تازہ ترین

کشمیر : بدامنی نہیں عدل کی پُروائیاں چاہیں

  Did I offer peace today? Did I bring a smile to someone's face? Did I say words of healing? Did I let go of my anger and resentment? Did I forgive? Did I love? These are the real questions. I must trust that the little bit of love that I sow now will bear many fruits, here in this world and the life to come. (Henri Nouwen)    گزشتہ ستر سال کی تاریخ شاہد عادل ہے کہ بھارت نیمعروضی تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ مر کزکا کشمیر کے حوالے سے روزِ اول سے ہی منفی رویہ رہا ، اس نے تنازعہ کشمیر کو کبھی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی مثبت پہل کی نہ ایسی تجاویز پر غور کرنے کی زحمت گوارہ کی جو اس سلگتے مسئلے کو حل کرنے میں معاون بنتیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر میں آبا لوگ مسلسل ایک کرب ناک صورتِ حال بلکہ کہنا چاہیے کہ جنگ سے دوچار ہے جس کے سبب کشمیری  قوم خاک اور خون میں

!افغانستان ۔۔۔ امریکہ کا روس جیسا حشر

دنیا  کا واحد سپر پاور بری طرح افغان دلدل میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ظاہراََ یہی نظر آتا ہے کہ امریکہ کیلئے افغانستان میں نہ رُکنے کا مقام ہے نہ ہی چلنے کی راہ کہیں نظر آتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ عیاں ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج کا بیشتر حصہ نکلا نا چاہتا ہے لیکن ایک سپر پاور ہونے کے ناطے اُس کی انا آڑے آتی ہے ثانیاََ وہ کسی نہ کسی صورت میں اپنی موجودگی کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ افغانستان سے نکلنے کا جہاں تک تعلق ہے اُسے اِس ضمن میں پرکھنا چاہیے کہ امریکہ کیلئے کوئی ایسا امکاں نہیں بچا ہے کہ وہ افغان طالباں پہ اپنی فتح کا جشن منائے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی نا کامی کا سامنا ہے۔امریکہ ویٹ نام کی جنگ میں بھی اپنے احداف کو پا نہ سکا لیکن 20ویں صدی کے ساتویں دَہے میں امریکہ کو ہنری کیسنجر جیسے شاطر ڈپلومیٹ کی خدمات میسر تھیں جس نے پیرس

ڈاکٹر فریدؔ پربتی مرحوم

شعبہ  اُردو کشمیر یونی ورسٹی کے سالانہ ادبی و تحقیقی مجلّہ’’بازیافت‘‘ کے شمار نمبر ۳۵۔۳۴ میں مرحوم ڈاکٹر فرید پربتی کا مضمون بعنوان ’’اسعد بدایونی کی شاعری‘‘ شامل ہے۔ اس مضمون کے کچھ ابتدائی جملے ملاحظہ ہوں: ’’اُردو ادب میں اگر جواں مرگ شعراء کی فہرست مرتب کی جائے تو اس میں بغیر کسی تعمیہ و تخرجہ کے اُردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کا نام سر فہرست آئے گا ...............   اس فہرست میں کس کس  نام رکھا جائے، کس کس کا نکال دیا جائے۔عمد تہ الملک امیر خان انجامؔ،عبدالحئی تاباںؔ، مجازؔ لکھنوی، خلیل الرحمان اعظمی،بانیؔ،ناصر ؔکاظمی وغیرہ ۔اس فہرست میں اسعد بدایونی کا نام شامل کرتے ہوئے ہاتھ ضرار کانپ جاتا ہے‘‘      یہ اقتباس اُس مضمون کا تراشہ ہے جو ڈاکٹر فرید

جموں وکشمیر بنک کے خلاف بدنامی کی مہم

پردے پیچھے کیا ہے؟  مجھے بھی کچھ کہنا ہے     ریاست کے سب بے بڑے مالیاتی ، تاریخی ادارے اور ریاست کے طول و عرض میں ریاستی معیشت کو سنبھالنے والے جموں و کشمیر بنک کے بارے میں آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں جن کا ایک عام انسان جب بغور جائزہ لیتا ہے تو شش و پنج میں پڑ ے بغیرنہیںرہتا۔کبھی سوال اُٹھ رہے ہیں اس کی خود مختاری پر ، کبھی انگلی اٹھائی جارہی ہے اس کے انتظامی اموارت کے بارے میں، کبھی اس کے مالی مسائل پر اورکبھی ملازمتوں میں اس کی بھرتیوں پر۔ یہ سارے سوالات اور بحثیں ریاستی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سے گورنر انتظامیہ کے دورمیں خاص طور پر سامنے آرہی ہیں۔ ریاست کا جوکوئی بھی باشعور عام باشندہ جب میڈیا میں اُجاگر کی  جارہی ان خبروں کو ایک عام پیمانے پر تولنے کی کوشش کر تا ہے تو اُسے اس ساری کارستانی کے پیچھے دال میں کچھ کالا ضروردکھائی دیتا ہے۔ اس بات م

تلنگانہ۔۔۔ ٹی آر ایس کی کامیابی

تلنگانہ ٹی آر ایس الیکشن جیت گئی۔ تلنگانہ پر کے سی آر کی قیادت میں اسے دوبارہ اقتدار حاصل ہوگیا۔ انتخابی گٹھ جوڑ’’ مہاکوٹمی ‘‘کو عوام نے مکمل طور پر مسترد کردیا۔راہول گاندھی ، چندرابابو نائیڈو ، سی پی آئی ، ٹی جے ایس تلنگانہ کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حالانکہ کانگریس نے مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں زبردست کارکردگی دکھائی۔ تلنگانہ میں وہ اس قسم کے مظاہرہ میں ناکام رہی۔ کیوں؟اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس نے اپنی غلطیوں کی اصلاح نہیں کی۔ گروہ بندی، ٹیم اسپرٹ کی کمی، ہر کارکن اپنی جگہ لیڈر اور دوسرے لیڈر کو خاطر میں نہ لانا،اس کی موٹی وجوہات ہیں۔ ان سب کے علاوہ نیت کے فتور نے بھی کانگریس کا بیڑہ غرق کیا۔ اُمیدواروں کے انتخاب میں جانب داری یا بیرونی دخل اندازی ، فنڈز کے استعمال میں کفایت شعاری اور بعض موقعوں پر بخال

مولانا اسرار الحق قاسمیؒ ، ملک وملت کا بے لوث خادم

راقم السطور ایک مایہ ناز علمی وادبی شخصیت اور کمپیوٹر کو اردو جیسی بے مثال و شیریں زبان سے نوازنے والی عظیم ہستی ڈاکٹر عطش دُرانی صاحب مرحوم کی وفات پر اپنے رنج و غم کو لفظوں کا جامہ پہنانے سے فارغ ہی ہواتھا کہ ایک اور ملی قومی اورسیاسی رہنما،رُکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند، ممبر پارلیمنٹ ، فروغِ تعلیم کے لئے سرگرم عالمِ دین، مشہور اہل قلم اور صاحب طرز ادیب ومصنف مولانا اسرار الحق قاسمی علیہ الرحمہ کا حادثہ وفات کی خبر سنی۔ انااللہ وانا الیہ راجعون ۔ناچیز کو اس خبر سے کافی صدمہ ہوا،اور علمی حلقوں کے لیے یہ کسی عظیم سانحہ سے کم نہیں۔ مرحوم اپنی ذہانت، بذلہ سنجی، خوش مزاجی اور خوش مذاقی کے لیے ہی نہیں بلکہ شگفتہ زبان وقلم کے لئے بھی معروف ومشہور تھے۔ آپ کے قلم سے کثیر تعداد میں ادبی، علمی اور فکری مقالات نکل کر علمی حلقوں میں مقبول ہوئے۔  مولانا مرحوم نے ساٹھ کی دہائی میں دارالعلوم

اللہ کا ہر فیصلہ دل سے قبول ہو

یہ  دنیا اور یہاں کی زندگی خوشی اور غم دونوں کا مجموعہ ہے۔اس دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہمیں بہت بار کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں اور ہم خوش ہوتے ہیں،جب کہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ناکام ہوجائیں اور اس وقت ہمیں ناخوشی اور غم سے دوچار ہونا پڑتاہے۔دنیا میں ایک بھی انسان ایسا نہیں پایا جاتا جس کی ساری کی ساری زندگی آرام و آسایش اور خوشی و حوش حالی میں بسرہورہی ہو،ہر کسی کے ساتھ کچھ اچھا بھی ہوتا ہے اور کچھ برابھی،کبھی اس کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ رونما ہوتا ہے جبکہ کبھی برا اور تکلیف دہ واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔اسی طرح اس کی زندگی کی کشتی کنارے لگ جاتی ہے اور اس کی موت کا وقت آن پہنچتاہے۔اللہ کا یہی نظام ہے،وہ اس طرح سے اپنے بندوں کو اس کے صبر و ضبط کو اور اس کے ایمان کی مضبوطی و قوت کو آزماتاہے،چنانچہ دیکھنے میں آتاہے کہ بعض دفعہ مصائب سے گھبراکرانسان برے راستے پر چل پڑتا ہے او

آہ !مولانا اسرارالحق قاسمی

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی ملک کے معروف مسلم رہنما، عالم دین، ماہر تعلم، سماجی مصلح، مصنف و قلم کار اور لوک سبھا کے رُکن مولانا اسرار الحق قاسمی بھی ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ مسلم رہنماؤں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو اب رفتہ رفتہ ناپید ہوتی جا رہی ہے۔کچھ روز قبل نماز فجر سے عین قبل ان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔ مولانا اسرار الحق قاسمی ممبر پارلیمنٹ تو تھے لیکن وہ نہ تو مولانا ابوالکلام آزاد تھے اور نہ ہی مولانا حفظ الرحمن لیکن ان دوعظیم شخصیات کی سیاسی وراثت کے کسی حد تک امین ضرور تھے اور اس دورِ قحط الرجال میں ان کا دم بہت غنیمت تھا۔ مرحوم مولانا اسرار الحق قاسمی کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ حالیہ دنوں میں جب پہلے مولانا عبد الوہاب خلجی پھر مولانا محمد سالم قاسمی کے انتقال نے مسلمانان ہند کے بارِ

! ۔5؍اسمبلی نتائج

5ریاستوں کے اسمبلی نتائج کا یہ پیغام صاف ہے کہ بی جے پی کےدن جانے والے ہیں اور کانگریس کے دن آنے والے ہیں۔ مودی کا یہ دعویٰ کہ ملک کے سب سے بڑےعہدے کے لئے2024 تک کوئی جگہ خالی نہیں ہے، جملہ بازی ہی نکلا۔نریندر مودی نے 2014 میں اپنے حامیوں اور کارکنوں سے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا وعدہ کیا تھا، کوئی ساڑھے چار سال بعد لوگوں نے بی جے پی کو دروازہ دکھانا شروع کر دیا۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کے نتائج صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ ملک کے بڑے حصے میں ووٹروں کے رجحانات بدل رہے ہیں، صاف ہے کہ ووٹروں کی پہلی پسند بی جے پی نہیں رہی ہے اور یقینی طور پر نریندر مودی کا طلسم اپنی تاثیر کھو رہا ہے، وہیں کانگریس نے تیزی سے شاندار واپسی کی ہے اور راہل گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے ہیں۔راجستھان اور

مغرب بدلتے اِزموں کی آماج گاہ

یہ   ایک زمینی حقیقت ہے کہ انسان کا دل ودماغ حقیقت کم پسند کرتا ہے اور فکشن (تخیلات، مفروضات) کے فریب میں زیادہ رہتا ہے۔ یہی خودفریبی بیسویں صدی کی عالمی اشرافیہ پر طاری رہی۔ لندن، نیویارک، ماسکو، برلن، اور جنیوا میں بیٹھ کر یہ باورکیا گیا کہ غیر مغربی دنیا میں تیسرے درجے کے انسان بستے ہیں، جن کی کوئی تہذیب، کوئی شناخت نہیں۔ ان کا کوئی ماضی، کوئی مستقبل نہیں۔اس اشرافیہ نے ایک کہانی گھڑی۔۔۔ یہ سہ قطبی کہانی فاشزم، کمیونزم اور لبرلزم کی کشاکش پرمبنی تھی۔ 1945ء تک فاشزم کروڑوں انسانی زندگیوں کو روندتی ہوئی خاک و خون ہوگئی۔ 1960ء کی دہائی سے یہ کہانی دوقطبی ہوگئی۔ 1991ء تک کمیونزم کی خودفریبی خس و خاشاک ہوگئی۔ اب دنیا یک قطبی کہلائی جانے لگی۔ مغربی دانشور فرانسس فوکویاما نے تاریخ کی تکمیل کا دعویٰ کیا۔ غرض یک قطبی دنیا بلا روک ٹوک لبرلزم کی عالمگیریت کے لیے پُراعتماد نظر آئی۔

تبدیلیٔ مذہب

میں بطور ہندو نہیں مروں گا‘‘ آئین ِ ہند کے خالق بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے یہ اعلان ہزاروں کےمجمع کے سامنے 13 ؍اکتوبر 1935 کے دن ناسک سے متصل یلوا میں کیا۔ بمبئی اور دیگر صوبوں سے اچھوت مہار ذات کے پیروکار’’ ڈپریسڈ کلاسز‘‘ (Depressed Classes ) کی طرف سے منعقدہ اس کانفرنس میں حصہ لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے  امبیڈکرنے یہ صاف کر دیا کہ ان کو اب ہندودھرم سے کوئی اُمید نہیں ہے اور اچھوتوں کے لئے مذہب تبدیل کرنے اور مساوات پر مبنی کسی اور مذہب کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ سال ہا سال کی جدوجہد اور ستیہ گرہ کے بعد ، امبیڈکر یہ ماننے پر مجبور ہوئے کہ ہندو مذہب میں اصلاحات کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے۔ نہ صرف مندر تحریک ناکام ثابت ہو رہی تھی بلکہ اچھوتوں کو مندر میں داخلےکی اجازت کے لیے بنائے گئے بہت سارے

امریکہ و چین کی سرد جنگ

’’دی اکنامسٹ ‘‘کے حالیہ شمارے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ اب تک مغربی دنیا چین کو اُبھرتی ہوئی طاقت یا Rising China کہہ رہی تھی، مگر’’ اکنامسٹ ‘‘نے پہلی بار چین کو ’’سپر پاور‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ مغربی ذہن جب بھی اپنے حریف کی طاقت کو بڑھاکر بیان کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے حریف پر ممکنہ حملوں کے لیے جواز تراش رہا ہے اور رائے عامہ ہموار کررہا ہے۔’’دی اکنامسٹ‘‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے چین کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ صرف اْن کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اس سلسلے میں امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی میں چین کی مذمت کا مقابلہ ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ پینٹاگون اور سی آئی اے بھی وہی کہہ رہے ہیں جو سیاست دان کہہ رہے ہیں، اور امریکہ اس مسئلے پ

قصہ کرسی کا مجھے بھی کچھ کہنا ہے

یہ  بات کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سیاست کشمیر کے موسم کی طرح  ہمیشہ بے اعتبار رہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ یہ چیز انہیں وراثت میں ملی ہے۔ ہم ماضی کو کریدیں تو وہ وہ چیزیں سامنے آئیں گی کہ آپ بھی ’’شر مسار ہو مجھ کو شرم سار کر‘‘ والی بات ہوگی ۔ اس لئے ان کی تازہ سیاسی رنگ بدلی پر بات کرتے ہیں ۔ این سی نے حالیہ میونسپل اور پنچایتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور وجہ یہ بتائی کہ دفعہ ۳۷؍اے کے بارے میں جب تک مرکز اپنا موقف واضح نہ کرے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کا دفاع نہ کرے، ہم الیکشن میں حصہ نہ لیں گے ۔ پی ڈی پی نے اس سے پہلے ہی یہی فیصلہ لیا تھا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے اور وجہ وہی بتائی تھی جو این سی کے قائد نے کچھ دن بعد دہرائی۔ حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ ان دونوں پارٹیوں نے چند ہی دن

موت جائے عبرت ہے جشن نہیں

موت  یک ایسی اٹل حقیقت ہے جس پر مذہبی اور غیرمذہبی سبھی لوگوںکا بلالحاظ قوم و ملت عقیدو نظریہ کامل اتفاق ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں موت کے بعد مختلف رسوم مستعمل ہیں، لیکن اللہ نے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ کی وساطت سے نہ صرف ہمیں زندگی کی حقیقت سے بلکہ موت کی اصلیت سے بھی آشنا کردیا اور صاف صاف فرمایا کہ موت کے بعد والی زندگی کیا ہے،اس کی بھلائی کے لئے کیا کیا تیاریاں کی جانی چاہیں۔ہر موت زندوں کے لئے ایک عبرت ودرس ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رسومات وبدعات کا یہ چلن ہے کہ کسی فرد کا فوت ہونا خیر سے اُس کی زندگی کا خاتمہ ہومگر یہ سوگوار خاندان اور اس کے رشتہ داروں کے لئے مرگِ ناگہانی بن جاتا ہے۔مثلاً تجہیز و تکفین کے بعد غم زدہ خانوادے میں پہلاکام وازہ وان پکانے سے شروع ہوتا ہے، پھر چلتے چلتے سوگ کے پہلے تین روز تک جو خاندان مغموم ودل ملول ہوتا ہے، یکایک وہی

کرتارپوصاحب کاریڈور

28نومبر   2018ء کا دن بر صغیر کی تاریخ میں بہت عظیم دن کے طور یاد کیا جائے گا۔ اس روز کرتارپور صاحب  کاریڈور کی سنگِ بنیاد ڈالی گئی۔ یہ مبارک دن پنجاب میں تو  ایک طرح سے تہوار سا بنا منایا گیا۔چاروں طرف خوشیوں کا ماحول اور مسرتوں کی فضا تھی۔ لوگ ایک ودسرے کو بھدائیاں دے رہے تھے ۔ میرے خیال میںشاید یہ پہلی بار ہوا کہ سب لوگ ایک سیاسی خبر پر تاحال ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ پنجاب میںشائع ہونے والے ہر اخبار کی پہلی سرخی بھی یہی واقعہ تھا اور اخبارات کے پہلے صفحہ کی پیشانی پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی تصویر تھی اور خبر کا متن کرتار پُور صاحب کے کاریڈور کے نیو ڈالنے کی تفصیلات پر مبنی تھا۔ اس اقدام سے پنجابیوں کی ایک دیر ینہ دلی خواہش پوری ہوئی کہ  وہا ںجانے کا راستہ کھل گیا۔ سکھوں کے پہلے گُرو نانک دیو صاحب کی زندگی کے دو بڑے مقام پاکستان میں واقع ہ

لُـــٹــیرا

اُس دن۔۔۔۔۔اُس دن دفتر سے واپس آکر میں نے کپڑے تبدیل کئے ۔ ہاتھ منہ دھوکر چائے کے انتظار میں اخبار اُٹھاکر اُس کی سرخیاں دیکھنے لگا ۔ تھوڑی ہی دیر میں بیگم صاحبہ چائے کی ٹرے ہاتھوں میں لئے (ہشاش بشاش حسبِ معمول نہیں بلکہ خلافِ توقع )غالبؔ کا مصرعہ گنگناتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔  ع مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے میں اُسے دیکھ کر حیران رہ گیا ۔کہاں وہ تھکا تھکا کسل مند جسم اور مضمحل بے رونق چہرہ اور کہاں آج کی یہ باغ و بہار والی دلربائی ۔میں نے معنی خیز نظروں سے اُس کی طرف دیکھا ،اُس نے مسکراتے ہوئے چائے کی پیالی میری طرف بڑھا دی اور لطف کی بات یہ تھی کہ چائے کے ساتھ معمول کے  بسکٹ روٹی کے علاوہ پنیر کے پکوڑے بھی تھے ۔بیگم صاحبہ کا موڈ بھی کافی خوشگوار تھا اور مہمان نوازی کے لوازمات بھی پورے کررہی تھی۔اولاًمیں اُس تبدیلی پر حیران رہ گیا مگر فوراً ہی مجھے یاد آی

چودھری غلام عباس مرحوم: ’’ کشمکش ‘‘کے آئینے میں

چودھری  غلام عباس مرحوم جموں میں پیدا ہوئے ،وہیں ان کا بچپن و لڑکپن بیت گیا،اسی تاریخی شہر میں انہوں نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن نامی ریاست کی اولین تحریکی تنظیم سے دیگر آٹھ ساتھیوں کے ہمراہ اپنی سیاسی و ملی اور ہنگامہ خیز زندگی کا آغاز کیا اور پھر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی اولین سیاسی تنظیم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے جھنڈے تلے ریاستی مسلمانوں کی شیرازہ بندی ،سیاسی و ملی مسائل کے حل اور آزادی کے لئے زندگی کے آخری لمحوں تک سرگرمِ عمل رہے ۔چودھری غلام عباس اپنے ہنگامہ خیز عہد کی داستان اپنی سوانح ِ حیات کشمکش‘‘ بیان کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس خود نوشت سوانح حیات میں زندگی کے تلخ و شیریں تجربوں، یادوں اور اپنوںا ورغیروںکی بے وفائیوں کے حوالے سے جو کچھ رقم کیا ہے ،وہ لفظ لفظ تاریخ کا آیئنہ ہے۔ یہ کتاب انہوں نے سینٹرل جیل امپھلا جموں میں تحریر کی ہے۔چودھری صاحب م

انسانی حقوق : شرفِ انسانی کی عالمگیر تعلیمات

انسانی حقوق کا تاریخی پس منظر       انسانی حقوق کا تصور اگر چہ قدیم زمانہ ہی سے تھا مگر پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ و سلم کے عنفوان ِ شباب میں ’’خلف الفضول‘‘ نامی ایک رضارکار فلاحی انجمن کی تاسیس اس سلسلے کی ایک ٹھوس کڑی تھی ۔ عصر جدید میں آج سے تقریباََ ۷۲؍ سال پہلے انسانیت کی بھلائی اور عالمی امن کے لئے بین الاقوامی تنظیم اقوام متحدہ وجود میں آئی تو انسانی حقوق کا ذیلی ادارہ بھی بہت جلد معرض وجود میں آیا۔اس سے پہلے دنیا میں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں تھا جو حقوق انسانی کے تحفظ کئے آواز اٹھاتی ۔انفرادی طور پر اگر چہ کوشیشں ضرور ہورہی تھیں لیکن وہ کار گر ثابت نہیں ہورہی تھیں ۔انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف مختلف خطوں سے آوازیں بلند ہورہی تھیں لیکن وہ صدا بہ صحرا ثابت ہورہی تھیں غرض کہ ہر کوشش رائیگاں ہو رہی تھی اور ان کوششوں کا عملاََ

وادیٔ کشمیر کے NETاُمیدوار امتحانی مراکز بیرونِریاست کیوں ؟

رواں برس حکومت ہندوستان کے انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت (MinistryofHumanResource Development)نے(NTA) National Testing  Agency کے نام سے ایک آزاد ادار ہ قائم کیا ۔اسی سلسلے میں یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) نے ہر سال ملکی سطح پر ہونے والے NETامتحان کے انعقاد کی ذمہ داری NTAپر ڈالی ہے ۔ امسال اس امتحان کو کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT)کے ذریعے لیا جا رہا ہے جو کہ 18؍دسمبر2019ء سے شروع ہونے جا رہا ہے ۔چونکہ کشمیر میں ہر دن کوئی نہ کوئی ہنگامہ خیزواقعہ پیش آنا کوئی نئی بات نہیں، یہ چاہے حکومت سازی کے حوالے سے فیکس مشین کا خراب ہونا ہو یا دسویں اور بارھویں جماعت کے طلبہ کو اسکولوں کے بجائے مساجد میں موبائل لایٹس کی مدد سے امتحان دینے جیسا معاملہ ۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا جب NET امتحان میں شرکت کے لئے اُمیداروں کی طرف سے اپنی رول نمبر کی پرچی انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی تو را

تحریک ِمزاحمت اور انتخابات

ریاست   ریاست میں تحریک مزاحمت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخ ۔ برصغیر کی تقسیم ، قبائلی حملہ ، دستاویز الحاق ، ہندوستانی فوج کی آمد ، ہندوستان کا اقوام متحدہ سے رجوع ، اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی ادارے کی طرف سے مصالحتی مشنوں کی ناکامیوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگجوں نے مسئلہ کشمیر کو بہت ہی پیچیدہ مسئلہ بنادیا جسے نہ تاشقند معاہدہ ہی سلجھا سکا اور نہ ہی شملہ معاہدہ ۔سیاسی ، فوجی اور سفارتی کشمکش سے بھرپور سات دہائیوں کا طویل عرصہ گزرگیا۔ ہزاروں انسانوں کا خون بہا ۔ چار نسلوں نے اس کشمکش کو دیکھا اور اس کے نقصانات کو بھی برداشت کیا۔ اس عرصے میں چین ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا ۔ جاپان نے ہیرو شیما اور ناگاساکی کی ایٹمی تباہیوں پر تعمیر اور ترقی کے نئے سنگ میل قائم کئے ۔تباہ شدہ جرمنی پھر سے عظی