تازہ ترین

غزلیات

تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا   جھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا   تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا   نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا   کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا   اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا   سردار جاوید خان پتہ مہنڈر، پونچھ موبائل نمبر ؛9419175198     میرے سر پر آج بھی آکر ٹھہرا تھا سورج درد کی حدّت پر دیتا سا  پہرا تھا  سورج   پ

غزلیات

نہ دل نہ جسم مرے رابطے میں کوئی نہیں  غبارِ رہ  کے سوا  راستے میں کوئی نہیں    ابھی تو چاند کی بولے گی خود پرستی اور  شبِ انا کے سوا فائدے میں کوئی نہیں    سفر سفر میں رہی ساتھ آبلہ پائی  جنونِ دل کے سوا قافلے میں کوئی نہیں    اُڑان بھر بھی گئے وہ سبھی پرندے اب  اُجاڑ رُت کے سوا گھونسلے میں کوئی نہیں    فضا نے پھول کے رخ پر چھڑک سی دی شبنم  ہوا نہ رُت نہ صباء قائدے میں کوئی نہیں    زبانِ زیست پہ جیسے مٹھاس بکھری ہے  مذاقِ دل کے سوا ذائقے میں کوئی نہیں    ہماری آنکھ کو بھایا نہیں کوئی عادل ؔ نگاہِ یار کے بھی زاویئے میں کوئی نہیں    اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل

غزلیات

یہ جو اِنبِساط ہے  چار دن کی بات ہے    ہر قدم پہ مات ہے  بس یہی حیات ہے    باقی سب ڈھکوسلہ  اِک خدا کی ذات ہے    سب اُسی کے کھیل ہیں  دِن کہیں پہ رات ہے    تجھ سے کیا مقابلہ  تُو اندھیری رات ہے    اِس جفا پرستی میں  کون خوش صِفات ہے    مختصر سی بات ہے  زیست ہی ممات ہے    اِندرؔ اِس زمانے میں  کون کِس کےساتھ ہے    اِندرؔ سرازی  پریم نگر، ضلع ڈوڈہ، جموں  موبائل نمبر:  7006658731     جہاں پر بپھری لہروں سے کنارا بات کرتا ہے  سفینے سے وہاں طوفاں کا دھارا بات کرتا ہے   خدا ناراض ہونے سے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں خدا

غزلیات

وہ جو دن رات یوں بھٹکتا ہے جانے کس کی تلاش کرتا ہے دل بھی اس کا ہے جگنوؤں جیسا شام کے وقت جلتا بُجھتا ہے سامنے بیٹھا ہے مگر پھر بھی لب ہے خاموش، کچھ نہ کہتا ہے ہنس کے رونا، اُداس ہو جانا کیا پتہ کس کو پیار کرتا ہے دل جو لگ جائے غیر کے دل سے پھر سنبھالے کہاں سنبھلتا ہے یاد آ جاتا ہے وہی چہرہ چاند بادل سے جب نکلتا ہے چارہ گر کو خبر کرو کوئی تنہا بسملؔ کا دل تڑپتا ہے    پریم ناتھ بسملؔ مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار رابطہ۔8340505230     نہ گل باقی نہ گلشن میں ثمر کوئی  فقط کانٹوں پہ کرتا ہے بسر کوئی  کبھی پتھر، کبھی افلاک کی زد میں  ثمر افشاں ہوا جب سے شجر کوئی  ستارے کُو بہ کو پھیلے کہ جگنو،شب  مرے در پر گرا لیکن  شرر کوئی  زمین اتن

