کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب  شب برأت کی فضیلت اور اہمیت جواب:-شب برات کو احادث میں لیل من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الایمان البیہقی،

’’بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘

قرآن کریم اللہ کے آخری نبی ورسول محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ آخری کتاب ہے۔ اللہ کایہ دستوررہا ہے کہ جس زمانہ میں کسی نبی یارسول کو مبعوث فرمایااور اس زمانے میں جو چیزیں رائج اولوقت اور زبان زدعام تھیں، بطور تحدی ومعجزہ انہی چیز وںکو اللہ کے فرستادوں دیا گیا،جیسے موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحراور جادوگری عام تھی تو اس کو چیلنج کرنے کے لیے عصائے طوری عطا کی گئی حالانکہ یہ جادونہیں بلکہ معجزہ ربانیہ تھا ،عیسیٰ علیہ السلام کو شفائی کیمیاء عطا کیاگیاعلاوہ ازیں مختلف انبیاء ورسل ؑ کو علاقائی اعتبارات کا خیال کرتے ہوئے قوم کو حق قبولنے کے لیے معجزے عطا کیے گئے ، کچھ امتوں کے مطالبات پر بھی اس دور کے انبیائے کرام ؑ کو خدائی معجزہ عطا کیاگیا لیکن اس پر عدم تشکر کی پاداش میں انہیں ملیامیٹ کردیاگیا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شعروشاعری اور عربی ادب پر خوب چرچے تھے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ احمد کشمیری جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ایک زکوٰۃ اور دوسرے عمومی استعمال کی گھریلو اشیاء ۔اب معنی یہ ہونگے کہ خرابی ہے زکوٰۃ روک کر رکھن

امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ ـ

 مفکرین و محققین نے امت کی زبوں حالی اور تنزل و انحطاط کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ من جملہ ان کے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امت اپنے درخشان و تابان ماضی اور اکابرین و اسلاف کو فراموش کرچکی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم اغیار و باقی اقوام عالم اور ان کی خودساختہ تہذیب و کلچر سے متاثر و مسحور ہوچکے ہیں۔ یہ بات دنیا کے تمام حکماء کے نزدیک مسلّم ہے کہ جب انسان کسی دوسری قوم و تہذیب سے متاثر ہوتا ہے تو وہ خود اپنے تشخص وپہچان اور تمدن سے ہاتھ کھو بیٹھتا ہے۔ چونکہ امت مسلمہ کی حالت کافی حد تک ایسی ہی ہو چکی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ آج امت بالخصوص نوجوانان ملت اسلامیہ کو اپنے اسلاف کی رفعتوں و بلندیوں اور ان کے علمی و فکری کمالات و عجائبات نیز ان کی پاکیزہ و روح پرور زندگیوں سے متعارف کیا جائے تاکہ امت نئی تہذیب کے دلدل و مادہ پرستانہ طرز زندگی سے اپنے آپ کو نکال کر، اپنے اسلاف

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 مندرجہ ذیل چند سوالات عرض ہیں، بمہربانی مختصر وضاحت فرمائیں؟؟ (۱) ایک مسلمان کے لئے لباس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ (۲) مردے کےہاتھ باندھ کے رکھنے اور غسل کے بعد کفن باندھنے اور پھر چہارم کی رسم کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ (۳) قرض کے لین دین ، جسکا سود ایک اہم حصہ ہوتا ہے ، کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ (۴) لڑکے اور لڑکی کے درمیان رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ شرط رکھی جائے کہ دونوں پہلے ایک دوسرے سے مل لیں، پھر فیصلہ کرینگے، کیا ایسا کرنا جائزہے؟ عبدالرحمان ملک فاروق احمد ملک  لباس کے بارے میں شرعی ہدایت جواب:۔ لباس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ ہر وہ لباس جو انسان کے ستر کو پوری طرح نہ چھپائے وہ غیر شرعی لباس ہے لہٰذا جو لباس بدن پر اس طرح تنگ اور چست ہو کہ جسم کے اعضائے مستورہ کا حجم اور نشیب وفراز نمایاں ہو جائےوہ لباس غیر شرعی ہوگا ۔لہٰذاچست

فاسق کی خبر رسانی!

