تازہ ترین

دفعہ ۳۵؍ الف

ہند کے دفعہ ۳۵ ؍الف کا معرکہ جموں کشمیر ریاست کے عوام کی آئینی جدوجہد کا محض ایک جز ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں ۳۵ ؍الف اور ۳۷۰؍ کی مثل پر پہلے بھی کئی بار تاریخیں لگ چکی ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ ریاستی عوام کے حق میں ہی فیصلہ سنایا گیا تھا۔ اس سال کے اوائل میں بھی، آنریبل سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ آئین ہند کی دفعہ ۳۷۰؍ کو مستقل حیثیت حاصل ہے۔ اس وجہ سے ۳۵ ؍۱لف کو ہٹانا ناممکن ہوسکتا ہے لیکن عدالت عظمیٰ میں پھر بھی نئی عرضیوں پر کارئوائی جاری رکھی گئی ہے اور تاریخ پیشی کو کئی بار التوا ء میں ڈالنے کے بعد اب اس کیس کی شنوائی اگلے برس جنوری میںطے ہے۔ اس بارتاریخ تبدیلی کا سبب جموں کشمیر میں مجوزہ  پنچایتی انتخابات کی عمل آوری مانا گیا ہے۔ حا لانکہ پنچائت الیکشن کی ثانوی حیثیت ہوتی ہے،تاہم اگر ریاستی سرکار نئے سرے سے اسمبلی الیکشن کے انعقاد کو تاریخ پیشی ٹالنے کی وجہ بتاتی

واجپائی کے شخصی اوصاف

ہندوستانی  سیاست کے ایک اہم ستون اٹل بہاری واجپائی جن کا گزشتہ16 اگست کو انتقال ہوگیا، کے متعلق آج کل بہت سی باتیں لکھی اور کہی جارہی ہیں۔ واجپائی اپنی بہت سی باتوں اور عادتوں کی بنا پر ہندوستانی سیاست دانوں میں ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں ۔ ان کے مداحوں اور مخالفین نے انھیں الگ الگ زاویۂ نظر سے دیکھا لیکن سب سے زیادہ خود انہی کی پارٹی والوں نے جو ان کی تعریف اور مخالفت میں کلمات ادا کیے اُن کے کسی دشمن نے بھی اس کی جرأت نہیں کی۔ ان میں بی جے پی کے ایسے لیڈران شامل ہیں جو آج بھی اعلیٰ حکومتی عہدوں پر سرفراز ہیں، کچھ تو آئینی منصب پر بیٹھے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف نازیبا جملوں کا استعمال ایک بار نہیں بلکہ بار بار کیا لیکن بی جے پی ان کے خلاف کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکی جس کے خوف سے پھر کوئی اپنے کسی سینئر لیڈرکی دھجیاں نہ اڑا سکے ۔ وجہ ظاہر ہے کہ پارٹی کی سرپرست آر ایس ایس کی مر

پنچایتی و میونسپل انتخابات پر غیر یقینیت کے سائے

ستمبر  کی تیسری تاریخ تھی اور سوموار کا دن تھا ۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے مشترکہ آپریشن کے تحت اٹھارہ سے زیادہ دیہات کو بیک وقت محاصرے میں لیا گیا اور جنگجوئوں کا سراغ پانے کیلئے گھر گھر تلاشیاں شروع کی گئیں ۔ اس قدر وسیع محاصرہ غالباً اس نئی حکمت عملی کا تجربہ تھا کہ جنگجو مخالف آپریشن میں عوامی مداخلت کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔کسی ایک جگہ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ہوسکتی تھی لیکن اٹھارہ دیہات کومحاصرے میں لیکر اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ نوجوانوں کو گھروں سے باہر آنے کا کوئی موقع نہ مل سکے لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے باوجود بھی جگہ جگہ نوجوانوں نے نہ صرف گھروںسے باہر آنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ مختلف ٹولیوںمیں اکٹھے بھی ہوئے اور حسب سابقہ مظاہرے اور پتھرائو بھی کرنے لگے۔ پھر اتھل پتھل کی وہی صورتحال پیدا ہوئی جس میں جنگجوئوں

صبغے اینڈ سنز ۔۔۔آخری قسط

 حساس آدمی تھے ،اس پر بدقسمتی یہ کہ ایک ناکام کتب فروش کی حیثیت سے انہیں انسانوں کی فطرت کا بہت قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع ملا،اسی لئے بہت جلد انسانیت سے مایوس ہوگئے ۔انہوں نے تمام عمر تکلیفیں ہی تکلیفیں اٹھائیں ۔شاید اسی وجہ سے انہیں یقین ہوچلا تھا کہ وہ حق پر ہیں ۔زندگی سے کب کے بیزار ہوچکے تھے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا تھا گویا اب محض اپنے قرض خواہوں کی تالیف قلوب کے لیے جی رہے ہیں ۔اب ہم ذیل میں وہ تاثرات و تعصبات مختصر اً بیان کرتے ہیں جو اُن کی چالیس سالہ ناتجربہ کاری کا نچوڑ ہیں۔ دوکان کھولنے سے چار پانچ مہینے پہلے ایک ادبی خیر سگالی وفد (ادارہ برائے ترقی انجمن پسند مصنفین) کے ساتھ سیلون ہو آئے تھے ،جسے حاسد لنکا کے نام سے یاد کرتے تھے ۔اس جزیرے کی سہ روزہ سیاحت کے بعد اٹھتے بیٹھتے ’’ترقی یافتہ ممالک‘‘کی ادب نوازی و علم دوستی کے چرچے رہنے ل

کتب بینی!

 مطالعہعربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ توجہ، دھیان اور غور کرنے کے ہیں۔ عام طور پر کتاب پڑھنے اور کتاب سے معلومات اخذ کرنے کے عمل کو مطالعہ کہاجاتا ہے مگر مطالعہ صرف معلومات میں اضافے کا نام نہیں ہے بلکہ مطالعہ ایک ایسا منفرد عمل ہے جو ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہ میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی بخشتا ہے۔ مطالعہ نہ صرف فکری تربیت میں معاون ہوتا ہے بلکہ گفتگو میں پختگی، یقین میں اضافے اور شخصیت میں اعتماد کا باعث بھی بنتا ہے۔ مطالعہ انسان کا امتیاز ہی نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ معاشرے کی صحیح اخلاقی تعمیر و ترقی کے فریضہ کے لیے مطالعۂ کتب ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا مطالعہ ایک اہم سماجی ضرورت ہے۔ صحافی اور قلم کار حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ ایک شہسوار قلم کے لیے مطالعہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کی بقاء کے لئے دانا اور پانی کی ضرورت ہے۔