تازہ ترین

میرواعظانِ کشمیر

میرواعظ  خاندان کی قدر و منزلت کیلئے یہ کافی ہو گا کہ یہ خاندان کشمیری قوم کی مذہبی ، اصلاحی ، تعلیمی ، سیاسی شعبوں میںفراہم کرتا رہا ہے ۔ کسی بھی قوم کی دینی و سماجی نشو و نماء کیلئے یہ  چیزیںانتہائی اہم ہوتی ہیں ۔ ہمہ گیرقیادت کی اہمیت و افادیت کا سب سے بڑا فیضان یہ ہوتا ہے کہ قوم انتشار و خلفشارسے بچتی ہے۔ کشمیر کے مرکزی شہر کی جامع مسجد منبر ومحراب گواہ ہے کہ یہیں سے میر واعظ خاندان کے چشم وچراغ منسب دعوت وارشادپر فائز ہوکر اپنے پند و نصائح اور بصیرتوں سے کشمیری مسلمانوں کی جملہ شعبہ ہائے حیات میں آراستہ و پیراستہ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔اِس مرکزیت کو ختم کرنے کی کوششیں بارہا کی گئیں لیکن اِس مقدس مقام کی قدر و منزلت میںزمانے کی آندھیوں کے باوجود کوئی کمی یا سبکی واقع نہیں ہوئی ۔ سنہ سنتالیس کے اضطرابی دور میں میر واعظ یوسف شاہ کی ہجرت کے بعد کشمیر میں میر واعظ کے مقام ومن

کرائسٹ چرچ سے غزہ تک

 میرا بار باراس سوال سے پالا پڑتاہے کہ دہشت گردی کیا ہے؟ کیا لوگوں کو مارنا، دھماکے کرنااور خود کش حملے کرنا دہشت گردی ہے۔ دوسری بات یہ کہ دہشت گرد کون ہیں؟ کیا یہ مسلمان ہیں؟یا پھرعیسائی اوریہودی ہیں؟ یا دہشت گردی کا کوئی مذہب ہی نہیں ہوتا ؟یورپ نے دہشت گردی کو صرف مسلمانوں ہی سے کیوں نتھی کر دیا ہے؟ دہشت گردی کی اصطلاح میڈیا وغیرہ میںصرف مسلمانوں کے لیے ہی کیونکر مخصوص کی گئی ہے؟ کیا دیگر مذاہب کے لوگ قاتل ،خود کش حملہ آور ، خون خوار بھیڑیئے نہیں؟ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ دہشت گرد عناصر مخصوص لوگوں کے ذریعے ذہن سازی کئے ہوئے افراد ہوتے ہیں ،جنہیںان کے آقا اور مر بی اپنے ذلیل مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔دہشت گردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ہوتا،اگرچہ وہ اپنا نام کچھ بھی بتائیں یا رکھ لیں۔ان افراد کا مطمح نظر اور مقصود وہی زہر ناکیاں ہوتی ہیں جو ان کے ذہ

تیرادرد نہ جانے کوئے!

 دفتر  میں میرا ساتھی ہم کار مکندہ لالؔ جب اپنے گھر کی بات بتاتا تومجھے بے حد دُکھ ہوتا تھا۔ میں اٹھارہ سال کا الہڑ نوجوان اگرچہ اپنی عمر کے تقاضے کے مطابق اپنی ہی موج مستی میں تھا اور جولانی ٔطبیعت عروج پر تھی مگر مکندہ لالؔ کا معاملہ ایسا تھا کہ مجھے اُس کی بپتا سن کر رنج ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی کھبی آنکھیں روہا نسوں ہو جاتی تھی ، حالانکہ میری عمر اُس وقت جذباتی باتوں کو خاطر میں لانے کی نہیں تھی۔ رُکئے میں آپ کو پوری بات سُنا تا ہوں۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد اگلے سال میری نوکری ایک سرکاری دفتر میں لگی مگر پوسٹنگ جموںؔ میں ہوئی۔عمر سے چھوٹا تھا، گھر سے باہر نہیں رہا تھا مگر بہر حال ’’ مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مصداق معاملات آہستہ آہستہ سلجھ گئے۔ رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوگیا، دل بھی لگ گیا اور ’’وٹا ں داشہر‘‘ میں وٹوں کے ساتھ ساتھ

برطانیہ کا یورپین یونین سے اخراج!

برطانوی  وزیرِخزانہ فلپ ہیمنڈ کاکہناہے کہ بغیرمعاہدے کے یورپی یونین کوچھوڑنے کی صورت میں برطانیہ کواگلے15برسوں میں 150/ارب پاؤنڈ کاخسارہ ہوگا۔ قلیل مدتی اثرات اس سے بھی بھیانک ہوسکتے ہیں۔ حکومت نے غذائی قلت سے بچنے کے اقدامات ابھی سے شروع کردیے ہیں ۔ ’’نو ڈیل‘‘کی صورت میں ممکن ہے کہ حکومت کوعوام سے اپیل کرناپڑے کہ وہ اپنی غذائی عادات تبدیل کریں تاکہ خوراک کی قلت سے بچا جا سکے۔ ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کوامن و امان کامسئلہ پیداہونے کی صورت میں اسٹینڈ بائی کردیاگیاہے۔بریگزٹ کواب بھی روکنے کی امید رکھنےوالے اس انتظار میں ہیں کہ تھریسامے کی بریگزٹ ڈیل پر سمجھوتے کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں اس کے بعد وہ بریگزٹ پر دوسرے ریفرنڈم کی کوشش کریں گے۔ یہ حکمتِ عملی رکھنے والوں کیلئےلیبر پارٹی کی حمایت کاحصول ضروری ہے، تاہم اب تک لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کا کردا

۔22؍ مارچ عالمی یوم ِ آب......پانی بچاؤ ترقی پاؤ!

 اللہ  رب العزت کی عطا کردہ نعمتوں رحمتوں کا تصور انسانی سوچ سے ماورا ہے۔ ان کے لئے جو ضرورتیں ہیں ان میںپانی نمبر اول آتا ہے۔ تخلیق دنیا میں بھی پانی اور مٹی کا استعمال ہوا ہے۔(قرآنی مفہوم) پانی نہ صرف ہمارے لئے بلکہ اللہ کی ہر مخلوق کے لئے ضروری ہے۔ پانی سب کے لئے اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ترجمہ: تو بھلا بتلاؤ تو جو پانی پیتے ہو کیا تم نے اسے بادل سے اُتارا یا ہم ہیں اتارنے والے ۔ ہم چاہیں تو اسے کھارا کردیں پھر کیوں نہیں شکر کرتے؟(سورہ واقعہ، آیت ۶۸ تا ۷۰) اجاج اس پانی کو کہتے ہیں جو کھارا ہوتا ہے۔ جیسے سمندر کا پانی ۔ اللہ رب العزت نے نہ صرف پانی کا ذکر فرمایا بلکہ شکر کرنے کی تلقین بھی فرمائی ۔ اور ہم ہیں کہ عمر بھر رات دن ، بہاروخزاں میں، شادی وغمی میں پانی پی کر بھی ، ا س کا بے تحاشہ استعمال کرکے بھی االلہ رب ا

توبہ واستغفار !

ارشاد  باری تعالیٰ ہے:’’تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والاہے‘‘[سورۃ ہود:90 ] انسانی زندگی کے نشیب و فراز، آرام و راحت اور خوشی وغم ایسی چیزیں ہیں جن سے ہر ایک شخص کو گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم افراد اور اقوام میں مذکورہ چیزوں میں تفاوت فطرت کا قانون ہے یعنی خوشی اور غم اور زندگی کے اُتار و چڑھاؤ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ہوسکتی ہے لیکن کوئی شخص ان چیزوں سے بے نیاز نہیں رکھا گیا ہے۔ تاہم اسلام اور ایمان سے مالا مال لوگ اس قانون الٰہی کو سرِتسلیم خم کرتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں مشاکل و مصائب کا سامنا کرنے کا ایک سبب انسان کے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کی طرف اللہ رب العالمین نے اشارہ دیتے ہوئے فرمایا:’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا

ابو لہبؔ۔۔۔۔

  تکبر بالاجماع ایک شیطانی صفت اور ایک گمراہ کن عمل ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا تکبر حق کو جھٹلانے اور لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا نام ہے۔ پیغمبراسلام حضرت محمدعربی ؐ پر جب یہ آیت اُتری :’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراتے رہیں ۔‘‘تو رسول اللہ ؐ وادیٔ بطحا کی طرف گئے اور وہاں موجود صفا نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے ، بآواز بلندفرمایا:’’یاصباحاہ‘‘یہ وہ الفاظ ہیں جو اہل مکہ اُس وقت پکارتے تھے جب انہیں کسی خطرے کا اندیشہ درپیش ہوتا۔ یہ آواز سنتے ہی اہل قریش پہاڑی کے نیچے جمع ہوگئے ،رسول اللہؐ نے اُن سے مخاطب ہوئے : اگر میں تم لوگوں کو بتائوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے دشمنوں کا ایک لشکر آنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا مانوگے؟لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو آپؐ سے کبھی جھوٹ کا تجربہ ہوا ہی نہی

رجب ایک محترم مہینہ

اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیااور اس میں چاند اور سورج ،رات اور دن بنائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ ـــ با برکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سورج اور روشن چاند بنایا اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسر ے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا ،اُس شخص کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزاری کرنا چاہیـ‘‘ (الفرقان62-61)یقینا اللہ تعالیٰ نے اس کو نصیحت وعبرت کی حکمت کے تحت بنایا ہے۔ یہ ایا م و مہینے دراصل آ خرت کمانے کا ذریعہ ہیںاور آخرت میں انسان کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔اگر کسی نے برائی کی ہے توبرائی دیکھے گااور جس نے بھلائی اور نیکی کی ہے وہ بھلائی اور نیکی کو پائے گا۔ان مہینوں کے تعلق سے اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ یہ 12 مہینے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’بلا شبہ مہینوں کی گنتی اللہ

گجربکروال مشکلات کے بھنور میں!

قدرتی  آفات ہوں ،موسم کے تھپیڑے ہوں ، حیوانی حملے ہوں، سرکاری اجارہ داریاں ہوں، یا پھر بے مہرانسان کی کارستانیاں، گجر بکروال طبقے نے ہر وار کو اپنے سینے پہ سہا ہے ۔ یہی ایک واحد طبقہ ہے جس نے کوہساروں ،جنگلوںاور صحراؤں کو اپنا مسکن بنایا اور ان کی شان کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی حفاظت بھی کی۔ مال مویشیوں کے چارے کی خاطر جنگلوں اور پہاڑوں کے نزدیک ان کا رہنا اُن کی مجبوری ہے۔ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ طبقہ زندگی کی بنیادی سہولیات جیسے بجلی پانی سڑک سے محروم  چلا آرہاہے ۔اس تیز رفتار دور میں جہاں آج انسان گاڑیاں کیا ،ریلیں کیا ،زندگی کی دوڑ میں تیز رفتاری کوبرقراررکھنے کے لیے ہوائی سفر کو ترجیح دیتا ہے۔ وہاں اس طبقے کے لوگ ابھی بھی کئی کئی کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد کسی گاڑی کا د یدارکر پاتے ہیں ۔بارش ہو، برف باری ہو ،آندھی ہو، طوفان ہو، یا کہ سرحد کی گولہ باری

لوک سبھا انتخابات

عام   انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ملک میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ تقریباً ساڑھے 8 کروڑ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طورپر اس بار 90؍کروڑ لوگ ووٹ ڈالیں گے جن میں 18، 19 سال کے ڈیڑھ کروڑ ووٹر پہلی مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں نے سپنوں اور وعدوں کا جال بچھانا شروع کردیا ہے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی نے دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے اپنے تمام گھوڑے کھول دئے ہیں ، وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی کو ہرانے کے لئے لنگوٹ کس لیا ہے۔ کانگریس صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ بھاجپا کی طرف سےہر جگہ نفرت پھیلائی جارہی ہے ، کانگریس نے بی جے پی کے فاشزم، نفرت وعداوت اور تفرقے کی سوچ کو شکست دینے کا اعلان کیا ہوا ہے ، اس کوشش میں ہم کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہ

اہل ِ زبان کون ہیں؟کہاں ہیں؟

 عربی کے ایک لفظ العین کے 100 معانی ہیں۔ عربی بلاشبہ ایسی زبان ہے جس میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہوتے ہیں، تاہم اس میں بھی غیر عربی یا عجمی الفاظ شامل ہیں اور یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ جن زبانوں میں انجذاب کی صلاحیت ہوتی ہے وہی زندہ رہتی اور آگے بڑھتی ہیں۔عربی زبان میں غیر عربی الفاظ کے موضوع پر ماہرین ِلسانیات نے بھرپور توجہ دی ہے۔ عربی زبان کے کئی مولفین نے ان الفاظ کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے جو درحقیقت بنیادی طور پر غیر عربی ہیں اور عربی زبان میں داخل ہوکر دخیل یا معرب الفاظ کہلاتے ہیں (معرب میں ’را‘ بالکسر ہے، اس پر زبر لگانے سے مطلب بدل جائے گا)۔ ایسے الفاظ قرآن کریم، احادیثِ مبارکہ، دور جاہلیت کی شاعری یا ظہورِ اسلام کے بعد کی ادبی کاوشوں اور تصنیفات میں وارد ہوئے ہیں۔ یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ ماہر لسانیات ابومنصور الجوالیقی (اصل نام موہوب بن احمد بن محمد 465 تا

شہدائے نیوزی لینڈ

 نیوزی  لینڈ میں گزشتہ جمعہ پیش آئے کربلا کا صدمہ اب بھی ہمارے دلوں میں درد کی ٹیسیں اٹھارہاہے ۔ اس روز دنیا نے دیکھا کہ اُمت اسلامیہ کس کس عنوان سے مظلومیت کی مار رکھارہی ہے اور اس روز ایک بے ضمیر ، بد دماغ سفیدفام خونی عیسائی دہشت گردنے مغرب کا یہ سارا بھانڈا چوراہے پر پھوڑا کہ کلمہ خوانوں کے تئیں اس کی خصوصی نفرت و عناد کی آگ صلیبی جنگ کی زخمی نفسیات کی بھٹی میں تپ رہی ہے ۔ کرائسٹ چرج اور لین وڈ کی مساجد میںخون خوار عیسائی قاتل نے جو کچھ کیا وہ الل ٹپ نہ ہو ابلکہ یہ ایک سوچا سمجھا مسلم بیزار عالمی مشن ہے جسے یہود ونصاریٰ، مشرکین ومنافقین کی تائیدو حمایت حاصل ہے ۔ یہ سیہ کارانہ مشن بالفعل وہی ہے جو کبھی ہٹلر کا من پسند مشغلہ رہا ، کبھی جارج بش اور اوبامہ نے اسے عراق وافغان اور شام میں اپنایا اور اب ٹرمپ کی سیاست اک لب لباب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مغرب کا یہ قاتلانہ گورکھ دھ

ایک متوازن دنیا کی تعمیر

کارل  مارکس نے کہا ہے:’’خواتین کی بہبودو بقا کے بغیر کوئی بھی بڑی سماجی تبدیلی ناممکن ہے۔ سماجی ترقی کی سطح کو خواتین کی سماجی حیثیت دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘ بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر نے کہاہے:’’سیاسی اقتدار ہی ساری سماجی ترقی کا ضامن ہے۔‘‘ آج جب خواتین ہر شعبے میں مردوں سے کندھا سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں، پھر بھی، گھر ہو یا کام کی جگہ، صنفی تعصبات و امتیازات کے مسائل مسلسل بنے ہوئے ہیں۔سیاست میں ابھی بھی، لازمی طریقے سے، مردوں کی اجارہ داری بنی ہوئی ہے۔ سیاسی قیادت میں تو خواتین کی حالت اور بھی ناگفتہ بہ ہے۔ سیاسی قیادت میں کتنی حصہ داری ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے لوک سبھا میں خواتین کی شرکت کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سال 1992ء میں ہندوستان کی پارلیمنٹ میں کل 499؍ سیٹوں یا نشستوں میںسے 22یعنی 4.4 فیصد س

قربانی!

میٹرک   کا سالانہ رزلٹ آیا تو عمر اکبر انگریزی کے پرچے میں فیل ہوگیا اور اُس کی بہن شہزادی بورڈ میں تیسری پوزیشن لے کر پاس ہوگئی تھی ۔عمر اکبر کے والدین شہزادی کی اعلیٰ پوزیشن پر خوش تھے لیکن عمر اکبر کے فیل ہونے پر حیران تھے۔ اس لے دے کہ عمراکبر انگریزی میں اپنی بہن کی نسبت بہت قابل تھا ۔ رزلٹ آنے پر شہزادی اپنے اعلیٰ پوزیشن پر اپنی خوشی بھول گئی۔ عمراکبر دکان سے گھر آیا تو شہزادی اُس سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگی ۔ عمر اکبر نے بہن کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا روتی کیوں ہے پگلی ۔میں توتیرے لےلئے پریشان تھا کہ توانگریزی میں بہت کمزور ہے ، اگر تمہارے نمبر کم آئے تو میڈیکل میں داخلہ کیسے لے سکو گی ؟اسی پریشانی کے عالم میں اپنا پرچہ حل نہ کر سکا لیکن مجھے خوشی ہے کہ توڈاکٹربنے گی ۔والدین بھائی بہن کے درمیان محبت بھرے جملے سنتے رہے ،دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے عمر اکبر کیلئے والدی

اُردو کی خستہ حالی!

 ملائم  سنگھ یادو روایت پسندی کا علمبردار رہے ہیں۔اپنے معاصرین میں کہنہ مشق اور چالاک سیاست دان مانے جاتے ہیں ۔ آپ کویہ خصوصی امتیاز حا صل رہا ہے کہ آپ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اُترپردیش کے تین بار وزیر اعلیٰ رہے ہیںاور چوتھی باروزیر اعلیٰ کی کرسی انہوں نے اپنے بیٹے کو منتقل کردی۔ملائم سنگھ یاد و اب اپنے کسی خاص مفاد کے حصول کو مدنظر رکھے بغیر شاذو نادر ہی بیان بازی کر تے ہیںیا کوئی سیاسی فیصلہ لیتے ہیں۔ البتہ ہندی زبان کے ساتھ ازخود واررفتگی اور انگریزی زبان کے تئیں بغض و عناد کا وقتاً فو قتاً اظہار کرناملائم جی کا محبوب مشغلہ رہا ہے ۔موصوف کا یہ رویہ ا کثر جنوبی ہند کی ریاستوں اور ہاں کے عوام کے ساتھ دست و گریبان ہونے کے مترادف ہے۔ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھو لنا چاہئے کہ ما ضی ٔ قریب میں ہی ہندی زبان کوتامل لو گوں پر مسلط کرنے کے اقدام سے تامل عوام بدک اُٹھے تھے اور بھارت س

بی بی سی کا وقار چلا گیا

’’ الفاظ  کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے ، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے ۔۔ ۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘ ۔ یہ ہیں فیض احمد فیض ؔکی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی ۔ میں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار کی دسترس کا مالک ۔پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘ ۔ بدھ کی شام اس سانحے پر میرے تاثرات نشر کرنے کے لیے شفیع نقی جامعی نے لندن سے کال کی تو میں بخار میں مبتلا تھا ، سو چند لمحوں کے لیے میری آزمائش ٹل گئی ، لیکن رات بھیگنے کی دیر تھی کہ  &nb

کشمیر ارضیاتی سیاست کا اکھاڑہ

ویتنامجنگ کے بعد امریکی ماہرین نے پیشن گوئی کی تھی کہ اب کے بعد دنیا میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف چھوٹی اور بالواسطہ جنگیں لڑیں گی، کیونکہ براہ راست جنگ سے علاقائی اور عسکری اہداف حاصل نہیں ہوتے اورجو بدنامی ہوتی ہے وہ الگ۔ ایسا ہوا بھی، امریکہ اور رُوس نے ایک دوسرے کے خلاف افغانستان میں دس سالہ جنگ سعودی عرب اور پاکستان کی حمایت سے مجاہدین کے ذریعہ لڑی تھی۔ لیکن 2001میں ٹوِن ٹاورز پر حملوں کے بعدپھر ایک بار افغان ریگزاروں میںامریکہ نے خود کو پھنسا دیا۔  ویتنام جنگ کے وقت جواحساس پینٹاگون میں غالب تھا وہی گزشتہ برس سے ایک بار پھر امریکی پالیسی سازوںکی نیندیں حرام کررہا ہے۔ اسی پس منظر میں افغانستان امن عمل ترتیب پارہا ہے، اور اس عمل میں پاکستان کی مرکزیت اُبھر کرسامنے آرہی ہے۔ پاکستان کی اسی ضرورت کے پیش نظر فروری کے مہینے میں عالمی اقتصادی اداروں میںپاکستان کے لئے 12ارب

نیوزی لینڈ کا دہشت گرد انہ حملہ

یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کی مساجد میں نمازوں کے اوقات کے دوران وہاں کے مرد و زن مساجد کا پہرہ دے رہے ہیں۔یہ گویا ایک پیغام ہے کہ ان ممالک میں مسلمانوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور مذہبی بنیاد پر نفرت یا تفرقے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس سانحہ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جننڈا آرڈرنی کے ردعمل کو بھی سراہا جا رہا ہے، جو سیاہ لباس اور دوپٹہ پہن کر مسلمان کمیونٹی کے پاس گئیں اور دلی دُکھ و تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے سب سے اہم پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا کہ وہ مسلمانوں کو اپنا سمجھیں اور انہیں تحفظ کا احساس دلائیں۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ نے مغرب کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے ،صرف حکومت ہی نہیں، عوام کی سطح پر ایک بدلا ہوا بیانیہ نظر ا

برطانیہ کا یورپین یونین سے اخراج!

 برطانوی   وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کی ڈیل کو پارلیمانی اراکین نے دوسری بار مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاہدے کیلئےاپنائے گئے لائحہ عمل پر مزید ابہام پیداہوگیاہے۔ 12جنوری کے بعد ایوان میں اراکین نے منگل کو اس معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب اراکین پارلیمان اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے کہ کیا برطانیہ کو معاہدے کے بغیر ہی 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جاناچاہیے اوراگراس میں بھی ناکامی ہوئی توپھر سوال یہ ہو گا کہ کیا بریگزیٹ کو التوا میں ڈال دیا جائے۔ بریگزٹ ڈیل پراراکینِ پارلیمان کی ووٹنگ سے پہلے برطانوی وزیرِاعظم ٹریزامے نے کہاکہ وہ اس ڈیل پر’’ لازمی قانونی‘‘ تبدیلیوں کے حصول میں کامیاب رہی ہیں ۔ تاہم یورپی کمیشن کے صدر ژان کلاؤڈ جنکر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس ڈیل کو ووٹنگ

پارلیمانی ؍ اسمبلی الیکشن بیک وقت نہیں۔۔۔ کیوں؟

 یا خوف سے در گزریں یا جان سے گزر جائیں  مرنا کہ جینا ہے، اک بات ٹھہر جائے گیارہ اپریل سے شروع ہونے والے پارلیمانی الیکشن ۲۰۱۹ء کا شیڈول جاری کیا گیا ہے ۔ انتخابی عمل ۲۳؍ مئی کو نتیجہ سامنے آنے کے دن تک جاری رہے گا، لیکن ’’سیکورٹی وجوہات‘‘ کو لے کر الیکشن کمیشن آف ا نڈیا جموں کشمیر کے عوام کو اسمبلی چنائو کا شیڈول دینے سے فی الحال گر یز اں ہے۔ بالفاظ دیگر یو ں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر کو دیش سے اور بھی زیادہ دور کردیا گیا ہے ۔ اس بارہ میں کوئی کشمیر ی زبان کھولنے والی کی بھول کر ے تو اُسے بی جے پی کے کرم فرما اور بھی گلا پھاڑ پھاڑ کر دیش ورودہی قرار دیں گے ، پھر دیش بھر میں جہاں کہیں کوئی بچا کھچا کشمیری نظر آئے، بے چارے کے ساتھ وہی کچھ ہوسکتا ہے جو حال ہی میں لکھنومیں ایک کم نصیب کشمیری خوانچہ فروش کے ساتھ کسی زعفرانی سینا نے کیا ۔ یہ مار