کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو ک

کورونا وائرس اور سرینگر میں پانی کی قلت

وزیراعظم نریندر مودی آ?ج کل اور باتوں کے علاوہ دن میں بار بار بیس سے تیس سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے ہیں۔ پوری دْنیا اور ملک کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ بچنے کی بنیادی صورت پانی سے ہاتھ صاف کرنا ہے لیکن اگر کسی خطے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہو، وہاں ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلانا اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔  غرض یہ کہ سرینگر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کورونا وائرس کے خطرے کو دوگنا کر دیتی ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل نظر کی توجہ اس اہم مسلے کی طرف اس لئے مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر پانی کورونا وائرس کے خلاف بنیادی ہتھیار ہے تو اندازہ کریں جب لوگوں کو پانی ذخیرہ کرنا پڑے اور لاک ڈاون کے دوران کئی روز تک محکمہ پی ایچ ای کے ٹینکر کا انتظار کرنا پڑے تو لوگ کھانا پکانے اور دوسرے ضروری کاموں کو ترجیح دینگےیا بار بار ہ

لاک ڈاؤن کا فیصلہ کہیں اُلٹا نہ پڑجائے!

اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ’کورونا‘ سے لڑنے کے لیے کجریوال نے جواعلان کیا ،اس نے حکومت ہند کو نیند سے جگادیاہے۔ ویسے توانھوں نے اب تک جوبھی اعلانات کیے ہیں،اُن پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے ایک بار مہاتماگاندھی جی پربیان دیتے ہوئے انھیں ’چالاک بنیا‘کاخطاب دیاتھا۔اب ان سے عرض ہے کہ وہ کجریوال کو کس خطاب سے نوازیںگے؟ وہ آج پورے ملک میں ایک بے مثال منتظم اور بھارت ماتاکاایساسپاہی اورسپوت بن کراُبھرا ہے، جس پرنہ صرف دہلی والے جان چھڑکتے ہیںبلکہ اب توان کی قوت ارادی کالوہاپوری دنیا بھی مان رہی ہے اور ان کا بے حد احترام بھی کرتی ہے۔انھوںنے پچھلے 5سالوں میں دہلی میں کرکے دکھایاہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ سب کویقین ہے کہ ان میں ملک اور ملک کے باسیوںکی اچھی طرح حفاظت کرنے کی پوری ہمت وطاقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی دیگرری

اسلام کا مطلوب طالب علم

اللہ تعالی نے علم کی اہمیت و افادیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔۔۔۔"اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے اور ان کے کئی درجات بلند کرتا ہے جن کو علم ملا ہے" ( المجادل?:۱۱) نبوت اور کلام اللہ کی ابتدا لفظ " اقرا" سے ہوئی۔۔۔اور یوں اسلام میں علم کی اہمیت اور افادیت کا خلاصہ اسلام کے آغاز میں ہی سمجھایا گیا۔پتا چلا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت علم ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ علم ہر کسی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی محور ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے ایک انسان کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اس کو علم کی نور سے منور کیا گیا۔ علم کی وجہ سے ہی ایک انسان کو دنیا کے تمام مخلوقات پہ سبقت حاصل ہوئی۔ علم کو بنیاد بنا کر انسان نے کیسے کیسے حیران کن کارنامے انجام دیے اور اسی علم کی وجہ سے کیسے ہولناک فسادات رونما ہوئے۔ اسی علم کو مثبت طریقے س

جھوٹ وخوشامد۔اخلاقی پستی کی علامت

اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع اور بلند وبرتر ہے ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں تنہا ویکتا ہے،اس کی قدرت و بادشاہت میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ مشیر ہے،وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ تمام تراوصاف حمیدہ سے متصف اور تمام صفات قبیحہ سے مبرہ اور پاک ہے۔وہ پوری کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے ،جہانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، اس کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے۔انسان اس کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار ہے، انسان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ اس میں وہ بہت سی خوبیاں رکھی گئی ہیں جن سے دوسری مخلوقات محروم ہیں ،ظاہری وباطنی دونوں لحاظ سے وہ تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفہم ،شعور وادراک اور قوت گویائی اور قوت ارادی سے مالامال کیا ہے ، دیگر کے مقابلہ میں ان چیزوں میں اسے کمال حاصل ہے ۔وہ اپنے ارادہ کی قوت وطاقت سے بہت سے بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے،وہ جا

کرونا وائرس

اس وقت پوری دنیا سخت ترین حالات سے دوچارہے، پورے عالم پرماتمی سکوت چھایا ہوا ہے ہر طرف ہو کاعالم ہے، وبا کی شکل اختیار کرنے والے اس کورونا وائرس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک تک کو زیر کردیا ہے، اس جان لیوا وائرس کا مرجع اور مصدر چین ہے جہاں کی ٹیکنالوجی کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیامیں سر فہرست ملکِ چین کو اس وائرس نے گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔وہاں کی انتظامیہ کو اس ناگہانی وباء نے مایوس اور عاجز کردیا۔ اٹلی جوایک یورپی ملک ہے جہاں کا محکمہ طب ترقی میں اتنا ایڈوانس ہے کہ اسے طب کے معاملے میں یورپ کے بیشتر ممالک پر فوقیت حاصل ہے، اس کے باوجود اس وائرس نے ان کی کمرتوڑدی ہےاور رات دن کی انتھک کوششوں کےباوجود ان کے تجربات کو ناکام کردیا ہے۔ امریکہ ،دنیا جسے سپر پاور مان رہی ہیںآ?ج وہاں بھی یہ مرض اپنے پر پھیلا چکا ہے اور وہ بھی اس وبائی مرض سےشکست خوردہ نظر آ رہا ہے۔ اس وحش

عصر حاضر کامسلمان ؟

اسلام ایک مضبوط ،ٹھوس ،معقول آسمانی ضابطہ ٔ عمل اور نظام حیات ہے جو بنی نوع انسان کو زندگی گزارنے کے لئے خالق کائنات کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نظام وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص عالی مرتبہ (نفوس قدسیہ) کے ذریعہ پھیلایا جن کو اسلامی اصطلاح میں حضرات انبیا ء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔ اس کے تین ثیق ہیں:عقائد ،احکام اور اخلاق وآداب۔ عقائد: اللہ تعالیٰ پر ایمان ۔ وہ اس س ساری کائنات کا واحد مالک اور خالق ہے ،جس کا بہت کم حصہ ہمارے مشاہدہ میں ہے اور بیشتر حصہ ہمارے مشاہدے سے ماوراء ہے(وسیع کرسیہُ السمٰوات و الارَض)وہ ہر حال میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اس کے ساتھ انبیاء کرام،فرشتے ،تقدیر جزاء و سزا کے دن پر پورا پورا یقین رکھنا  وغیرہ۔ احکام : زندگی گزارنے کے قوانین کیا ہیں۔معاملات ،معاشرتی مسائل ،تعلق باللہ،تعلق با لعباد ،تعلق با النفس وغیرہ، سب اس میں بیان ہوئے ہ

موجودہ بحران ناانصافی، استحصال اور محرومی کا نتیجہ

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے،سائنسی اکتشافات (SCIENTIFIC EXPLORATION)کا سلسلہ بلاتوقف جاری ہے۔ ایجادات کا نہ تھمنے والا ایک سیل رواں ہے۔ وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آ چکا ہے، زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے ،سبزیاں ،میوے اور پھلوں کی اس قدر بہتات ہے کہ بس! لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں۔آدمیت سسک رہی ہے ،غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب واذیت سے گزر رہے ہیں ،ایسا بھی نہیں کہ حالات میں تبدیلی کی سعی ہی نہیں ہوئی ،کوششیں ہوئی اور ہورہی ہے،لیکن ان سب کے باوجود حالات کچھ یوں ہی ہے: سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا تو اپنا ہی گریباں تھا  اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مختلف معاشی نظام وجود پزیر ہوئے لیکن ہر نظام میں زور آوروں نے کمزوروں

خلقِ عظیم

انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے، اسے احسن تقویم پر پیدا کیا گیا، اس کے جسد خاکی میں اس کے خالق نے خود اپنی روح پھونکی، اس کے وجود پر اپنی لامحدود صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ڈالا اور اسے مظہر صفاتِ الٰہی بنایا۔ اسے وہ علم عطا کیا جو فرشتوں کو بھی حاصل نہ تھا، اسے اشرف المخلوقات قرار دے کر فرشتوں سے سجدہ کرایا اور ان سے عظمت آدم تسلیم کرائی گئی، اسے جنت کی ناقابل تصور راحتوں اور نعمتوں سے نوازا گیا اور پھر زمین سے آسمان تک پھیلی ہوئی وسیع بزم کائنات سجاکر اور زمین کو بھی نہ ختم ہونے والے سامانِ زیست کے خزانوں سے بھر کر اسے خلیفۃ اللہ کے عظیم منصب پر فائز کرکے یہاں بھیجا گیا۔ یہ عظمت و رفعت بلا امتیازِ مذہب و ملت ہر انسان کو محض انسان ہونے کی بنا پر حاصل ہے۔  اس گروہِ انسانی میں بعض نفوس قدسیہ کو خلافت کے علاوہ ایک اضافی اور خصوصی منصب نبوت کا عطا ہوا جس نے انھیں دوسرے لو

