تازہ ترین

مسلمانانِ ہند

مسلمانوں  کی آمد سے قبل سرزمین ہند پر رجواڑوں کی شکل میں مختلف حکومتیں قائم تھیں، جو نہ صرف آپس میں بر سر پیکار رہتی تھیں بلکہ ان حکومتوں میں کمزور اور پسماندہ طبقات پر ظلم و ستم بھی عروج پر تھا۔ اس ظلم میں نہ صرف اربابِ اقتدار پوری طرح شامل تھےبلکہ مذہبی ٹھیکیدار بھی پیش پیش تھے۔ منووادی نظام کے تحت اس ظلم کو پائیدار بنانے کے لئے سماج کو مختلف طبقات میں تقسیم کرکے سماج طریقے پر ان کی ذمہ داریاں بھی تقسیم کردی گئی تھیں۔ اپنے ہی ہم مذہب انسانوں کے ایک طبقے کو شودر بناکر گونا گوں ظلم واستحصال کا ایک ایسا نظام جاری تھا جس کی پوری تاریخِ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ایسے ہی تاریک دور میں مسلمانوں نے ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھااور اپنے اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے یہاں کے دبے کچلے مظلوم باشندوں کے دل جیت لئے۔ انہوں نے’’ الخلق عیال اللہ‘‘( تمام لوگ اللہ کا کنبہ

مسلمان بدل جائیں!

سنہ 1857 مغلیہ سلطنت کا زوال سے لے کر آج تک یہاں پے درپے المیوں کا ماتم منایا جارہاہے مگر حیرت کا مقام ہے کہ اتنی قیامتیں گزرنے کے باوجود ہندوستانی مسلمان آج بھی گہری نیند میں غرق ہے۔ کسی قوم کے زوال (2019-1857) کو ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی اگر وہ قوم نہ جاگے تو سوال یہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں؟ اس کو ترقی کی کوئی جستجو کیوں نہیں پیدا ہوتی؟ آخر کیوں؟ اصولاًقوموں کے عروج و زوال کے بھی تاریخی اسباب ہوتے ہیں۔ یہی وہ مسلم قوم ہے جو رسولؐ کے وصال کے بعد بھی کئی صد یوں تک دنیا پر ہر شعبہ ٔ زندگی میںغالب تھی۔ مسلم تہذیب کے عروج کا یہ عالم تھا کہ یورپ میں اسپین، اٹلی، فرانس اور ادھر پورے ایشیا اور تقریباً افریقہ کے ہر حصے پر اسی تہذیب کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہ مغربی تہذیب جس کا آج دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے، وہ کبھی مسلم تہذیب کے آگے سرنگوں رہتی تھی لیکن آج ساری دنیا

پھولوں میں انگارے!

چلئے  فرض کرلیتے ہیں کہ آپ کاروبار کے سلسلہ میں بدیش جاتے ہیں ۔حج و عمرہ، دیدارِ حرمین شریفین کے لئے حجاز مقدسؔمیں تشریف لے جاتے ہیں ۔ گھومنے پھر نے کے لئے کہیں بھی چلے جاتے ہیں یا پیکیج ٹور پر مشرق ِ وسطیٰ میں آثار ا  لصنا دید دیکھنے جاتے ہیں ۔آپ صاحب ِاستعداد ہیں، دنیا کے چند مشہور اور خو ب صورت ملک و مقامات دیکھنے نکل پڑتے ہیں ۔مان لیجئے آپ سفر میں ہیں اور آپ کی ملاقات سحر زدہ ملک کے ایک برطانویؔ باشندے کے ساتھ ہوجاتی ہے ۔سر سبز و شاداب ملک کے رہنے والے ایک آسٹرینؔ سے ہوجاتی ہے ،سطح سمندر سے نیچے جل پریوں کے ایک بے انتہا خو ب صورت دیش کے ایک ولندیزؔی سے ہوجاتی ہے یا الف لیلوی شہزادے ، نیلگوں آنکھوں والے ایک اطالویؔ سے ہوجاتی ہے ۔مان لیجئے کہ آپ مصرؔ میں ہیں اور مصرؔ کی ناگن(Serpent of Nile)قلو پطرہ ؔکی یاد آپ کو سرسراتے سانپوں کے ایک مافوق الفطرت ماحول میں لے جاتی

فتح میں شکست!

جنرل  ولیم سلم 1942ءمیں عراق میں ایک برطانوی ڈویژنل کمانڈر ہوتا ہے۔ جاپانی برما پر یلغار کرتے ہیں اور برما کے دارالخلافے رنگون پر قبضہ کرکے اتحادی افواج کو بمشکل جان بچانے کا موقع دیتے ہیں۔ ان ایام میں یورپ اور شمالی افریقہ میں بھی دوسری عالمی جنگ کے خون ریز معرکے لڑے جا رہے ہوتے ہیں، اس لئے اتحادی، برما محاذ کو اتنی اہمیت نہیں دیتے، تاہم برٹش GHQ جنرل سلم کو عراق سے تبدیل کرکے برما میں جاپانیوں کے خلاف بھیج دیتا ہے.... یہی جنرل سلم آخر کار 3سال کی لگاتار کوششوں سے جاپانیوں کو برما میں شکست فاش دے کر بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے اور اس طرح ہندوستان پر جاپانیوں کے قبضے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔فیلڈ مارشل ولیم سلم نے 1951ءمیں اپنی خود نوشت (Defeat Into Victory) کے نام سے لکھی ہے جس میں برما محاذ کا بھرپور، دلچسپ اور عسکری اسباق سے لبریز بیان ملتا ہے۔ اس کتاب کے پہلے دو چار اوراق کا

کشمیر میں اُردو صحافت کا مستقبل!

صحافت  کے ساتھ کسی مخصوص زبان کا لاحقہ جوڑئے تو صحافت ایک ملک کی مانند لگتی ہے جس میں کسی مخصوص زبان کی صحافت اسی ملک کی اکثریت یا اقلیت معلوم ہوتی ہے۔ جب ہم "اُردو صحافت" کی ترکیب استعمال کرتے ہیں تو نادانستہ ہم سے دو گستاخیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ چونکہ ہم "اُردو صحافت" کا فقرہ معذرت خواہانہ لہجے میں ادا کرتے ہیں لہذا سُنتے ہی اگلوں کو لگتا ہے یہ کوئی ' بی گریڈ صحافت ' کی بات ہورہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا کرکے ہم صحافت کو ایک مخصوص زبان کے پیراڈائم میں پیش کرکے گویا صحافت کی کسی کم تر قسم کی بات کرتے ہیں۔  میری ادنی رائے یہ ہے کہ صحافت اپنی ذات کے اعتبار سے 'سیکولر  ہوتی ہے۔ صحافت صحافت ہے، یہ کوئی اُردو صحافت یا انگلش صحافت یا ہندو صحافت یا مسلم صحافت نہیں ہے۔ آپ صحافتی ذمہ داریاں برتنے کے لئے محض ذریعہ اظہار کا انتخاب کرتے ہیں۔ اُردو

عالم میں تین دُنیائیں

آج  کل امریکی سامراج کی طرف سے ایران کے خلاف جارحیت کے عزائم اسرائیل کے تمام جارحانہ عزائم کی حمایت لاطینی امریکی ممالک میکسکو اور وینزویلا میںمسلح مداخلت کے ارادے اور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے ظاہر ہے کہ یہ خطے باقاعدہ جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ امریکی سامراج جو کہ اس وقت پہلی دُنیا کہلاتاہے کی طرف سے تیسری دُنیا کے ممالک کے خلاف غلبہ اور جارحیت کا جائزہ لیا جائے اور تاریخی پس منظر میں اس حقیقت سے بخوبی سمجھا جائے کہ سارا عالم آج بھی تین دُنیائوں میں تفریق اور تین تضادات کے گرد گھوم رہا ہے۔ کامریڈ مائوزے تنگ نے ’’تین دنیائوں‘‘ کا تصور پیش کیاتھا اور کہاتھا کہ دنیابھرمیں عوام کو متحد ہوکر پہلی دنیا یعنی بڑی سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ دنیا اسی تصور کے مطابق گھوم رہی ہے۔موجودہ عالمی صورت حال کو صحیح طورپر

یو گا نہرو کی نظر میں!

