تازہ ترین

کرونا وائرس: دنیا جرثوموں کی زد میں!

دنیا لرزہ بر اندام ہے اور کائنات کے ہر گوشہ ٔ زمین میں رہنے والی انسانی مخلوق دہشت زدہ ، کروناوائرس نے اودھم مچا کے رکھدی ہے۔ ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور اَن گنت تشخیصی عمل سے گذرتے ہوئے بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ کہیں اِن کے خون کے نمونوں کی جانچ انہیں بھی وائرس زدہ بتلاکر وادی ٔ موت میں جانے کا پیغام نہ سنادے۔ ماضی میں ڈینگی کانگو، ننگلیریا نے ہاہا کار مچادی تھی اور اب ’’کرونا‘‘ زور آزمائی کرتے ہوئے ہر انسانی بدن پر لرزہ طاری کئے ہوئے ہے۔ دیکھا جائے تو پہلے پہل ان ہلاکت خیز وباؤں کے مراکز غریب ، پسماندہ، اقتصادی لحاظ سے کمزور اور طبی سہولیات سے محروم ممالک رہا کرتے تھے لیکن اسے کیا کہیے کہ اب کے ’’کرونا ‘‘نے مادی لحاظ سے مستحکم ملک چین میں ڈیرے ڈال دئے اور پھراٹلی اور ایران میں اپنے پنجے گاڑھ کر سبھی کو ہیبت زدہ کرکے رکھ

انسان اپنے رب سے رجوع کرے

 کرونا وایرس کی ناگہانی بیماری نے اب ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ہر سُو خوف و دہشت چھایا ہوا ہے۔ ہر چہرے پر سوالیہ نشان اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔آسمانی فیصلوں کے سامنے آج سا?ینس و ٹیکنالوجی کا غرور حرفِ افسوس کی تسبیح میں محو عمل ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی بے بسی اور کمزوری کی حقیقت سر عام ظاہر ہورہی ہے۔ ڈر اورخوف کا ماحول ابن آدم پراس قدر طاری ہے کہ وہ اپنی پرچھا?یوں سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ جس ملک اور جس شہر کو دیکھو، لاچاری کی درد بھری آہوں سے پکار رہاہے کہ فضا میں یہ کیسا جنون ہے۔ وہ لوگ جو ہر بات کو سائنس کے ترازو میں تولتے تھے یا وہ لوگ جو ہر طوفان کو مٹھی میں قید کرنا جانتے تھے، آج ان کے ہونٹ مقفل اور چہروں پر لاچاری کی داستان عیاں ہے۔یہ ہمارے ان خطا?ؤں کا پھل ہے جو اس دن ہم نے کتاب زندگی میں رقمطراز کردئے تھے جب ہم نے اپنے سے کم طاق

اللہ کاعذاب کب اور کیوں آتا ہے؟

’’ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ، اے برادران قوم!اللہ کی بندگی کرو اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میںتمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ (اعراف:۵۹)’’آخر کاراُن لوگوں نے کہا کہ اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔اب تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔نوح نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی لائے گا اگر چاہے گا اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اُسے روک دو۔‘‘ (ہود: ۳۲ /۳۳ ) ’’نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔یہ سارے کے سارے اب ڈوب

اسلام اور مغرب کے مابین تصورِ آزادی

فکری یلغار اور نظریاتی جنگ وہ ہے جو آلاتِ حرب توپ، میزائیل ، ٹینک ، گولے بارود کے بجائے دیگر ایسے ذرائع سے لڑی جاتی ہے۔ غیر معمولی منصوبہ بند اور انتہائی منظم طریقے سے اقوام و ملل کی ذہنیت، تعلیم و تربیت معاشرت و معیشت، تہذیب و تمدن اور خیالات و نظریات تبدیل کیے جاتے ہیں، گویا یہ وہ کارزار ہے جس میں انسان کے جسم کے بجائے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا ہے، جس کے اثرات صدیوں جاری رہتے ہیں، نسل در نسل تقویت کے ساتھ فروغ پاتے رہتے ہیں، دل دماغ، انداز فکر و نظر، یکسر تبدیلی کا شکار ہوکر ارتداد کی لہروں میں گم ہوجاتے ہیں۔ جن افکار میں معصیت کو خوشنما اور دلفریب بناکر پیش کیا جاتا ہے، طبیعتوں کو ہرقیدوبندش سے فرد کو ہر ذمہ داری اور جوابدہی سے آزاد باور کروایا جاتا ہے۔ چنانچہ مغربی افکار میں تو مطلق آزادی اور بے قیدی کی کھلی تبلیغ کو فروغ دیا گیا۔ زندگی سے پورے تمتع، مطالبات نفس کی پوری تک

اغیار کی نقالی !!

