تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   سوال: گذارش یہ ہے کہ قرآن کریم بغیر وضو چھونے کی حدیث نقل فرمایئے۔ یہ حدیث کون کون سی کتاب میں ہے اور یہ بتائیے کہ چاروں اماموں میں سے کس امام نے اس کو جائز کہا ہے کہ قرآن بغیر وضو کے چھونے کی اجازت ہے۔ میں ایک کالج میں لیکچرار ہوں، کبھی کوئی آیت لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ امید ہے کہ آپ تفصیلی و تحقیقی جواب سے فیضیاب فرمائیں گے ۔ فاروق احمد قرآن کریم کو بلاوضو چھونے کی اجازت نہیں جواب: بغیر وضو قرآن کریم ہاتھ میںلینا، چھونا،مَس کرنا یقینا ناجائز ہے۔ اس سلسلے میں حدیث ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم صرف باوضو انسان ہی چھوئے۔ یہ حدیث نسائی، دارمی، دارقطنی، موطا مالک صحیح ابن حبان،مستدرک حاکم اور مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شمبہ میں موجو د ہے نیز بیہقی اور معرفتہ السنن میں بھی ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیری

ارشاد  باری ہے : ترجمہ: بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور جو شخص اسلام کے بغیر کوئی اور دین لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔( سورہ آل عمران ۔۔۔آیت ۲۰ ) امام العصر اور محدث کبیر کا ذکر خیر ہو رہا ہو تو لامحالہ زبان پر بے ساختہ یہ شعر آتا ہے   ؎  زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا کہ نطق نے بوسے خود میری زبان کے لئے گوکہ علامہ کشمیری کی بلند پایہ علمی شخصیت اور ذات والاصفات سمیناروںاور مباحثوں سے بہت ہی بلند وبالا تر ہے، تاہم یہ بات عالم اسلام کیلئے بالعموم اور اہل کشمیر کیلئے بالخصوص قابل فخر ہے کہ علامہ انور شاہ کا  وطنی تعلق اسی وادیٔ کشمیر سے ہے ۔ غالباً ساتویں دہائی میں اوقاف اسلامیہ ( مسلم وقف بورڈ )کشمیر کے اہتمام سے سرینگر میں علامہ کے عظ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ محکمہ بجلی کے شیڈول کے مطابق بجلی میٹر والے علاقوں میں فل وولٹیج والی 24گھٹنے کی بجلی فراہم ہوناچاہئے لیکن ان میٹر والے علاقوں میں بھی بجلی کی لمحہ بہ لمحہ آنکھ مچولی سے عوام الناس بالخصوص درمیانہ اور غریب طبقوںکی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی کی اس آنکھ مچولی کے باوجود بھی بجلی کے بل توقع سے کئی گنازیادہ آتے ہیں ۔ اس صورت میں قلیل آمدنی والے ایک عیال دار شخص کی کمائی کا ایک اچھا خاصا حصہ بجلی فیس کی ادائیگی میں بے جا طور پر خرچ ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بجلی ہکنگ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے قلیل آمدنی والے عیال دار شخص کو کیا کرنا چاہئے؟ سوال:۔ جمعہ کو کون سی اذان ( یعنی پہلی یا دوسری) کے بعد کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم ہے؟ کئی کاروباری ادارے یا دکانیں دو مسجدوں کے درمیان واقع ہوتے ہیں اور ان اداروں یا دکانوں میں کام کرنے والے کارکنان بار ی

ذمہ دارانِ مدارس اور والدین سے

مالویہ نگر بیگم پور دلی علاقہ میں واقع وقف بورڈ کی مسجد ہے ،اس میں مدرسہ بھی قائم ہے، حال ہی میں ایک معصوم طالب علم کو کسی جھگڑے کے دوران شہید کردیاگیا۔اس الم ناک واقعہ سے قبل بھی مختلف علاقوں میں مدارس کے طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ اور تشدد کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔افسوس صد افسوس مدارس سے محبت کرنے والے مخیر حضرات اگر اپنے قیمتی اوقات میں سے تھوڑی بہت فرصت نکال کر مدارس کا دورہ کریں ، ذمہ دارانِ مدارس سے صلح مشورہ کرکے طلباء کرام کی تعلیم وتربیت اور حفاظتی انتظامات میں دست ِتعاون پیش کریں ، اہل محلہ بھی ذمہ دارانِ مدارس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مدارس کی تعمیر وترقی میں مالی تعاون کے ساتھ ساتھ دیگر ہنگامی ضروریات کا بندوبست بھی ان کے شامل حال رہے تو بہت حد تک ایسے باگفتہ بہ حالات رونما ہونے سے رہ جائیں گے۔یہ بات محتاج تشریح نہیں کہ قوم کی تعمیر وترقی میں ہر فرد کی شرکت لازمی ہے ، محض

