تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حج کی بنیادی شرائط س:- حاجیوں کی سفرِمحمودکے روانگی کی تیاریاں جاری  ہے ۔ ان حالات میں ذہن میں آتاہے کہ کہیںہم پر بھی حج فرض تو نہیں ہے ۔  برائے مہربانی ہم کو بتایا جائے کہ کن کن شرائط کے پائے جانے پر حج فرض ہو جاتاہے اور اگر حج فرض ہوگیا ہو لیکن کوئی شخص نہ کرسکا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ محمد شعبان بٹ  ج:- جس مسلمان کے پاس اتنی مالی وسعت ہوکہ وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ حاضر ہو سکے۔ اور واپسی کے مصارف بھی ہوں اور ان ایام میں وہ اپنے گھر والوںکے ضروری خرچوںکا انتظام بھی کرسکے تو ایسے مسلمان پر حج فرض ہو جاتاہے ۔ اور جب یہ فرض ہوجاتاہے تو اس کی ادائیگی میںتاخیر کرنا بھی جرم ہے اور فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ادا نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوگیا ۔ لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کے ادا کرنے کی وصیت کرے ۔ اور اگر اس نے وصیت کردی تو وارثوں پر لازم ہے کہ

اسلام اور جمہوریت

  جمہوریت اور ریشنلزم : نظام اسلامی اورجمہوریت کے درمیان قدرے اشتراک اس امر میں ضرور ہے کہ ان دونوں نظام ہائے سلطنت نے شخصی اور وراثتی سلطنت کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے میں اہم کردار ادا کیے ہیں لیکن اس ادنیٰ سی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں نظام ہائے سلطنت کے اصولی و فروعی آپسی تناقض سے چشم پوشی کرنا کسی اعتبار سے بھی معقول نہیں۔ چوں کہ نظریے کے کسی بھی باب میں اتفاق کا لفظ اسی وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ کم از کم ان دونوں نظریات کے بنیادی اصول و اغراض میں اتفاق ممکن ہو، حالاں کہ جمہوریت اوراسلامی نظام کے بنیادی نظریے میں زمین و آسمان کا فرق ہے؛ کیوں کہ حکومت اسلامی مسلمانوں کے ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی ضامن ہے، جبکہ جمہوریت کے پس پردہ کوئی ایسی طاقت نہیں پائی جاتی جو ایسے مقاصد کو درجہٴ فعلیت میں لانے کی ضمانت دے سکے اوراگر کوئی طاقت ہے تو

