تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے معاشرے میں بیوہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ان کوزندگی گزارنے میں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہوگا، اسکی حقیقت اس طبقہ  سے نزدیک ہونے کے بعد سامنے آسکتی ہے۔ جو بیوگی کی حالت میںاپنے سسرال میں رہتی ہیں ،ا نہیں بھی طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اگر یہ میکے واپس آتی ہیں تو والدین کی حیات تک اُن کی حیثیت نسبتاً اچھی رہتی ہے مگر والدین کے بعد بھائیوں اور بھابیوں کےساتھ ان کو طرح طرح کے نت نئی پریشانیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان کا دوسرا نکاح بھی بہت مشکل ہے۔اسلام کی نظر میں اس کا حل کیا ہے۔؟ سلیم احمد خان بمنہ سرینگر  بیوہ خواتین کی حالتِ زار۔۔۔۔۔۔  معاشرتی ہمدردی کی طلبگار جواب:۔ بیوہ خواتین کےلئے شرعی طور پر سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اُن کا دوسرا نکاح ہو جائے اور یہ حل اُس وقت بروئے کا ر آئے گا جب مسلمان مرد اس

علم وحکمت!

میں بات سمجھ میںنہ آئے اسے سمجھنے کے لئے کسی سمجھانے والے کے پاس جاکر زانوئے تلمذ تہ کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسا کرنا تعمیر ذات اور تہذیب صلاحیت کے لیے ایک اچھاا قدام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بجائے کم فہم انسان اپنی آ راء کے خول میں گرفتار ہوکر کھرے کھوٹے کا فیصلہ صادر کرنے لگے تو ممکن ہے کہ وہ بے شعوری کے عالم میں بنائو کے بجائے بگاڑ کی منفی راہ پر گامزن ہو جائے ۔ کیوں کہ جس سوچ کو علم وحکمت کی ہواتک نہ لگی ہو، وہ ہر حال میں محدودالاثر ہوتی ہے، ناقص العمل ہوتی ہے ، بے اعتبار ہوتی ہے، اصلاح طلب ہوتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک عالم اور ذہین وفطین انسان کی صحت مندسوچ انمول سرمایہ ہوتی ہے مگر ممکنہ طور بشریت کے اعتبار سے ا س میں بھی محدود یتوں اور نقائص کی آمیزش کا احتمال ہوسکتا ہے ۔ بایں ہمہ عالم کے پاس علم وحکمت کے خزانے کے جتنے موتی دستیاب ہوں،وہ ان سے لوگوں کو راہ بھٹکنے یا گمراہ ہونے س

حجر اسود کی شان

غلاف  کعبہ سے متصل رُکن یمانی او رملتزم کے درمیان ایک باوردی پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کو چومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکورٹی اہل کار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہل کار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔حجر اسود کے ان محافظین کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔حرم مکی کے سیکورٹی بندوبست کے مطابق ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاق و چوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ہجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ دار

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہم نابینا افراد کا حال بہت ہی ابتر اور بہت ہی افسوسناک ہے۔ جن نابینائوں کے والدین زندہ ہیں، اُن کو تو والدین کی پدری شفقت کی بنا پر کچھ نہ کچھ راحت حاصل ہوتی ہےلیکن جن کے والدین گذر گئے اُن کے بھائی بھتیجے وغیرہ کچھ حُسن سلوک کرتے ہیں لیکن کچھ کا حال ناقابل بیان ہے۔ کچھ نا بینا بھائیوں کا حال یہ ہے کہ اُن کوطعنے سننے پڑتے ہیں۔ کچھ کو کھانا تک بھی ٹھیک طرح سے نہیں ملتا۔ کبھی کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں ہوتا۔ بیمار ہو جائیں تو علاج معالجے کی کوئی سبیل نہیں بنتی۔وراثت میں حصہ بھی ہر ایک کونہیں ملتا۔ اگر کسی کو نکاح کی ضرورت ہو تو یہ بات زبان پر لانی بھی مشکل ہوتی ہے۔ سماج میں بھی ہم کو عزت ملناکجا کبھی اپنے خاندانوں میں بھی ہم کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے لئے روزگار کےکوئی وسائل نہیں نہ حکومت نہ خیراتی ادارے نہ کوئی فورم نہ کوئی این جی او ہماری پُر سان حال ہے۔ ہم میں کچھ نابی

