تازہ ترین

غزلیات

نہ دل نہ جسم مرے رابطے میں کوئی نہیں  غبارِ رہ  کے سوا  راستے میں کوئی نہیں    ابھی تو چاند کی بولے گی خود پرستی اور  شبِ انا کے سوا فائدے میں کوئی نہیں    سفر سفر میں رہی ساتھ آبلہ پائی  جنونِ دل کے سوا قافلے میں کوئی نہیں    اُڑان بھر بھی گئے وہ سبھی پرندے اب  اُجاڑ رُت کے سوا گھونسلے میں کوئی نہیں    فضا نے پھول کے رخ پر چھڑک سی دی شبنم  ہوا نہ رُت نہ صباء قائدے میں کوئی نہیں    زبانِ زیست پہ جیسے مٹھاس بکھری ہے  مذاقِ دل کے سوا ذائقے میں کوئی نہیں    ہماری آنکھ کو بھایا نہیں کوئی عادل ؔ نگاہِ یار کے بھی زاویئے میں کوئی نہیں    اشرف عادلؔؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل