تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔   مشتاق احمد جانباز امیرا کدل سرینگر تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل۔۔۔۔ پُرسا دینے کا شرعی طریقہ جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا تع

برائیاں اور گمراہیاں!

  ہمارے  معاشرہ کی مختلف برائیوں میں سے چند برائیاں کافی عام ہوگئی ہیں،ان کی ہمیں مشترکہ طور اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان برائیوں اور گمراہیوں کی ایک اجمالی تصویر  پیش خدمت ہے :   دینی تربیت کا فقدان :قرآن وحدیث میں علم کی اہمیت کا  بار بار احساس دلایا گیا ہے، حتی کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’اقرأ‘‘بھی یہی رہنمائی کرتی ہے ۔ قرآن وحدیث میں جہاں بھی علم کا ذکر آیا ہے، وہاں وضاحت موجود ہے کہ اُسی علم وعرفان سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا، اسی کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے گا اوراسی کے ذریعہ دل میں جوابدہی کا احساس  اوراللہ کا خوف پیدا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خصوصیات پہلے قرآن وحدیث کے علوم ومعارف اور دوم دنیا کے علم ِنافع اور فنونِ صالحہ  کے امتزاج سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ آج کل ہم عصری تعلیم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:-ہماری شادی کوتین سال ہوگئے مگر ابھی تک بچہ نہیں ہوا۔ اس بارے میں کچھ نجی قسم کا مسئلہ ہے جس کو ظاہر کرنا بھی مشکل ہے ۔اب کچھ دوست ٹیسٹ ٹیوب کا مشورہ دیتے ہیں۔میں پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکاکہ یہ ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے ۔ کیسے ہوتاہے اور پھر اسلام میں اس کی اجازت ہے یا نہیں ۔ اب میرے ذہن میں یہ باتیں حل طلب ہیں : ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے؟ یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟ جاوید احمد جائز تولید میں سائنسی تکنیک کا سہارا لینا دُرست IN VITRO FERTILIZATION l شوہرکا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ جائز ہے۔ l اجنبی مرد کا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ l شوہر اور بیوی کا نطفہ اور بیضہ اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ جواب:- اللہ تعالیٰ کی تخلیق کاشاہکار خود انسان بھی ہے۔ اس کی تخلیق کا فطری طریقہ ہے کہ مرد وع

دیارِ حبیب ﷺ میں حا ضر ی

گھر سے مرادحضرت عائشہ ؓ صدیقہ کاحجرہ پاک ہے ،جس میں حضورپاک ﷺ کی مرقد مبارک ہے اورجوحضرت بی بی فاطمہ ؓ کے حجرہ کے پیچھے ہے ۔یعنی یہ جگہ حقیقت میں جنت کاٹکڑا ہے جواس دُنیامیں منتقل کیاگیاہے اورقیامت کے دن یہ ٹکڑاجنت میں چلاجائے گا۔اسی ریاض الجنتہ میں حضورسرورِکونین ﷺ کامصلیٰ بھی ہے ،جہاں آپ ﷺ کھڑے ہوکرامامت فرمایاکرتے تھے ۔اس جگہ آج ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے جومحراب مسجدِ نبوی ﷺ کہلاتی ہے۔حضوراکرم ﷺ کے وصال کے بعدمصلیٰ رسول جیسی متبرک جگہ کی تعظیم کوبرقراررکھنے کی غرض سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے حضورﷺ کی نمازپڑھنے کی جگہ سوائے قدم مبارک کی جگہ چھوڑکرباقی جگہ پردیواربنوادی تھی تاکہ آپ ﷺ کے سجدہ کی جگہ لوگوں کے قدموں سے محفوظ رہے۔ بعدمیں ترکوں نے بھی اس دیوارکی حدتک محراب بنوائی ۔ چنانچہ اب اگرکوئی حاجی مصلیٰ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوکرنمازپڑھے تواس کاسجدہ حضوراقدس ﷺ کے قدموں کی جگہ پڑتاہے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ آج کل سردیوں کے موسم میں بہت سارے نمازی حضرات کو پریشانی رہتی ہے کہ بار بار وضو ٹوٹتا ہے۔ سردی کی شدت سے پیشاب آنے کی پریشانی رہتی ہے۔ پیشاب پھیرلینے کے بعد بھی قطرے آتے رہتے ہیں۔ کبھی پیشاب کیا، وضوکرنے بیٹھ گئے پھر قطرہ آگیا۔ کچھ لوگوں کو گیس کی شکایت رہتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص کیا کرے۔کیا معذور شخص اس طرح نماز ادا کرسکتا ہے۔ بار بار وضو کرنا بڑی مشکل بات ہے ۔شرعی طور پر اس کےلئے کوئی رخصت ہے کہ ایسے نمازی کو کوئی آسانی یا معافی میّسرآئے۔ شرعی طور پر یہ معذور ہے یانہیں؟ محمد عادل باغ مہتاب سرینگر قطروں کا عارضہ اور وضو کی بار بار ضرورت۔۔۔۔ ایک اہم مسئلہ  جواب:۔ شرعی طور پر معذور وہ شخص کہلاتاہے جس پر ایک نماز کا مل کا وقت اس حالت میں گذر جائے کہ اس کا عذر تسلسل سے اس طرح جاری رہے کہ وہ وضو کرکے طہارت ہی کی حالت میں نماز مکمل نہ پڑھ پائے۔

