تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ برف گرے گی اور پھر واقعی برف باری ہوجاتی ہے۔ خبر آتی ہے کہ موسم صاف رہے گا اور واقعتا موسم خوشگوار رہتا ہے۔ موسمیات کے متعلق اس خبر رسانی کا اثر اب اتنا ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے پروگرام اس کے مطابق بناتے ہیں۔ اگر پیشنگوئی اس طرح ہو کر موسم خراب ہوگا، برفباری ہوگی، بارشیں ہونگی تو بعض لوگ اپنا بنایا ہوا پروگرام ملتوی کر دیتے ہیں اور اگر آئندہ کوئی پروگرام رکھنا ہو تو پہلے انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں۔ اس صورتحال کو بعض لوگ شرک اور توہم پرستی قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ اس پر اتنا اعتماد کرتے ہیں جیسے کوئی خدا ئی حکم کی طرح قطعی بات ہو۔ اس لئے اس بارے میں تفصیلی جواب کی ضرورت ہے۔ وسیم احمد  موسمیات کے متعلق پیش گوئیوں پر یقین  اور عمل کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں جواب:۔ محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کو مان لینا شرک بھی نہیں اور

مُحسنِ انسانیت ﷺ

ربیع الاول کے لغوی معنی پہلی بہار کے ہیں اِس ماہ کو تاریخ ِ انسانی میں خاص مقام حاصل ہے اِسی مہینے میں محسن انسانیت سرورِ دو عالم محبوب خدا ﷺ کی ولادت با سعادت ہو ئی ربیع الاول ہجری سال کا اہم سنگِ میل اور تاریخ عالم میں نمایاں اور کلیدی مقام رکھتا ہے یہ وہ با برکت اور بہار آفرین مہینہ ہے جس کی آمد سے چمنستان دہر کی مرجھائی ہو ئی کلیاں کھل اٹھیں خزاں رسیدہ گلستان سر سبز ، شاداب ہو گئے ۔اِسی ماہ میں نسلِ انسانی کے سب سے بڑے انسان جن پر انسانیت کو فخر ہے صدیوں سے دکھی تڑپتی سسکتی انسانیت جس مسیحا اعظم کے انتظار میں تھی وہ چاند اِسی ماہ حضرت آمنہ کے آنگن میں اِس شان اور تابناکی سے چمکا کہ کرہ ارض کا چپہ چپہ تو حید کے نور سے جگمگا اٹھا ماہ ربیع الاول کو جو غیر معمولی تقدس عظمت اور شان ملی ہے، اس کی وجہ فخر دو عالم ، شافع محشر سرور کا ئنات سرور دو جہاں، ہادی ٔعالم ، ساقی کو ثر ، سرور کونین

حیاتِ طیبہ صلی اللہ علیہ و سلم

عربی میں ربیع بہار کے موسم کو کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عالم ِانسانیت پر بڑا فضل و احسان ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم جہانِ آب وگِل میںا سی موسم ِبہار میں تشریف آور ہوئے تاکہ یہاں کا خزاں چھٹ جائے۔ پیغمبر آخر الزمان ؐکی آمد پر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے ساری زمین سرسبز و شاداب ہوئی اور روئے زمین پر شرک ، بدعت ، کفر، نافرمانی ، جھوٹ، بدکاری ، بے رحمی، دختر کشی ، نشہ بازی ،لوٹ مار ، جنگ وجدل ، نفرت ، رقابت کا جھاڑ جھنکاڑ مکمل طور ختم ہو ا۔ ولادتِ باسعادت تا وصال مصطفی ومجتبیٰ  ﷺانسانیت پراللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نزول جاری وساری رہا جو خلفائے راشدین والمہدیئین کے دور پاک میں بار آور ہوئیں۔ ظہورقدسی کے لمحہ  ٔ منورہ کی جس ساعت ِسعیدکا صدیوں سے دنیا کو انتظار تھا وہ گردش ماہ و سال کی کروٹیں لیتے لیتے آخرکار ۱۲ ؍ ربیع الاول کو خالق کا ئنات نے انسانی تاریخ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:بڑی مقدار میں نمونے کی ادویات ڈاکٹر کوSample بھی فراہم کرتی ہیں اور آئے روز طرح طرح کے تحفے (Gift)بھی دیتی ہیں۔ اس سب کا مقصد ایک تو یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی اپنی ضروریات پوری کرناہوتا ہے لیکن دوسرا اہم مقصد ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اس کمپنی کی دوائی مریضوں کو تجویز کرے۔اس طرح کمپنی کی دوائی زیادہ سے زیادہ فروخت ہوگی۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کمپنی کے یہ گفٹ اور samples رشوت کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کمپنیاں سود پر قرضے لے کر کام کرتی ہیں۔ اسی کاروبار سے وہ گفٹ بھی دیئے جاتے ہیں بلکہ کمپنیاں علم طب کے بارے میں بڑے بڑے سمینار منعقدکراتی ہیں یا ان کوSponserکرتی ہیں ان سمیناروں میں شرکت اس کے لئے ڈاکٹروں کو سفر خرچ بھی دیتی ہیں کیا سب لینا ڈاکٹروں کیلئے جائز ہے ؟ ڈاکٹر منصور احمد۔۔ سرینگر کیا ڈاکٹروں کیلئے دواسازکمپنیوں سے ملنے والے گفٹ لینا جائز ہے؟

اسلام انسانیت کا پیغام

 دنیا کے حق پرست ، غیر جانب دار اور بے لاگ مورخ،دانش ور ،مفکر اور منصف اس حقیقت کے معترف ہیں کہ اسلام لطف و کرم فیاضی اور اخوت کا دین ہے اور اُمت ِ مسلمہ ایک عظیم،شاندار اور پُروقار عقیدے کی امین ہے۔اسلام کی تعلیمات نہ تو کسی ذہین مفکر یار روشن خیال قانون دان کی مرتب کردہ تصنیف  ہ اور نہ ہی کسی خود ساختہ قوانین کا مجموعہ بلکہ یہ دین خدائی دستور حیات ہے اور ملت اسلامیہ دنیائے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کی داعی ہے۔اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے اور اس کی تعلیمات ساری انسانیت کے لئے قابل عمل ہیں اور صرف ان کی بنیاد پر صالح ا ور پُر سکون معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔اسلام میںتمام لوگوں کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت ،رنگ و نسل اور مشرب و مسکن ایسی ہدایات،احکامات اور رعایات ہیںکہ مسلم معاشروں میںغیر مسلم بھی آزادی و سکون کے ساتھ اپنے معتقدات و تصورات کے مطابق حیات مستعار کے ایام گزار سکتے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جسکی عورت کو خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہےاور اس کی مدت کتنی ہوتی۔ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہےکہ کون سے کام کرنا جائز ہے، کس کس کام کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہےنیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے۔ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں ؟ شمس الدین،شوکت احمد، محمد عارف سرینگر عدت کی اقسام اور مسائل  جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہو جائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلا

مولاناطارق جمیل

 خانیوالصوبہ پنجاب(پاکستان) کے شہرمیاںچنوںسے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں ’تلمبہ کا تاریخی شہر پڑتاہے ۔مورخین کے مطابق’ تلمبہ‘ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی۔اس شہرکے قریب سے گزرئے توسامنے ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے۔یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ’’ حصنات‘‘۔یہ مدرسہ عین اسی جگہ واقع ہے جس کے بارے میںروایت ہے کہ اسی جگہ دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازارِ حسن تھا۔برطانوی عہد سے ہی اس خطے میں تین بڑے بازار ِحسن قائم تھے۔ لاہور، ملتان اور تلمبہ چھنال گری کے لئے مختص کئے گئے تھے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِانحطاط میں اس کاآغازہوا۔اسی طرح تلمبہ‘ کا بازارِ حسن ۱۸۱۸ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ہی قائم کیا اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص و عام تھا ۔ سینما، تھیٹر اور ٹی۔ وی کے دور سے پ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…سرینگر اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے وا

آبِ حیات۔۔۔ دائمی زندگی کا خواب

آبِ  حیات وہ روایتی پانی ہےجس کی نسبت کہا گیا ہے کہ اس کا ایک قطرہ پینے کے بعد انسان امر ہو جاتا ہے۔ (یہ پانی چشمۂ ظلمات میں بتایا گیا ہے، کہتے ہیں کہ حضرت الیاسؑ اور حضرت خضر ؑنے یہ پانی پی کر عمر ابد حاصل کی، لیکن سکندر اس کی تلاش میں بحر ظلمات تک گیا تو بے نیل مرام واپس آیا)۔اس حقیقت کے باوجود کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،حضرت انسان ہمیشہ سے ابدی زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ ہمیشہ جوان اور حیات رہنے کی تمنا میں انسان ایسے کسی چشمے کی کھوج میں رہا ہے کہ جس کا پانی پی کر حیات ابدی حاصل ہوسکے۔ بے شمار قصے کہانیوں اور داستانوں میں اس چشمہ آب حیات کا ذکر ملتا ہے۔ اس موضوع پر کچھ فلمیں بھی بنائی جاچکی ہیں اور کئی ناول بھی لکھے جاچکے ہیں۔ انڈیانا جونز سیریز کی ایک فلم انڈیانا جونز اینڈ دی لاسٹ کروسیڈIndiana Jones And The Last Crusade بھی ہے جس میں وہ ہولی گریل Holy Grail یع

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے معاشرے میں بیوہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ان کوزندگی گزارنے میں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہوگا، اسکی حقیقت اس طبقہ  سے نزدیک ہونے کے بعد سامنے آسکتی ہے۔ جو بیوگی کی حالت میںاپنے سسرال میں رہتی ہیں ،ا نہیں بھی طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اگر یہ میکے واپس آتی ہیں تو والدین کی حیات تک اُن کی حیثیت نسبتاً اچھی رہتی ہے مگر والدین کے بعد بھائیوں اور بھابیوں کےساتھ ان کو طرح طرح کے نت نئی پریشانیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان کا دوسرا نکاح بھی بہت مشکل ہے۔اسلام کی نظر میں اس کا حل کیا ہے۔؟ سلیم احمد خان بمنہ سرینگر  بیوہ خواتین کی حالتِ زار۔۔۔۔۔۔  معاشرتی ہمدردی کی طلبگار جواب:۔ بیوہ خواتین کےلئے شرعی طور پر سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اُن کا دوسرا نکاح ہو جائے اور یہ حل اُس وقت بروئے کا ر آئے گا جب مسلمان مرد اس

علم وحکمت!

میں بات سمجھ میںنہ آئے اسے سمجھنے کے لئے کسی سمجھانے والے کے پاس جاکر زانوئے تلمذ تہ کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ ایسا کرنا تعمیر ذات اور تہذیب صلاحیت کے لیے ایک اچھاا قدام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بجائے کم فہم انسان اپنی آ راء کے خول میں گرفتار ہوکر کھرے کھوٹے کا فیصلہ صادر کرنے لگے تو ممکن ہے کہ وہ بے شعوری کے عالم میں بنائو کے بجائے بگاڑ کی منفی راہ پر گامزن ہو جائے ۔ کیوں کہ جس سوچ کو علم وحکمت کی ہواتک نہ لگی ہو، وہ ہر حال میں محدودالاثر ہوتی ہے، ناقص العمل ہوتی ہے ، بے اعتبار ہوتی ہے، اصلاح طلب ہوتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک عالم اور ذہین وفطین انسان کی صحت مندسوچ انمول سرمایہ ہوتی ہے مگر ممکنہ طور بشریت کے اعتبار سے ا س میں بھی محدود یتوں اور نقائص کی آمیزش کا احتمال ہوسکتا ہے ۔ بایں ہمہ عالم کے پاس علم وحکمت کے خزانے کے جتنے موتی دستیاب ہوں،وہ ان سے لوگوں کو راہ بھٹکنے یا گمراہ ہونے س

حجر اسود کی شان

غلاف  کعبہ سے متصل رُکن یمانی او رملتزم کے درمیان ایک باوردی پہرے دار ہمہ وقت چوکس کھڑا رہتا ہے جس کی واحد ذمہ داری حجر اسود کی حفاظت اور زائرین کی حجر اسود کو چومنے کے عمل کی نگرانی کرنا اور انہیں اس عمل کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ حجر اسود کی حفاظت پر چوبیس گھنٹوں میں 24 سیکورٹی اہل کار مامور ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک اہل کار ایک گھنٹہ تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔حجر اسود کے ان محافظین کی ذمہ داریوں میں زائرین کی جانب سے مقدس پتھر کو بوسہ دینے کے عمل کی نگرانی کرنا، کمزور، ناتواں، عمر رسیدہ اور معذور معتمرین کی مدد کرنا ہے۔حرم مکی کے سیکورٹی بندوبست کے مطابق ہر گھنٹے بعد حجر اسود کے محافظ کی ذمہ داری تبدیل ہوتی ہے اور اس کی جگہ دوسرا چاق و چوبند محافظ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔ چونکہ محافظوں کو ہر طرح کے سخت گرم اور سرد موسم اور زائرین کے ہجوم کے ماحول میں مشقت بھری ذمہ دار

