی کےعقدسعیدکے موقع پر)   اےمیری بیٹی مری لخت جگر پیار سے پالاہے تجھکو دل سےچاہا چاند کےڈولے میں رکھا تھا تجھے خواب سارے پھول کے بستر پہ تھے آج آئی وہ گھڑی رخصت کی جو ہر کوئی بیٹی کو ہوتی ہے نصیب ہاتھ میں مہندی رچائے گھر سے جب جاتی ہے وہ تب کلیجہ منہ کوآتا ہے ہراک ماں باپ کا آنسووں کے پالنے میں  تجھکو رخصت کر رہاہوں آج میں ماں نہیں تو کیا ہوا تیری ماں ہوں آج میں جا تیرے آنگن میں راحت کا اُجالا ہی رہے   یاد رکھنا میری بیٹی غم کی پرچھائیں، کسک، کوئی سا درد اپنی آنکھوں کے دریچے سے کبھی باہر نہ جائے   احمد کلیمؔ فیض پوری  موبائل نمبر؛ 8208111109  

نظمیں

قطعات دل تھا بہت یہ شاد مگر شاد نہ رہا آباد شہرِ عشق تھا آباد نہ رہا زخمی ہوا یہ ہاتھ تجھے چُھو کے اے گلاب! دامن میں تیرے کانٹے ہیں یہ یاد نہ رہا   سہل ہے اس دہر میںاب کوہ کنی میرے لئے غم کے سانچے میںڈھلی ہے ہر خوشی میرے لئے ظلمتوں کے بیچ آکر اس لئے محفوظ ہوں بے حیا اب ہوگئی ہر روشنی میرے لئے   دعویٰ نہ کر یوں عشق کا ہر شام ہر سحر بے باک پہلے سینے میں پیدا تو کر جگر دستورِ عشق تو نے کبھی بھی پڑھا نہیں کرنے چلا ہے عشق زمانے میںبے خبر   دل کو قرار جس سے تھا وہ یار مر گیا پیارا بھی تھا جو پیار سے وہ پیار مر گیا کس بے کسی سے جان دی شادابؔ نے نہ پوچھ پڑھ کر وہ تری یاد میں اشعار مر گیا   محمد شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر رابطہ؛9797103435     

صدا

سرخ پیرہن پہنے رو رہی ہے حپ حپ کے شبنم ! خون ہی خون بھرا ہے اس کی بلوریں آنکھوں میں جو بکھرتا جا رہا ہے چھاتی پہ اس کی اور منظر منظر تڑپتا ہے  خاموش! حالت نا گفتہ بہ پر اک سمے تھا جب کبھی آسمان کی سفید چادر پر سرخ لکیر کوئی ابھر کر آتی چیخ اُٹھتا تھادل دل۔۔۔! مگر۔۔۔۔۔! خون ہی خون بکھرا ہے  سبزہ زاروں ‘کوہساروں پر گرتے آبشاروں پر ادھر اُدھر۔۔۔۔۔۔۔۔! لالہ زاروںپر اور شبنم نہلائی جارہی ہے روز ہی۔۔۔۔۔۔! کوئی کسک   نہیںکوئی صدا۔۔۔۔۔۔۔!   دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847

