میانمارکی سرکشی!

بر ما میں چین کے تعاون سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا جو سفاک کھیل کھیلا گیا، وہ منظمIslamphobia اور تعصب کے باوجود دنیا سے پوشیدہ نہ رہ سکا، اور اب ساری دنیا کے باضمیر لوگ اس ظلم کے خلاف ردعمل کا اظہار کررہے ہیں۔ مارچ 2017ء میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UN Human Rights Council) (UNHRC) نے حقائق کی تلاش کے لیے UN Independent International Fact- Finding Mission on Myanmar کے عنوان سے ایک 3 رکنی کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن کے سربراہ انڈونیشیا کے سابق اٹارنی جنرل مرزوقی دارسمان تھے۔ سری لنکا کی محترمہ رادھیکا کومرا سوامی (Radhika Coomaraswamy) اور انسانی حقوق کے آسٹریلوی چیمپئن مسٹر کرسٹوفر سیڈوٹی (Christopher Sidoti) مشن کے ارکان نامزد کیے گئے تھے۔حسبِ توقع اقوام متحدہ کے اس مشن کو صورت حال کے مشاہدے کے لیے برما جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور برمی فوج اور شہری اداروں کے اہلکاروں

گاندھی ،بھاجپا اور 370

ہندوستان  کو آزاد ہوئے تقریباً اتنا ہی وقت ہوا جتنا موہن داس کرم چند گاندھی کو قتل ہوئے ہوا ہے لیکن دانش کی دنیا آج اس بات پر حیران ہے کہ جس نظرئیے نے گاندھی کو موت کے گھاٹ اتاردیا، اسی کے علمبردار آج گاندھی جینتی پر اس کی عظمتوں اور نظریات کی تشہیر میں جوش و خروش کالامثال مظاہرہ کررہے ہیں۔وہ آج فخر کے ساتھ گاندھی کو مہاتما بھی کہہ رہے اور باپو بھی جبکہ تقریباً چھ دہائیوںسے زیادہ عرصے تک وہ گاندھی جینتی پر اس کی سمادھی پر بھی نہیں گئے ہیں ۔ اٹل بہاری واجپائی نے گاندھی کی سمادھی پر پہلی بار حاضری دی تھی اور اب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی گاندھی کو اس کے نظریات کے ساتھ گلے لگا رہی ہے ۔ گاندھی کی اپنی جماعت کانگریس، جو اس کے نظریات کی علامت ہے، سکتے میں ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے ۔ یہ کوئی تبدیلی ہے ، کوئی انقلاب ہے یا محض ڈراما ۔اس کی اعلیٰ قیادت اور اس کے دانشوروں کی

ایک برمی حاجی سے مختصرگفتگو

مسلمانوں پربرما کی فوجی حکومت اور شدت پسند بودھوں کے دل دہلا دینے والے مظالم اور ان کی نسل کشی کے دوران خون آشام وارداتوں نے ان کی زندگیوں کو مسلسل عذاب سے دوچار کر رکھا ہے،جون 2012ء سے تا حال ہزار وں مسلمانوں کے مقتل کا گواہ بنی، ارکان کی زمین دنیا بھر کے عدل گستروں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر طمانچے رسید کر رہی ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے ظالمو! خون مسلم کی ارزانی کا تماشہ دیکھنا ہو تو آکے دیکھ لو۔ مایوسیت کے سائے میں جی رہے برما کے مسلمانوں کو کوئی اخلاقی حمایت، کوئی رسد وا مداد نہیں پہنچی ، حالات ہر دن ابتر ہورہے ہیں، ظالم دہشت گردوں سے نپٹنے کے لیے ان کے پاس کچھ بھی نہیں، ان کی زندگی کا پہیہ کرب وآہ میں جام ہو کر رہ گیا ہے، آئیے آپ کو وہاں کے احوال سناتے ہیں انہی کی زبانی۔ حج کی سعادت حاصل کرنے والے برما کے بعض ائمہ مساجد اور داعیو ںسے منیٰ (مکہ مکرمہ) میں گفتگو کا موقع

انکل سام

طویل تاریخ میں ہمیں امریکا کی سیاست اور حکومت کی ایک ایسی بدترین مثال نظر آتی ہے کہ جو زبان سے تو انسانیت اور انسانی حقوق کا واویلا کرتی ہے لیکن عملی طور پر امریکی سیاست و حکومت دنیا کی اقوام کےلیے نہ صرف ایک بدی اور برائی کے طور پر ثابت ہوئی ہے بلکہ اقوام عالم کی بدترین دشمن کے طور پر سامنے آئی ہے۔امریکی سیاست کا ہمیشہ سے وتیرہ یہی رہا ہے کہ امریکی مفادات کا (یعنی امریکا کے چند ایک سیاستدان جو بذات خود اب صہیونیوں کے زیر اثر ہیں، ان کے مفادات کا) تحفظ یقینی بنانے کےلیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں کتنا ہی قتل عام کیوں نہ کرنا ہو، کرتے رہو چاہے نت نئے دہشت گرد گروہ ہی کیوں نہ بنانے پڑیں، چاہے اسرائیل جیسی خونخوار جعلی ریاست کو اربوں ڈالر کا اسلحہ دے کر نہتے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے، چاہے مشرق وسطیٰ میں امریکی اسلحے کی کھیپ کی کھیپ موروثی حکمرانوں کو پہنچا کر نہتے عو