مکہ معظمہ کی اسلامی کانفرنس

  نوٹ :یہ مقالہ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحب کا وہ خطاب ہے جو اُنہوں نے مکہ مکرمہ میں 15-16 ؍اگست 2018 ء کو منعقدہ عالمی حج سمپوزیم میں کیا۔ مقالے کی اہمیت کے پیش نظر سمیر سلفی نے اس کا اردو ترجمہ کیا جسے ہدیۂ ناظرین کیا جارہا ہے(مدیر)  کلمات مسنونہ ! امابعد:اس اہم عالمی کانفرنس کے موقع پر جس کاموضوع ـ ـ" حج امن واطمنان وراحت وسکون کا سب سے مشرف ومیمون مقام ووقت وزمان ہے ـ ‘‘۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں ’’عالمی امن وسلامتی کے فروغ میں اسلام اور مسلمانوں کا کردار‘‘ پر روشنی ڈالنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے۔   عزت مآب دوستو! ہمارا دین دین اسلام ہے جو مادۃ "السلم " سے مشتق ہے ہمارا رب فرماتا ہے :ایمان والو! سلامتی میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔(لقرآن 2:( 208 اور پیغمبر رحمت ؐنے دنیا کے بادشاہوں کو یہ کہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟ اعجاز احمد ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔ (۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔ (۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہو

مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ

 دریائے   جہلم کے دونوں کناروں پر آبادبارہمولہ وادی کشمیر کا ایک تاریخی قصبہ ہے ۔باہمولہ کے حصہ میں یہ سعادت آئی ہے کہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نے تقریباً تین برس تک اس قصبہ میں قیام فرمایااور آپ نے1905 ء  میں خواجہ عبدالصمد ککرو کے ہمراہ فریضہ حج ادا فرمایا۔ انہوں نے حجاز مقدس سے واپسی کے بعد خواجہ عبد الصمد ککرو،خواجہ امیر الدین ککرو اور خواجہ امیر شاہ کے تعاون سے  1324 ھ بمطابق  1907بارہمولہ میں’’ مدرسۂ فیض عام‘‘ قائم فرمایا جو صرف تین برس اپنی خدمات جاری رکھ سکا۔ امام العصر ؒ لوگوں کی بد معاملگی اورناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر واپس دیوبند تشریف لے گئے۔ دیوبندتشریف لے جانے کے بعد بارہمولہ اور اس کے گردونواح میں دینی بیداری پیدا کرنے اور توحید کاعلم بلند کرنے کاکام مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے کیا۔ مولانا عبدا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ۔ حضرت ! دنیا بھر کو اس وقت موسمیاتی و ماحولیاتی تغیر کا شدت کے ساتھ سامنا ہے۔ کرۂ ارض کے کم و بیش سبھی حصوں میں موسموں کے اوقات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ اسکی وجہ سے کئی علاقوں میں بے وقت کی بارشوں سے تباہ کاری مچ رہی ہے جبکہ متعدد خطوں میں خشک سالی کی وجہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین پانی کو تحفظ فراہم کرنے اور اسکے استعمال میں کفایت برتنے پہ بہت زور دے رہے ہیں۔ ہم چونکہ عادتاً پانی کا بے تحاشہ استعمال کرتے آئے ہیں، لہٰذا ظاہر بات ہے کہ اس نئی صورتحال سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے ہیں۔گھروں کے صحن صاف کرنے ، گاڑیاں دھونے اور ہمچو قسم کے کاموں میں پانی کا بے تحاشہ ، یہاں تک کہ مصرفانہ استعمال ہمارے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ اور تو اور نماز کےلئے وضوبناتے وقت نل کھلا رکھنا، جس سے کافی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے، ایک روز مرہ کی صورتحال ہے۔سوش

۔ ۱۴۴۰ھ کی مبارک آمد !

 غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی پندرھویں صدی ہجری کا سال ۱۴۴۰ھ عالم اسلام کو مبارک ہو ۔دعاہے اللہ تعالیٰ یہ سال عالم اسلام کو اسلام کی بہاروں سے منور کرے،ہماری عمر وں میں صالحیت کی برکت پیدا فرما دے اور ہمیں وقت کی قد نصیب فرما دے۔ آمین ۔ ایک سال میں ۲ا؍ مہینے ہوتے ہیں ۔ یہ نظام اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت مقرر فرما دیا تھا۔’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب جس دن سے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان پیدا کئے۔ ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکین سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے‘‘ (التوبۃ ۶۳ ) ماہ و سال کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ ہو نے کے ناطے اس میں یق

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

کشمیر تا کعبہ

 نوٹ:یہ معلوماتی مقالہ ماہ ذوالحجہ میں ’’گریٹر کشمیر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ مقالے کی دائمی اہمیت کے پیش نظر اسے’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘ کے قارئین کرام کے لئے مضمون نگار اور مترجم کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جارہاہے ۔ ( مدیر ) حج1439 ھ _____  820 حاجیوں کا پہلا جتھہ 14 جولائی 2018 ء کو سرینگر سے بذریعہ طیارہ روانہ ہوا۔اس سال جموں و کشمیر کی ریاستی حج کمیٹی کی وساطت سے تقریباً10,196 عازمین حج فریضۂ حج ادا کررہے ہیں جن میں سے 8450 کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ماضی ٔ بعید میں مکہ معظمہ آنا جانا انتہائی دشوار اورپر مثقت سفر تھا۔ سفری مشکلات او راقتصادی کمزوری کی وجہ سے بہت کم لوگ حج بیت اللہ کے لئے جاتے تھے۔ صرف کچھ پر عزم اور پارسا لوگ ہی افغانستان، ایران اور عراق کے راستوں سے پیدل سفر کی ذمہ داری اٹھاتے تھے۔ کئی صد سال پہلے نعلبند پورہ سرینگر

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ احمد کشمیری۔۔۔۔ ٹنگمرگ گھریلو استعمال کی چیزیں....... مانگنے و دینے کی صورتیں اور قرانی و عید   جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون ماعون کی دو تفسیریں

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ایک مقامی جامع مسجد شریف کی ایک علیحدہ بلڈنگ مسجد شریف کی آمدنی کے واسطے تعمیر کی گئی ہے۔ اب اس بلڈنگ کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ جو بھی کرایہ وصول ہوتا ہے اس کو مسجد شریف کےتعمیراتی کاموں اور دیگر ضروریات  کےلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ کچھ سالوں سے یہ بلڈنگ ایک بنک کو کرایہ پر دی گئی ہے۔ کیا اس بلڈنگ کو بینک کو کرایہ پر دینا جائز ہے نیز کیا اس سے حاصل شدہ کرایہ مسجد شریف پر خرچ کرنا جائز ہے؟ شریعت کے رو سے جواب عنایت فرمائیں؟ نذیر احمد بٹ و حاجی ڈاکٹر غلام محی الدین بٹ    مسجد کی ملکیتی عمارت بنک کو کرائے پر دینا! جواب:۔ بینک اگر چہ کئی مفید اور راحت کے کام بھی انجام دیتا ہے ۔ مثلاً رقوم کی حفاظت، رقوم کی منتقلی وغیرہ اور یہ دونوں آج کی اہم ترین ضروریات بن گئی ہیں۔ اس لئے کہ رقوم کی حفاظت کا دوسرا کوئی قابل اطمینان متبادل نہیں۔ اسی طرح رقوم کو دوسری