یوگا  آج ایک سستا، ٹی آر پی بٹورنے والا سامان بن گیا ہے۔ وزارت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ وہ ایک فیصلہ ساز بورڈ کی تشکیل کرے گا جو ٹی وی چینلوں اور اخباروں پر نظر رکھے گا کہ کون سب سے اچھا پروگرام چلا رہا ہے اور مضمون شائع کر رہا ہے۔ اس سارے ہنگامے کے درمیان یہ بھول جانا کافی آسان ہے کہ یوگا من کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لیے۔بہت سارے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں یوگا کے بارے میں لکھا تھا اور وہ مستقل یوگا کرنے والوں میں شامل تھے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پتنجلی کا یوگا سسٹم خاص طور پر جسم اور دماغ کے ڈسپلن کا ایک طریقہ ہے جو ذہنی اور روحانی ٹریننگ دیتا ہے۔ ہم نے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے کہ 1952 میں راجیہ سبھا میں پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک تجویز پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ

بطخ جو ڈوب گئی

’’ کیاآپ نے کبھی کسی بطخ کو پانی میں ڈوب کر مرتے دیکھا ہے ؟  یقینا نہیں، کیونکہ قدرت نے بطخوں کو تیرنے اور پانی سے بھیگ کر وزنی نہ ہونے کی پیدائشی صلاحیت اور تربیت عطا کی ہے۔ لیکن مشہور مصنف جان پارنکی مالل کے مطابق ایک یورپی ملک میں ایک دفعہ ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیاجو حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ وہاں اکثر لوگ شوقیہ بطخیں بھی پالتے ہیں اور اْن کے لئے مکانوں میں چھوٹے موٹے تالاب بھی بنواتے ہیں۔ ایک بچی اسکول سے واپسی پر یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اْسکی پالتو بطخ تالاب میں ڈوبی مری پڑی ہے۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آیا اسے کسی نے قصداً مار دیا ہے یا وہ خود مر گئی ہے۔ حیوانات کے ڈاکٹر کو بلوایا گیا جس نے تفصیلی معائنہ کے بعد پانی سے تر بتر بطخ کے پروں کو پکڑ کر اْٹھایا، اور کہا، ’’یہ بطخ اپنی لاپرواہی اور پیشگی تیاری نہ کرنے کے باعث موت کے

جے کے بنک… بھروسہ کرلیا جس پر!!!

جموں  و کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے۔ جب سے زندگی میں حساب کتاب رکھنے کی حس پیدا ہوئی ہے، اسی بینک کا نام ذہن و دماغ میں گونجا ہے۔ چھوٹی بڑی جو بھی آمدن ہے، اسی بینک میں پڑی رہتی ہے۔ قرضہ اُٹھانے کی جب بھی مجبوری درپیش آئی تو اسی بینک کا خیال دل میں آیا۔ ہمارے قرضے بھی ہماری اوقات کی مناسبت میں ہوتے ہیں لیکن اُن کے حصول میں جو جو پاپڑ بیلنے پڑے، ہم نے خندہ پیشانی سے جھیلے۔ کیوں نہ جھیلتے؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک جو تھا! چپراسی سے لے کر برانچ منیجر تک سب کی ڈانٹیں کھاتے رہے، سب کے نخرے سہتے رہے، لیکن اُف تک نہ کی۔ وجہ؟ جموں کشمیر بینک ہمارا اپنا بینک ہے، اس کے بارے کوئی ایسی ویسی بات کرنا قومی غداری کے مترادف ہے۔ جموں و کشمیر بینک ہماری اقتصادی اور مالی آزادی کی ضمانت تھا۔ اور یہ ہمارا بھروسہ ہی نہیں ہمارا عقیدہ تھا۔اور ہم چونکہ اہل عقیدت سے تعلق رکھتے ہیں، ہم نے ک

عزیز الحسن مجذوبؔؒ

 خواجہ   عزیزالحسن مجذوب ؔؒ ۱۲ جون ۱۸۸۴ء بمطابق ۱۶ شعبان ۱۳۰۱ھ بروز بدھوار پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام خواجہ عزیز اﷲ تھا جو پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے ۔خواجہ صاحب نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا۔ گھر کے دینی ماحول اور والد محترم کی تربیت سے یوینورسٹی میں بھی اسلامی وضع قطع کے پورے پابند رہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ جس عہدہ پر بھی پہنچے گا اس عہدہ کے معیار کو بلند کر دے گا ۔اسی زمانہ میں مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ سے تعلق پیدا کیا اور پھر یہ تعلق عمر بھر رہا ۔اسی زمانے سے شعر بھی فرمانے لگے ۔پہلے حسنؔ تخلص کیا اور بعد میں مجذوب ؔ ۔ابتداء ً ڈپٹی کلیکٹری کے عہدے پر مامور ہوئے اور سات برس تک اپنی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ڈپٹی انسپکٹر تعلیم کے عہدے پر تبادلہ کرا لیا ۔حکومت نے آپ کی بلند شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے ؔ’’خا

والیٔ سوات کا انصاف

والیٔ  سوات بحیثیت حکمران خود کو قانون سے بالا نہیں سمجھتا تھا۔ اس کی واضح مثال آپ اس ایک واقعہ سے خود لگا لیجیے کہ والی ٔ سوات معمول کے مطابق سرِ شام سیر پر نکلے ہوئے تھے کہ اچانک اُن کی گاڑی کے سامنے فضاگٹ میں رانگ سائیڈ پر ایک تانگہ آگیا۔ تانگے والے کو رُکوایا گیا۔ غلطی کوچوان کی تھی۔ اس لیے سزا کے طور پر اُسے ایک چپت رسید کی گئی، ساتھ ہی 25؍روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ چند دن بعد خدا کی کرنی دیکھئے کہ والی سوات حسب معمول سیر پر تھے۔ ان کی گاڑی کا سامنا اُسی تانگے والے کوچوان سے ہوگیا۔ کوچوان نے والی ٔ سوات کی گاڑی رُکوا دی اور والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :حضور! آج آپ کی گاڑی رانگ سائڈ پر ہے۔ آپ نے چند دن پہلے مجھے اس غلطی کی پاداش میں 25 ؍روپیہ جرمانہ کے ساتھ ساتھ ایک چپت بھی رسید کی تھی۔ والیٔ سوات نے اپنے مصاحب کو حکم دیا کہ گاڑی تک سڑک کی لمبائی ماپ لیں۔ فاصلہ ناپا گی

فیصل سے مرسی تک

عالم  اسلام کا ایک اور عظیم مجاہد محمد مرسی صیہونی سازشوں کا شکار ہوکر اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔مصر جہاں ہر دور میں فرعونیت کا راج رہا، فرعونِ وقت کے قوانین اور مظالم سے دوچار اخوان المسلمین کا جمہوریت پسند سچا اور پکا مسلمان رہنما ساری دنیا کے زندہ ضمیر مسلمانوں کو اشک بار کرگیا۔ مصر کے سابق صدر کا تختہ اُلٹ کر صیہونیوں کے آلۂ کار السیسی نے جیل میں ڈال دیا تھا اور محمد مرسی کے علاوہ 132؍افراد پر جیل توڑنے ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعہ مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں 20سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مئی 2015ء میں مصر کی ایک عدالت نے محمد مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جسے مصر کی اعلیٰ ترین عدالت میں ختم کردیا تھا، مگر یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ دوران قید ہی احاطہ عدالت میں وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ محمد مرسی بلا