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:-نمازوں کے اوقات میں کافی وسعت ہے۔ اس وسیع وقت میں ہم اوّل وقت میں بھی نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخری وقت میں بھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ افضل کیا ہے ۔ کون سی نماز اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اور کون سی نماز دیر سے یعنی نمازکی تعجیل وتاخیر کے متعلق اسلام کا حکم کیاہے ؟ محمد یوسف شیخ سوپورکشمیر نماز میں تعجیل وتاخیر  جواب:-نماز کے اوقات کاوقت آغاز اور وقت اختتام دونوں کی تفصیل وتعین احادیث میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے ۔ اوقات نماز میںچونکہ وسعت ہے کہ اوّل وقت سے لے کر آخر تک اتنا وقت ہوتاہے کہ ادائیگی نماز کے باوجود کافی وقت باقی رہتاہے ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتاہے کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے یا درمیانِ وقت میں یا آخری وقت میں ۔اس سلسلے میں بھی احادیث میں پوری تفصیل موجود ہے ۔ اس کا اجمالی بیان یہ ہے ۔ نماز فجر کی ادائیگی کا افضل وقت کیاہے

عبادت کی زینت تواضع اور اعتدال

اللہ  کاارشاد ہے :    ’’ہم (سب بندے)تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘(سورۃ الفاتحہ آیت:5)۔ اللہ خالق کائنات نے بے حد و شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، بعض مخلوقات ایسی ہیں جن کا ہم ادراک کرسکتے ہیں اور بعض ایسی کہ جو ہماری قوتِ ادرک و قوتِ باصرہ  سے ماوراء ہیں لیکن ہر مخلوق کو اللہ نے کسی خاص مقصد کے لئے ہی پیدا فرمایا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جو بے فائدہ بے مقصد اور عبث ہو ۔ سورج چاند، زمین و آسمان، دن ، رات، حجر و شجر، بحر وبر سمیت جملہ مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اُسے اَحسن طریقہ سے نبھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے کے لئے مسخر فرمایا ہے، تاکہ کائنات کا نظام بہترین ڈھنگ سے چل سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مخلوقات میں انسان کو اَشرف اور قابل احترام و لائقِ عزت بنایا ہے م

پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

تاریخِ انسانی کی نمائش گاہ میں کافی بڑی بڑی شخصیات کا ظہور ہوا جنہوں نے انسانوں کی علمی اور عملی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے،جنہوں نے انسانی زندگی کی مجموعی ساخت کو متاثر کیا ،جنہوں نے انسانوں کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو بدل ڈالا،جنہوں نے تاریخ میں ایک ہلچل پیدا کی ،جنہوں نے تاریخ کو اپنے نام کر دیااور تاریخ کے دھانے کو موڑنے کی کوشش کی ۔ایسی شخصیات ہی عبقریت اور عظمت کا تاج پہن کر لوگوں کے دلوں میں ایک محترم مقام پیدا کرتی ہیں ۔ایسی شخصیات کی زندگیاں عوام الناس کے لئے قابلِ التفات ہوا کرتی ہیں ۔ان عظیم انسانوں کی تعمیر کس ڈھنگ پر ہوتی ہے ،یہ سوال محققین کے نزدیک تحقیقی موضوع ہوا کرتا ہے ۔ایسی شخصیات کی تعمیر میں متعدد عوامل کو دخل ہوتا ہے۔ دنیانے عظیم مفکروں، فلسفیوں،سائنسدانوں ،قانون دانوں، سیاست دانوں ،فاتحین ، شہنشاہوں وغیرہ کو دیکھا بھالا ،ان شخصیات نے اپنے مواقع اور وسائل کا صحیح اس

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:بڑی مقدار میں نمونے کی ادویات ڈاکٹر کوSample بھی فراہم کرتی ہیں اور آئے روز طرح طرح کے تحفے (Gift)بھی دیتی ہیں۔ اس سب کا مقصد ایک تو یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی اپنی ضروریات پوری کرناہوتا ہے لیکن دوسرا اہم مقصد ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اس کمپنی کی دوائی مریضوں کو تجویز کرے۔اس طرح کمپنی کی دوائی زیادہ سے زیادہ فروخت ہوگی۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کمپنی کے یہ گفٹ اور samples رشوت کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کمپنیاں سود پر قرضے لے کر کام کرتی ہیں۔ اسی کاروبار سے وہ گفٹ بھی دیئے جاتے ہیں بلکہ کمپنیاں علم طب کے بارے میں بڑے بڑے سمینار منعقدکراتی ہیں یا ان کوSponserکرتی ہیں ان سمیناروں میں شرکت اس کے لئے ڈاکٹروں کو سفر خرچ بھی دیتی ہیں کیا سب لینا ڈاکٹروں کیلئے جائز ہے ؟ ڈاکٹر منصور احمد۔۔ سرینگر کیا ڈاکٹروں کیلئے دواسازکمپنیوں سے ملنے والے گفٹ لینا جائز ہے؟

اسلام انسانیت کا پیغام

 دنیا کے حق پرست ، غیر جانب دار اور بے لاگ مورخ،دانش ور ،مفکر اور منصف اس حقیقت کے معترف ہیں کہ اسلام لطف و کرم فیاضی اور اخوت کا دین ہے اور اُمت ِ مسلمہ ایک عظیم،شاندار اور پُروقار عقیدے کی امین ہے۔اسلام کی تعلیمات نہ تو کسی ذہین مفکر یار روشن خیال قانون دان کی مرتب کردہ تصنیف  ہ اور نہ ہی کسی خود ساختہ قوانین کا مجموعہ بلکہ یہ دین خدائی دستور حیات ہے اور ملت اسلامیہ دنیائے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کی داعی ہے۔اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے اور اس کی تعلیمات ساری انسانیت کے لئے قابل عمل ہیں اور صرف ان کی بنیاد پر صالح ا ور پُر سکون معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔اسلام میںتمام لوگوں کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت ،رنگ و نسل اور مشرب و مسکن ایسی ہدایات،احکامات اور رعایات ہیںکہ مسلم معاشروں میںغیر مسلم بھی آزادی و سکون کے ساتھ اپنے معتقدات و تصورات کے مطابق حیات مستعار کے ایام گزار سکتے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جسکی عورت کو خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہےاور اس کی مدت کتنی ہوتی۔ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہےکہ کون سے کام کرنا جائز ہے، کس کس کام کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہےنیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے۔ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں ؟ شمس الدین،شوکت احمد، محمد عارف سرینگر عدت کی اقسام اور مسائل  جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہو جائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلا

مولاناطارق جمیل

 خانیوالصوبہ پنجاب(پاکستان) کے شہرمیاںچنوںسے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں ’تلمبہ کا تاریخی شہر پڑتاہے ۔مورخین کے مطابق’ تلمبہ‘ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی۔اس شہرکے قریب سے گزرئے توسامنے ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے۔یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ’’ حصنات‘‘۔یہ مدرسہ عین اسی جگہ واقع ہے جس کے بارے میںروایت ہے کہ اسی جگہ دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازارِ حسن تھا۔برطانوی عہد سے ہی اس خطے میں تین بڑے بازار ِحسن قائم تھے۔ لاہور، ملتان اور تلمبہ چھنال گری کے لئے مختص کئے گئے تھے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِانحطاط میں اس کاآغازہوا۔اسی طرح تلمبہ‘ کا بازارِ حسن ۱۸۱۸ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ہی قائم کیا اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص و عام تھا ۔ سینما، تھیٹر اور ٹی۔ وی کے دور سے پ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…سرینگر اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے وا