شرعی نصاب ۔۔۔ ایک اہم ترین تصحیح

کشمیر عظمیٰ کے جمعتہ المبارک کے شمارے میں مفتی نذیر احمد قاسمی کے کالم ’’کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل‘‘ میں لکھے گئے ایک جواب کی ضروری تصحیح کی جارہی ہے۔ چاندی کا نصاب 612 گرام ہے۔ اسی نصاب کی بنیاد پر ذکوٰۃ اور قربانی لازم ہونے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جس شخص کے پاس اتنی چاندی ہو یا اتنی چاندی کی قیمت موجود ہو، اُس شخص پر ذکوٰۃ بھی لازم ہوتی ہے اور قربانی بھی ۔ 612 گرام چاندی کی قیمت آج کل 24500 روپے ہے لہٰذا جس مسلمان کے پاس اتنی مالیت موجود ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ جمعہ کے شمارے میں 612 گرام چاندی ،جو کہ شرعیت کا مقرر کردہ نصاب ہے، اس کی قیمت 35000 روپے لکھی گئی ہے، جو درست نہیں ہے۔ آج قیمت 24500 روپے ہے۔ قارئین اس تصحیح کو نوٹ فرمائیں۔ادارہ اس تصامح کے لئے معذرت خواہ ہے۔  

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۱-قربانی کس پر لازم ہے اور جس پر قربانی لازم نہ ہو اگر وہ قربانی کرے گا تو کتنا ثواب ہوگا او رجس پرقربانی لازم ہو وہ نہ کرے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے ؟ سوال :۲-آج کل بہت سے دینی ادارے بھی اور فلاحی امدادی یتیم خانے قربانی کا اجتماعی نظام کے لئے اپیلیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح قربانی ادا ہوجاتی ہے ؟ اگر کسی کو اس طرح کے ادارے سے قربانی کرنے کی ضرورت ہوتو اس بارے میں کیا حکم ہے اور اگرکوئی بلاضرورت صرف رقم کم خرچ کرنے کے لئے ایسا کرے تو کیا حکم ہے ؟ عبدالعزیز خان ……کپوارہ،کشمیر قربانی کن پر واجب ؟ جواب: جس شخص کے پاس مقدارِ نصاب مال موجود ہو اُس پر قربانی واجب ہے ۔ نصاب 612گرام چاندی یا اُس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت آج کل کشمیر میں ساڑھے پینتیس ہزار روپے ہے ۔اب جس شخص کے پاس عیدالاضحی کے دن صبح کو اتنی رقم موجود ہو تو اُس شخص کو شریعت اسلامیہ میں صاحب

اسلام میں اخلاقِ حسنہ

 اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے لوگوںکے لئے زندگی گزارنے کا جوآخری طریقہ مقرر فرمایا وہ اسلام ہے ۔اسلام کے بغیر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہیں۔رب کائنات نے خود اس کی صراحت کی ہے:’’جو شخص اسلام کے سوا اور دین(طریقہ)تلاش کرے اسکا دین (طریقہ)قبول نہ کیا جائے گا‘‘(ا ٓ ل عمران آیت  :85)۔اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جس میں انسان کی ہر طرح سے رہنمائی کی گئی ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کی رہنمائی نہ کی گئی ہو ۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اوراس مکمل ضابطہ حیات میں ہر ایک چیزکا مکمل ہونا لازمی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’آج میں نے تمہارے لئے دین (اسلام )کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا‘‘(المائدہ  آیت  :3)۔ اسلام جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کو صحیح معنو