غزلیات

 بے کلی بڑھ گئی ہے پہلے سے کاش کرتے علاج پہلے سے خوب  اعلان لا علاجی کا ہم یہی کہہ رہے ہیں پہلے سے اب تو لہجے کی کاٹ کچھ بھی نہیں یہ تو بہتر ہوئی ہے پہلے سے خار چوکس ہیں گُل کے پہلو میں ہیں تو گُلچیں سے وہ بھی دہلے سے باغباں آکے بس یہ کہتے ہیں آشیاں جل رہا تھا پہلے سے اِن چراغوں کی روشنی دیکھو تیرگی بڑھ رہی ہے پہلے سے خوب وعدے وعید خواب سراب یہی تو ہو رہا ہے پہلے سے   ڈاکٹر ظفر اقبال بلجرشی الباحہ سعودی عرب موبائل 00966538559811     تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا جُھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خ

غزلیات

 کچھ اور میرے غم کے سوا دیجیے مجھے بیمارِ آرزو ہوں دوا دیجیے منزل کو ڈھونڈھنے کا پتہ دیجیے مجھے کاندھوں پہ ہے سفر تو دعاء دیجیے مجھے مجھ رہ نوردِ شوق پر احسان کیجیے شمعِ رہِ حیات بنا دیجیے مجھے صحرائے زندگی میں کِھلا دیجیے گُلاب پھولوں کی پنکھڑی سے سجا دیجیے مجھے جب تک  جلوں گا روشنی کرتا رہوں گا میں تاریکی چاہیے تو بُجھا دیجیے مجھے میں جارہا ہوں لوٹ کر واپس نہ آؤں گا  ممکن اگر ہے آپ بُھلا دیجیے مجھے سچ بولنے کا پھر سے کیا میں نے ارتکاب سچائی گر خطا ہے سزا دیجیے مجھے مجھ سے اگر تعلقِ خاطر ہے آپ کو  وہ چاند آسمان کا لا دیجیے مجھے میں جاں بہ لب ہوں شمسؔ کے دیدار کیلئے آبِ حیاتِ دید پلا دیجیے مجھے   ڈاکٹر شمسؔ کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نم

غزلیات

کرکے فریاد شب و رُوز ہیں ہارے آنسو  کس کو فُرصت ہے کہ پلکوں سے اُتارے آنسو  دشتِ تنہائی میں منزل جو دکھا دیتے ہیں  اُن کے رُخسار پہ لگتے ہیں ستارے آنسو  پیاس جسموں کی ہمارے نہ بُجھی کیوں اب تک روز آیئنے سے پوچھیں یہ کنوارے آنسو  ساری دھرتی کو جزیروں میں بدل ڈالیں گے  مل کے بیٹھے جو کسی روز یہ سارے آنسو  دل کو حالات کہیں اور نہ پتھر کردیں  کاش لوٹادے کوئی ہم کو ہمارے آنسو  ایک مُدت سے کنارے پہ نہیں وہ اُترا  جس کی فُرقت میں بہاتے ہیں شکارے آنسو  بے دلی سے بھی جو مانوسؔنے کھینچا دامن کس کے گھر جائیں گے یہ درد کے مارے آنسو   پرویز مانوس ؔ آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر  موبائل 9622937142    غمِ فُرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے

غزلیات

آیا جو خیال بھی تو منفی  پوچھا جو سوال بھی تو منفی    تھا خود وہ غزال بھی تو منفی  تھی اس کی اُچھال بھی تو منفی    سر چڑھ کے جادو بولا تھا  دل پر تھا وبال بھی تو منفی    سورج کو نابینا سمجھا  دی اس نے مثال بھی تو منفی    آنکھ میں کیسے بھرتے جلوے  تھا اس کا جمال بھی تو منفی    سرخ کِھلا تھا گُل گلدان میں  رخ پر تھا جلال بھی تو منفی    سوچوں پہ لگے پہرے عادل ؔ آیا تھا خیال بھی تو منفی    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ ؛9906540315       ہر لمحہ اپنے دور کا خنجربکف رہا اپنا وجود اس کے ستم کا ہدف رہا   ہیرے مسرتوں کے تراشے