دیارِ حبیب ﷺ میں حا ضری

  سید المرسلین رحمتہ اللعالمین ﷺ  سرورِ کائنات ،فخرموجودات ،تاجدارمدینہ، سیدنامحمد ﷺ کے روضۂ پاک کی زیارت بالاجماع اعظم قربات اورافضل طاعات میں سے ہے اور روحانی ترقی ٔ درجات کا زینہ ۔خودرسالت مآب فخرعالم ﷺ نے اس زیارت کی ترغیب دی ہے اورباوجودقدرت کے زیارت نہ کرنے والوں کوبے مروت فرمایاہے ۔خوش نصیب ہے وہ شخص جس کواس دولت سے نوازاجائے اورکم نصیب ہے وہ جو باوجودقدرت و وسعت کے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہ جائے ۔(ترجمہ): حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص میری زیارت کرے گا،قیامت کے دن وہ میرے پڑوس میں ہوگا۔((رواہ البیہقی فی شعب الایمان ،مشکوٰۃ )۔’’جس نے حج کیا پھرمیری قبرکی زیارت نہ کی،اس نے مجھ پرظلم کیا‘‘۔(رواہ ابن عدی البندحسن (شرح الباب) ’’جس نے میری قبرکی زیارت کی،اس کی شفاعت مجھ پرواجب ہوگئی ‘‘۔(رواہ الدارقطنی والبزار

دوطرفہ اعتماد !

حضوراقدس ﷺ کے جوامع الکلم میںآیا ہے’’ اعتماد میرا خزانہ ہے‘‘ ۔پیغمبر برحق ﷺ جس چیز کو خزانہ فرمادیں ،اُس کی وسعتوں کا عالم کیا ہوگا ، اُس کے سامنے تمام دنیاوی مال ومتاع ،منصب وعزت ،علم وآگہی، حکومت وسلطنت کچھ بھی نہیں ۔قیادت ہو یا ملت ،حاکم ہو یا رعایا،مبلغ ہو یا سامع، اُن کے درمیان اعتماد کے نام سے ایک نازک رشتہ مستحکم بنیادوں پر ا ستوارہوتو سب کچھ ٹھیک ٹھاک لیکن اگر اعتماد  کا یہ اٹوٹ رشتہ مفقود یا ڈھمل ہو تو یہ دوطرفہ تعلقات اکارت جاتے ہیں ۔اعتماد کا ماخذ عمد ہے جس کے معنیٰ ستون ہے ۔ہر عمل کی کامیابی کی شاہ کلید عدل ،دیانت ،سچائی اورقربانی ہے ۔ یہ چار ستون باہمی اعتماد کے اینٹ گارے سے بنتے ہیں۔جس قوم یاقیادت میں یہ ستون مضبوطی کے ساتھ موجود ہوں وہ صفحۂ ہستی سے ہرگز مٹ نہیں سکتی لیکن اگر ستون گر جائیں تو قوم اور قیادت کی کتنی بھی قربانیاں ہوں وہ منزل م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…صورہ ،سرینگر اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع ک

اخلاق وتواضع کے پیکر

ندوۃ  العلماء کے معتمد تعلیم، ہردلعزیز اُستاد ،مشہور عالمِ دین ،عظیم مفکر ،علم وعمل کے پیکر، زبان وادب کے میدان کی قدآورشخصیت، عربی زبان کے مایہ ناز ادیب، نیک سیرت وخوش کلام حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ؒ کے انتقال کی المناک وغم انگیز خبر16؍جنوری کو بجلی بن کر گری ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔سانحۂ ارتحال کی اندوہ ناک خبر سے دینی حلقے مغموم و متفکر ہوئے۔ مولاناواضح رشید حسنی ندوی ؒ کا انتقال سے نہ صرف ندوۃ العلماء سوگوار ہوا بلکہ پورا عالم اسلام ایک جید عالم دین، عظیم مفکر ، ماہر عربی زبان، مایہ ناز ادیب ،باکمال صحافی اورمحسن علم ِواد ب سے محروم ہوا ۔ مولانا 83؍برس کے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو علم وعمل دین وتقویٰ اخلاق وسلوک اوررواداری کی عظیم نعمتوں سے نواز ا تھا ،آپ دین کے سچے علمبردار تھے ، زندگی انتہائی سادگی وتواضع، فنائیت  واستغنا ء ،بے نفسی اوربے غرضی سے عبارت

نیک دل ملکہ زبیدہ خاتونؒ

طاقت  اقتدار کا حصول انسانی فطرت کا خوفناک ترین رنگ ہے جس کو بھی اقتدار کا حاصل ہو جائے اور وہ اقتدار کے چوبارے پر براجمان ہو جائے تو زیادہ تر انسان خود کو زمینی خدا سمجھ کر انسانوں کو جانوروں کے ریوڑ سمجھ کر ہانکتا شروع کر دیتا ہے ‘اقتدار کے جھولے پر سوار ایسے بے عقل حکمران سمجھتے ہیں کہ میں ہی پہلا اور آخر ی حکمران اِس دھرتی پر آیا ہوں ‘ جو اقتدار مجھے نصیب ہوا ہے اِس کا اہل صرف اور صرف میں ہی تھا ‘ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ جس مٹی سے اُس کی تخلیق ہو ئی باقی انسان بھی اُسی مٹی سے بنتے ہیں لہٰذا دھرتی پر آنے والا ہر مشت ِ غبار چاہے وہ بادشاہ ہو یا گدا گر‘ پیغمبر ولی تما م فانی کے جسم گردش شب و روز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بڑھاپے اور پھر موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ‘ جب بھی کو ئی انسان اقتدار پر قبضہ جماتا ہے تو وہ اِس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ درج زیل سوالا ت کے جوابات عنایت فرمائیں؟ (۱) اخبارات میں قرآن شریف کی آیات نقل کرنا کیسا ہے ۔ایک مقامی روزنامہ میں ایک اچھا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ آیت عربی متن کے ساتھ نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ لکھا ہے۔ اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھروں ہونگے۔ اس پوری آیت کی عربی عبارت درج ہوئی۔یہی اخبار ردی میں ڈالا جائے گا تو لازماً قرآنی آیت کی توہین ہوگی۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کسی کے موت کی خبر دی گئی۔ ا س میں قرآن کی آیت بھی نقل کی گئی، جس کا ترجمہ یہ ہے، ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ اخبار تمباکو والے کے پاس تھا اور اس نے تمباکو کی پڑیا بنائی۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ تحریر فرمائیں؟ ایک      شہری اخبارات میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ شائع کرنے کی ضرورت   جواب:۔ ا

قاضی اطہر مبارکپوری

 ہندوستان کی علمی شخصیات میں قاضی اطہر مبارک پوری ؒ مسلم الثبوت شخصیت تھے ۔ ان کی خدمات مختلف النوع تھیں اور ہر شعبے میں اپنے کمال وہنرمندی کا لوہا منوایا۔ زیر مطالعہ کتاب’’قاضی اطہر مبارکپوری‘‘ ان کی سوانح حیات ہےجس میں پیدائش سے لے کر وفات تک آپ کی علمی اور عملی زندگی کا خاکہ مختصر اً کھینچا گیا ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھے گئے ایک کتابچے ’’القاضی ابو المعالی اَطہر المبارکفوری‘‘ کا ترجمہ ہے۔ کتابچے کے مصنف جامعہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور عربی زبان و ادب میں ’’صدر جمہویہ ایوارڈ‘‘ یافتہ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی صاحب ہیں ۔انہوں نے اپنے سہ ماہی عربی میگزین ’’مجلۃ الہند‘‘ میں اسے شائع کر نے کے بعد پھر اسےکتابی شکل دی ۔ اسی کا اردوترجمہ اب منظرعام پر آیاہے۔ ترجمہ کارمحمد معتصم اعظمی ہیں، موصوف

تصوف کیا ہے؟

ایک   ضعیف العمر شخص کو زدوکوب کرتے ہوئے قید خانہ کی طرف لے جایا جارہا تھا اور وہ انتہائی صبروضبط کے ساتھ خاموش تھا۔ ایک مشہور ولی اللہ اور صاحب کرامت حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ نے قید خانہ میں جاکر اس سے پوچھا کہ اس قدر ضعف ونقاہت کے باوجود تم نے صبر کیسے کیا؟ اس نے جواب دیا صبر کا تعلق ہمت وشجاعت سے ہے، نہ کہ طاقت وقوت سے۔ ابوالحسنؒ نے پوچھاصبر کا مفہوم کیا ہے؟ اس نے بولامصائب کو اس طرح خوشی سے برداشت کرنا چاہئے جس طرح لوگ مصائب سے چھٹکارا پاکر مسرور ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا آگ کے سات سمندر پار کرنے کے بعد معرفت حاصل ہوتی ہے اور جب حاصل ہوتی ہے تو اول وآخر کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں رفتار جتنی تیز ہوتی ہے، اسی قدر اس کی حرکت نظر نہیں آتی۔ فرماتے ہیں تیز آندھی کو سب محسوس کرتے ہیں لیکن نسیم سحری جو دل کی کلیوں کے ساتھ مسیحائی کرتی ہے اور چمن کو حیات نو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔قسم کیا ہوتی ہے۔ کن لفظوں سےہوتی ہے۔ اگر قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتائیے قسم کس طرح توٹتی ہے، کفارہ کس کو دینا ہوتا ہے یعنی اس کا مستحق کون ہوتا ہے؟ محمد یوسف میر حاجن سوناواری جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ۔۔ ۔۔ کفارہ ادا کرنا لازم جواب:۔قسم یا حلف کے شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی شخص کوئی بات کہے۔ مثلاً اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یا یوں کہے واللہ میں یہ کام نہیں کروںگا۔ تو یہ قسم ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ واللہ میں نے یہ کام نہیں کیا ہے حالانکہ اس نے یہ کام کیا ہو۔ تو یہ جھوٹی قسم ہےاور یہ گناہ کبیرہ ہے۔ یا کسی نے کہا اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اُس نے نہیں کیا ہے تو بھی جھوٹی قسم ہوئی۔ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔مثلاً کسی نے چوری کی ہے مگر اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چوری نہیں کی ہے۔ یا کسی نے نماز

مسلمان ا غیار کا نقال نہیں !

جب   تک مسلمان اپنی زندگی میں قرآن و سنت پر عمل کرتے رہے اور سیرت ِ طیبہ صلی ا اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے میں ہی اپنے لیے فخر محسوس کرتے رہے‘ تب تک وہ دنیوی اعتبار سے بھی ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور آخرت بھی سنور تی چلی گئی۔ اہل اسلام نے اپنے دین و شریعت ، اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر حکومت کی اور یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کی دیگر قومیںمسلمانوں کی نقالی کرنے میں اپنے لیے فخر محسوس کرتی تھیں اور یہ صورت حال تھی کہ مسلمان موثر تھے اور باقی اقوام متاثر تھیں۔ مسلمان اسلام کے ساتھ قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں گئے‘ انہوں نے دنیا کی متمدن کہلانی والی اقوام کی تہذیب و ثقافت بھی دیکھی اور انہوں نے وہ تاریخی شہر بھی فتح کیے جنہیں اپنی سینکڑوں سالہ پرانی شناخت پر بڑا ناز تھا لیکن جو آنکھیں سیرت ِ طیبہؐ کے سرمۂ بصی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:ـ۔اب چونکہ  وادی کے مسلمان کاریگر اور ہنر مند کاریگری کے مختلف امور سے دور بھاگ رہے ہیں اور عام انسان باہر کے کاریگر کو ہی اپنے گھروں راج مستری ،ترکھانی ، رنگ و روغن یا اور کوئی کام کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کیا ہم ان لوگوں کو مسجد پاک کے رنگ و روغن وغیرہ کے  کام پر استعمال کرسکتے ہیں، اس کے باوجود کی ہمیں ان کے مذہب اور عقائد کے بارے میں پورا علم نہ ہو۔؟ سوال:۔ فجر نماز کی دو رکعت فرض سے پہلے دو رکعت سنت کے علاوہ کیا اور کوئی نماز پڑھ سکتے ، مثلا تحیتہ المسجد اور تحیتہ الوضو وغیرہ؟ مشتاق احمد جانباز امیراکدل سرینگر غیر مسلم کاریگر سے مسجد میں کام کرانے میں شرعی ممانعت نہیں جواب:۔مسجد شریف کے تعمیراتی کام کے لئےا فضل اور بہتر یہی ہے کہ مسلمان اور دیندار مسلمان کاریگر اور مزدوروں سے کام کر ایا جائے۔ اس لئے کہ ایک مسلمان اور تقویٰ شعار مسلمان سے ی

انسان بمقابلۂ شیطان

اپنے   جس دشمن کو آپ پہچانتے ہیں اور اس کی تدبیروں سے با خبر ہو جاتے ہیں،اس کے شر و فتن سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے آپ کچھ نہ کچھ صورتیں اورطریقے بھی آزما لیتے ہیںلیکن اگر دشمن چھپا ہوا ہو اور اس کی خفیہ تدبیروں کا آپ کو پتہ نہ چلے تو آپ کے لئے زیادہ نقصان اُٹھانے کا اندیشہ رہتا ہے۔یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے کیونکہ یہ ہماری زندگی کو برباد کرنے کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ اگر شیطان ہمیشہ رہنے والا شرپسند اور فتنہ پرور ہے توپھر یہی دشمن کیوںہماری نظروں سے چھپا ہوا بھی ہے اور اس کی تدبیروں کا علم اور اس کو ہرانے کی فکر مندی بھی ہمیں کم ہی ہو تی ہے۔ روئے زمین کے تمام انسان کا سب سے بڑامسئلہ اسی دشمن کی زد سے اپنے آپ کو بچا نا ہے۔یہ مسئلہ کئی وجوہات سے انتہائی اہم ترین ہے۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اکثر وبیشتر انسان اپنی نادانی ، غفلت اور اپنے نفس کی اندھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنے کا ثبوت حدیث میں ہے یا نہیں ، اگر ثبوت موجود ہے تو اُس کو حوالہ ضرور دیں؟ محمد یوسف خان وتر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا ثابت جواب:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت نما زپڑھنا احادیث سے ثابت ہے اور یہ دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہے اور کھڑے ہو کر پڑھنا بھی ثابت ہے۔ مسند احمد کے حوالے سے مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے ، حضرت ابو امامہ ؓسے روایت ہے کہ حضر ت نبی کریم ﷺ وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے اور اُن دو رکعت میں سے پہلی رکعت میں سور زلزال اور دوسری رکعت میں سورہ کافرون پڑھا کرتے تھے۔ مسلم شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت نبی کریم ﷺ رات کو کتنی رکعات پڑھا کرتے تھے۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعات پڑھتے تھے۔ پھر تین وتر پڑھتے تھے پھر دو رکعت بیٹھ کر ادا فرمات

عمر فروخ، عقاد اور طہ حسین

  عمر  فروخ (۱۹۰۶ء- ۱۹۸۷ء)طہ حسین (۱۸۸۹ء-۱۹۷۳ء) عباس محمود عقاد (۱۸۸۹ء -۱۹۶۴ء) عربی کے نامورمعاصر ادیب  تھے۔طہ حسین اور عقاد مصری تھے تو عمر فروخ لبنانی۔ طہ حسین نے مصر کے علاوہ پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تو عمر فروخ نے جرمنی سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جب کہ عقاد صرف ابتدائی درجات تک تعلیم حاصل کرسکے تھے مگر انہوں نے ایک سیلف میڈ ادیب کی حیثیت سے عربی ادب میں اپنا نام آب زر سے لکھوایااور اپنے علمی ورثے سے عربی ادب کو بے انتہا مالا مال کیا۔ عمر فروخ اور عقاد میں ایک مضمون کی وجہ سے عرصے تک کھٹ پٹ رہی۔ہوا یوں کہ عمر فروخ نے ابن الرومی کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے عقاد پر ہلکی سی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ایسالگتا ہے کہ عقاد اور بستانی نے ابن الرومی کے سماجی حالات کو مد نظر نہیں رکھا۔ بعد میں ان کی اس تحریر کو پڑھ کر عقاد نے مجلہ الرسالہ (شمارہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 صدر مفتی دارالافتاء  سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں    جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہ