تازہ ترین

حُبِ رسول ﷺ

 خاتم  النبیین رحمتہ اللعالمین خیر الانام صلی اللہ علیہ و سلم اُمت مسلمہ کی خیر و عافیت کےلیے تنہائیوں میں اللہ کے حضور دعا ئیںمانگتے تھے۔ اُمت کی خاطر ہر دم بے چین اور فکر مند رہتے تھے۔ آپ صلعم اپنے سینہ مبارک میں انسانیت کا غم کا پہاڑ لئے بیٹھےتھے اور اُمت کے ایمان وصالحیت کی خاطر بے حد اشک بار ہوتے تھے۔ آپ صلعم کی بے چین و بے قراری کو قرآن مجید نے سورۃ الکہف میں یوں نقشہ کھینچا، ارشاد فرمایا کہ ’’پس اگر یہ لوگ اس بات (قرآن)پر ایمان نہ لائے تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں گے۔(الکہف ۶) قرآن کریم پر ایمان نہ لانے والوں کا آپ صلعم کو اتنا غم کہ قرآن کو نازل فرمانے والا رب زوالجلال ہی اپنے محبوب نبی سرورکونین صلعم کو دلاسہ ، ہمت اور حوصلہ دے رہاہے ۔ طائف کی وہ ستم گزیدہ گلیاں جو جنگ ِاُحد سے بڑھ کر آپ کی تکلیف دیکھتی رہیں ، اس

مہنگائی کی غریبوں سے ابدی سگائی!

دن بھر کی شدید مصروفیت ‘ بہت سارے مختلف مزاج اور نفسیات کے حامل لوگوں سے ملنے جلنے کے بعد شدید تھکاوٹ کے بعد میں اب گھر جارہا تھا، میرا جسم جوانی اور توانائی کی سرحدوں کو عبور کر کے اب بڑھاپے کی طرف دھیرے دھیرے سرک رہا تھا ۔ اس وجہ سے اب جسم اور دماغ میں پہلے والی چستی پھرتی نہیں تھی بلکہ اب جسم آرام طلب ہو تا جارہاتھا ۔میں بھی آرام دہ ٹھنڈی کار میں گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ جاتے ہی شاور لے کر کھانا کھا کر خود کو بستر کے حوالے کر دوں گا تاکہ تھکاوٹ کا اثر ختم ہو اور جسم پھر  چاق و چوبند ہو سکے ۔گرمی اور حبس اپنے جوبن پر تھے ، اس لیے کار سے اُترتے ہی میں ڈور بیل پر انگلی رکھ کر بھول گیا میں آگ برساتے سورج کے نیچے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا ،جلدی دروازہ کھلے اور میں اندر ٹھنڈے کمرے میں جاسکوں۔ اسی دوران ایک شکستہ حال شنا سا چہرہ میرے قریب آیا جسے میں نے فوراً پہچ