نظمیں

انسان الٰہی میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں گُناہوں سے بچنا میں یوں چاہتا ہوں ہے فتنوں سے لبریز سارا زمانہ نہ جانے میں اکثر یہ کیوں بھولتا ہوں یہاں تختِ منصف پہ بیٹھے ہیں ظالم ہے مظلوم بے بس یہ میں جانتاہوں ہے رسموں کی پابند دُنیا ہماری یہ اِصراف سارے کہاں چاہتا ہوں ہے بازو کے بل پر مچی لوٹ ہر سُو میں دنیا میں حق کی ادا چاہتا ہوں ہے فرقوں میں تقسیم اُمت نبیؐ کی حقیقت کا رستہ میں یوں ڈھونڈتا ہوں سنبھل جائے،بگڑا ہے انسان، اک دن خدایا میں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں کوئی باپ بیٹی کو زحمت نہ سمجھے میں نعمت خدا کی اُسے مانتا ہوں اُمیدوں پہ قائم مظفر ؔ ہے دنیا سنور جائے جلدی، دعا مانگتا ہوں   حکیم مظفر حسین باغبان پورہ، لعل بازار سرینگر موبائل نمبر؛9622171322   عافیت مجھے جنگل سے بستی لے نہ جا

کانگڑ (کانگڑی)

حُسنِ زن کا شباب ہَے کانگڑ آپ اپنا جواب ہَے کانگڑ لوگ کہتے پھِرن کے اندر سے  زندہ رہنے کا باب ہَے کانگڑ کتنا کامل ہے ذہنِ کاشر کا اُس کی سوچوں کا خواب ہَے کانگڑ ایسے کرتے ہیں احترام اس کا جیسے گھر میں نواب ہَے کانگڑ گرم رکھتی ہے جوئے سردی کو کتنی عزّت مآب ہے کانگڑ اس کو تشبیہ دو صنفِ نازک سے حُسنِ فطرت کا خواب ہَے کانگڑ گاہے ہوتی ہے باعثِ فرحت گاہے جاں کا عذاب ہَے کانگڑ مختصر اسکے وصف میں لکھ دوں اک مکمّل کتاب ہَے کانگڑ کتنا خوش بخت عُشاقِؔ احقر ہے پاس اپنے جناب ہے کانگڑ   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ رابطہ  ـ:  9697524469  

تازہ ترین