تہذیبوں کی آویزش ،ثقافتوں کاٹکراؤاور روایتوں کا تصادم کوئی انوکھی بات نہیں۔روزاول سے یہ سلسلہ بام عروج پرہےاور تاقیامت جاری رہےگا ۔ بالخصوص اسلامی تہذیب کوہرزمانے میں نت نئے چیلنجز درپیش ہوئے۔صلیبیوں،یہودیوں اور تاتاریوں کے ہاتھوں متعددمرتبہ اسلامی تمدن و حضارت پرشب خون مارنےاورچوطرفہ یلغار کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیںمگرہربار یا تو اسلام کےمتوالے اپنی تہذیب کے آگے سدسکندری بن کر کھڑے ہوگئےیا پھرکعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں میسر آتے رہے ۔اس وقت بھی اسلامیان برصغیر کے لیے ہندوانہ تہذیب،کشمکش کا ایک ایسا دوراہا ہے،جہاں آکرعوام کی اکثریت قلادۂ اسلام گلوں سے نکال پھینکتی ہےاور اغیار کی نقالی کو قابل فخر کارنامہ سمجھنےلگتی ہے۔کتاب وسنت کی اصطلاح میں اسی کو تشبہ کہاجاتاہےیعنی اپنی ہیئت و وضع تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع قطع اختیار کرلینا،اپنے تہذیبی ورثہ سے دست کش ہوکر دوسروں کی روایات کو

احتیاطی تدابیر کیساتھ رجوع الی اللہ بھی ضروری!

یہ زلزلے، طوفان ،آندھیاں ،آسمانی آفتیں و مصیبتیں اور وبائی امراض کی ہلاکت خیزیوں کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں مگر حقیقی اور اہم سبب انسانوں کےنیک و بد اعمال ہی ہیں کیونکہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب انسان روئے زمین پر شترِ بے مہار کی طرح انسانی حدود وقیود سے آزاد ہوکر ،احکام خداوندی وسنت نبوی سے بغاوت کرکے نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہےاور فحاشی وعریانیت کا بازار گرم ہوجاتاہے، تو اس قوم پراللہ کا عذاب اس طرح مسلط ہوتا ہے کہ اس کی وجوہات وحل اور ان بیماریوں کے ادویات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن سا معلوم ہونے لگتا ہے۔وقت کی سپر پاور طاقتیں اور ان کی ٹکنالوجی بھی فیل ہوجاتی ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے،،فاتاھم العذاب من حدیث لایشعرون ،فاذاقھم اللہ الخزی فی الحیاۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اکبر(ترجمہ )’’تو ان پر اللہ کا عذاب اس طرح آیا کہ انہیں احساس بھی نہیں ہوا،پھر اللہ

جھوٹ بولنے کے نتائج مہلک ہوتے ہیں

مغربی تہذیب کی بے ہودہ رسومات میں سے ایک رسم اور روایت اپریل فول (April Fool) منانا ہے۔ اس کی ابتدا اگرچہ یورپ سے ہوئی لیکن اب پوری دنیا میں یکم اپریل کو جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور لوگوں خاص کر بوڑھوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، غرضیکہ جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا یہ تہوار ہے۔ امن وسلامتی کا علم بردار مذہب اسلام ہمیشہ ایسی برائیوں سے معاشرہ کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے جو معاشرہ کے لیے ناسور ہوں۔ قرآن وحدیث میں بار بار سچ بولنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں معاشرہ کی مہلک بیماری جھوٹ سے بچنے کی نہ صرف تعلیم دی گئی بلکہ جھوٹ بولنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لئے جہنم تیار کی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب آیت ۷۰ ۔ ۷۱ میں ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سی

رسول ِ رحمتؐ کا ضابطہ قانون

حضرت موسیٰ علیہ السلام جو دنیا کے بڑے قانون سازوں میں سے تھے، آسمانی احکام لے کر آئے ،جن کی رو سے قتل و غارت گری ،چوری اور بدکاری کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ان کے بعد دوسرے پیغمبر ؑ اعلیٰ خیالات کی تبلیغ لے کر آئے اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔چونکہ اللہ کے پیغامات انسانوں تک پہنچانے کے لئے آپؐ آخری نبی تھے کیونکہ آپ ؐ کے پیغامات اور قوانین کو ہر زمانے اور ہر مقام کے لئے مفید اور کارآمد بنانا تھا ۔اس لئے آپؐ کے دائرہ عمل کو بھی ان کے پیش روئوں کے مقابلے میں وسیع تر رکھنا تھا ،لہٰذا وہ زماںو مکاںکی بندشوں سے قطع نظر انسانی زندگی کے تقریباً سبھی پہلوئوں پر اثر انداز ہے اور آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ضابطۂ قانون ایک مکمل دستاویز بن گیا ہے۔آپؐ نے وحی الٰہی کے زیر ہدایت جن اصول و فروغ کو بیان فرمایا ،اُن کی حیثیت مستقل اور دائمی ہے۔ چنانچہ دین اسلام

کوروناوائرس:خوف کا دوسرانام

ٓٓٓٓٓٓٓآدمی ایک حقیر ذرّہ ہے دشت میں کائنات کی ہُو کا جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے گلی سڑی ہوئی مٹی سے اپنی روح ڈال کربنایا،جس کو اس نے اپنی نیابت سے بھی نوازا ، اس نے دنیاوی تاریخ میںجہاں کچھ اچھے کام کیے وہیں اس نے کچھ ایسے کام بھی کیے ہیںجنہیں دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے ۔غور کیجیے !پچھلے 300سالوں سے دنیا کے ممالک پر بطور ِ قوت حکمرانی کی۔ سائنس اور دنیا وی علم میںاِتنی زیادہ ترقی کی کہ وہ اب دوسرے سیّاروں میں بستیاں بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اِن شیطانی قوتوں نے ایسے جنگی سازو سامان بنائے کہ لاکھوں انسانوں کی جان چند منٹوں میں لی جاسکتی ہے۔ انھوں نے جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر پوری دنیا کو اس سے ڈرا رکھا ہے۔ایسی ایسی ایجادات کی ہیں جنھیں دیکھ کر عقل حیران اور پریشان ہو جاتی ہے۔ 1915 میں برطانیہ کے ایک فوجی جنرل نے کہا تھاکے ہم آج اتنے طاقتور ہیں کہ

کیا کائنات اپنے آپ چل رہی ہے؟

حضرتِ انسان اللہ کی اس زمین پر ایک نادر منفرد اور عجیب وغریب مخلوق ہے،اس کے حرکات و سکنات ساری مخلوقات جمادات،نباتات اور حیوانات سب سے مختلف ہیں۔مگر آج کا پڑھا لکھا عجب انسان خود اپنے آپ کو جانوروں میں شامل رکھنا پسند کرتا ہے بلکہ خود کوجانوروں کے ایک کلاس(خاندان)ممالیہ کا حصّہ بناکر مسرور و مطمئن ہے۔ہے ناعجب انسان ! یہ اپنے آپ کو آسمان سے زمین گرا کر اپنی ذلّت محسوس تک نہیں کرتا۔ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا،کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔کیا یہ حیرت انگیز عجوبہ نہیں تو کیا ہے؟بَھلا جنت میں پیدا ہونے والے اور زمین پرپیدا ہونے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ ربُّ الحکیم نے سب کو حکم دیا کہ انسان کو سجدہ کرو،کہا کہ میں اس کو اپنانائب بنا کر زمین پر بھیج رہا ہوں! مگر یہ نرا نائب نہیںتھا،مقصدصرف سجدہ کر وانایااشرف قرار دینا نہیں بلکہ اِس نے عملاً انسان کو اس کائنات میں جو چ

عہدہ و منصب امانت ہے

انسان جب کبھی کوئی پیشہ اختیار کرتاہے تو اس کی بدیہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی حاصل کرے،جس کے لئے سخت محنت ، لگن ،ایمانداری اور تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ترقی حاصل کرنے کے لئے اکثر لوگ ان جائز اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر غلط راستوں کا استعمال کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے وہ بڑی تیزی کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلے جارہے ہیں اور وہ لوگ اس بری خبر سے ناواقف ہیں۔ان کی صفات میں سے یہ صفت منافقت کی دلیل ہے ۔غلط راہوں سے ترقیاںحاصل کرنے والے لوگ ایک تو دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیںاور دوسرا ناجائز طور عہدے پر فائز ہوجاتے ہیںاور اس طرح نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے دین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ظاہر ہے جس کسی نے بھی ناجائز طریقے پر عہد پایا ہو وہ کبھی جائز کام کرہی نہیں سکتا بلکہ ایسے لوگ منافقت کو اختیار کرتے ہیں جو اپنے پیشہ میں مخلص نہیں ہوتے اور نہ ہی اﷲسے ڈرتے ہیں۔ایسے لو

علاماتِ قیامت

اللہ تعالیٰ کی ذات حاضر وغائب ،ظاہر وپوشیدہ اور چھوٹی وبڑی ہر ایک چیز کو جاننے والی ہے ،وہ ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،کوئی چیز ان کی نگاہ سے باہر نہیں ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے : ترجمہ(الرعد:۹)’’وہ غائب وحاضر تمام باتوں کا جاننے والا ہے ،اس کی ذات بہت بڑی ہے اس کی شان بہت اونچی ہے‘‘۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے :ترجمہ(آل عمران:۲۹)’’ (اے رسولؐ) لوگوں کو بتادو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو ،اللہ اسے جان لے گا ،اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ،وہ سب جانتا ہے ،اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ انسانوں ،جناتوں اور دیگر مخلواقات کے پاس جو کچھ علم ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے ،خالق کے مقابلہ میں تمام مخلوقات کا علم سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ کے برابر ہے اور یہ بھی بطور مثال ہ

محبت و دوستی !!

اسلام اللہ رب العزت کا نازل کردہ و پاکیزہ مذہب ہے جس میں انسان کو انسان نوازی کی تعلیم دی گئی ہے۔ معروف حقوق کی ترغیب اور منکر حدود کی ترھیب کی گئی ہے ۔سیاسی، سماجی، معاشرتی طور پر مساوات  اور یگانگت کا درس دیا گیا ہے۔ آپس کے تعلقات ودوستانہ وابستگی کاایک میزان تیار کیا گیا ہے۔ یقینا ایک ایسے تعلق و دوستی اور محبت کو روا رکھا گیا،جس کے نبھاؤ میں برابری سرابری ہو، خوشی و غمی میں یکسانیت  کاسلوک آئینے کی طرح صاف و شفاف ہو ، صلہ رحمی، ہمدردی کا عنصر غالب ہو۔ قول و عمل میںیک رنگی ہو،دورنگی نہ ہو ،گنج گراں ہو، سنگ گراں نہ ہو، محبت آداب محبت ، محبت کی راہ بتلانے والی ہو، حیا وشرم کے زیور سے آراستہ ہو ، ذہن کے دریچوں میں فحاشی وبے حیائی کا فتور نہ ہو ، بے پردگی ،بدنظری کے چور دروازے کھلے ہوئے نہ ہوں، اظہارمحبت کا کوئی آن ہو مگر ضمیر و تخیلات میں بے ہودگی اور نفس کی پرا گندگی،

مردِ مومن کا تصور

’’مرد مومن‘‘ علامہ اقبال کا ایک ایسا وسیع وعریض تصور ہے کہ جس کا احاطہ کرنا مجھ جیسے حقیر انسان کے لئے تو کیا بلکہ اُن کے لئے بھی دشوار ثابت ہوا ہے جن کا نام علم وادب کے آسمان پر سورج کی مانند تاباں ودرخشاں ہے۔ اقبال کے دیگر تصورات کی طرح اُن کا یہ تصور بھی صدفیصد قرآنی ہے اگر چہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے ’’ مردِ مومن‘‘ کا تصور نٹشے ؔ کے تصور ’’فوق البشر‘‘ سے اخذ کیا ہے جو سراسر ایک بے بنیاد خیال ہے۔ کیونکہ نٹشے ؔکے فوق البشر اور اقبال کے مردِ مومن کے درمیان ایک بہت بڑا خلاپایا جاتا ہے جس کو کسی بھی طرح پُر نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر غلام قادر لونؔ  کے بقول: ’’مردِ مومن جلال وجمال کا پیکر جمیل ہے وہ تمام دنیا سے نبرد آزما ہو کر دنیا میں زندگی کا وہ دستور نافذ کرنا چاہتا ہے جو خدان

سیلفی۔ ایک نیانفسیاتی مرض

ہر مسلمان پر تقوی کی زندگی گزارنا صرف ضروری ہی نہیں بلکہ فرض عین ہے، بلا امتیاز رنگ ونسل عنداللہ قبولیت کا دارومدار بھی اسی پر ہے "ان اکرمکم عند اللہ اتقکم "اور تقوی نام ہے دو چیزوں کے مجموعے کا ۱۔امتثال اوامر،۲۔اجتناب عن النواہی۔ تاہم ان میں بھی اہم ومقدم اجتناب عن النواہی(گناہوں سے بچنا)ہےیہی وجہ ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”تم حرام سے بچو عابد بن جاؤگے‘‘لیکن مسلمانان عالم نے اسی اہم جزء کو بھلاکر، آخرت کی پرواہ کئے بغیرجب حرام کی پر خطر اور خاردار وادی میں قدم رکھا اور تسکین نفس کے خاطر حرام کو ضرورت دین و اصلاح دین کا لیبل لگا کرحلال کرنے لگے ،تو شیطان نے بھی انہیں ایسے ایسے حرام کاموں کا چسکا لگایاجو غیرت ایمانی اور تقاضہ اسلامی کے بالکل خلاف ہے اور آج امت مسلمہ جن حرام کاموں میں سب سے زیادہ مبتلاء ہیں ان میں سے ایک تصویر کشی بھی ہے ،ج

عالمی یوم آب اور غافل کشمیری

آج پوری دنیا کوکرونا وائرس کے سیلاب نے گھیر لیا ہے جس کے نتیجہ میں 22 مارچ کو بین الاقوامی سطح پر ’عالمی یومِ آب ‘کے موقعہ پرکوئی سٹیج نہیں سجایا گیااور نہ کسی خاص تقریب ،سمینار یا بحث و مباحثہ کاانعقاد کیا گیا۔ظاہر ہے کہ کرونا نے جس طرح کی تباہی مچادی ہے اُس نے ہر خاص و عام کو دہشت و وحشت میں مبتلا کردیا ہے۔اور شاید یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہماری اوقات کیاہے۔ہمیں کیا کرنا تھا اور ہم کیا کررہے ہیں۔خیربات عالمی یوم آب کے متعلق ہے جو ہر سال22مارچ کو منایا جاتا ہے،جس میں پانی  کے وسایل کی ضرورت ،ان کی اہمیت اور ان کے بچائو کے لئے طرح طرح کی آرائیں  پیش کی جاتی ہیں اور نئے نئے منصوبےسامنے لائے جاتے ہیں تاکہ انسانی وجودکاقیام برقرار رہ سکے۔اس سلسلے میںاب اگر ہم اپنی اس وادی کی بات کرتے ہیںتو یہاں کے پانی کے وسائل دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے جار

معراج مصطفی ؐ

’’معراج ‘‘حضوراقدس ﷺ کے معجزات جلیلہ میں سے ایک بہت عظیم الشان اورنہایت ہی محیرالعقول معجزہ ہے جوحضورنبی اکرم ﷺ کے خصائص کبریٰ میں شمارکیاجاتاہے ۔خصائص کبریٰ کیاہیں؟آپ یوں سمجھ لیجئے کہ خداوندعالم نے تمام انبیاء ومرسلین کے معجزات کوحضورخاتم النبین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات میں جمع فرمادیااوران کے علاوہ ایسے خاص خاص معجزات سے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپؐ کوممتازفرمایاجوآپ کے سواکسی نبی ورسول کونہیں عطاکئے گئے ۔یہی معجزات آپ ؐکے خصائص کبریٰ کہلاتے ہیں۔چنانچہ معجزۂ معراج بھی اُنہیں خصوصی معجزاتِ نبوت میں سے ہے ۔حضورخاتم النبین ﷺ کوسواکوئی نبی ورسول اس سے سرفراز نہیں کیاگیا۔معززقارئین!’’معراج‘‘ کامطلب یہ ہے کہ حضورانورعلیہ الصلوٰۃ والسلام رات کے ایک مختصرحصے میں مسجدحرام سے مسجداقصیٰ تک اورمسجداقصیٰ سے آسمانوں کی سیرفرماتے ہو