نصیبِ دوستاں آئی

بصورت اِک عروسِ نَو یہ اُردُو کیا زباں آئی جِسے کہتا ہے عالم سب یہ کیا شیریں زباں آئی جو عرش و فرش میں ہم نے یہی ذکرِ زباں پایا مُہذب ہند میں اُردو بصورت کہکشاں آئی نئی تہذیب کا سوُرج ہُوا پھِر ضَو فِشاں اِس سے اَخوّت کا علم لے کر یہ کیا جادو بیاں آئی بہُت زرخیز مٹی ہے جہانِ ہِند کی عُشّاقؔ اِسی آنگن کے حِصّے میں نویلی یہ زباں آئی ایلورہؔ اور اجنتاؔ کی ہُوئی ہے یاد پھِر تازہ لِئے آغوش میں اپنی نئی اِک داستاں آئی بلا تفریق پالا ہے اِسے ہندو مُسلماں نے ترنگے میں اخوت کا لِئے باہم نِشاں آئی عجب الفاظ و معنی کی زباں میں تابداری ہے اماں کیا تان میں اِن کی اُبھر کر کہکشاں آئی لگا کر یوں گلے اِس کو یہاں پر صوفی سنتوں نے بدولت اِن کی کاوش کے یہاں شعری زباں آئی سُنا ہے کشتِ کشپؔ میں لگا اُردو کا میلہ ہے غنیمت ہے سعاد

کوئی تو ہے!

 میں کنارے پر بڑی دیر سے من ہی من یہ سوچتا ہوں سمندر نہ جانے  کتنی ندیوں کا پانی اپنے اندر سموئے رکھتا ہے مگر یہ کون ہے جو سمندر کواور اس کے کھارے پانی کو اپنے اندر سموئے رکھتا ہے کون ہوسکتا ہے کوئی تو ہوگا جو سمندر سے بھی زیادہ وشا ل ہے طاقت ور ہے؟   ساگر نظیر  ژُکر پٹن کشمیر موبائل نمبر؛9797016202  

گوشہ عاشورہ

آنسو شبِ عاشور اندھیروںنے بہائے آنسو شکرِ مولا میں جیالوں نے بہائے آنسو خیمۂ شہ ؑ میں صحابوں نے بہائے آنسو گویا طیبہ کے چراغوں نے بہائے آنسو وہ چھلکتے ہوئے آنسو وہ الم ناک تڑپ وہ جفائیں کہ دعائوں نے بہائے آنسو سرپٹختی ہی رہی ان کے لئے نہرِ فرات ایسے تشنہ کہ کناروں نے بہائے آنسو مجلسیں، مرثیہ، ماتم، یہ سبیلیں، یہ جلوس چار سُو چاہنے والوں نے بہائے آنسو اُف وہ آنسو جو بہے چودہ صدی سے پیہم جن پہ تاریخ کے صفحوں نے بہائے آنسو آپ کے غم کا ہر اک اشک ہے بخشش کی نوید اس لئے جملہ غلاموں نے بہائے آنسو دیکھ کر ثانی زہراؑ کا فسردہ چہرہ شام غربت میں اسیروں نے بہائے آنسو پائے شبیرؑ پہ سر رکھ کے اجازت کے لئے باغِ زینبؑ کے گلابوں نے بہائے آنسو کربلا میں تھا اے آثمؔ وہ بلائوں کا ہجوم تا اَبد غم کی ہوائوں نے ب

نعت

وہ ہٹانے کے لئے دُنیا سے ظلمت آگئے دو جہانوں کے لئے وہ بن کے رحمت آگئے مومنوں کے واسطے فخرِ رسالت آگئے ہے مکمل دین کہ ختمِ نبوت آگئے بندگی کا فلسفہ ہم کو پڑھانے آگئے  وہ سکھانے ہم کو آدابِ عبادت آگئے صوم،روزہ،حج ،سخاوت اور یہ تو حید بھی لے کے مسلم کے لئے رب کی ہدایت آگئے دُشمنوںکی سب ہی چالیں خاک میں ملتی رہیں جب  وہ مکے سے مدینہ کرکے ہجرت آگئے شافعٔ محشربھی وہ ہیں ساقی ٔ کوثر بھی وہ بے تحاشاکرنے اُمت سے محبت آگئے ہے صلہ ایمان کا یہ ہے صلہ توحید کا لے کے جنّت کی نبی ؐ رب سے بشارت آگئے   عبدالجبّاربٹ 169،گوجر نگر ،جموں موبائل نمبر؛9906185501  

تازہ ترین