تازہ ترین

حضرت علی ؑ کی نظر میں

 دنیا کی دوغلی ماہیت: دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اُس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھنچتا ہے اور ہوش مند و دانا اُ س سے بچ کر رہتا ہے۔‘‘  (حضرت علی ؑ۔ نہج البلاغہ  )    حسین، دلکش، دلفریب، جاذبِ نظر دنیا ،دھوکہ باز، بے وفا، اور ہلاکت خیز ہے۔ بظاہر انسان کا مسکن مگر حقیقتاً اس کا مدفن ہے۔ اس کی بوقلمونی سے اکثر و بیشتر لوگ گمراہی کے شکار ہوگئے۔ اس کی اصل ما ہیت ظاہر کرتے ہوئے امام علی ؑ نے فرمایا: ــ’’اس دنیا کا گھاٹ گدلا اور سیراب ہونے کی جگہ کیچڑ سے بھری ہوئی ہے ،اس کا ظاہر خوشنما ، اور باطن تباہ کن ہے۔ یہ مٹ جانے والا دھوکا، غروب ہو جانے والی روشنی ، ڈھل جانے والا سایہ اور جھکا ہوا ستون ہے۔ جب اس سے نفرت کرنے والا اس سے دل لگا لیتا ہے اور اجنبی اس سے مطمئن ہو جاتا

سحر اور اس کے مضر اثرات

وہ جب جب کلاس میں آتا اس کے سر میں دردشروع ہوجاتا۔جب امتحان کا زمانہ آتا ایک دو مضمون کے امتحان میں وہ لڑکی بے ہوش ہوجاتی ۔ اس بچے کی بس جیسے ہی راجوری کی سرحدوں کوپار کرتی وہ شدید بیمار ہوکر گھر واپس آجاتا۔میں اس بچے کو بھی جانتا ہوں جس نے انجینئرنگ کا آخری سمسٹر مکمل نہ کرکے گھر میں خود کوبند کرلیااور تعلیم چھوڑ دی۔میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی ہوتے ہوتے رُک جاتی ہے۔ میں اس بے چارے کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی تو ہوئی مگر آج تک اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ میں ایسے ہی ایک اورشخص کو جانتا ہوں جس کی شادی ہوئی ، اولاد بھی ہوئی مگر اس کی اولاد نے نارمل بچوں کی سی زندگی نہیں جی لی۔ میں نے ایسے ہی ایک اورشخص کو بھی دیکھا ہے جس کی شادی تو ہوئی مگر اس کی ازدواجی زندگی پُرسکون نہیں۔ میں ایک اور بہت ہی قابل ڈبل ایم اے اورپی ایچ ڈی کے حامل نوجوان کو جانتا ہوں جو کم وبیش جنون کے عالم