 سورۂ حجرات میں اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لئے مختلف النوع سماجی احکامات و ہدایات نازل فرمائی ہیں، مثلاً سرور عالم ﷺ کے ساتھ غایت درجہ ادب و تعظیم کا معاملہ، مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کے اصول، اختلافات، نزاع اور جدال کے مواقع پر باہمی صلح سمجھوتہ کرنے اور کروانے کی ترغیب، نیز مسلمانوں کے معاشرتی لڑائی جھگڑوں کے ضمن میں مذاق اُڑانے، برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے، غیبت کرنے جیسی عیوب کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو اسلام کی ایک آفاقی حقیقت تمام انسانوں کو باور کر ائی گئی ہے کہ معیار تفوق و فضیلت صرف تقوی ٰہے نہ کہ خاندانی وجاہت و عصبیت۔ آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف زبانی کلامی اسلام کا اقرار کافی نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکموں کو دل و جان سے ماننا ضروری ہے۔اس سورہ پاک کی آیت نمبر چھ میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق اور غیر معتب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: کشمیرمیں شگوفے پھوٹنے کے موسم میں ہی میوہ باغات کی خرید و فروخت زوروں پر شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اسکی طرف توجہ بھی نہیں دیتے کہ یہ حلال ہے یا حرام کیونکہ بہت پہلے ے یہ رواج چلا آرہا ہے حتیٰ کہ اکثر لوگ ایسے بھی ہیں جن کو یہ بات کہ پھول کھلنے کے موسم میں باغات کا خریدنا اور فروخت کرنا جائزہ نہیں ہے بالکل نئی اور عجیب سی علوم پڑتی ہے بعض لوگ یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم میوہ ظاہر ہونے کے بعد باغ کا سودا کریں گے تو ہمیں بعض مرتبہ بجائے نفع کے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کہ دوائیوں کے چھڑکائو پر زر کثیر خرچ ہوتا ہے اور باغ بیچنے کے بعد دوائیوں کے پیسے بھی وصول نہیں ہوتے لہٰذا مہربانی اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ علمائے کرام نے جدید اجتہاد کے دوران ایسا کوئی مسئلہ دریافت کیا ہے جس کی رو سے یہ خرید و فروخت جائز تصویر کی جاتی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو ایسی آسان سی صورت کے فتوے سے نواز دیں جس

پیشہ ور بھکاریوں سے نجات لازم!

 پیٹ کی بھوک ختم کرنے کی خاطر تو انسان کچھ بھی کر گزرتاہے۔ اسی پیٹ کیلئے لوگ طرح طرح کے پیشے اپناتے ہیں۔ آج کل بھیک مانگنا بھی نفع بخش تجارت پیشے کی صورت اختیار کر چکاہے۔ شہر میں فقراء کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوں یا ٹریفک سگنل پر، شہر میں ہوں یا دیہات میں ، سفر میں ٹرینوں اوربسوں میں ہوں ، پیدل ہوں یا سواری پر۔اللہ کے نام پر کچھ دے دیں،دو دن سے بھوکا ہوں ،گھر میں کچھ کھانے کو نہیں، اللہ کے لئے میری مدد کریں۔اسی قسم کے الفاظ اکثرآپ کے کانوں کو ضرور سننے کو ملیں گے۔یہ الفاظ  پیشہ وربھکاریوں کے رَٹے رَٹائے ہوتے ہیں۔ بے غیرتوں اور تن آسان مشٹنڈوں کے لئے بھیک مانگنا ایک آسان ترین کمائی کا ذریعہ ہے۔ ملک بھر میں پیشہ ور (Professional) بھکاریوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ فٹ پاتھوں ، چوراہوں، گھروں ، مساجد کے باہر اور مارکیٹ میں ، مزاروں کے پاس طرح طرح حیلوں بہانوں سے ل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جسکی عورت کو خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہےاور اس کی مدت کتنی ہوتی۔ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہےکہ کون سے کام کرنا جائز ہے، کس کس کام کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہےنیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے۔ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں ؟ شمس الدین،شوکت احمد، محمد عارف سرینگر عدت کی اقسام اور مسائل  جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہو جائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلا

تحریک اسلامی

 22  فروری کی شب جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ وادی ٔ کشمیر کے کئی اضلاع اور تحصیلات میں متعلقہ پولیس نے امرائے جماعت کو اپنے گھروں سے گرفتار کیا ۔ یہ ایک ڈرامائی کارروائی تھی اور وردی پوشوں کے ہاتھ میں گرفتار شدہ گان کے خلاف کوئی دستاویز تھی نہ کوئی چارچ شیٹ۔ محبوسین کے گھر والے سراسیمگی کے ماحول میں جب یہ گرفتاریاں ہوتی دیکھتے تو حیرت کے عالم میں پولیس سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں ، جواب اتنا ہی ملتا کہ’’ اوپر سے آرڈر ہے، باقی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہے‘‘۔ گرفتار شدہ گان میں کئی زعمائواراکین عمر رسیدہ ہیں ، کئی ایک علیل ہیںاور کہیوں نے پولیس حکام سے بوجوہ گزارشیں بھی کیں کی کہ علی الصبح خود ہی تھانے میں رپورٹ کریں گے مگراُن کی ایک نہ سنی گئی۔ ایک ہفتہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ تادم تحریر وادی ٔ کشمیر کے علاوہ صوبہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال-کشمیر کی مساجد میں جو غسل خانے ہوتے ہیں۔یہ غسل خانے استجاء اور غسل کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی انسان مجبور ہوتاہے اور ان غسل خانوں میں پیشاب بھی کرتاہے ۔ چونکہ مساجد کے باہر پیشاب کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا اس لئے مجبور ہو کر ایسا کرناپڑتاہے اور بہت سارے لوگ مسجدوں کے باہر نالیوں میں سب کے سامنے پیشاب کرتے ہیں پھر مسجدوں کے غسل خانوں میں استنجاء کرتے ہیں مگر وہاں کچھ لوگوں کو دوبارہ پیشاب کے قطرے آجاتے ہیں ۔شریعت میں اس ساری صورتحال کا حل کیاہے ؟کیا مساجد میں پیشاب خانوںکاانتظام نہیں ہوناچاہئے ۔ فیاض احمد  تمام مساجد میں پیشاب خانوں کا انتظام انتہائی ضروری  جواب:-تمام مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ جیسے وہ مسجدوں کے لئے حمام ،گرم پانی ،وضوخانے، غسل خانوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح وہ مساجد میں پیشاب خانوں کا بھی انتظام کریں ۔اس

اسلام کا نظریۂ تعلیم

  بچوں  کی صحیح طریقہ پر تعلیم وتربیت ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جس کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : ’’اے ایمان والو!تم اپنے کو اور اپنے گھروالوںکو (دوزخ کی ) اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن (اور سوختہ )آدمی اور پتھر ہیں ۔جس پر تند خو(اور)مضبوط فرشتے (متعین ) ہیں ،جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو (فوراً ) بجالاتے ہیں۔( سورہ تحریم ،آیت نمبر ۶) چنانچہ آیت کریمہ اولاد کی تعلیم اور ان کی تربیت کی اہمیت کو بیان کرتی ہے ،اور اہل ایمان کو اپنے اہل وعیال کی تعلیم وتربیت کرنے اور انہیں اللہ کی اطاعت و فرمان برداری پر اُبھارنے اور اللہ کی نافرمانی وسرکشی سے باز رکھنے اور انھیں اچھی باتوں کی تلقین کرنے اور حسن ادب سے آراستہ کرنے کا حکم دیتی ہے تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ اس بھیانک او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ پچھلے ہفتہ کے جمعہ ایڈیشن میں آپ نے کبیرہ گناہوں کی تفصیل شائع کی۔ اُن گناہوں میں ایک بڑا گناہ رشوت لینا بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رشوت کیا ہے؟ یعنی ہم کیسے کسی رقم کو رشوت کے زمرے میں لائیں گے جبکہ بعض دفعہ لوگ کسی کام کے بدلے میں رقم مانگ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری چائے ہے۔نیز یہ بھی بتایئے کہ رشوت کی شکلیں کیا کیا ہیں۔ بہت سارے ضروری کام رشوت دیئے بغیر نہیں ہو پاتے اور جب تک رشوت نہ دیں وہ کام لٹکے رہتے ہیں۔ کیا اس جگہ رشوت دینا بھی گناہ کبیرہ ہے تو پھر حل کیا ہے؟۔ اگر رشوت دیں تو یہ گناہ کبیرہ ہوگانہ دیں تو یہ کام نہیں بنے گا۔ اب مسلمان کرے تو کیا ۔رشوت خوری کے اس طوفان بدتمیزی سے بچنے کی تدبیر کیاہے۔حکومتیں رشوت خوری کو روکنے کےلئے قوانین بھی بناتی ہیں اور انسداد رشوت انٹی کرپشن ادارے بھی ہیں مگر عملاً نتیجہ صفر ہے۔ برائے مہربانی قرآن اور احادیث کے روشنی میں جواب عنایت فرم

اسلام کاگھریلو نظام

 اللہ  کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے کہ جس مرد اور عورت میں کبھی ملاقات نہیں ہوتی کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ان کے دلوں میں نکاح کے ذریعے ایک دوسرے کے لئے محبت موجزن ہو جاتی ہے اور رحمت و ہمدردی کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے پر جان نثار ہو جاتے ہیں۔ یہ سب محض اللہ تعالی کی قدرت کا کرشمہ ہی تو ہے۔ ارشاد ربانی ہے: اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی یقینا غوروفکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔(روم،آیت:۲۱) نکاح زوجین کے مابین ایک معاہدہ ہے جس میں ایک طرف سے کفالت اور پرورش کی ذمہ داری ہے تودوسری طرف سے اطاعت وفرمان برداری ہے اور یہ نکاح درحقیقت ایک دائمی معاہدہ ہے جو اس عہد و پیمان سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ مستقبل میں یہ رشتہ مستحکم ثابت ہو۔دین اسلام میں نکاح کے ذریعے عورت او

