تازہ ترین

غزلیات

ایک تتلی نے گلابوں سے شرارت کی ہے  اس پہ خوشبو نے ہر اک پھول سے ہجرت کی ہے    کہتے ہیں خار نے کلیوں کی تجارت کی ہے  حق یہ ہے پھول نے گلشن سے عداوت کی ہے    ہم نے تہذیب کے اوراق پہ لکھا ہے فقط  ہم نے اردو کے رسالوں کی ادارت کی ہے    ہم تو سورج کی طرح ڈوب گئے مغرب میں ہم نے اخلاق کی قدروں سے بغاوت کی ہے    آنکھ کا سرخ ہوا رنگ شبِ غم کی قسم  آتشِ چشم نے ایسے بھی ریاضت کی ہے    آنکھ سے اشک کو بہنے نہ دیا کس نے، بتا ؟ چشمِ نم نے غمِ فرقت کی حفاظت کی ہے    کل سیاست پہ عنایت کی تھی ہم نے عادل ؔ آج کچھ ہم پہ سیاست نے عنایت کی ہے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315 &nbs