تازہ ترین

استنبول : امر یکہ سے پنگا لینے کی سزا

ترکی اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی و معاشی جنگ اور اس کے نتیجہ میں ترکی کی معیشت میں آئے بھونچال نے بہت سے لوگوں کو فکر مند کردیا ہے۔ لیکن معاشیات کے طلبہ کے لئے یہ ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ اس بحران کے حقیقی اسباب ، ترکی اور امریکہ کے پیش نظر حقیقی اور طویل المیعاد معاشی و مالیاتی مقاصد اور بحران کے شارٹ ٹرم اثرات سے قطع نظر، اس کے ممکنہ لانگ ٹرم اثرات پر غور بہت سے چشم کشا حقائق سامنے لاتا ہے اور خصوصاً ترکی کی حکومت اس بحران سے جس طریقہ سے نپٹنے کی کوشش کررہی ہے، وہ نہایت امید افزا ہے۔ اس پورے بحران کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ حقیقت معلوم ہونی چاہیے کہ گذشتہ چالیس پچاس برسوں میں امریکہ نے ساری دنیا میں اپنی چودھراہٹ کے تسلط کے لئے جن ہتھیاروں کا استعمال کیا، اُن میں سب سے کارگر ہتھیار ڈالر کا ہتھیار تھا۔ بریٹن ووڈ معاہدہ کے تحت پہلے ہی ڈالر کو ایک خصوصی مقام حاصل ہوگیا تھا۔ س

قوم کا معمار

حال ہی میں یو م اساتذہ کے موقع پر ٹیچروں کو سرمائی اور گرمائی راجدھانیوں میں میں یوم ِ اساتذہ کو بوجوہ ’’یوم ِ سیاہ‘‘ مناتے ہوئے دیکھنا انتہائی شرم کی بات ہے ۔ ا س روزہزاروں خواتین ومرداساتذہ نے سڑکوں پر آکرشدید احتجاج اور سینہ کوبی سے اپنے حل طلب مسائل کے حوالے سے انصاف مانگا۔اساتذہ کو کسی بھی قوم اورمعاشرے کا معمار سمجھا جاتاہے اور اساتذہ کے دم سے ہی کسی قوم اور ملک کا مستقبل بنتابگڑتا ہے ۔ چونکہ اساتذہ ہی فرداور سماج کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں، اس لیے ہر معاشرے میں ان کا کردار اہم ہوتا ہے ۔استاد کو دین ِ اسلام میں بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے لیکن ہماری ریاست جموں و کشمیر میں اساتذہ حکام بالا کے ہاتھ میں ایک کھلونے سے زیاد ہ اہمیت رکھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُستاد اپنی مانگیں منوانے کے لئے اب کلاس رومز میں کم اور سڑکوں چوک چوراہوں پر زیادہ نظر آتے ہیں۔علم کے نور سے منور

درندگی

یہ بات ماشا ء اللہ آپ کے مشاہدے میں اور نظروں کے بالکل سامنے بھی ہوسکتی ہے ،میں صرف یاد دہانی یا بہ الفاظ دیگر اعادہ کرنے کی کوشش کروں گا ۔مان لیجئے ایک خوشحال کھاتے پیتے گھرانے میں یا ایک عام سے گھرانے میں ایک دُلہن آتی ہے اور پہلی شادی کے کچھ عرصہ کے بعد ہی گھر کے دوسرے لڑکے کی بھی بات ٹھہرتی ہے تو دوسری نئی نویلی دلہن گھر میں رونق افروز ہوجاتی ہے ۔اُن دونوں دلہنوں یا دیورانیوں کی آپس میں خوب گاڑھی چھنتی ہے ۔سمجھ داری ،بہنا پا اور اُس پیار کے ماحول میں گھر میں بھی اُنس و الفت کے منجیرے بج اٹھتے ہیںاور آپسی برابری ،سوجھ بوجھ ،اعتماد اور تعاون کے اُس سازگار فضا میں والہانہ اپنائیت اور درد مندی کے گلشن کھِل اٹھتے ہیں اور بزرگوں ،گھر کے بڑوں کے دلوں سے یہی آرزویں اُمڈ تی ہیں، بقول شاعرمصحف اقبالؔ   ـ؎ سرسبز چمن میرا اے باد صبا رکھنا  ہر پھول کھلا رکھنا ہر پات

کرنل سید علی احمد شاہ

پاکستان  کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میر پور شہر کے چوک شہیداں کے عقب اور سادات کالونی کے خاموش اور پر سکون مکان میں خوبصورت نورانی شکل و شباہت کے ایک بزرگ لمبے عرصہ سے صاحب ِفراش اور گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔میرے قیام میر پور (۱۹۸۲  ء تا۱۹۸۶ ء )کے دوران احباب کی مجالس میں اکثران کا تذکرہ بڑے احترام سے سننے کا موقع ملتا تھا،جب کسی مجلس میں ان کا تذکرہ آتا تو سب لوگ سنجیدہ ہو کر ان کی قصیدہ خوانی کرتے اور ’’آزاد کشمیر ‘‘کے اس وقت کے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتے ،اس بزرگ کی سیرت اور کردار کے حوالے سے میر پور کے دوستوں و بزرگوں کی باتیں سن سن کر میر پور کے خوشحال مادہ پرست ماحول میں اس وقت یہ ایک عجوبہ سا لگتا تھا ،تاہم اس شخص کے تذکرے اور حیرت انگیز کردار کی باتیں سن کر میں نے انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی ٹھان لی اور ایک دن

عرب ریاستیں

ہر  تھوڑے دن بعد رات میں آگ برساتا ہوا دھماکا خیز راکٹ سعودی عرب میں آسمان پر نمودار ہو کر یمن کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ یہ میزائل حوثی ملیشیا کی طرف سے داغے جاتے ہیں، جنہیں ۲۰۱۵ء میں یمن میں نظامِ حکومت سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہ میزائل ایک بے ضرر شئے کی طرح سعودی صحر امیں جاگرتے ہیں، لیکن تین سال گزرنے کے بعد ان کا ملبہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ شاید حوثی ناقابل شکست ہیں۔ ان میزائلوں کی رفتار اور حدود بڑھ چکی ہیں اور اب یہ سعودی شہر ریاض تک میں اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ حالیہ دنوںریاض میں سعودی حکام نے فوجیوں کوایک تقریب میں مختصراً ان میزائلوں کے ملبے کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ ’’قیام‘‘ میزائل کا ملبہ ہے، اس کے ٹکڑوں میں جگہ جگہ ویلڈنگ کے نشان موجود ہیں، جو ٹکڑوں کے کاٹے اور جوڑے جانے کو ظاہر کرتا ہے اور اس پر واضح طور پر’’شاہد بخاری صنعتی گروپ&l