تازہ ترین

امریکہ و چین کی سرد جنگ

گزشتہ  دو سو سال سے پوری دنیا میں مغرب کی غیر معمولی ذہانت اور علم کے چرچے ہیں۔ مشرق کے کروڑوں لوگ اہلِ مغرب کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ آسمان سے اُتری ہوئی مخلوق ہوں۔ مغربی انسان چاند پر پہنچ گیا اور مریخ پر جانے ہی والا ہے۔ مغربی انسان نے کائنات کے سربستہ رازوں کو جان لیا۔ اس نے ایٹم کو توڑ کر توانائی کا خزانہ دریافت کرلیا۔ مغرب کی ہزاروں ایجادات ہماری زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ ان تمام چیزوں کا اربوں انسانوں پر جادوئی نہیں ’’معجزاتی اثر‘‘ ہے۔ اس اثر کی وجہ سے اربوں لوگ مغرب کے علم اور ذہانت پر ’’ایمان‘‘ لائے ہوئے ہیں لیکن مغرب کی ذہانت اور علم کے اندازے کا ایک اور زاؤیہ ہے۔ سرمایہ دار مغرب سوشلسٹ روس اور اُس کے فلسفے کا دشمن تھا اور وہ چاہتا تھا کہ سوشلزم اور سوویت یونین زیر ہوجائیں۔ اس نے کمیونزم اور سوویت یونین کو کمزور

کاش وزیراعظم کامدار ہوتے!

 افسوس  کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم ہند نریندر مودی جی نے ایک اچھا موقع گنوا دیا۔عوام نے اُن پر بھروسہ کیا تھا اور بھاری اکثریت سے انہیں منتخب کیا تھا۔نہیں لگا تھاکہ مودی جی ان کی تقدیر سنواردیں گے لیکن  وہ خود اپنی کرسی کیپوجا لگے۔ایک اچھے مینڈیٹ کی گویا انہوں نے قدر نہیں کی ورنہ وہ چاہتے تو مدتوں وہ یاان کی پارٹی حکمرانی کر سکتے تھے۔کیونکہ ان کی محنت کی بدولت ملک بھر سے اِن چار برس میںجس طرح کانگریس کا صفایا ہوا،ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کانگریس کبھی سنبھل سکے گی۔وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان تمام برسوں میں کانگریس کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔یہ اور بات ہے کہ اسی کو استعمال کرتے ہوئے تمام انتخابات میں جیت حاصل کرتے گئے لیکن انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ کانگریس کو کوسنے کا عمل ہمیشہ تو ووٹ نہیں دلوا ئے گا ۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ایسی باتوں س