غزلیات

اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  چراغوں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    سنو آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن  صبا کو سر اُٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    مٹائے گا  مگر کیسے محبت  آدمی دل سے پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی  ہواؤں کو سِکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بڑی مشکل سے جُڑ جاتا ہے من کا آئینہ عادل ؔ کسی کا من دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشرف عاد

تازہ ترین