تازہ ترین

محاصرے اور تلاشیاں!

وادی ٔ کشمیر میں گزشتہ اٹھائیس سال سے بہ طفیل افسپا جگہ جگہ فورسز کی طرف سے بستیوں کا گھیراؤ اور خانہ تلاشیاں ایک ایسی متواتر مہم کا عنوان لئے ہوئے ہیں جن میں کشمیر کی ریاستی مشینری شب و روز اُلجھی ہوئی نظر آتی ہے۔اِسے عام فہم زبان میںکارڈن اینڈ سرچ آپریشن Cordon and search operation ) ) کا نام دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں یہ اصطلاح زبان زد عام ہے ۔ میڈیا میں مختصراً CASOبولا اور لکھا جاتا ہے ۔ جھڑپوں اور خون آشامیوں کے حوالے سے یہ اصطلاح تقریباََ ہر روز اخباروں کی سرخیوں میں چھائی رہتی ہے ۔جہاں بھی فورسز اور سرکاری مشینری کو اپنے مختلف ذرائع سے اطلاع ملتی ہے یہ مقام جنگجوؤں کی پناہ گاہ ہو سکتا ہے، یا کسی جگہ جنگجو چھپے ہوئے ہیں، وہاں توپ وتفنگ کا گھیراؤ کیاجاتا ہے اور گھر گھر تلاشی مہم شروع ہو جاتی ہے جس میں حقوق البشر کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب ہونے پر ہاہاکار مچ جاتی ہے ۔ بالآ

غزہ۔۔۔ صیہونی مظالم اسرائیلی زیادتیاں

اس سال ’’قومی یوم الارض‘‘ کے موقع سے 30؍مارچ سےفلسطینیوں نے ’’تحریک حق واپسی ‘‘کے عنوان سے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے شروع کئے ہیں، وہ اب تک جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردانہ کاروائی سے ہر جمعہ کوئی نہ کوئی فلسطینی جام شہادت نوش کرتاہے جب کہ درجنوں زخمی ہوتے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے فلسطین کا ایک بڑا حصہ غزہ پٹی کے شہریوں کو سن 2007ء سے معمول کی زندگی گزارنا دشوار ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں ایک طرف غاصب صہیونی ریاست نے غزہ پٹی کا آہنی فصیل سے محاصرہ کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف برادر ملک مصر نے غزہ بین الاقوامی گزرگاہ رفح کی ناکہ بندی کرکے غزہ کے شہریوں کی آمد ورفت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ فلسطینی مظلومین ان احتجاجی مظاہروںکو طول دے کر ایک اپنی مقبوضہ اراضی کے حصول اور اپنے وطن (وہ جگہ جہاں

وادی بنگس ۔۔۔یارانِ جہاںکہتے ہیں کشمیرہے جنت

 لیلہاتے کھیت کھلیان،صاف وشفاف آبِ رواں،سبزمخملی زمین اورپھولوںسے لہلہاتی حسین وجمیل وادی،پہاڑوںکی خوبصورتی میںلپٹی پرکشش جھیلیں،موسموںکے دلکش نظارے اورانواع واقسام کے پھلوںسے معموراس کرہ ٔارض کو لوگ’’جنت ِارضی‘‘کہتے ہیں۔آبشاروںکے جھرمٹ میںوادی کشمیراللہ کے خوبصورت شاہ کاروںمیںایک شاہ کارہے۔کشمیرمیںکئی ایسے دلکش ، دل فریب ا ورقابل دیدمناظرقدرت کی بہتات ہے کہ صدیوں سے   فطرت کے پرستارلاکھوںسیّاح ہرسال دنیا بھر سے یہاں کا رخت سفرباندھ کرمرحلۂ شوق طے کرتے ہیں۔انہی قابل دیدجگہوںمیںسے شمالی کشمیر میں ایک ’’وادی  ٔبنگس‘‘ہے۔   وادی بنگس کی خوبصورتی کے بارے میں اگرچہ کافی عرصہ سے سن رکھا تھا لیکن یہ جان کر کہ وہاں تک جانے کیلئے اجازت لینا پڑتی ہے ،کبھی  وہاںجانے کا ارادہ نہ کیا۔ اب جب معلوم پڑا کہ گزشتہ سال سے

ذوالفقار علی بھٹو

حکم  کے مطابق بھٹو صاحب کو4/3اپریل 1979ء کی درمیانی شب کو دو بجے‘ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی موجودگی میں پھانسی لگانی تھی۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات چودھری نظیر اختر راولپنڈی جیل میں 3 اپریل صبح سے حاضر تھے‘ جب کہ وہ یکم اپریل شام سے راولپنڈی آئے ہوئے تھے۔ بھٹو صاحب کی لمبی بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت دیکھ کر ایک سٹریچرکا بھی بندوبست کرلیا گیا تھا کہ اگر وہ پھانسی گھاٹ تک چل کر نہ جا سکے تو ان کو اس پر لے جایا جائے گا۔ چند ایک پیٹرو میکسس کا بھی بندوبست کر لیا گیا کیونکہ اس رات آسمان پر کافی بادل موجود تھے اور رات اچھی خاصی اندھیری تھی۔ مندرجہ ذیل افسران رات ایک بج کر پینتیس منٹ پر سیکورٹی وارڈ گئے۔ ا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل چودھری یار محمد۲۔ کمانڈر سیکورٹی فورس لیفٹیننٹ کرنل رفیع الدین۳۔ مجسٹریٹ درجہ اوّل ڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی مسٹر بشیر احمد خان۴۔ راولپنڈی جی

سید مودودی کی ’سزائے موت‘

شہر لاہور میں‘ مارچ 1953ء میں‘ جب ہم لوگوں کو گرفتار کرکے لاہور سینٹرل جیل میں لے جایا گیا۔ ہم لوگ دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا مودودی صاحب کی اقتدا ء میں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے کہ دیوانی گھر وارڈ کا باہر کا دروازہ کھٹ سے کھلا اور 14'15 فوجی اور جیل افسر اور وارڈر احاطے میں داخل ہوئے اور جہاں ہم نماز پڑھ رہے تھے وہاں قریب آکر کھڑے ہو گئے۔ ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑ ے فوجی افسر نے جو مارشل لا کورٹ کا صدر تھا‘ اس نے پوچھا: ’’مولانا مودودی صاحب کون ہیں؟‘‘مولانا نے عرض کیا: ’’میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں‘‘،تو اس نے کہا: ’’آپ کو’’ قادیانی مسئلہ‘‘ کتاب تصنیف کرنے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ہے۔ آپ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کر سکت

تازہ ترین