جمعہ کی فضیلتیں، رحمتیں ، برکتیں

اسلام  میں جمعہ کے دن کو بہت ہی عظمت اورفضیلت والا دن قرار دیا گیا ہے۔ اس دن تمام دنوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہفتے کی عید ہے۔ اسی لئے اس دن ادائے شکر کے لئے ایک خاص نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جسے نماز جمعہ کہتے ہیں جس کی فرضیت قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت سب سے ثابت ہے۔ یہ اسلام کے شعائر اعظم میں سے ہے جس کے اہتمام کی نہ صرف تاکید کی گئی ہے بلکہ اس سے بہت سی فضیلتیں اور بشارتیں بھی وابستہ ہیں ۔ سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (ترجمہ): ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورجس قدر ممکن ہوا پاکی حاصل کی، پھر تیل یا خوشبواستعمال کیا، پھر نماز جمعہ کے لئے روانہ ہوا اور (مسجد میں پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق نہ کی، پھر جتنی (نفل) نماز اس کی قسمت میں تھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ اس وقت ہماری زندگی میں جن مصنوعات کا روزمرہ استعمال ہو رہاہے، اُن میں عام طور پر مختلف اقسام کے پلاسٹک اور پالی تھین کی پیکنگ کی گئی ہوتی ہے۔ وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں، پہنے اُوڑھنے کی چیزیں ہوں یاعلاج معالجہ کےلئے ادویات ۔ غرض کوئی بھی شے ایسی نہیں جو پلاسٹک یا پالی تھین کی پیکنگ سے خالی ہو، حتیٰ کہ پینے کےلئے پانی، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ،بھی پلاسٹک کی بوتلوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ استعمال کے بعد یہ اشیاء پھینک دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً اس وقت دنیا بھر میں کروڑوںٹن پالی تھین اور پلاسٹک کوڑے کرکٹ کی صورت میں پڑا ہوا ہے ۔ جس سے نہ صرف اراضی کی بڑے پیمانے پر  تباہی واقع ہو رہی ہے بلکہ چھوٹے بڑے سمندروں، جھیلوں اور آب گاہوںمیں آلودگی کی حدود انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلی کے لئے بنیادی وجہ گردانتے ہیں اور اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ۔ حضرت ! دنیا بھر کو اس وقت موسمیاتی و ماحولیاتی تغیر کا شدت کے ساتھ سامنا ہے۔ کرۂ ارض کے کم و بیش سبھی حصوں میں موسموں کے اوقات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ اسکی وجہ سے کئی علاقوں میں بے وقت کی بارشوں سے تباہ کاری مچ رہی ہے جبکہ متعدد خطوں میں خشک سالی کی وجہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین پانی کو تحفظ فراہم کرنے اور اسکے استعمال میں کفایت برتنے پہ بہت زور دے رہے ہیں۔ ہم چونکہ عادتاً پانی کا بے تحاشہ استعمال کرتے آئے ہیں، لہٰذا ظاہر بات ہے کہ اس نئی صورتحال سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے ہیں۔گھروں کے صحن صاف کرنے ، گاڑیاں دھونے اور ہمچو قسم کے کاموں میں پانی کا بے تحاشہ ، یہاں تک کہ مصرفانہ استعمال ہمارے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ اور تو اور نماز کےلئے وضوبناتے وقت نل کھلا رکھنا، جس سے کافی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے، ایک روز مرہ کی صورتحال ہے۔سوش

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟ جنید احمد    بمنہ سرینگر ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔ جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔ (۱)

کر کٹ اور موبائل

 کھیل  صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔’’کھیل‘‘ یعنی کوئی بھی ایسا کام جو ہماری ذہنی اور جسمانی نشوونما میں اہم رول اداکرے۔ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔کھیلنے سے دماغ تروتازہ ہوتا ہے،زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک کھیل انسانی زند گی کا حصہ رہاہے کھیل خواہ کسی بھی قسم کے ہوں  indoor  یا  out door  ،چیس، لوڈو، کیرم، سنوکر، ٹیبل ٹینس وغیرہ وغیرہ اس سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہو تاہے اور ذہنی قابلیت بھی ابھر تی ہے۔outdoor کھیل جیسے کر کٹ، فٹ بال،باسکٹ بال، طرح طرح کی دوڑrace; اور بیڈ منٹن وغیرہ وغیرہ ہیں جو ہمارے جسم کو چست، لچکدا راور پھر تیلا بناتی ہیں اور فزیکلPhysical فٹنیس کے لیے بچوں،نوجوانوںاور بوڑھوں کے لیے اپنی اپنی طاقت وصلاحیت و پسند کے اعتبار سے حصہ لینا چاہیے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ عام طور پر مسجدوں میں اقامت کہنے پر جھگڑا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جو اذان کہے وہ تکبیر بھی کہئے گا کیا ایسا کرنا درست ہے؟ سوال:۔ بیک وقت کئی اذانوں کا جواب کس طرح دیاجائے اگر کسی نماز کے وقت کئی مسجدوں سے ایک ساتھ اذان کی آواز آنے لگے تو ایسی صورت میں کس مسجد کی اذان کا جواب دیا جائیگا؟ سوال: اگر کوئی شخص اکیلے نماز پڑھے تو کیا ایسے شخص کیلئے اذان اور اقامت کہنا درست ہے یا نہیں؟ سوال: اگر وقت سے پہلے اذان دی جائے تو کیا اذان کا اعادہ کرنا دست ہے یا نہیں کیونکہ اکثر جگہ میں نے ایسا ہی پایا ہے کہ وقت سے پہلے اذان دے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟ سوال: کیا بغیر وضو کے اذان دے سکتے ہیں۔ اگر دی جائے تو درست ہے یا نہیں؟ سوال:۔ ایک موذن کا دومسجدوں میں الگ الگ اذان پڑھنا کیسا ہے؟ برائے کرم ان تمام سوالات کا مفصل جواب دیا جائے کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام چ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

