غزلیات

غم ہے ہمیں کیوں غم نہیں ہے یہی غم ، وہ کہیں، کیا کم نہیں ہے   اُڑا دے دھجیاں ہر بات کی وہ ہماری بات میں کیا دم نہیں ہے    اسے ہر حال میں کٹنا  پڑے گا ہمارا سر جو ہوتا خم نہیں ہے   ہمارا لازمی رسوا ہے ہونا ہمارے حق میں جو ہمدم نہیں ہے   کہاں ر خسار پہ آنسوں ٹکیں گے گُلوں پر ٹھہرتی شبنم نہیں ہے   خزاں کے بعد آتی ہیں بہاریں سدا اک سا رہے موسم نہیں ہے   یقیں اُس پر کرے گا کون انجمؔ جو رہتا وعدے پہ قائم نہیں ہے   پیاساانجمؔ رابطہ؛ریشم گھر کالونی جمّوں،موبائل نمبر؛7889872796       زندگی بد سلوک شہزادی ہو بھی سکتی ہے چوک شہزادی! سسکیوں سے محل نہ ٹوٹے گا اور شدت سے کُوک شہزادی آبھی جائے گا کیا ضروری ھے کوئی سی

تازہ ترین