زندگی کے دو راستے

عام طور پر لوگ برائی کا راستہ جلد اپنالیتے ہیں اور زندگی بھر مشکلات اور دشواریوں میں مبتلا رہتے ہیں لیکن جو لوگ نیکی کا راستہ اپناتے ہیں، بظاہر مشکلات اور دشواریاں نظر آتی ہیں مگر نیکی کا راستہ انسانی فطرت کے مطابق ہوتا ہے، اس لئے آسان ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جگہ بہ جگہ اللہ کی سنت کا یہ ذکر ملتا ہے کہ جو شخص نیکی کی راہ اختیار کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کیلئے راہ کی مشکلات آسان کر دیتا ہے۔ سورہ اللیل میں اللہ بتایا ہے کہ جس طرح رات دن میں فرق ہے، نر اور مادہ میں فرق ہے۔ اسی طرح نیکی اور برائی میں فرق ہے۔ اس کے انجام اور نتائج میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اللہ سورہ لیل میں فرماتا ہے:  ’’قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو، اور اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا، در حقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں، تو جس نے (راہ خدا میں) مال د

صبر کی توفیق وسیع تر عطیہ

صبر انسان میں ایک ایسی داخلی قدرت کا نام ہے جو ایمانی قوت سے پیدا ہوتی ہے، جس کے ذریعہ اپنی خواہشات پر قابو پانے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر قناعت کرنے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے بھی نہیں۔ کسی تکلیف یا صدمہ پر رنج وافسوس کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے، اسی لئے شریعت اسلامیہ نے کسی تکلیف یا مصیبت کے وقت رونے پر کوئی پابندی نہیں لگائی کیونکہ جو رونا بے اختیار آجائے وہ بے صبری میں داخل نہیں۔ البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ کسی تکلیف یا صدمہ یا حادثہ پر اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہ کیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر رضامندی کا اظہار کرکے اس کو تسلیم کیا جائے۔ ویسے تو ہر شخص اپنی زندگی میں بے شمار مرتبہ صبر کرتا ہے مگر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی صورت میں ہی صبر کرنا عبادت بنے گا، ورنہ مجبوری۔ جلیل القدر نبی حضرت ایوب علیہ الس

معراج العالمؐ

حضور پر نوراحمد مجتبٰی محمد مصطفٰیﷺکی سیرت مبارکہ ازل سے ابد تک ایک لافانی و لاثانی معجزہ اور سراپا نور ہی نور ہے ۔تاہم آپﷺ کی حیات مبارکہ میں کئی ایسے حیران کن اور فکر انگیز واقعات ر ونما ہوئے جن کی تاریخ اسلامی میں کافی اہمیت ہے ۔واقعہ معراج حضور پر نور ﷺکے حیات مبارکہ کے مکی دور میں پیش آیا، جو ان واقعات میں زبر دست اہمیت کا حامل ہے اور آپ ﷺکی سیرت مبارکہ پر مرصع تاج کی طرح چمکتا ہوا نظر آتا ہے ۔روایات کے مطابق عقل و دانش کو حیران کردینے والا یہ واقعہ 27رجب کو ہجرت مدینہ سے ایک سال قبل پیش آیا جب آپ کی عمر مبارک 52 برس تھی ۔ روایات کے مطابق سرور کائینات ﷺ بعد از عبادات جوار کعبہ میں اپنی عمزاد ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ بنت ابی طالب کے گھر میں آرام فر ما رہے تھے ۔باشندگان مکہ خواب غفلت میں مدہوش اور مکہ رات کی اندھیروں میں گھر چکا تھا کہ حضرت جبریل امین ؑ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر