تازہ ترین

کشمیر کی رُو بہ زوال پشمینہ صنعت

 تاریخ  کشمیر کے تابندہ ستارے ،مبلغ اسلام اور محسن کشمیر حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ جب وادی کشمیر میں تشریف لائے تواُن کے ساتھ بہت سارے ہنر مندکاری گر اور ماہرفنون بہ نفس نفیس موجودتھے۔یہ ساداتِ کرام دین و تبلیغ کے ساتھ مختلف دست کاریوں میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے جن میں قالین بافی، پیپر ماشی، شال بافی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سارے کاری گر خاکِ ایران سے تعلق رکھنے والے تھے اور کشمیر میں قدم رنجہ ہوکرپہلے ضلع کپوارہ میں رہایش پذیر ہوئے، یہاں پہاڑوں کی آغوش میںقیام کر تے ہوئے انہوں نے نومسلم کشمیریوں کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ لوگوں کو ہنرمندیوں اور دست کاریوں کی تربیت دی ۔ انہی قدسی روح اور پاک نفوس پر مشتمل خانوادہ ’’ بافندہ‘‘ بھی شامل تھا ۔اس قبیلے کا سر پرست سید احد شاہ بافند ہ تھے ، یہ شال بافی میں قابل قدر مہارت رکھتے تھے ۔ سید احد شاہ بافندہ نے

کرتارپور راہداری

گزشتہ   ایام میں لاہور میں ایسےا بر آلودہ موسم میں جب لوگ پارکوں اور میدانوں کا رُخ کرتے ہیں ، پاک بھارت مذاکرات کی ایک بیٹھک ہوئی۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس کے لئے شاباشی کے مستحق ہیں ۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنے دورۂ امریکہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔کر تارپور پر ہوئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے مل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ طرفین میں اسی فی صد معاملات طے پا چکے ہیں جب کہ اسلام آبادکی طرف سے راہداری پر اسی فیصد کام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔کرتار پور راہداری پر مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا، جس میں بھارت کے آٹھ رُکنی وفد نے شرکت کی جب کہ پاکستان کی جانب سے تیرہ رُکنی وفدنے مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے اس تازہ دور میں سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن اور داخلے کے

ایک یاد گار سفر

میں  امسال 7؍جون کی تاریخ کوعمرہ کی سعادت حاصل کر نے کے سلسلہ میں جموں سے دہلی ریل گاڑی میں روانہ ہوا۔  ٹرین کا یہ سفرتقریباً 25سال بعد ہوا۔ میں نے ریل کے ڈبے میں بیٹھ کر اس وقت اپنا رخت ِسفر باندھا کرتا جب ڈاکٹری(ایم بی بی ایس )ڈگری کے سلسلے میں پٹھانکوٹ سے پٹیالہ اورپٹیالہ سے پٹھانکوٹ آیاجایاکرتاتھا۔تب پٹھانکوٹ سے جموں ریل لائن نہیں بچھائی گئی تھی۔  ریل کا تازہ سفراس لئے مجبوراً کرناپڑا کیونکہ میرا جموں سے جہاز کی ٹائمنگ دہلی ۔جدہ طیارے کی روانگی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاتھا،اس لیے ا ب کی بارٹرین کاہی سفرکرناپڑا۔ مدتوں بعد ریل کا سفر انجوائے کر نے کی خواہش دل میں انگڑائی لے رہی تھی مگر موجودہ ملکی حالات کے مدنظر دل میں بڑی گھبراہٹ اور گھٹن سی محسوس ہورہی تھی، ڈریہ تھا کہ کہیں کوئی بجر نگی، زعفرانی ، بلوائی میری داڑھی شلوارقمیض اورسرپرٹوپی دیکھ کرکوئی بہانہ ڈھونڈھ

کانگر یس اپنی شکست کی آپ ذمہ دار؟

۔ 2019ءکے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو شرمناک شکست ہوئی۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ 2014ء اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی عبرت ناک شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی اور خود کو مضبوط کرنے کیلئے موثر اقدامات کرے گی۔ ابھی ان باتوں پر غور کیا ہی جارہا تھا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے استعفیٰ دے دیا اب وہ اپنے استعفیٰ کو واپس لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ راہول گاندھی کے مستعفی ہونے کی وجوہات اب سامنے آرہی ہیں اِن میں سے اہم یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے کسی بھی ریاست میں کھل کر راہول گاندھی کا ساتھ نہیں دیا اسی لئے راہول گاندھی نے کہا کہ بیشتر سینئر قائدین کو پارٹی کو کامیاب بنانے سے زیادہ دلچسپی اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو کامیاب کروانے سے تھی گوکہ راہول گاندھی نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن بیٹوں اور رشتہ داروں کے لئے کھل کر کام کرنے والے قائدین کے نام سب کو معلوم ہیں۔ راہول گ

نظامِ تعلیم کا قبلہ دُر ست کر یں

  آج کل تعلیم کا چرچا عام ہورہا ہے ۔ اگر کوئی شخص تعلیم کے بغیر ہو تو اس کو مہذب انسان تصور ہی نہیں کیا جاتا مگر پچھلے زمانے کی تعلیم آج کی تعلیم سے الگ تھی۔ ان دنوں اخلاقیات، اقتصادیات اور ادبیات پر زور تھا مگر دورِ حاضر کی تعلیم میں ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔ آج نوجوان پیڑھی کیوں بگڑ ی ہیں؟ اس میں بڑھوں کا احترام کیوں نہیں؟ وجہ صرف ہمارا ناقص نظام تعلیم ہے۔ ہمارے یہاں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے نصاب میں آپ کو اخلاقیات، اقتصادیات ، حُسن معاشرت اور ادبیات کا فقدان ہی فقدان نظر آئے گا۔ اس لئے ہم آج ہم پڑھے لکھےڈگری والے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ اگر کسی نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کی ہوں مگر وہ اخلاقیات سے تہی دامن ہو تووہ اپنے لئے یا سماج کے لئے کوئی اثاثہ ثابت نہ ہوگا ۔ اس میں اگربزرگوں کا احترام نہ ہو، غریبوں سے ہمدردی نہ ہو، صنفِ نازک کی تکریم نہ ہو ، تو وہ تعلیم