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہم نابینا افراد کا حال بہت ہی ابتر اور بہت ہی افسوسناک ہے۔ جن نابینائوں کے والدین زندہ ہیں، اُن کو تو والدین کی پدری شفقت کی بنا پر کچھ نہ کچھ راحت حاصل ہوتی ہےلیکن جن کے والدین گذر گئے اُن کے بھائی بھتیجے وغیرہ کچھ حُسن سلوک کرتے ہیں لیکن کچھ کا حال ناقابل بیان ہے۔ کچھ نا بینا بھائیوں کا حال یہ ہے کہ اُن کوطعنے سننے پڑتے ہیں۔ کچھ کو کھانا تک بھی ٹھیک طرح سے نہیں ملتا۔ کبھی کوئی ہاتھ پکڑنے والا بھی نہیں ہوتا۔ بیمار ہو جائیں تو علاج معالجے کی کوئی سبیل نہیں بنتی۔وراثت میں حصہ بھی ہر ایک کونہیں ملتا۔ اگر کسی کو نکاح کی ضرورت ہو تو یہ بات زبان پر لانی بھی مشکل ہوتی ہے۔ سماج میں بھی ہم کو عزت ملناکجا کبھی اپنے خاندانوں میں بھی ہم کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے لئے روزگار کےکوئی وسائل نہیں نہ حکومت نہ خیراتی ادارے نہ کوئی فورم نہ کوئی این جی او ہماری پُر سان حال ہے۔ ہم میں کچھ نابی

مکہ معظمہ کی اسلامی کانفرنس

  نوٹ :یہ مقالہ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحب کا وہ خطاب ہے جو اُنہوں نے مکہ مکرمہ میں 15-16 ؍اگست 2018 ء کو منعقدہ عالمی حج سمپوزیم میں کیا۔ مقالے کی اہمیت کے پیش نظر سمیر سلفی نے اس کا اردو ترجمہ کیا جسے ہدیۂ ناظرین کیا جارہا ہے(مدیر)  کلمات مسنونہ ! امابعد:اس اہم عالمی کانفرنس کے موقع پر جس کاموضوع ـ ـ" حج امن واطمنان وراحت وسکون کا سب سے مشرف ومیمون مقام ووقت وزمان ہے ـ ‘‘۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں ’’عالمی امن وسلامتی کے فروغ میں اسلام اور مسلمانوں کا کردار‘‘ پر روشنی ڈالنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے۔   عزت مآب دوستو! ہمارا دین دین اسلام ہے جو مادۃ "السلم " سے مشتق ہے ہمارا رب فرماتا ہے :ایمان والو! سلامتی میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔(لقرآن 2:( 208 اور پیغمبر رحمت ؐنے دنیا کے بادشاہوں کو یہ کہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: ٹریفک نظام ابتر عوام کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ اس وجہ سے لوگ مختلف مشکلات جھیل رہے ہیں۔ اسلام اس ضمن میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ مفصل بیان کریں؟ اعجاز احمد ٹریفک نظام کی ابتری۔۔۔ ذمہ داریاں سمجھنے کی ضرورت جواب: ٹریفک کے نظم و ضبط درہم برہم ہونے کے باعث جو مشکلات پیدا ہورہی ہیں اور ہر اگلے روز یہ فزوں تر ہونے کے خدشات ہیں اُن کی وجوہات اور شرعی اصولوں کے مطابق اُس کے تدارک کی تدابیر درج ذیل ہیں۔ (۱) یہاں کی سڑکیں نصف صدی پہلے کے رورکی ہیں جب کہ ٹریفک بہت کم تھا اُس وقت اکا دُکا گاڑیاں ہی ہوتی تھیں اس وقت کی ضرورت کے مطابق سڑکوں کی وسعت رکھی گئی تھی۔ اب آج اُس سے ہزار گنا ٹریفک بڑھ گیا ہے ۔ اسلئے سڑکوں کی ناکافی وسعت ٹریفک نظام کی ابتری کا ایک سبب ہے جو بالکل واضح ہے۔ (۲) ٹریفک قوانین اور ضوابط بنائے گئے ہیں اُن کی پابندی جیسی ہونی چاہئے ،ویسی بالکل نہیں ہو

مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ

 دریائے   جہلم کے دونوں کناروں پر آبادبارہمولہ وادی کشمیر کا ایک تاریخی قصبہ ہے ۔باہمولہ کے حصہ میں یہ سعادت آئی ہے کہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نے تقریباً تین برس تک اس قصبہ میں قیام فرمایااور آپ نے1905 ء  میں خواجہ عبدالصمد ککرو کے ہمراہ فریضہ حج ادا فرمایا۔ انہوں نے حجاز مقدس سے واپسی کے بعد خواجہ عبد الصمد ککرو،خواجہ امیر الدین ککرو اور خواجہ امیر شاہ کے تعاون سے  1324 ھ بمطابق  1907بارہمولہ میں’’ مدرسۂ فیض عام‘‘ قائم فرمایا جو صرف تین برس اپنی خدمات جاری رکھ سکا۔ امام العصر ؒ لوگوں کی بد معاملگی اورناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر واپس دیوبند تشریف لے گئے۔ دیوبندتشریف لے جانے کے بعد بارہمولہ اور اس کے گردونواح میں دینی بیداری پیدا کرنے اور توحید کاعلم بلند کرنے کاکام مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے کیا۔ مولانا عبدا

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ۔ حضرت ! دنیا بھر کو اس وقت موسمیاتی و ماحولیاتی تغیر کا شدت کے ساتھ سامنا ہے۔ کرۂ ارض کے کم و بیش سبھی حصوں میں موسموں کے اوقات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ اسکی وجہ سے کئی علاقوں میں بے وقت کی بارشوں سے تباہ کاری مچ رہی ہے جبکہ متعدد خطوں میں خشک سالی کی وجہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین پانی کو تحفظ فراہم کرنے اور اسکے استعمال میں کفایت برتنے پہ بہت زور دے رہے ہیں۔ ہم چونکہ عادتاً پانی کا بے تحاشہ استعمال کرتے آئے ہیں، لہٰذا ظاہر بات ہے کہ اس نئی صورتحال سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے ہیں۔گھروں کے صحن صاف کرنے ، گاڑیاں دھونے اور ہمچو قسم کے کاموں میں پانی کا بے تحاشہ ، یہاں تک کہ مصرفانہ استعمال ہمارے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ اور تو اور نماز کےلئے وضوبناتے وقت نل کھلا رکھنا، جس سے کافی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے، ایک روز مرہ کی صورتحال ہے۔سوش

۔ ۱۴۴۰ھ کی مبارک آمد !

 غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی پندرھویں صدی ہجری کا سال ۱۴۴۰ھ عالم اسلام کو مبارک ہو ۔دعاہے اللہ تعالیٰ یہ سال عالم اسلام کو اسلام کی بہاروں سے منور کرے،ہماری عمر وں میں صالحیت کی برکت پیدا فرما دے اور ہمیں وقت کی قد نصیب فرما دے۔ آمین ۔ ایک سال میں ۲ا؍ مہینے ہوتے ہیں ۔ یہ نظام اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت مقرر فرما دیا تھا۔’’بے شک اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، اللہ کی کتاب جس دن سے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان پیدا کئے۔ ان میں سے چار عزت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکین سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور جان لو اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے‘‘ (التوبۃ ۶۳ ) ماہ و سال کا یہ نظام اللہ تعالیٰ کا تخلیق کردہ ہو نے کے ناطے اس میں یق

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

کشمیر تا کعبہ

 نوٹ:یہ معلوماتی مقالہ ماہ ذوالحجہ میں ’’گریٹر کشمیر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ مقالے کی دائمی اہمیت کے پیش نظر اسے’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘ کے قارئین کرام کے لئے مضمون نگار اور مترجم کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جارہاہے ۔ ( مدیر ) حج1439 ھ _____  820 حاجیوں کا پہلا جتھہ 14 جولائی 2018 ء کو سرینگر سے بذریعہ طیارہ روانہ ہوا۔اس سال جموں و کشمیر کی ریاستی حج کمیٹی کی وساطت سے تقریباً10,196 عازمین حج فریضۂ حج ادا کررہے ہیں جن میں سے 8450 کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ماضی ٔ بعید میں مکہ معظمہ آنا جانا انتہائی دشوار اورپر مثقت سفر تھا۔ سفری مشکلات او راقتصادی کمزوری کی وجہ سے بہت کم لوگ حج بیت اللہ کے لئے جاتے تھے۔ صرف کچھ پر عزم اور پارسا لوگ ہی افغانستان، ایران اور عراق کے راستوں سے پیدل سفر کی ذمہ داری اٹھاتے تھے۔ کئی صد سال پہلے نعلبند پورہ سرینگر