دعائے خیر

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے   ؎  تو بچا بچاکے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ  گرشکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاہ آئینہ ساز میں   یہ بندہ ٔ مومن کا دل ہے جو اللہ کے حضور جتنا شکستہ اور نرم وملائم ہو اُتنا اس کی عبادت کو قبولیت اور دعا ؤںمیں اثر آفرینی آجاتی ہے ۔ دعا خدائے لم یزل کے بے حد ونہایہ خزانوں سے فیضیاب ہونے کا ایک نہایت ہی اہم ذریعہ ہے۔ دعا میں وہ طاقت ہے کہ لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل کردیتی ہے، آنے والے تمام مصائب کو دور کردیتی ہے ،مشکل حالات اورمصائب میں بندے کوگرفتار ہونے سے بچاتی ہے، رب العالمین کے ساتھ قرب بڑھاتی ہے۔  رسول اکر مؐ کا فرمان مبارک ہے کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، لہٰذا دعاء میں عاجز مت بنو، اس لیے کہ دعا کے ساتھ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوسکتا۔(ابن حبان)۔ دعا ہر آئی ہوئی اور آنے والی مصیبت کے ازالے میں نافع ہوتی ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :۔ گناہ کبیر ہ کسے کہتے ہیں اسکی معافی کی کیا صورت ہے کسی ایسی کتاب کا نام بتائے جن میں گناہ کبیر کی ساری تعداد موجود ہو۔ اگر ایسی کوئی کتاب فی الحال دستیاب نہ ہو تو آپ خود گناہ کبیر کی مکمل تعداد تحریر فرما کر پوری امت مسلمہ پر اور خاص کر ہم اہل کشمیر پر احسان فرمائیے۔  محمد ادریس بٹ    گناہِ کبیرہ  جواب :۔ قرآن و حدیث میں جن کاموں کو سختی سے منع کیا گیا ہے یا جن کاموں پر اللہ کے غضب یا جہنم کی وعید سنائی گئی ہے وہ کام گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں۔ ان گناہوں کی تعداد مختلف علمائے امت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف بیان فرمائی ہیں۔ اس کی مختلف علمی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ تعداد بیان کرنے میں رائیںمختلف ہوئیں۔ اہم گناہ کبیرہ کے متعلق سب کا اتفاق ہے۔ علامہ شمس الدین ذہبی ؒنے اپنی مشہور کتاب الکبائر اور علامہ ابن نجم مصریؒ نے گناہ ِ کبیرہ کی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

مثالی زندگی

 زندگی  تمام مخلوقات کے لئے بلاشبہ ایک نعمت ہے لیکن انسان کے لئے یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ انسان کو زندگی کا وہ اعلی مقام عطا کیا گیا ہے جہاںباقی تمام مخلوقات بے جان سے جاندار تک، ٹھوس سے گیس تک اور ذرے سے کہکشاںتک اسی کی خدمت کیلئے مسخر کئے گئے ہیں۔اللہ تعا لی فرماتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ نے زمین اور آسمان کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اورچھپی نعمتیں تم پر تمام کر رکھی ہیں۔(لقمان ) کائنات کے ہر ایک چیز کی ساخت اور توازن ایک ایسی کامل اور بہترین کاریگری سے کی گئی ہے کہ بڑی سے بڑی اور باریک سے باریک نظربھی کوئی کمی محسوس نہیں کرسکتی ۔ستارے ،سیارے ،گردشِ ایام اور موسموںکا تغیر، قدرت کے یہ سارے مناظرایک تو انسان کی ذہنی و جمالیاتی حِس کو جلّا اور تقویت عطا کرتے ہیں اورساتھ ہی انسان کے سامنے اُس کامل توازن کی کُھلی کتاب بھی رکھ دیتے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔   مشتاق احمد جانباز امیرا کدل سرینگر تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل۔۔۔۔ پُرسا دینے کا شرعی طریقہ جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا تع

برائیاں اور گمراہیاں!

  ہمارے  معاشرہ کی مختلف برائیوں میں سے چند برائیاں کافی عام ہوگئی ہیں،ان کی ہمیں مشترکہ طور اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان برائیوں اور گمراہیوں کی ایک اجمالی تصویر  پیش خدمت ہے :   دینی تربیت کا فقدان :قرآن وحدیث میں علم کی اہمیت کا  بار بار احساس دلایا گیا ہے، حتی کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’اقرأ‘‘بھی یہی رہنمائی کرتی ہے ۔ قرآن وحدیث میں جہاں بھی علم کا ذکر آیا ہے، وہاں وضاحت موجود ہے کہ اُسی علم وعرفان سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا، اسی کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے گا اوراسی کے ذریعہ دل میں جوابدہی کا احساس  اوراللہ کا خوف پیدا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خصوصیات پہلے قرآن وحدیث کے علوم ومعارف اور دوم دنیا کے علم ِنافع اور فنونِ صالحہ  کے امتزاج سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ آج کل ہم عصری تعلیم