کامل نظام حیات اور ضابطہ ٔ زندگی کہاں ہے؟

موجودہ ترقی یافتہ دنیا کی نگاہوںمیںتمام قدیم افکار و نظریات ایک قصہ بن کر رہ گئے ہیں اور اہلِ مغرب اقوام عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ انسان کی ترقی اور فلاح اسی میں پنہاں ہے کہ وہ قدیم تہذیب و تمدن کو پس و پشت ڈالے اور زمانے کے بدلے ہوئے اصول میں اپنے روشن و تابناک مستقبل کو تلاش کرے۔زمانے کی ہر نرم و گرم چیز کو قبول کرتا جائے اور دنیاوی جاہ و متاع کے حصول کے لئے اسلام کے چھوڑے ہوئے ورثہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ خیر باد کہے۔اس بے بنیاد اور غلط نظریہ کے تحت اہلِ مغرب اور ان کے رنگ میں رنگنے والے لوگ، اسلام کے علمبرداروں اور اس کے نام لیوائوں کو جو اسلامی تہذیب و تمدن و ثقافت کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے ہیں اور اسے حرزِجاں بنائے ہوئے ہیںکوانسانی سوسایئٹی کے لئے ہمہ وقت ایک خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن کو ایک جاہلانہ تصور خیال کرتے ہیں ، لوگوں کے دِلوں میں اس کے

ایک لمحۂ فکریہ!

انہی دنوں میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں امام صاحب مسجد نبوی شریف نے ایک خطبہ ارشاد فرمایاہے۔ یہ خطبہ جہاں بہت فکر انگیز تھا وہاں کرب اور سوز و گداز سے بھی لبریز تھا۔اس کے دوران وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حاضرین کو بھی رلا دیا انہوں نے فرمایا: " اللہ نے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہروں کے شہر خالی ہو گئے۔سخت سے سخت جسم بربادہو گئے۔مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے۔ مال کا کثیر حصہ تباہ ہو گیا۔اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کر دیا۔ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا، اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو، نہ نیکو کاروں اور عبادت گزاروں کو اور نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو۔ جب یہ گنجان اور آباد شہروں اور سخت اتحاد و اتفاق والے علاقوں میں پہنچی تو سانسیں رک گئیں اور حرکت شل ہو گئی گویا کہ کل وہاں کچھ تھاہی نہیں۔۔۔دوستوں کو بھی دشمنوں

رجوع الی اللہ واحد راستہ

انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ شاہد ہے کہ بہت سی نافرمان قومیں اللہ تعلیٰ کے عذاب و عتاب کا شکار ہوکر صفحہ ہستی سے اس طرح نیست ونابود ہوچکی ہیں کہ گویا کبھی اُن کا وجود ہی نہ تھا۔ قومِ نوحؑ سے متعلق ارشاد ہوا ہے(مِمَّاخَطِیٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوانَارًافَلَمْ یَجِدُوْالَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنصَارًا)’’یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دئے گئے اور جہنم میں پہنچادئے گئے‘اور اللہ کے سوا اپناکوئی مددگار انہوں نے نہ پایا‘‘[سورہ نوح؍25]۔حضرت نوحؑ کی قوم جب گناہوں میں غرق ہوگئی اور نوحؑ کے سمجھانے پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعلی کے عذاب نے انہیں آپکڑلیا کہ آسمان سے پانی برسا اور زمین سے چشمے ابل پڑے اور چشمِ زدن میں پوری کی پوری قوم غرقِ آب ہوگئی ‘کوئی تدبیرکام نہ آسکی ‘کوئی مددگار اُن کی مدد نہ کرسکااُن کے سارے معبودانِ باطل بے بس او

ایک جان لیوا وباء

کورونا وائرس نامی مہلک بیماری 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوئی اور آج پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ امریکہ ، چین، اٹلی وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بے بس اور لاچار دکھائی دے رہے ہیں۔ روزانہ کورونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مہلوکین کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ پوری دنیا ایک ایسی وباء کا شکا ر ہے جس کا تاحال دنیا کا کوئی بھی ملک علاج یا کوئی موثر دوا دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ کورونا وائرس کا پہلا شکار چین جہاں اب صورتحال قابو میں ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مریض صحتیاب ہورہے ہیں۔ چین میں ہر طرح کی آمد و رفت معطل اور شہروں کے تمام بازار بند ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک نے لاک ڈاون کی راہ اختیار کرکے اس مہلک وائرس کو روکنے کی کوششیں شروع کیں۔  آج سوشل میڈیا پر مکمل خبریں آرہی ہیں اور اخبارات وغیرہ کے ذریعے سے ہم

جھوٹ کا عالمی دن !

 اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تہذیب،ثقافت وتمدن کوبے حیائی وعریانیت میں تبدیل کرکے اُسے روشن خیالی اورآزادی کانام دینے کے لئے مکمل طورسے کوشاں ہیں،وہ فحاشی پرمبنی رسوم کواس طرح آراستہ کرکے پیش کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب وعمدہ تمدن کوچھوڑ کراغیارکے تہواروں کادلدادہ ہوتاجارہاہے۔آزادی کے نام پرغیرمحرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اورجنسی تعلقات قائم کرنے کوباعث فخرسمجھاجارہاہے،جس کے نتیجہ میںیہ حیاسوزحرکتیں صرف کلبوں اورہوٹلوں ہی میں نہیں کی جارہی ہیںبلکہ کالجوں اورسڑکوں پربھی طوفان بے حیائی وبدتمیزی بپاکیاجارہا ہے۔احساس کمتری میں مبتلالوگ مغرب کی ہرچھوٹے بڑے معاملہ میں تقلیدونقالی کواپنے لئے ترقی وکامیابی کارازسمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج اگراُمتِ اسلامیہ کے حالات پرذراسی نظرڈالی جائے توبے شماربیماریاں ایسی نظرآئیں گی جن کااسلامی تہذیب ومعاشرت سے دورکابھی واسطہ نہیں،بلکہ شریعت اس

ابھی بھی وقت ہے سنبھل جا!

آج طبی قید (quarantine) میں ہمارا چھٹا دن تھا۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے واڈ ممبران (patients) اپنی اپنی رضائی اوڑھے لیٹ گئےتھے۔ کچھ دیر گزر جانے کے بعد ایک عورت جس کے دو چھوٹے اور معصوم بچے تھے، اس کے موبائل پر کال (call) آئی۔ کال رِسیو کرنے کے بعد وہ اچانک کہنے لگی، ’’یہ کیسے ہوا؟کیا وہاں کسی ہمسایہ کو بھی خبر نہ ہوئی ؟؟ کیا کسی اور گھر میں بھی ایسا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟‘‘ پھر اس عورت نے شکستگی سے موبائل نیچے رکھ دیا۔ ان کے نزد?ک والے بیڈ (bed) پر بیٹھے افراد نے پوچھا، ’’بہن کیا ماجر?اہے؟ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔؟؟‘‘ اس عورت کی آنکھوں سے بے بسی کے موٹے موٹے آنسو نکلنے لگے، اپنے آپ کو سنبھالتے ہو?ئےکہنے لگی ’’ہمارے گھر پر چوروں نے ڈھاکہ ڈالا ہے، سب لوٹ کر لے گئے ہیں۔۔۔!‘‘ یہ بات سن کر سارے واڈ میں سناٹا سا

کشمیر کی معروف علمی شخصیت

حالات ِزندگی اورسماجی خدمات     سید محمد اشرف اندرابی  ؒ جنھیں محبت اور احترام سے مولانا انداربی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ایک مثالی شخصیت تھیں جنہوں نے معاشرتی ، سیاسی اور مذہبی محاذ پر بہت ساری اصلاحات لائیں۔  دسمبر 1926ء  میں زڈورہ پلوامہ میں ایک نیک سید خاندان سید میر محمد امین اندرابی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وکیل بننے کی خواہش تھی، لیکن مولانا اندرابی نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آباؤ اجداد کے مہم کو آگے بڑھایا۔ مولانا انداربی ؒ اپنے دادا کے مشورے پر جن کا نام سید احمد اندرابی تھا، خاندانی مہم کو آگے بڑھائیں ، یعنی اسلام کی خدمت کے لئے دینی علوم حاصل کیا۔ اس طرح مولانا اندرابی گوجرانوالہ پاکستان میں ایک دینی مدرسے میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اترپردیش کے سہارنپور کے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور مولانا حسین احمد مدنی کی رہنمائی می

ہرکُرسی عارضی اور فانی

لفظ ’کُرسی‘کا تصور ذہن میں آتے ہی عموماً ایسے اسم ِ بے جان کی شبیہ دماغ کے پردے پر اُبھرتی ہے جو انسان مخصوص انداز میں بیٹھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔کُرسی مغربی معاشرتی معنوں میں کوئی نئی چیز نہیں ہے البتہ ہمارے لئے یہاں اس کی نئی نئی تشریحات ہیں۔کیونکہ ہمارے یہاں اسے ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔صدیوں سے ہمارے یہاں فرش نشینی کا رواج رہا ہے اور کرسی نشینی جدید طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہے ۔اردو ادب میں ’کرسی‘صرف کاریگری اور ہُنر مندی کا نمونہ نہیں بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔’کرسی‘طاقت ،اقتدار ،اختیار ،عہدے اور حکمرانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس جمہوری دور میں جو عام چنائو ہوتے ہیں،ان میں کرسی حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں شامل مخصوص افراد عام لوگوں کے خوابوںاور امیدوں کو ’کرسی ‘ کے آس پاس ہی نہیں بلکہ اس کے بہت قریب لاتے

کرونا وائرس سے بچائو | ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

آج دنیابھر کے ممالک ایک مہلک جراثیم سے نبرد آزما ہیں،جس کا نام کرونا وائرس ہے، یہ وائرس اپنی نو عیت کا پہلا وائرس ہے، جس کو عالمی ادارہ صحت نے کو و ڈ 19 کا نام دیا ہے۔ کرونا وائرس کیا ہے؟کرونا وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہو ئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کر تا ہے اور جان لیوا نمونیا یا فلو کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس سے قبل 2003ء میں چین میں سارس نامی وائرس سے بے شمار افراد تباہی کا شکار ہو چکے ہیں اور کرونا وائرس سے اب تک تقریباً پنتیس ہزارا فراد لقمہ اجل ہو چکے ہیں اور لا کھوں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کہنے کی وجہ:اس مہلک وائرس کو کرونا وائرس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس نصف دائرے کی شکل میں نظر آیا اور کنارے پر اُبھار تاج کے شکل کا گول نما ہو تا ہے۔ لاطینی زبان میں اس شکل کو کرائون کہتے ہیں ،اسلئے اس وائرس کا نام کرونا رکھ دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس

بَلائیں اور آفتیں | تماشہ نہیں عذابِ الہیٰ ہیں

اس وقت کم و بیش پوری دنیا کے عوام ایک نئی جان لیوا ’کرونا وائرس‘ نامی بیماری کی مار جھیل رہے ہیں جس کے یک طرفہ پھیلاؤ سے پورا انسانی معاشرہ تھرتھر کانپ رہا ہے اورفضا کو مسموم کرنے کے بعد اس مُہلک و جان لیواوائرس’ نے چھوٹے بڑے، امیر غریب، حاکمِ اَعلیٰ و محکومِ اَدنیٰ سے لےکر اپنے پرایوں اور عام خاص کی تمیز کو یکسر مِٹا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے یہ وائرس اپنی ظالمانہ آغوش کو دراز سے دراز تَر کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس بھیانک اور ہر سطح پر تباہی خیز ثابت ہونے والے مادہ اور آفاقی شئی، جسے کسی طبقے کے مابین تو قُدرتی وبا و بَلا سے تشبیہ دی جا رہی ہے تو کہیں اسے قدرت کی طرف سے لوگوں کے امتحان و آزمائش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آراء سامنے آ رہی ہیں، مثلاًیہ ایک نئی متعدّی بیماری ہے جو ملکِ چین سے پوری دنیا میں پھیلی ہے، جبکہ کچھ کا نظریہ یہ بھی ہے

بے جا تنقید سے اجتناب کرو | رشتوں میں بگاڑ پیدا ہو گا

بے جاتنقید ہر رشتے میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے ۔گھر یلو طور پر بھی اوربیرونی طور پر بھی۔اپنے رشتہ داروں میںبھی اور دوستوں میں بھی۔ بے جا تنقید ازدواجی زندگی کے رشتے کی خوبصورتی کو بھی ختم کر دیتی ہے اور تکرار زندگی کو ہی تباہ کردیتی ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں اکثر تنقید سے بچنے کیلئے خاموشی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ جذباتی رویہ لاتعلقی کہلاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کے چھوٹے موٹے جھگڑوں میں کسی ایک کی خاموشی بڑے جھگڑے کو ٹال سکتی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھی کی خاموشی کے ساتھ ہی ازدواجی زندگی میں دراڑیں پڑنی شروع ہوجاتی ہیں۔ تنقید اگرچہ کسی کو اچھی نہیں لگتی لیکن امریکی محققین کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کا تنہائی میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنا ان کے ازدواجی رشتے کو خراب کر سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق شادی شدہ جوڑوں میں اکثر تنقید سے ب