غزلیات

غمِ فْرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے غموں کا اسقدر بڑھنا علاجِ غم نہ ہو جائے   بڑی مْشکل سے میں نے آب دی ہے تیغِ قاتل کو سنبھل کر دیکھنا یہ آنکھ پھر سے نم نہ ہو جائے   زمانے کی تھکن لے کر یہاں تک آ تو پہنچا ہے ترے در پر یہ دیوانہ کہیں بے دم نہ ہو جائے   ذہن میں گونجتی ہیں اب بھی چیخیں حْسن بانو کی کہیں پھر سے کوئی بہرام زیرِ چھم نہ ہو جائے   اگر سجدہ ہی لازم ہے تو کعبہ اور کلیسا کیوں جبیں چوکھٹ پہ تیری پھر بھلا کیوں خم نہ ہو جائے   جدائی کا یہ موسم اور میری  تشنگی  جاویدؔ مری آنکھوں کا یہ دریا مْجھی میں ضم نہ ہو جائے   سردارجاویدخان  پتہ؛ مہنڈر، پونچھ،رابطہ؛ 9419175198     غزل سانسوں پہ اپنی جیسے مسلط ہے دوڑ دھوپ چھاؤں اُتارتا ہ

رحمتِ عالمؐ

پیغام دے گئے ہیں ہمیں رحمتِ عالمؐ چُھوٹے نہ ہاتھوں سے کبھی توحید کا پرچم   ناکام و نامُراد سب ابلیس کی چالیں  پیوستہ دل میں ہو اگر ایماں تمہیں محکم   اُس رب کی مُعرفت کا جسے جام ہو حاصل   ہر سو نوازا جائے گا انوار سے پیہم   ہو دل میں جس کے جاگزیں اک نعمتِ تقویٰ دربارِ الٰہی میں وہ انساں ہے مُعظّم   باتوں میں اُجالا ہوجسکے، دل میں اندھیرا   وہ روح شب و روز رہے درہم و برہم    طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛9596416377                

الیکشن 2019

لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ کھیل تماشا دکھانے والے   نمک زخموں پر چھڑکنے والے  نئی اسکیموں سے بہکانے والے   معصوموں کو بھڑکانے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ اب کی بار کس کی سرکار ؟   لوگوں میں ہے یہ ہاہاکار ! کوئی بھی جیتے میرے یار   ہمارے واسطے بس ہے مار  امن و امان کو پھونکنے والے   انسانیت پر تھوکنے والے  جذباتوں کو کوٹنے والے   لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ وعدوں کا نیا خزانہ ہوگا   بات چیت کا بھی بہانہ ہوگا  خود مختاری، سیلف رول، آٹونومی !   کیا ایسا بھی کوئی زمانہ ہوگا ؟ سب وعدوں کو بھولنے والے   مظلوموں پر کوسنے والے  35-Aکو توڑنے والے &nb

غزلیات

طاقوں سے رفتگاں کے دئیے کون لے گیا ہر ایک پوچھتا تھا ارے کون لے گیا   ڈرتا ہوں پستیوں کی طرف دیکھنے سے بھی اتنی بلندیوں پہ مجھے کون لے گیا   تمثیلیں، استعارے، تراکیب اور طرز سامان شعر سے یہ مرے کون لے گیا   لایا تھا بحرِ خواب کی تہہ سے میں ایک لعل آنکھوں سے مری رات رہے کون لے گیا   دل کھوگیا تھا اس کا مجھے دیکھ کر کہا کیوں بولتا نہیں تو ابے کون لے گیا   نخلِِ سکوتِ فکر کے پتے رفیق ؔراز تازہ تھے اور تھے وہ ہرے کون لے گیا   رفیق رازؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9622661666   غزلیات عشق سے گر گزر چکے ہوتے کب کے ظالم تو ڈر چکے ہوتے   فیصلہ ہوگا قتل کر کے ہی تم جو کہتے تو کر چکے ہوتے   چھین کر چین چہروں سے اب تک زخم یہ کب کے بھر چکے ہوتے

غزلیات

میری پلکوں پہ نئے دیپ جلانے آئے  میرے آنسو ہی مرا ساتھ نبھانے آئے ہم تو جسموں کی کبھی کرتے نہیں ہیں پوجا  دل کے قدموں پہ  فقط پھول چڑھانے آ ئے  کچھ نئے خواب نگاہوں کے نگر میں ٹوٹے  حوصلے پھر مرے تعبیر بتانے آئے  تیری پلکوں پہ کبھی اشک نہ دیتے دستک   تیری آنکھوں سے فقط سرمہ چرانے آئے  استعاروں کے شوالے میں عقیدت سے اب  چند بیتابِ سخن دیپ جلانے آئے  اس کی آنکھوں میں مرے اشک سماتے کیسے  میرے آنسو تو یہاں عید منانے آئے  ہم نے آواز تو پھولوں کو فقط دی عادل ؔ خار ہی ہم سے مگر ہاتھ ملانے آئے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315     طبعیت کو تمہاری کیا ہوا ہے مجھے بتلاؤ آخر ک

غزلیات

 کبھی اپنے کبھی اغیار نظر آتے ہیں سائے بھی کتنے پُراسرار نظر آتے ہیں   اب نئے شہر کا نقشہ نہ بنایا ہو کہیں پھر اُجڑتے ہوئے گھر بار نظر آتے ہیں   جان لیتے رہے دیتے بھی رہے جن کے لئے آج وہ مسئلے بے کار نظر آتے ہیں   معجزہ یہ بھی سیاست کا کوئی کم تو نہیں دو نہیں ہوتے مگر چار نظر آتے ہیں   جس نے جو چاہا وہی چھین لیا ہے ہم سے اب تو کوئی لُٹا بازار نظر آتے ہیں   وقت نے چہرے پہ وہ کاریگری کی بلراجؔ آج ہم بھی کوئی شہکار نظر آتے ہیں   بلراج بخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303       سر پھرا میں سر فدا کرتا رہا زندگی کے شوق میں مرتا رہا زخم کھا کر درد اک سہتا رہا

غزلیات

کھولی کلی نے بند ابھی تک  قبا نہیں  طائر کا انتظار بھی لیکن تھکا نہیں    بنیاد جس کی سنگِ عداوت پہ ہو کھڑی  نقشے پہ دل کے ایسا کوئی گھر بنا نہیں    پرواز جس کی اَمن کی سرحد پہ تھم گئی  پھر ہاتھ وہ سفید کبوتر لگا نہیں    چادر فلک کی بانٹ دی اسلاف نے مگر  تقسیم کرگئے ہیں یہ دھرتی، ہوا نہیں    احساس الفتوں کا وہی ہے ابھی تلک  دونوں نے بیچ دی ہے محبت، اَنا نہیں    آواز جارہی ہے سُلگنے کی دور تک  آتش لگی ہے شہر میں لیکن جلا نہیں    سیلاب آگیا ہے عداوت کا ہر طرف  طوفان تیرے دل میں ابھی تک اُٹھا نہیں    اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل  سرینگر کشمیر ،موبائل نمبر؛9906540315  

غزلیات

اُجلی صورت ہو کہ مَیلی صورت کِس میں پِنہاں نہیں تیری صورت اے سمندر تو ہے پانی صورت پھِر بھی ہے کیوں تِری پیاسی صورت ایک مسکان چھپا لیتی ہے میری ہر بار ہی رونی صورت لوگ پہچانیں مجھے چہرے سے اور میری کوئی دوجی صورت روح ہوتی ہے اگر لافانی جِسم ہے ایک گھڑے کی صورت اُس کو محسوس ہی کر سکتے ہیں ہے خُدا بھی تو ہَوا کی صورت مرض اپنا بھی نرالا ہے میاں زہر لگتا ہے دوا کی صورت آنکھ والے تو یہی کہتے ہیں غم سے ملتی ہے خوشی کی صورت وقت ذہنوں سے مٹا دیتا ہے میٹھی یادیں ہوں کہ اچھی صورت جسم ہے زرد ہوا سونے سا اور سر ہو گیا چاندی صورت دور ہونے کے بہت رستے ہیں ایک ملنے کی بھی ہوتی صورت   دیپک آرسیؔ 203/A، جانی پور ،جموں، 9858667006     نمایاں کیا، پس منظر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو  نسلِ آدم کا خون ہے آخر  جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں  امن عالم کا خون ہے آخر  بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر  روح ِتعمیر زخم کھاتی ہے  کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے  زیست فاقوں سے تلملاتی ہے  ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں  کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے  فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ  زندگی میتوں پہ روتی ہے  جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے  جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی  آگ اور خون آج بخشے گی  بھوک اور احتیاج کل دے گی  اس لئے اے شریف انسانو ! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے  آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں  شمع جلتی رہے تو بہتر ہے  برتری کے ثبوت کی خاطر  خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے  گھر کی تاریکیاں م

غزلیات

دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حسنِ فطرت سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ہم کو ہر گام پہ پتھر کے خریدار ملے  شیشۂ دل کی  تجارت نہیں کی جاسکتی  یہ تو تہذیب کا ہے دور صدی امن کی ہے  اب حریفوں سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ورنہ محشر کی صدا عہد مرا دیتا ہے  حشر سے پہلے قیامت نہیں کی جاسکتی  بغض اور کینہ یہی کام شریفوں  کا ہے  اب شریفوں سے شرافت نہیں کی جاسکتی  جن کے جلوؤں میں محبت کی تمنا بھی نہ ہو  ان پہ برباد بصارت نہیں کی جاسکتی  کوئی چھپ کر پسِ دیوار ہے بیٹھا عادل ؔ سامنے والے سے حجت نہیں کی جاسکتی    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315     دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حس

قطعات

خداکے لئے مُسکرایا بھی کر! محبت کے جوہر دکھایا بھی کر   غموں کی کڑکتی ہوئی دھوپ میں کسی غم زدہ کو سنایا بھی کر!     عاجزی معجزے دکھاتی ہے خاک کو کیمیا بناتی ہے   سرکشوں کو یہ کوں سمجھائے؟ سرکشی سر کے بل گراتی ہے     لے اثر تُو بھی کسی بات کا  مسئلہ ہے تیری اپنی ذات کا   روشنی کا تُو بھی کچھ سامان کر قبر کی تنہا اندھیری رات کا   ماسٹرعبدالجبار گنائی موبائل نمبر؛8082669144  

خیال اب کیا خیال ہے؟

ریاست کے نامور صحافی، قلمکار و شاعر غلام نبی خیالؔ نے 4 مارچ 1939کو اس عالم ہست وبود میں اپنی آنکھ کھولی۔ اس طرح آج کے دن اُن کی عمر عزیز کے 80سال مکمل ہورہے ہیں۔ پبلک جھپکتے گزری ان آٹھ دہائیوں میں انہوں نے کیا کچھ محسوس کیا ہے، اُس کے اجتماعی علامتی احساس کا اظہار انہوں نے اپنے 81ویں جنم دن کے لئے کہے دو اشعار میں کیاہے، جو ادب نامہ کے قارئین و شائقین کی طرف سے مبارکباد کے ساتھ درج ذیل ہیں۔  (مدیر ادب نامہ)   سائے سمٹے، تارے ٹوٹے، سحر ہوئی پھر لال پل بھر میںایسے ہی بیتے عمر کے  اسّی سال صبح ہوئی تو خاک زدہ تھی، شام بھی گریاںتھی  کن ہاتھوں نے لکھی ہے میری تقدیرخیال؟   غلام نبی خیالؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9419005909