(۱) صدقہ فطر کیاہے؟ (۲) اس کی کیا مقدارہے؟ (۳) اور اس کی ادائیگی کا کیا وقت ہے؟ (۴) جواور گندم میںکیا فرق ہے؟                         شوکت احمد       صدقہ فطر،مقداراور وقت ِ ادائیگی جواب: ایک مسلمان جب شوق و جذبہ سے روزہ رکھتا ہے تو وہ محض اللہ کی رضا کے لئے دن بھر کی بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے۔ممکن ہے اس عظیم عمل میں کوئی کمی رہی ہو تو اس کی تلافی ضروری ہے تاکہ روزہ کا عظیم عمل بہتر سے بہتر بن سکے۔ اسی غرض کیلئے صدقہ فطر لازم کیا گیا چنانچہ حدیث میں صدقہ فطر کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ غرباء کیلئے کھانے پینے کا انتظام اور روزے داروں کے لئے روزوں کی نقائص کی تلافی ہے۔ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کشمش، کھجور، جو کا آٹا یا اس کا ستو پنیر کی مقدار ایک صاع اور گندم یا اس کے آٹے ک

صیام اور انفاق فی سببیل اللہ

ماہ   صیام قرآن کا مہینہ ہے۔ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے۔ صبر، پرہیزگاری اور نیکیوں کا مہینہ ہے ۔ یہ غربت و افلاس ختم کرنے کا مہینہ ہے ۔ یہ اخوت و بھائی چارہ قائم کرنے کا مہینہ ہے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہوتے ہی آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک زندگی کا رنگ ہی بدل جاتا تھا۔ آپ صلعم کی تمام عبادات میں بے حد اضافہ ہو جاتا تھا۔ آپ صلعم لوگوں کے لیے بڑے ہمدردانہ رویہ رکھتے، فیاضی کا مظاہرہ فرماتے،  حسن سلوک سے پیش آتے تھے ، ضرورت مندوں کا خیال فرماتے اور یتیموں کا والی بن جاتے تھے۔  آپ صلعم کا یہ اولین وصف رہا ہے کہ آپ صلعم کے رگ رگ میں ایثار و ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آغاز نبوت کے وقت آپ صلعم ایک نہایت کامیاب اور تاجر کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ ایک طرف عرب میں آپ صلعم کی ذہانت، فراست اور حسن تدبیر کی بے مثال ساکھ تھ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   روزوں کے متفرق مسائل   سوالات (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے ک

قرآن کریم کے انگریزی تراجم

قرآنی علوم ومعارف پر دنیا بھر میں اب تک جتنا کام ہوا ہے، اتنا شاید ہی کسی آسمانی یا غیرآسمانی کتاب پر ہوا ہوگا اور اس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کی کتاب ’’ترجمات معاني القرآن الإنجلیزيۃ : دراسۃ نقدیۃ و تحلیلیۃ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جو پہلی بار 2009 ء میں سعودی عرب کے معروف ومشہوراشاعتی ادارہ مکتبہ توبہ سے چھپ کر منظر عام پر آیاتھا۔ علمی وادبی حلقوں میں ڈاکٹر اعظمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کے عوض حکومت ہند کی جانب سے صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ اورفی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ عربی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ تصنیف وتالیف، تحقیق وانکشاف، صحافت، ترجمہ نگاری، ادب اور شاعری سے انھیں زمانۂ طالب علمی سے ہی غیر معمولی دلچسپی رہی ہے، قرآن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔ مجھے بہت دُکھ ہوا کہ ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے دن میں روزے کی حالت میں اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کی اور ان کویہ معلوم نہ تھاکہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہے اور گناہ بھی ہواہے ۔ اس لئے اہم مسائل ضرور لکھیں ۔  اعجاز احمد خان…بانڈی پورہ روزے کے اہم مسائل  ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم

روزہ تزکیۂ نفس کا نقش ِ راہ

جس  طرح پودے کی نشوونما کے لیے اس کو خاردار برگ وبار سے محفوظ رکھنااور وقت پانی، کھاد اور جنگلی جانوروں سے بچاؤ کی تدابیر ضروری ہیں، اسی طرح شخصیت کے ارتقاء کے لیے غلط افکار و خیالات نیز باطل نظریات سے بچنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ہمارے گردوپیش کا معاشرہ بیمار ہو اور ہم چاہیں کہ بیماری سے محفوظ صحت مند زندگی ہمارے حصے میں آئے تو ایسا ناممکن ہے۔ انسانی خاندان سماج کی بنیادی اکائی ہے، اس لیے فطری طور سے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اسے ہر طرح کے آوارہ، باطل اور مہلک نظریات پر مبنی طرز حیات کی آغوش میں جانے سے روکیں۔ انسانی سیرت اور شخصیت کی تعمیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرنے کا نام تزکیہ نفس ہے، یعنی اگر کسی فرد کی تربیت اسلامی ماحول میں ہورہی ہے تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس کا تزکیہ بھی ہوگا۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کے تعلق سے آیا ہے کہ جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیر کر

صیام الکریم

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے بخشش پہ آتا ہے جب اُمت کے گناہوں کو تحفے میں گناہ گاروں کو رمضان دیتا ہے چشم بار ہو کہ مہمان آ گیا دامن میں الہٰی تحفۂ ذیشان آ گیا بخشش بھی، مغفرت بھی،جہنم سے بھی نجات دست طلب بڑھاؤ کہ رمضان آ‌گی گناہوں کی عادت چھڑا دے یا الہٰی ہمیں نیک انسان بنا دے یا الہٰی جو تجھ کو جو تیرے محبوب کو پسند ہو ہمیں ایسا انسان بنا دے یا الہی اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام آگیا سرچشمہ ٔ  فضلِ خدا ماہِ صیام روح پرور ہے یہ تسبیح و تلاوت کا سماں کررہے ہیں سب بقدرِ ظرف اس کا اہتمام مسجدیں فضلِ خدا سے مطلعِ انوار ہیں پی رہے ہیں اہلِ ایماں بادۂ وحدت کا جام بارگاہِ رب العزت میں سبھی ہیں سجدہ ریز دید کے قابل ہے یہ قانونِ قدرت کا نظام طالبِ فضلِ خدا ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔ محمد فاروق الفاروق کالونی سرینگر مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبا

ماہِ مبارک خوش آمدید!

 روزہ   اسلام کا ایک اہم رُکن ہے،اسے عربی میں صوم یا صیام کہا جاتا ہے اورصوم کے معنیٰ رک جانے کے ہیں ۔جب کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے تو وہ دن بھر کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر کئی پوشیدہ حلال کاموں سے پر ہیز کرتا ہے لیکن روزہ محض کھانے پینے سے پر ہیز کرنا کا نام نہیں بلکہ روزہ دار کے جسم کے تمام اعضاء کا روزہ ہوتا ہے ۔رمضان المبارک کے روزہ وں کی بہت سی فضیلتیںا حادیث پاک میں آئی ہیں۔رمضان المبارک اسلامی کلنڈر میں ہجری کا نواں مہینہ ہے اس ماہ لیلتہ القدر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزوں کو فرض کیاہے ،اس ماہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ،جب مسلمان روزہ رکھے تو اسے چاہئے کہ زبان ، آنکھ ،کان ، دل اورسی طرح دیگر اعضاء کا بھی روزہ ہوتا ہے یعنی مسلمان کو کوئی بھی عضو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

ڈاکٹر اسراراحمد

   ڈاکٹر اسرار احمد ایک ایسی شخصیت ہے جو سوانح نگاروں کو بھی شہرت کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے   ؎   آدمیت تیری تلاش رہی    دیکھے ہیں پردہ ہائے نام بہت     ڈاکٹر اسرار صاحب نے ابتدائی تعلیم گورئمنٹ کالج لاہور میں حاصل کی اور اسی کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے مگر جماعت سے اختلاف کے باعث ا س سے الگ ہو گئے۔ جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ مسلم نوجوانوں کو نفاذِ شریعت اسلامی کے لئے ان کی تڑپ تڑپ اور جہد مسلسل دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔بقول زاہد راشدی ڈاکٹر صاحب کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب  شب برأت کی فضیلت اور اہمیت جواب:-شب برات کو احادث میں لیل من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الایمان البیہقی،