آبِ حیات۔۔۔ دائمی زندگی کا خواب

آبِ  حیات وہ روایتی پانی ہےجس کی نسبت کہا گیا ہے کہ اس کا ایک قطرہ پینے کے بعد انسان امر ہو جاتا ہے۔ (یہ پانی چشمۂ ظلمات میں بتایا گیا ہے، کہتے ہیں کہ حضرت الیاسؑ اور حضرت خضر ؑنے یہ پانی پی کر عمر ابد حاصل کی، لیکن سکندر اس کی تلاش میں بحر ظلمات تک گیا تو بے نیل مرام واپس آیا)۔اس حقیقت کے باوجود کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،حضرت انسان ہمیشہ سے ابدی زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ ہمیشہ جوان اور حیات رہنے کی تمنا میں انسان ایسے کسی چشمے کی کھوج میں رہا ہے کہ جس کا پانی پی کر حیات ابدی حاصل ہوسکے۔ بے شمار قصے کہانیوں اور داستانوں میں اس چشمہ آب حیات کا ذکر ملتا ہے۔ اس موضوع پر کچھ فلمیں بھی بنائی جاچکی ہیں اور کئی ناول بھی لکھے جاچکے ہیں۔ انڈیانا جونز سیریز کی ایک فلم انڈیانا جونز اینڈ دی لاسٹ کروسیڈIndiana Jones And The Last Crusade بھی ہے جس میں وہ ہولی گریل Holy Grail یع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے معاشرے میں بیوہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ان کوزندگی گزارنے میں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہوگا، اسکی حقیقت اس طبقہ  سے نزدیک ہونے کے بعد سامنے آسکتی ہے۔ جو بیوگی کی حالت میںاپنے سسرال میں رہتی ہیں ،ا نہیں بھی طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اگر یہ میکے واپس آتی ہیں تو والدین کی حیات تک اُن کی حیثیت نسبتاً اچھی رہتی ہے مگر والدین کے بعد بھائیوں اور بھابیوں کےساتھ ان کو طرح طرح کے نت نئی پریشانیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان کا دوسرا نکاح بھی بہت مشکل ہے۔اسلام کی نظر میں اس کا حل کیا ہے۔؟ سلیم احمد خان بمنہ سرینگر  بیوہ خواتین کی حالتِ زار۔۔۔۔۔۔  معاشرتی ہمدردی کی طلبگار جواب:۔ بیوہ خواتین کےلئے شرعی طور پر سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اُن کا دوسرا نکاح ہو جائے اور یہ حل اُس وقت بروئے کا ر آئے گا جب مسلمان مرد اس

علم وحکمت!

میں بات سمجھ میںنہ آئے اسے سمجھنے کے لئے کسی سمجھانے والے کے پاس جاکر زانوئے تلمذ تہ کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسا کرنا تعمیر ذات اور تہذیب صلاحیت کے لیے ایک اچھاا قدام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بجائے کم فہم انسان اپنی آ راء کے خول میں گرفتار ہوکر کھرے کھوٹے کا فیصلہ صادر کرنے لگے تو ممکن ہے کہ وہ بے شعوری کے عالم میں بنائو کے بجائے بگاڑ کی منفی راہ پر گامزن ہو جائے ۔ کیوں کہ جس سوچ کو علم وحکمت کی ہواتک نہ لگی ہو، وہ ہر حال میں محدودالاثر ہوتی ہے، ناقص العمل ہوتی ہے ، بے اعتبار ہوتی ہے، اصلاح طلب ہوتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک عالم اور ذہین وفطین انسان کی صحت مندسوچ انمول سرمایہ ہوتی ہے مگر ممکنہ طور بشریت کے اعتبار سے ا س میں بھی محدود یتوں اور نقائص کی آمیزش کا احتمال ہوسکتا ہے ۔ بایں ہمہ عالم کے پاس علم وحکمت کے خزانے کے جتنے موتی دستیاب ہوں،وہ ان سے لوگوں کو راہ بھٹکنے یا گمراہ ہونے س

حجر اسود کی شان

غلاف  کعبہ سے متصل رُکن یمانی او رملتزم کے درمیان ایک باوردی پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کو چومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکورٹی اہل کار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہل کار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔حجر اسود کے ان محافظین کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔حرم مکی کے سیکورٹی بندوبست کے مطابق ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاق و چوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ہجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ دار

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہم نابینا افراد کا حال بہت ہی ابتر اور بہت ہی افسوسناک ہے۔ جن نابینائوں کے والدین زندہ ہیں، اُن کو تو والدین کی پدری شفقت کی بنا پر کچھ نہ کچھ راحت حاصل ہوتی ہےلیکن جن کے والدین گذر گئے اُن کے بھائی بھتیجے وغیرہ کچھ حُسن سلوک کرتے ہیں لیکن کچھ کا حال ناقابل بیان ہے۔ کچھ نا بینا بھائیوں کا حال یہ ہے کہ اُن کوطعنے سننے پڑتے ہیں۔ کچھ کو کھانا تک بھی ٹھیک طرح سے نہیں ملتا۔ کبھی کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں ہوتا۔ بیمار ہو جائیں تو علاج معالجے کی کوئی سبیل نہیں بنتی۔وراثت میں حصہ بھی ہر ایک کونہیں ملتا۔ اگر کسی کو نکاح کی ضرورت ہو تو یہ بات زبان پر لانی بھی مشکل ہوتی ہے۔ سماج میں بھی ہم کو عزت ملناکجا کبھی اپنے خاندانوں میں بھی ہم کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے لئے روزگار کےکوئی وسائل نہیں نہ حکومت نہ خیراتی ادارے نہ کوئی فورم نہ کوئی این جی او ہماری پُر سان حال ہے۔ ہم میں کچھ نابی

مکہ معظمہ کی اسلامی کانفرنس

  نوٹ :یہ مقالہ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحب کا وہ خطاب ہے جو اُنہوں نے مکہ مکرمہ میں 15-16 ؍اگست 2018 ء کو منعقدہ عالمی حج سمپوزیم میں کیا۔ مقالے کی اہمیت کے پیش نظر سمیر سلفی نے اس کا اردو ترجمہ کیا جسے ہدیۂ ناظرین کیا جارہا ہے(مدیر)  کلمات مسنونہ ! امابعد:اس اہم عالمی کانفرنس کے موقع پر جس کاموضوع ـ ـ" حج امن واطمنان وراحت وسکون کا سب سے مشرف ومیمون مقام ووقت وزمان ہے ـ ‘‘۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں ’’عالمی امن وسلامتی کے فروغ میں اسلام اور مسلمانوں کا کردار‘‘ پر روشنی ڈالنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے۔   عزت مآب دوستو! ہمارا دین دین اسلام ہے جو مادۃ "السلم " سے مشتق ہے ہمارا رب فرماتا ہے :ایمان والو! سلامتی میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔(لقرآن 2:( 208 اور پیغمبر رحمت ؐنے دنیا کے بادشاہوں کو یہ کہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟ اعجاز احمد ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔ (۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔ (۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہو

مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ

 دریائے   جہلم کے دونوں کناروں پر آبادبارہمولہ وادی کشمیر کا ایک تاریخی قصبہ ہے ۔باہمولہ کے حصہ میں یہ سعادت آئی ہے کہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نے تقریباً تین برس تک اس قصبہ میں قیام فرمایااور آپ نے1905 ء  میں خواجہ عبدالصمد ککرو کے ہمراہ فریضہ حج ادا فرمایا۔ انہوں نے حجاز مقدس سے واپسی کے بعد خواجہ عبد الصمد ککرو،خواجہ امیر الدین ککرو اور خواجہ امیر شاہ کے تعاون سے  1324 ھ بمطابق  1907بارہمولہ میں’’ مدرسۂ فیض عام‘‘ قائم فرمایا جو صرف تین برس اپنی خدمات جاری رکھ سکا۔ امام العصر ؒ لوگوں کی بد معاملگی اورناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر واپس دیوبند تشریف لے گئے۔ دیوبندتشریف لے جانے کے بعد بارہمولہ اور اس کے گردونواح میں دینی بیداری پیدا کرنے اور توحید کاعلم بلند کرنے کاکام مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے کیا۔ مولانا عبدا