عروج وزوال | ترقی کی منزل تنزل کی راہیں

غلبہ کے دو اقسام ہوتے ہیں: ایک سیاسی غلبہ اوردوسرا ذہنی غلبہ ۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اُمت مسلمہ دونوں لحاظ سے دنیا کے تمام افکار و نظریات اور تمام اقوام عالم پر حاوی تھی ۔ خدا کی حاکمیت کا تصور لادینیت پر غلبہ پا چکا تھا،آفاقیت قوم پرستی پر حاوی تھا،مذہب کو سیکولرازم پر فوقیت تھی ، علم صداقت اورسائنس خدمت کے دائرے میں رکھ کر فروغ دیا جاتا تھا۔ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرنے سے کسی فردبشرکو ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوتی تھی ۔ مسلم علما اور کلمہ خوان سائنس دانوں نے انہی بنیادوں پر دنیا پر کرم فر مائیاں کیں کہ ان کے زیر اثر غیر مسلم سائنس دانوں میں بھی کسی نے بھی لادینیت کی راہ اختیار نہ کی۔ان میں نیوٹن اور گلیلیوجیسے عظیم سائنس دان بھی شامل ہیں۔سترہویں صدی تک مذہب اور نیچرل ازم کو یکساں نظریے سے دیکھا جاتا تھالیکن اٹھارویں صدی کے ابتدائی دور سے ہی گویا اللہ تعالیٰ کے وجود

یادوں کے جھروکے سے

شہر  خاص سرینگر کی مرکزی جامع مسجد، نوہٹہ کے ہر چپے پر نہ صرف میری زندگی کی تاریخ رقم ہے بلکہ اس کے اندر اور باہر کے احاطے میں بکھرے یا پھیلے ذرے ذرے سے میرے جذبات جڑے ہیں۔ سرینگر کی جامع مسجد جموں کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ کے علاوہ ایک تواریخی اور سیاسی حیثیت تو رکھتی ہے ہی مگر کون جانتا ہے یہ جامع مسجد میری زندگی اور میرے خدا کے درمیان تعلق کی ایک دستاویز بھی ہے۔ میں اپنی یادوں کو ڈھونڈنے کبھی کبھی اس مسجد میں چلاجاتا ہوں۔ یہاں مجھے وہ لوگ تو مل ہی جاتے ہیں جو کب کے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور جو اپنی حیات میں میری انگلی تھام کے مجھے اس مسجد کے اندر اور باہر کے احاطوں میں گھماتے تھے۔ ان سے مل کر میں یادوں میں کھوجاتا ہوں اور پھر جذبات میں بہہ کر جھوم بھی جاتا ہوں مگر اس کے علاوہ کبھی کبھی یہاں مجھے وہ دوست بھی مل جاتے ہیں جو پچپن سال پہلے میرے ہم جماعتی تھے اور میرے ساتھ اسلا

جیسے عاشق کا جنازہ جیسے مجنوں کی برات

دو سال سے بر صغیر میں سرجیکل اسٹرائیکوں کا موسم چل رہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیکوں کا پھل اچانک پک گیا ہے اور رات دن یہ پھل اپنے پیڑوں سے گر رہے ہیں۔حکمران بھی اسٹرائیک کر رہے ہیں سیاستدان بھی،ترکھان بھی اور کسان بھی، شہر باش بھی اور دہقان بھی ،آشپازان بھی اور قصابان بھی، غازیاں بھی اور شہیدان بھی ،ہندوستان بھی اور پاکستان بھی۔اخباری بیان میں، مزیدار وازہ وان میں ، اونچی دوکان پر پھیکے پکوان پر، قبرستان پر شمشان پر، مکان پر زمان پر ، زمین پر آسمان پر یعنی سارے لین دین پر سرجیکل اسٹرائک ہو رہی ہے ۔ کبھی سرحد پر کبھی سرحد کے پار سرجیکل اسٹرائک سے تو ہم واقف تھے لیکن سرجیکل اسٹرائک کے نئے نئے نشانے سے ہم دم بخود ہیں ۔اب تو کھیل کے میدان کو بھی سرجیکل اسٹرائیک کے تاروں سے جوڑا گیا۔کبھی جس کھیل میں چوکوںچھکوں کی بات کرتے تھے وہاں بھی اب سرجیکل اسٹرائیک ہی ہوتی ہے۔ویسے تو سرجیکل

فلسطین: ایک قصۂ نا تمام

مقبوضہ  فلسطین میں طوق غلامی کو گرانبار کرنے کیلئے اور غلامی کی زنجیروں کومحکم تر کرنے کیلئے سازشوں کا جال بنا جا رہا ہے۔فلسطین میں امنیت قائم کرنے کے نام پہ فلسطینیوںکے حقوق پہ ڈاکہ ڈالنے کی سازشیں ایک قصہ ء نا تمام بنتا جا رہا ہے۔ عصر حاضر میںاِس سازش کا تانا بانا کاخ سفید سے جڑتا ہے جو کہ امریکی صدارت کا دفتر ہے لیکن در اصل سرغنہ صہیونزم کی وہ تحریک ہے جس نے کم و بیش پچھلی ایک صدی سے فلسطینیوں کا جینا حرام کر دیا۔سازش کی شروعات تب ہوئی جب برطانیہ نے سسکتی ہوئی خلافت عثمانیہ سے فلسطین کا منڈیٹ حاصل کیا ۔ برطانوی سامراجیت کے وزیرآرتھر بالفور نے 1917 ء میں 2 نومبر کے روز ایک مراسلے میں صہیونی تحریک کے ایک سر گرم لیڈر والٹر راتھ چائلڈ کو یہ پیغام بھیجا کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودی ہوم (Jewish Home) کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔یہودیوں کیلئے ایک ہوم ایک گھر کے قیام کی حمایت کرنے م

’’ مثنوی گلزار نسیمؔ‘‘

مثنوی  بھی شاعری کے اصناف میں ایک منفرد صنف ہے جو تاریخی لحاظ سے بڑی قدیم ہے۔ مثنوی گوئی کی تاریخ میں دیا شنکر نسیم کی ایک یاد گار مثنوی "گلزار نسیم" ہے۔ دراصل یہ میر حسن کی لکھی ہوئی مثنوی "سحر البیان" ہی کا جادوئی اثر تھا جس نے دیا شنکر نسیم کو اپنی مثنوی لکھنے پر آمادہ کیا۔اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ"سحر البیان" کو پڑھ کر اور دیکھ کر نسیم نے اپنی یہ مثنوی لکھنے کی ٹھان لی۔ہم نثر میں گُل بکاولی کا قصہ تو پڑھ چُکے ہیں اس قصے کو دیا شنکر نسیم نے نظم کا جامہ زیب تن کیا۔ یہ مثنوی دیا شنکر نسیم کی اٹھائیس سالہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔چنانچہ اس مثنوی میں مختلف عنوانات کے تحت قصہ آگے بڑھتاہے اسی لئے نسیمؔ نے اسے گلزار نسیم سے موسوم کیا اس مثنوی کی اشاعت کے پورے ایک سال بعد دیا شنکر نسیم کو داعی اجل کا بُلاوا آیا۔لیکن ان کی وفات کے فوراً بعد اس مثنوی کو عام و

