تازہ ترین

آہ مسکان

اوڑی   بارہمولہ میں دس سال کی معصوم بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور پھر قتل کی دلدوز واردات کا خلاصہ ہوجانے کے بعد ریاست بھر میں سنسنی پھیل چکی ہے۔ یہ کوئی معمولی جرم نہیں ہے بلکہ پولیس نے جو روداد بیان کی ہے اُس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کہانی کی جو دردناک پرتیں تادم تحریر کھل گئیں ،اُن کے مطابق معصوم لڑکی مسکان کو اپنی سوتیلی ماں بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ جنگل میں لے جاتی ہے، پھر وہاں اپنے بیٹے یعنی اس لڑکی کے سوتیلے بھائی کو بلاتی ہے، وہ اپنے ساتھ چار درندہ صفت دوسرے افراد کو لے کر آتا ہے، پھر یہ وحشی درندے اس معصوم لڑکی کے جسم کوجانوروں کی طرح نوچ لیتے ہیں، ظالم سوتیلی ماں اس شیطانی عمل کا نہ صرف مشاہدہ کرتی ہے بلکہ اپنی سوتن کے بیٹی کے ساتھ یہ ظلم عظیم ہوتے ہوئے اُس کے اذیت پسند وحشی دل کو تسکین بھی حاصل ہوجاتی ہے، اپنی ہوس کی آگ بجھانے کے لیے یہ وحشی جانور اُس پھول جیسی

دراس میں ادبی تقریب اور مشاعرے کا انعقاد

دُنیا کے دوسرے سرد ترین علاقے دراس میں2 ستمبر کوپہلی بار ایک شاندار ادبی تقریب اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس سے یہاں علم وادب کی تپش وحرارت نے فضا کو مسحور کر کے رکھ دیا ۔اس تقریب میں نامور شاعروں ، ادیبوں اور باذوق سامعین نے گرم جوشانہ شرکت کر کے ادب نوازوں کے حوصلے بلند کئے ۔ یہ ادبی تقریب ڈاک بنگلہ دراس کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی ۔ اس کا اہتمام وانصرام ادارۂ علم نما دراس نے کیا تھا۔ تقریب کی صدارت خطہ لداخ کے نامور شاعر و ادیب جناب کاچو اسفندیار خان فریدونؔ صاحب نے کی ۔ تقریب میں شریک مہمانانِ گرامی نے اس کی رونقیں دوبالا کیں ۔ جن مشہور شاعروں ، قلم کاروں اور افسانہ نگار پر مشتمل کہکشاں مجلس میں شرکت کی،ان میں ڈاکٹر ریاض توحیدی، اے سی ڈی کرگل برکت علی نظامی ، ایڈیٹرنیوز 18راجیش رینہ ، ڈاکٹر راشد عزیز، تحریک ادب کے مدیر جاوید انور ، تعمیل ارشاد کے ناظم نذیر، ریاض رُبانی کشمیری بطور

سکون قلب چاہیے تو کیا کریں

سکون ِقلب کی طلب دنیا ئے فانی میں ہر کسی کو ہے مگر یہ نایاب دولت بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ کچھ لوگ بظاہر نہایت راحت و آسائش والے معلوم ہوتے ہیں ، مگر ان کی اندرونی دنیا پریشانیوں کا نشانہ  ہوتی ہے ۔ ویسے بھی دنیا ہے ہی ایسی کہ ایک آرزو ختم نہیں ہوتی کہ دوسری شروع ہوجاتی ہے ۔ موجودہ زمانے میں آپ کو ہر آدمی کودل کے سکون واطمینان سے خالی پائیں گے ۔ حالانکہ آج ہمارے پاس وہ تمام آسائشیں ہیں جن سے ہمارے اسلاف محروم تھے، مگروہ ہمارے مقابلے میں وہ زیادہ پر سکون تھے۔ کہتے ہیں کہ آبِ حیات بحر ظلمات میں پایا جاتا ہے ۔ یورپ عالم ظلمات تو ہے لیکن اس میں آبِ حیات نہیں ، وجہ یہ کہ وہاں لوگوں کی توجہ لوہے ، جمادات اور برق و بخارات پر مرکوز ہیں ۔ انہوں نے پرندوں کی طرح اُڑنا اور مچھلیوں کی طرح تیرنا سیکھ تو لیا لیکن زمین پر انسانوں کی طرح رہنا نہیں سیکھا ۔ ابن آدم نے اپنے سکون وآرام کے لئ

صبغے اینڈ سنز

ہر  چند کہ ان کا روئے سخن اپنی ہی طرف تھالیکن ایک دوسرے صاحب نے (جو خیر سے صاحب دیوان تھے اور روزانہ اپنے دیوان کی بکری کا حال پوچھنے آتے اور اردو کے مستقبل سے مایوس ہوکر لوٹتے تھے) خود کو اس اسامی کے لئے پیش ہی نہیں کیا بلکہ شام کو اپنے گھر واپس جانے سے بھی انکار کردیا ۔یہی صاحب دوسرے دن خزانچی جی کہلائے جانے لگے۔صورت سے سزا یافتہ معلوم ہوتے تھے اور اگر واقعی سزا یافتہ نہیں تھے تو یہ پولیس کی عین فرض ناشناسی تھی۔بہر حال یہاں ان کی ذات سے خیانت مجرمانہ کا کوئی خدشہ نہ تھا کیونکہ دوکان کی ساری بکری مدتوں سے اُدھار پر ہورہی تھی ۔یوں تو دوکان میں پہلے دن سے ہی ’’آج نقد کل ادھار‘‘کی ایک چھوڑتین تین تختیاں لگی تھیں مگر ہم دیکھتے چلے آرہے تھے کہ وہ کل کا کام آج ہی کر ڈالنے کے قائل ہیں،پھر یہ کہ قرض پر کتابیں بیچنے پر ہی اکتفا کرتے تو صبر آجاتالیکن آخر میں ی

ریاست کی آئینی شناخت داؤپر؟

آرٹیکل  ( اے)35کا دفاع اور تحفظ ریاست جموں وکشمیر کے ہر ذی شعور اور دور اندیش کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ ا س کاہر حال میں دفاع کیا جائے، کسی کو بھی ریاست کی وحدت انفرادیت اور اجتماعیت کو پارہ پارہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس آرٹیکل سے ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کو ملک کی دوسری ریاستوں میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ خصوصی درجہ حاصل ہے بلکہ کوئی بھی بیرون ریاست کا شہری ریاست میں نہ توجائیداد خریدسکتا ہے اور نہ ہی یہاں کاشہری بن سکتا ہے ۔ریاست کے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ آرٹیکل(A)35کے ساتھ کسی کو بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت قطعاًنہ دیں ۔ مقام شکر ہے کہ پوری قوم آرٹیکل(اے)35کے بارے میں متحد ومنظم ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔ چند مٹھی بھر سر پھرے لوگ اس خصوصی آرٹیکل کو زک پہنچاکر ریاست کے خصوصی درجے کو ختم کرنے کے جوکھلی آنکھوں کے خواب دیکھ رہے ہیں ،انہیں کسی صورت