غزلیات

تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا   جھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا   تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا   نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا   کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا   اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا   سردار جاوید خان پتہ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر ؛9419175198     میرے سر پر آج بھی آکر ٹھہرا تھا سورج درد کی حدّت پر دیتا سا  پہرا تھا  سورج   پ

تازہ ترین