اورنگ زیب عالمگیرؒ

حضرت  اورنگ زیب عالمگیرغازی علیہ الرحمة والرضوان ۳نومبر 1618 کواتوار کے دن ملکۂ ارجمندبانو(ممتازمحل بیگم)کے بطن سے قصبہ دَوحَد(صوبہ گجرات)میں پیداہوئے۔آپ کانسب یہ ہے حضرت اورنگ زیب عالمگیربن شہاب الدین شاہجہاںبن نورالدین جہانگیربن اکبر بن نصیرالدین ہمایوں بن ظہیرالدین بابر۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیرغازی ؒ نے اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماءکرام سے تعلیم حاصل کی۔عربی ،فارسی اورہندی کے بہترین عالم ہوئے،ترکی زبان سے بھی کامل طورپرواقف تھے۔ حضرت علامہ مولانامُلّااحمدجیون علیہ الرحمة والرضوان  (مصنف ’’نورالانوار)جوہندوستان کے بہت مشہورومعروف جید عالِم گزرے ہیں ، آپ کانام احمدہے اوروالدکانام ابوسعید،آپ مُلّاجیون کے نام سے مشہورومعروف ہیں،آپ نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس اورتصنیف وتالیف میں صرف کی اُصول فقہ میں ’’نورالانوارشرح المنار‘‘ آپ کی زند

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔ تنویر احمد بارہمولہ   اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی جواب :۔ اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پ

احترامِ آدمیت ۔۔۔ انسانیت کا جوہر

 ایک خدا ترس آسودہ حال باپ نے پیرانہ سالی میں اپنے تین بیٹوں کے درمیان اپنی میراث تقسیم کی ۔اس تقسیم کے بعد دانا و زیرک اللہ والے بزرگ نے ایک انتہائی قیمتی جوہر اپنے بیٹوں کو دکھاکر کہا کہ یہ جوہر اس بیٹے کو دیں گے جس سے عظیم و برتر نیکی کا صدور ہو ۔۔۔۔خیر بات ہوئی ،آئی، گئی ۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد ایک بیٹا بزرگ باپ کے ہاں حاضر ہوا اور کہنے لگا ،اباجان!میں نے ایک عظیم نیکی یوں انجام دی کہ ایک بندۂ خدا نے میرے پاس پانچ ہزار دینار کسی بھی گواہ کی غیر موجودگی میں بطور امانت یہ کہہ کر رکھ دئے کہ بوقت ضرورت میری یہ امانت مجھے لوٹا دینا ۔۔۔بوقت ضرورت میں نے یہ بھاری بھرکم رقم پوری کی پوری مالک کو لوٹا دی،حالانکہ اگر میں یہ رقم اسے لوٹا نا بھی نہ چاہتا تو ایسا بھی کرسکتا تھا کیونکہ اس معاملہ سے متعلق اس کے اور میرے درمیان کوئی گواہ بھی نہ تھا ، لہٰذا اس عظیم نیکی کے عوض میں ہی اس قیمتی جوہ

اردو میں سیرت نگاری

 برصغیر  کی تاریخ کے ابتدائی دورمیں گیارہ سوسال تک اگر چہ علم فقہ، اصول فقہ، ادبیات ، علم منطق اور تصوف میں کافی کام نظر آتا ہے ،تاہم علوم سیرت پاک ؐ کے حوالے سے یہاں وہ دلچسپی نہیں دکھائی دیتی جو ہر مسلمان معاشرہ میں ہونی چاہئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب دنیا میں علوم سیرت پر بڑا قابل ذکر کام ہورہا تھا۔ اگرچہ عربی اور فارسی جو یہاں سرکاری زبان رہی ہے ، میں صدیوں پہلے سیرت کا کام ہوا تھا ۔ جیسے شیخ عبدالحق محدثؒ جنہوں نے شمالی ہندستان میں پہلی بار علم حدیث متعارف کرایا اور اسی طرح انہوں نے علم سیرت کو اس طرح متعارف کرایا کہ ڈاکٹر محمود غازی فرماتے ہیں : اگر ان کو ہندستان میں علم سیرت کا جد امجد قرار دیا جائے توغلط نہیں ہوگا۔                       حضرت شیخ عبدالحق بر صغیر اور شمالی ہندوستان کے پہلے سیرت نگار تھے