سیاست کے لیل ونہار

کانگریس اس وقت عام انتخابات میں ملنے والی کراری ہار سے کافی بے چین وبدحواس ہے۔ وہ نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ حکومت کے فرنٹ پر ناکام رہنے والی بی جے پی کو غیر معمولی کامیابی کیسے ملی۔ اس بار نہ تو ملک میں 2014 جیسی مودی لہر تھی اور نہ ہی کانگریس کے خلاف ماحول، پھر اپوزیشن خاص طور پر کانگریس تنکے کی طرح کیسے اڑ گئی۔ جبکہ کانگریس صدر نے تابڑ توڑ ریلیاں کرکے بھیڑ جٹائی، بے روزگاری، کسانوں کی قرض معافی، مہنگائی، غریبی، رافیل ڈیل میں ہوئی گڑ بڑی، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، آئینی اداروں میں حکومت کی مداخلت وغیرہ جیسے ملک کے بنیادی مسائل کو پوری شدت کے ساتھ اٹھایا لیکن ان کی محنت ووٹ میں نہیں بدل سکی۔ اس غیر متوقع ناکامی کے طوفان نے کانگریس کے حوصلہ کی نیو کو ڈگمگا دیا اور ریاستی سطح پر پارٹی کے اندر انتشار کی کیفیت پیدا کر دی۔ ریاستوں میں خاص طور پر راجستھان، مدھیہ پردیش اور پنجاب میں کانگریس کو داخلی

حیات بخش کتابیں

 شیخ    الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ نے علماء وقت اور اکابرین کے ایماء و ارشاد پر کتب فضائل الگ الگ تصنیف کیں جنہیں یکجا کرکے دعوت و تبلیغ کے کام میں نصاب میں شامل کیا گیا۔مصنف موصوف کا فنِ حدیث میں درک و کمال کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ؒ نے جامعہ مظاہر العلوم میں مسلسل ۴۳ سال درس حدیث دیا، جس میں ابوداؤد شریف تقریباً ۳۰ مرتبہ، بخاری شریف ۲۵ مرتبہ درساً پڑھائیں، مشکوٰۃ شریف، نسائی شریف، موطا امام مالک و محمد ؒ کی تدریس اس پر مستزاد ہے۔ حضرت شیخ نے سو ؍۱۰۰ کے قریب مطبوعہ و غیرہ مطبوعہ کتابیں چھوڑیں ۔ ان میں چند ایک درج ذیل ہیں: (۱)۔ حجۃ الودع و عمرات النبی ﷺ  :  شیخ کی عمر اس وقت محض ۲۷ سال تھی جب یہ کتاب لکھی گئی۔ بعد میں مزید توضیح و تفصیل اور عمرات نبوی کی بحث و فقہی احکام کا استخراج کیا گیا ہے۔ بقول مولانا علی میاں ندوی ؒ ۔۔

مساجد کا تقدس واحترام

حضرت محمدﷺ  فرماتے ہیں کہ ہرانسان فطرت کے مطابق پیداہوتاہے ،البتہ والدین اوراس کاماحول کبھی اسے صحیح العقیدہ بناتے ہیں یاگمراہ کردیتےہیں اوراسے کسی اورمذہب اور عقیدےکاپیروکاربنادیتے ہیں ۔اس کے برعکس اسلام اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی مکمل اتباع کی تلقین کرتاہے۔اللہ تعالیٰ جس کوچاہتاہے ،ہدایت دیتاہے ، ہدایت یافتہ لوگ کہاں مل سکتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کے گھروں میں ہی مل سکتے ہیں ،جن کوہم مساجدکے نام سے جانتے ہیں۔ اس لیے ہمیں مساجدکااحترام کرناچاہیے۔ترجمہ:ان گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیاہے کہ بلندکیاجائے یعنی ان کی تعظیم کی جائےاوران میںاس کانام لیاجائے۔ ان گھروں میں لوگ صبح وشام تسبیح کرتے ہیں۔ایسے لوگ جنہیں تجارت اورخریدوفروخت اللہ کے ذکرسے اورنمازکے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے اداکرنے سے غافل نہیں کرتی ،اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اوربہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔اس ارادے