تازہ ترین

ہندوتو ا دوقومی نظریہ کا جنم داتا!

برصغیر  ہند و پاک میں جب بھی دو قومی نظریے کا راگ چھیڑا جاتا ہے تو بات قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور فلسفہ ٔ سیاست پر آ جاتی ہے جنہیں اس نظریے کا موجد مانا جاتا ہے ۔اس کے ثبوت میں پاکستان کا ذکر کیا جاتا ہے جس کو ایک آزاد ملک کی حیثیت میں کو دنیا کے نقشے میں لانے میں قائد کا کردار کلیدی رہا۔ ہندوستان کے پس منظر میں دو قومی نظریے کا مدعا و مفہوم یہ رہا ہے کہ ہندو و مسلمان دو علحیدہ قومیں ہیں جن کا ایک ہی ملک میں ایک ساتھ رہنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ یہ مختلف المذاہب اور مختلف التمدن ہیں ۔  تاریخ کے گہرے مطالعے اورتجزیئے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے بہت پہلے دوقومی نظریے کے بیج بوئے جا چکے تھے اور اُنہوں نے یہ نظریہ ایک ایسی صورت حال میں اپنایا جب سیاسی طور پہ اُن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے قائد اعظم محمد عل

لندن کی بانہوں میں!

لنکنز ان وسطی لندن میں واقع ہے، یہ علاقہ چانسلری لین کہلاتا ہے، فنون لطیفہ کی یونیورسٹی بھی یہیں ہے، جب کہ رائل کالج آف سرجنز اور لندن اسکول آف اکنامکس بھی آس پاس ہی ہے۔ہم گوگل سے پوچھتے پچھاتے لنکنز ان پہنچے، دائیں بائیں عمارتیں نظر آرہی تھیں مگر ان میں سے کسی کے باہر کوئی نام نہیں لکھا تھا۔ ہم نے آنے جانے والوں سے پوچھا کہ لنکنز ان کہاں ہے، سب نے کندھے اُچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔ہم تکے سے ایک عمارت میں گھس گئے جہاں تعمیر کا کام جاری تھا، دروازے پر کھڑے گارڈ نے بتایا کہ یہی لنکنز ان ہے، اندر داخل ہوئے تو نوجوانوں کی ٹولیاں مخصوص سیاہ گائون پہنے گھومتی اور تصویریں کھنچواتی نظر آئیں۔ ایک جگہ Old Hall لکھا ہوا تھا، سیڑھیاں نیچے کو جارہی تھیں، ہم بھی وہیں چلے گئے، معلوم ہوا کہ آج خیر سے گریجوایشن کی تقریب ہے ۔ گویا وہ دن جب طلبا باقاعدہ بیرسٹر بنتے ہیں، تصاویر بھی اسی لئے کھنچوائ

’’می ٹو‘‘

 نانا   پاٹیکر کے خلاف سابق اداکارہ تنوشری دتا کے ذریعہ جنسی ہراسانی کا الزام عائد کئے جانے کے بعد جنسی ہراسانی کے خلاف ہندوستان میں شروع ہونے والی خواتین کی مہم’’می ٹو‘‘(میں بھی جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہوں) میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر کام کرنے والی کئی معروف خواتین اور صحافیوں نے اپنے تلخ تجربوں کا ذکر کیا ہے اور ذہنی اذیت دینے کی بات کھل کر بتائی ہیں۔ ایسے میں نت نئی اہم شخصیات کے ناموں کے انکشافات کے سبب ہلچل بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تک لاکھوں کی تعداد میں خواتین اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ردعمل کا اظہار کرچکی ہیں۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے، اس کا اندازہ تو اُسی وقت ممکن ہے جب الزامات کی گہرائی سے تفتیش ہوگی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں جاری ہیش ٹیگ ’’می ٹو‘‘ مہم کے ذ

سرسید احمد خانؒ

سرسید  احمد خان کی تاریخ پیدائش ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء ہے ۔ آپ بمقام دہلی ایک معز ز ومحترم گھرانے میںتولد ہوئے ۔سرسید احمد خان کی تعلیمی بیداری علی گڑھ تحریک کی بنیادہے ۔ زمانہ گواہ ہے کہ سرسید کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز کثرت سے آئے جنہوں نے ان کی شخصیت کو تعمیر بھی کیا اور متاثر بھی کیا۔ اُ ن کی زندگی کا پہلا دوروہ ہے جس میں سرسید نے آنکھیں کھولیں۔ یہ زمانہ تاریخی تہذیبی اور اقتصادی غرض پر لحاظ سے ہنگامی و ہیجانی تھا۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم اور سخت موڑ تھا۔ یہ زمانہ مغل شاہی حکومت کی تیززوال پذیری۔ پرانی تہذیب کی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی قدروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کا زمانہ تھا۔ اقتصادی سرگرمیاں جو اب تک زمینوں اور جاگیروں کا مرکز تھیں، اپنی جگہ سے ہٹ رہی تھیں۔ مغل شاہی حکومت کی آخری ہچکیاں اور سرمایہ دارانہ نظام اور انگریزی کا تسلط اپنے پاؤں جمار ہاتھا ا

مفسر اتِ قرآن

 قرآن کتاب ِعمل ہے۔قرآنی تعلیمات کا صحیح فہم و ادراک بس اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو عملی طور معاشرے کے ساتھ جڑا ہو۔ جہاں تک علوم القران کا بالعموم اور تفاسیر قرآن کا بالخصوص تعلق ہے تو مشاہدے میں آتا ہے کہ تفاسیر اکثر مرد حضرات نے لکھی ہیں ،جب کہ قرآن کا معتدبہ حصہ ان تعلیمات پر مشتمل ہے جن کا براہ راست نسوانی امور اور دلچسپیوں کے ساتھ تعلق ہے۔ اس تناظر میں عورتوں سے متعلق قرآنی نصوص کا فہم وادراک عورتوں کی نفسیات اور مائنڈسیٹ کے ذریعے حاصل کرنے کی ایک الگ ہی افادیت ہے۔ اْمت مسلمہ کو قرآن کریم سے قریب کرنے کیلئے یہ بات اہم ہے کہ جہاں مرد حضرات علوم قرآن اور تفسیر قرآن کا کام کریں، وہیں خواتین کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا رول ادا کریں۔ظاہر ہے قریب پچاس فیصد آبادی کے حصے کو Ignore نہیں کیا جاسکتا۔ نہ مرد پوری باریک بینی کے ساتھ خواتین کی نفسیات کا پاس و لحاظ

ماہِ صفر کی بابت چند اہم باتیں

اللہ رب العزت نے ہر چیز پیدا فرمائی ہے۔ اس میں دن، ہفتہ، مہینہ، سال سب شامل ہیں اور سب کا ذکر اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا۔ سال کا ذکر اور مہینوں کی تعداد کا ذکر بھی فرمایا۔ ترجمہ:بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہیں۔ اللہ کی کتاب میں اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا۔(سورہ توبہ )۔ اس آیت کریمہ میں اللہ نے قمری سال کے مہینوں کا ذکر فرمایا ہے اور آگے یہ بھی فرمایا:  ترجمہ:یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔۔۔ یعنی پورے سال اللہ کے بتائے راستوں پر چلو۔ طرح طرح کے رسم و خرافات میں پڑ کر اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔آج مسلم معاشرے میں اَن گنت خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ ایک دو ہوں تو گنوایا جائے، دوچار ہوں تو رونا رویاجائے۔ حالانکہ اسلام رسم ورواج کو مٹانے آیاہے۔ افسوس آج اسی اسلام کے ماننے والے بعض لوگ بے ہودہ رسم ورواج کو پکڑے ہیں۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ

دو چہرے!

میں حسبِ معمول آفس سے گھر آرہا تھا ‘ شہر کی سڑکوں پر ہمیشہ کی طرح ٹریفک کا سیلاب رواں دواں تھا ‘ اناڑی ڈرائیوروں ‘ ڈپریشن ناکامیوں کے مارے شہریوں نے سڑک کو ہی میدانِ جنگ بنا رکھا تھا ہر کو ئی ایک دوسرے کو روندتے کچلتے آگے بڑھنے کی کو ششوں میں لگا ہوا تھا ‘ ٹریفک کی اِس بے ترتیبی میں بنیادی کر دار مو ٹر سائیکلوں اور رکشہ ڈرائیوروں کا تھا جو خود کو سڑکوں کا حقیقی مالک سمجھتے ہوئے اور ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہو ئے ایک دوسرے کو ٹھوکریں ما رتے، ذرہ سی جگہ پا کر اُس میں گھس کر مہذب لوگوں کے ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنے ہو ئے تھے‘  انڈر پاس آیا تو ٹریفک کا بہا ئو بہت سست ہو گیا۔ اسی دوران ذرا سی جگہ پا کر ایک نوجوان رکشہ ڈرائیورنے ہمارے سامنے چھلانگ ما ر ی اُس کی جہالت اور من مرضی دیکھ کر میں اور میرا دوست حیران تھے کہ اسی اثناء میں رکشے کے پیچھے علماء

قوموں کاعروج و زوال۔۔۔۔ قسط 2 !

 مولانا سید ابواعلیٰ مودودی ؒ (1903-1979)   اللہ تعالیٰ نے انسان کو سماعت ،بصارت، عقل اور ضمیر جیسی بنیادی صلاحیتں  (Basic Faculties)عطا کیں جن کو وہ استعمال میں لاکر ترقی کے مختلف منازل طے کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متنوع خوبیوں سے بھی نوازا جن میں کرید و جستجو ، تحقیق و تفتیش،سعی جہد اور اجتہاد کرنا بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔تحقیق و تفتیش اور تلاش و جستجو ہی ایک فرد یا قوم کو آگے بڑھاتی ہے اور اس کے روز مرہ مسائل کو حل کرنے کاذریعہ بنتی ہے ۔ انسان کے دل و دماغ میں جو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ، وہ بھی تحقیق وجستجو کرنے سے دور ہوجاتے ہیںنیز مبہم اور غیر معین بات بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ، ترقی کے منازل طے کرنا اور نت نئے مسائل کاحل نکالنا تحقیق و تفتیش کا خاصہ ہے ۔ جب بھی انسان اس سے لاتعلق ہوجاتا ہے یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر

یو پی بہار والے زیر عتاب کیوں ؟

 وَن انڈیا وَن پول کے بارے میں سوچئے۔ ۴ برسوں سے اس کا راگ الاپ رہے ہیں اور اس دوران نہ جانے کتنے الیکشن ہوئے لیکن کوئی بھی ایک یا دو روز میں تکمیل کو نہیں پہنچے۔ ابھی ابھی ۵ ریاستوں کے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن نے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے ، اس کی رُو سے انتخابات کا عمل تقریباً ۲۵ دنوں میں پورا ہوگا اور تمام کے تمام نتائج ۴ دنوں کے بعد یعنی ۱۱ دسمبر کو آئیں گے۔ یہ اگر ۵؍ریاستوں میں انتخابات کی تکمیل کا حشر ہے تو پورے ہندوستان میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کا کیا جواز ہے؟مودی کے حساب سے کہیں ایسا تو نہیں کہ الیکشن کمیشن تاریخوں کا اعلان کر دے اور ۴-۴ماہ انتخابات کا عمل جاری رہے اور سہولت سے ۶ماہ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ الیکشن مہم کا زیادہ سے زیادہ اور طویل مدت تک لطف لے سکیں کیونکہ انہیں ہمیشہ ہی 'الیکشن مہم موڈ '(mode)میں محسوس کیا جاتا ہے۔شاید اس کے علاوہ انہیں کسی ا

قوموں کاعروج و زوال !

بیسویں صدی میں جن اسلامی مفکرین نے نوع انسانیت کو  عروج و ترقی کا راستہ دکھایا اور زوال و شکست سے باخبر کیا، ان میں بدیع الزماں نورسی ؒ، علامہ اقبالؒ ،مولانا ابوالکلام آزادؒ، علامہ اقبالؒ ،مولانا مودودی ؒ، مولانا ابوالحسن ندوی ؒ اور پرڈاکٹرسید حسین نصر قابل ذکر ہیں۔زیر نظر مضمون میں عروج و زوال کے تعلق سے ان مفکرین کی چند آراء کا مطالعہ پیش کیا جارہا ہے    بدیع الزماں نورسیؒ(1873-1960)  درویش صفت انسان اور مرد قلندر بدیع الزماں نورسی ترکی کے علاقہ شرقی اناطولیہ کے ایک گاؤں’’نورس‘‘ میں ۱۸۷۳ء کو پیدا ہوئے۔اسی گاؤں کی نسبت سے انہیں نورسی کہا جاتا ہے ۔ وہ کردی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مقامی مدرسوں میں حاصل کی۔ صرف ۱۸؍سال کی عمر میں ان کا شمار بڑے علماء میں ہونے لگا۔ وہ سیاسی معاملات میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر دلچسپی

۔17 ؍اکتوبر :سر سید ڈے

سرسید   احمد خانؒ بلا شبہ ایک نا بغہ روزگار شخصیت تھے ۔ ایک ایسی شخصیت جو رنگا رنگ تھی اور منفرد و ممتاز بھی اور نہایت پُروقار بھی۔ بے شک وہ انسانیت کے مسیحا ، عالموں کے مداح ، بے عدیل صحافی ، مصلح قوم و ملّت ، صاحبِ طرز ادیب ، بلند پایہ مفسر ، ماہر تعلیم اور عظیم مفکر تھے ۔ ان کے افکار اور نظریات آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں نئے حالات کا مقابلہ کرنا اور نئے حالات کے ساتھ با عزت سمجھوتا کرنا سکھایا ۔ بے شک وہ اپنے جملہ اہلِ وطن خصوصاََ مسلمانوں کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے ، اس کے لئے ان سے جو بھی ہو سکا وہ کیا ۔ چنانچہ اس سلسلے میں انہوں نے کتابیں بھی لکھیں ، رسالے بھی جاری کئے ، انجمنیں بھی قائم کیں ، تلاش و تحقیق کی نئی راہیں بھی دکھائیں ، قوم کو ماضی کا نقشہ دکھا کر اصلاحِ حال پر آمادہ بھی کیا ۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن کے افکار

سرسید احمد خان ؒ۔۔۔۔۔ بے بدل محسن لا مثال معلم

مولاناالطاف حسین حالیؔ نے سرسید کی بے مثال شخصیت کے بارے میں لکھا ہے:’’میرے ایک دوست سے ایک انگلش مین نے سرسید کا ذکر کرتے وقت کہا کہ اگر یہ شخض یورپ میں پیدا ہوتا تو کسی بڑی امپائر میں وزیر اعظم کے درجہ تک پہنچتا‘‘۔(حیات جاوید ۔ص۔۳۵۷)  سرسید احمد خان محض ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔اس تحریک کے مختلف النوع پہلو تھے ۔سرسیدبذات خود کئی حیثیتوں سے نہ صرف انیسوی صدی کے پورے منظر نامے پر چھائے رہے بلکہ آج کے دور میں بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کے اثرات نمایاں ہیں۔بقول خوشی محمد خاں ناظرؔ         ؎ سید مرحوم اُمت کا بھلا کرتا رہا ہم جفا کرتے رہے اور وہ وفا کرتا رہا جو فلاحی قوم کی آئی سمجھ میں اس کی بات برملا کہتا رہا اور برملا کرتا رہا  سیاست ،ادب ،مذہب ،تعلیم اور دیگر علوم وفنون میں سر سید

چاکِ گریباں!!!۔۔۔ قسط2

ان  چار ممالک میں کتنے مردو زَ ن ،بوڑھے اور بچے شہید ہوگئے ،کتنے ناکارہ اور اپاہچ ہوگئے اور کتنے مختلف ممالک کے رفیوجی کیمپوں میںبے بسی اور بے کسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ،اُن کا کوئی شمار ہی نہیں۔جو اپنے ممالک میں اپنے شہروں اور اپنے گھروں میں بادشاہ تھے ،آسودہ حال اور خوش و خرم تھے، آج اُجڑے دیاروں کی تلخ یاد لئے رفیوجی کیمپوں میں گداگروں سے بدتر کسمپرسی میں خون کے آنسو بہا رہے ہیں، جب کہ اُن کی مستورات کی عزت بھی سلامت نہیں رہتی ہے ۔کیا یہ سب غیر مسلموں نے نہیں کیا ؟بولئے اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔آپ تو ایک دم خفا ہوگئے تھے۔مشہور تاج دار اور اپنے وقت کا طرح دار بادشاہ جس نے اپنے ملک کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیا ،دیگر ترقیاتی منصوبوں کو رُوبہ عمل لانے کے علاوہ لیبیا کے ریگستان کو گل و گلزار اور باغِ ارم بنایا تھا ۔غیر مسلموں نے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔فرانس کے سابقہ صدر

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا موسس

علیگ 17 اکتوبرکا دن ساری دنیا میں مرحوم سرسیّد احمد خاں کی یوم پیدائش کے طورپر منایاجاتاہے اور پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ حضرات موجود ہیں وہ اس دن کو ’سرسیّد ڈے ‘ کے نام سے مناتے ہیں اور تمام ممالک میں اس دن ’سرسیّد ڈنر‘ کا بھی اہتمام کیاجاتاہے۔خاص طور سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جس کے بانی سرسیّد ؒ تھے وہاں پر دنیا کا سب سے بڑا ڈنر(عشائیہ) کااہتمام ہوتا ہے۔واضح رہے کہ آج سے 60برس قبل  ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جب پہلی بار مسلم یونیورسٹی میں ’سرسیّد ڈے‘ پر مہمان خصوصی تھے تو اس دن میں بھی وہاں پرموجودتھا اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس دن وہاں پر تقریباً 20 ہزارطلباوطالبات کے ساتھ ڈنرکیا اوراس کے بعد تمام طلبا سے مخاطب ہوئے تو ہم سب طلباکو بتایا کہ میں تمام دنیا میں گھوم چکاہوں اورایک

بدکاری کی کھلی چھوٹ!

کرۂ ارض کوہرنوع کے نظم ونسق سے منضبط کر نے ، انسانی تہذیب و تمدن کے اُجالے میںاقوام وملل کا قافلۂ حیات چلانے اور فرداوراجتماع کوشرو فساد اور افراط وتفریط سے بچانے کے لئے خالق ِکا ئنات اور مالک ِدوجہاں نے انسانوں کی ہدایت کے لئے وقتاًفوقتاً انبیائے کرامؑ کی وساطت سے شرائع نازل کیں ، دینی قوانین دئے اور فطری قواعد کا درس دیا تاکہ انسان فرداًفرداً بھی اور اجتماعاً بھی شاہراہ ِ حیات پر چلتے ہوئے اللہ کا مطیع وفرمان بردار بن کر جیئے اور مرے ۔ نقاشِ ازل نے انسان کی سرشت میں ابد تک کے لئے علویت اورشہوت دونوں کی آمیزش کی ہوئی ہے اور ساتھ ہی شریعت کے دائرے میں ان کے تقاضے پورا کر نے کی مشروع راہیں بھی سجھائی ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی انسانی جذبات کی تسکین اور نسل انسانی کی بقاء کے لئے اسلام کا دیا ہوامربوط نظام تزویج بھی ہے ۔دین ِ حق میں اس منفرد نظام کو ایک خاص مقصدیت اور مقام ورتبہ حاصل ہ

سرکاری اساتذہ!

 26ستمبر   کو ریاستی گورنر اور اساتذہ کی تنظیموں کے ساتھ میٹنگ اُس وقت کامیابی کارنگ لائی جب گورنر صاحب نے ایس ایس اے اساتذہ کے حق میں ساتویںپے کمیشن کا نفاذ ماہ ستمبر سے کئے جانے کا اعلان کیا۔اسی پس منظر میں گورنر کے مشیر خور شید احمد گنائی نے خود جاکر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ایس ایس اے اساتذہ کو جوس پلایا ۔یہ خبر جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو اساتذہ خوشی سے پھولے نہ سمائے ،یہاں تک کہ جموں میں بڑے پیمانے پر ناچ گانے ہوا اور پرتاپ پارک سری نگر میں پٹاخوں کے شور وغل سے فضا میں ارتعاش ہوا۔ اساتذہ کے یہاں ہر جگہ عید جیسا منظر تھا۔ اس میں دوائے نہیں کہ رہبر تعلیم اساتذہ کو ابتداء سے ہی ذہنی کوفت اورسماجی حقارت کا نشانہ بنایا گیا۔ سب سے پہلے ان کی تعلیمی قابلیت پر شک وشبہ ظاہر کر ے انہیں از سر نو امتحان میں بیٹھنے جیسے فیصلہ سے ذہنی اذیت اور سماجی بے توقیری سے گذر نا پڑا اور

حیاتِ سر سیدایک نظر میں

 سر سید  احمد خان ایک نابغۂ روزگار شخصیت کے مالک تھے ، جن کے متعلق ہمیں جتنا علم ہوتا جاتا ہے، حیرت و استعجاب میں مزید اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے کہ کیسے ایک تن تنہا شخصیت نے محدود وقت میں ایسے لامحدود کارنامے انجام دیے ، جنھیں دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں۔مولوی عبد الحق نے بجا فرمایا ہے:’’لوگ کہتے ہیں کہ سر سید نے کالج بنایا، کالج نہیں، اس نے قوم بنائی، قومیت کا تصور پید اکیا، مُردہ دلوں میں روح پھونکی اور زندگی کے ہر شعبے کو بنایا اور سنوارا، تعلیم، علم و ادب، زبان، سیاست، صحافت، مذہب سب کو جدید نظر سے دیکھا، وقت کے تقاضے کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، اوہامِ باطلہ اور خیالاتِ فاسدہ کا قلع قمع کیا اور ہم قوموں کی عقلیت اور تحقیق کی طرف رہنمائی کی، جسے وہ بے تقلید کی فرماں برداری میں بھول چکے تھے۔‘‘(سر سید شناسی:۴۷)اسی لیے ان کی زندگی میں ہمار

ہوئے مر کے ہم جورسوا

اب  تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کوضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطعۂ تاریخِ وفات ہی سہی،مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صرف پس ماندگان کوبلکہ خود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہےلیکن مرزا نے چپ ہونا سیکھا ہی نہیں،بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کوغلط موقع پربے دغدغہ کہنے کی جو خداداد صلاحیت اُنہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سرِرہ گزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں،جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہےاور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ    ع جس جگہ بیٹھ گئےآگ لگا کراُٹھے  اس کے باوصف وہ خدا کے ان حاضرو ناظر بندوں میں

دریدہ دہنی ناقابل قبول

ہم  اکیسویں صدی کے مسلمان ہیں۔ اگر اسے دجالی دور یا عہد فتن مانا جائے توشاید غلط نہ ہوگا ۔ دورِ فتن کی مسلم اُمہ کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ اسلام کے نام لیواؤں پر غیر اقوام(دشمن ِاسلام ممالک اورقومیں) اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے، اُس دور کے مسلمان کے کردار کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباًساڑھے چود ہ سو سال قبل متنبہ کیاہے کہ مسلمان’’وھن‘‘ کا شکار ہوجائیں گے۔ ۔۔ وھن کا مطلب پوچھا گیا۔۔۔ فرمایا اُنہیں زندگی سے پیار اور مو ت سے نفرت ہو گی۔ہم اسلام کا وہ نام لیوا ہیں،جو اپنی بے عملی اور بدعملی کی بدولت اس وقت دنیا کی مظلوم ترین قوم ہیں۔ مشرق و مغرف، شمال و جنوب میں ہمارا قافیۂ حیات تنگ کیاجارہا ہے۔ ہمارے شب و روز میںہر وقت ہمیں بے دھڑک ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہم تعداد م

عبدالغنی شیخ لداخی

 اُردو کے مشہور و معروف ادیب جناب عبدالغنی شیخ لداخی محتاج تعارف نہیں ۔ ان کا تعلق چین کی سرحد کے قریب واقع لداخ جموں کشمیر سے ہے ۔ آپ اُردو زبان کے ایک بڑے ادیب اور دانش ور ہیں ۔ بچوں کی دنیاکے لئے آپ بہت اچھا اور بہت زیادہ لکھ چکے ہیں۔ ان تحریرات میں ’’ کتابوں کی دنیا ‘‘ اور ’’لداخ کی سیر ‘‘ کو ریاستی حکومت نے 1979ء میں منعقدہ بچوں کے بین الاقوامی صد سالہ میلے میںایوارڈ سے نوازا ۔ بچوں کے لئے لکھی ا ن کی ایک کہانی ’’ دادی اماں ‘‘ کا جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے انگریزی میں ترجمہ کروا کر اسے میٹرک کے نصاب میں شامل کیا ہے ۔ گاندھی جی کی حیات اور فلسفہ پر تحریر ایک مسودے پر شیخ صاحب کو ریاستی کلچرل اکادمی نے صد سالہ گاندھی برسی پر منعقدہ کتابوں کے انعامی میلے میں پہلا انعام دیا ۔ عبدالغنی شیخ