تازہ ترین

عرب بہاریہ کی نئی دستک ؟

یہ  17 دسمبر 2010ء کی بات ہے جب تیونس کا ایک 28 سالہ خوانچہ فروش محمد ابوعزیز سڑک کے کنارے ٹھیلہ لگائے پھل بیچ رہا تھا۔ ایک ہی دن پہلے پیٹرول، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا تھا۔ ہفتہ وار تعطیل کی بنا پر جمعہ کو عام طور سے ابوعزیز کی بکری زیادہ ہوتی تھی، لیکن اُس روز بے چارے کا دھندا کچھ زیادہ ہی مندا تھا۔ گاہک آتے، بھائو معلوم کرکے مہنگائی کا رونا روتے اور کچھ خریدے بغیر آگے بڑھ جاتے۔ اسی دوران مقامی پولیس کی ایک 45 سالہ اہل کار فریدہ حامدی وہاں آئی اور ٹھیلہ لگانے کا بھتہ طلب کیا۔ عزیز نے قسم کھا کر کہا کہ صبح سے ایک دانہ نہیں بکا، تم کو پیسے کہاں سے دوں لیکن رشوت خوروں کے سینے میں دل کہاں ہوتا ہے۔ فریدہ نے ابوعزیز کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کرتے ہوئے راہ گیروں کا راستہ روکنے، ٹریفک میں خلل ڈالنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کر پرچہ ک

اپنا بچاؤ کیجئے اپنوں کے ساتھ ساتھ

جب  سے ہمارا یہ پیارا ملک بھارت انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ، اُس وقت سے لے کرآج تک ملک میں فتنوں اور فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ بلا روک ٹوک چلا آرہا ہے جن میں ہمیشہ ہمیش اقلیتوں اوربالخصوص مسلمانوں ہی کا بے انتہاجانی و مالی نقصان ہوا۔ جب سے بھاجپا حکومت مر کز میںدوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آ ئی ہے ، اُس وقت سے ملک میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کے جو الم انگیز واقعات متواتر رونما ہورہے ہیں، وہ اتنے سنگین اور جاں گسل ہیں کہ ان کے سامنے ایسے پچھلے تمام واقعات اور فتنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ درد ناک واقعات ہیں جن کی وجہ سے وطن عزیز بھارت کی اس وقت دنیا بھر میں خجالت ہورہی ہے ۔ یوروپین اقوام اور مغربی ممالک کے سنجیدہ افراد ان غیر انسانی وحشیانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سڑکوں پر اُتر کر احتجاج بھی کر رہے ہیں ۔ دراصل وطن عزیز بھارت میں ایک فسطائی ٹولہ

یادوں کے جھروکے سے

یادوں کی جڑیں پھوٹ ہی پڑتی ہیں کہیں سے دل اگر ٹوٹ بھی جائے تو بنجر نہیں ہوتا زندگی کی بہت صبحیں ہوئیں ،زندگی کی بہت شامیں ہوئیں اور یوں ہماری عمر تمام ہوتی رہی۔ اب میں ہوں، تنہائیاں ہیں اور یادیں ہیں مگر اپنے خالق ومالک سے اُمید ہے کہ جب وہ اپنے پاس بلالے گا تو انشااللہ اپنی رضا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ایمان کے ساتھ بلالے گا۔ خیر یادوں کے سفر پر آگے بڑھتے ہیں ۔غالباً 1978ء کے فروری کا مہینہ تھا۔ میرے ایک دوست محمد اسلم شاہ صاحب نے مجھے بہت اصرار کیا کہ ہم بیرون ریاست سیر پر جائیں گے۔ ہمارے یہ دوست مسکین باغ خانیارشہر خاص میں رہتے تھے اور میرے دفتری ساتھی تھے۔ ہم دونوں کو ملازمت میں ابھی کچھ ہی سال گزرے تھے۔ چونکہ ان دنوں میری مزاح کی حس بڑی تیز تھی اس لئے میں دوستوں کو ہنسایا کرتا تھا۔اس وجہ سے میں اپنے دوستوں میں مقبول بھی تھا اور محبوب بھی۔ اب وہ بات کہاں! وق

جوانی کی بہار، بڑھاپے کی خزاں

میرے ایک بزرگ دوست ہر وقت اپنی جوانی کی تصویریں لئے بیٹھے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی کمنٹری بھی جاری رہتی ہے۔ گزشتہ روز وہ ایک بار پھر یہ سب احوال بیان کر رہے تھے’’یہ تصویر دیکھو، جب میں نے لندن میں 32میل لمبی میراتھن ریس میں حصہ لیا تھا اس میں ہزاروں لوگ بھاگ رہے تھے لیکن پھر بھی میں سب کے آخر میں بہرحال نہیں تھا‘‘۔ واقعی کیا خوبصورت جوان تھے اور اتنی لمبی دوڑ کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہ تھے۔ ’’یہ دیکھو!میں جم میں ایکسرسائز کر رہا ہوں‘‘۔ ان کے ڈولے اور ان کی چھاتی دیکھ کر دل دہل سا گیا۔ ’’تم اس خوبصورت لڑکے کو پہچان سکتے ہو؟ یہ میں ہوں جو کانووکیشن میں مہمان خصوصی سے اپنی بی اے کی ڈگری وصول کر رہا ہے‘‘۔ اس روز مجھے یقین سا ہو گیا کہ وہ کم از کم بی اے پاس ضرور ہیں۔اُنہوں نے اپنی زنبیل میں سے ای

علاجِدنداں اخراجِ دنداں

اللہ رب العالمین کی عطا کردہ ہر جسمانی نعمت، نعمت بے بہا اور عطیۂ بے بدل ہے۔اس کی منجملہ نعمتوں میں سے ایک، انسان کے منہ میں دیے گئے دانت بھی ہیں۔رب العالمین نے جانوروں میں سے بعض کو ایک دانت تو بعض کو دو اور بعض کو متعدد دانت دیے ہیں۔بعض کو صرف اوپر اور بعض کو صرف نیچے اور بعض کو اوپر نیچے دونوں حصوں میں لیکن حضرت انسان کو رب العالمین نے اوپر نیچے تیس سے بتیس دانت عنایت کیے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ جن کے منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں وہ کچھ عظیم خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اردو کی مشہور کہاوت ہے۔ ’کس کے منہ میں بتیس دانت ہیں ‘جو ایسا ویسا کرنے کی جرات کرے۔یعنی مردوں میں بتیس دانت شجاعت وبہادری کی علامت مانے جاتے ہیں۔ عورتوں میں بتیس دانت سے منہ بڑا ہوجاتا ہے جس سے خوب صورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ دانت نہ ہوں توحضرت انسان رب العزت کی بے شمار نعمتوں کے ذائقے سے محروم ہوج

صریرِ خامہ۔۔۔۔ایک مطالعہ

مصنف:جناب سلیم سالکؔ صفحات؛:160 ،قیمت:300  ناشر:کریٹو اسٹار پبلی کیشن ،نئی دہلی کالم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کسی ہنگامی موضوع و مسئلے پر کالم ،کسی فن ،آرٹ یا ادب پر کالم یا محض ذات اور شخصیت پر کالم ۔سب کی اپنی اہمیت و معنویت ہے لیکن ادبی کالم زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔ادبی زندگی کی تہ در تہ پرتیں کھولتے ادبی کالم کسی فلم کے پردے پر چلتے مختلف مناظر کی طرح الگ الگ کیفیتیں پیدا کرتے اور گرہیں کھولتے ہیں۔ جناب سلیم سالکؔ کی کتاب’’صریر خامہ‘‘ بھی مختلف ادبی کالموں کا مجموعہ ہے جو زورنامہ ’’کشمیر اعظمی ‘‘کی زینت بن چکے ہیں اور اب کتابی صورت میں منظر عام پر آگئے ۔ان کالموں میں انھوں نے دور جدید کے ادیبوں ،شاعروں،نثر نگاروں،نقادوں اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ اور تخلیقی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی کے دلچسپ گوشوں کو بڑے سلیقے