تازہ ترین

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

 قصور ہیرا گولڈ کا نہیں، قصور ہمارے حافظے کا ہے۔ ورنہ یہ دھوکہ دہی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر دس پندرہ سال میں کوئی نہ کوئی مذہبی یا سماجی تنظیموں کا سہارا لے کر کروڑوں کا چونا لگا جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں۔ ہاں ہیرا گولڈ کے دھوکے میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ اِس بار بڑے بڑے علماے ٔسلف بھی آگئے۔ خیر سانپ تو نکل گیا اب لکیرکو پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں مستقبل میں اگر کوئی سبق سیکھنا ہوتو ہمارے پاس چند اہم تجاویز ہیں۔  سب سے پہلے تو اِس غلط فہمی سے باہر آیئے کہ صرف مسلمان ہی دھوکہ کرتے ہیں۔ ہیراگولڈ،IMA ، المیزان، الامانہ، الحرم، الفلاح سعیدبھائی وغیرہ اور دوسرے کئی زمینات اور عمرہ و حج ایجنٹوں سے دھوکے کھانے کے بعد اکثرلوگ اتنے بددل ہوگئے کہ حمیت ِقومی کا لحاظ کئے بغیر یہ کہنے لگے کہ مسلمانوں کے سارے کاروبار ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ غیرمسلموں نے اِن سے بھی کئی گنا زیادہ فرا

مولانا محمد علی جوہرؔ

 دنیا میںبعض شخصیتیں عہد ساز ہوتی ہیں ، ان کا وجود عوام کی طاقت اور توانائی کا مرکز و محور ہوتا ہے ، ان کی حرکات اور چشم ابرو کے اشارات افراد و اقوام کیلئے مہمیز کا کام انجام دیتی ہیں ۔ اقبال کا یہ شعر ا س بارے میں چشم کشا ہے   ؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر  فرد ہے  ملت کے  مقدر کا  ستارہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پر رئیس الاحرارمولانا محمد علی جوہرؔ کی شخصیت قائدین ملک و ملت کی صف میں کئی لحاظ سے منفرد تھی ۔ قائدانہ صلاحیت ، عزتِ نفس اور دولت استغنیٰ ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا ان کی دائمی خصلت تھی۔ وہ مخلص ،بہادر، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میں دوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے تھے۔دست قدرت نے مولانا محمد علی کو قیادت و سیا

ہوگا نہ پردہ فاش ۔۔۔۔ قسط2

گزشتہ  کالم میں ایک لمبی تمہید ڈالنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کے ساتھ اس طرح کی دو باتیں شیئر (Share) کریں کہ ہم نے دیکھا تو نہیں ہے البتہ اس بارے میں پڑھا ضرور ہے کہ بھارت ورش کی شاندار روایات رہی ہیں اور ایک فخریہ ماضی رہا ہے ۔اس ملک میں بڑی بڑی قد آور شخصیات مصلح،رہنما اور ریفارمر ، سیاست دان ،علماء و فضلا ء ،ادباء و شعراء ،مذہبی شخصیات ،دیوتائوں کے سروپ بادشاہ ،فاتح اور شکتی وان،حتیٰ کہ روحانی کمالات و کرامات سے متصف سادھو سنت اور مہاتما پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ملک میں شیر اور بکری نے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیا ہے اور انسانوں نے وحوش کو وَش میں کرکے شیروں کے مونچھوں پر بھی بوسے دئے ہیں ۔ہمیں ملک کے ان تمام خصوصیات اور گن گان سے اختلاف کرنے کی منشاء ہے اور نہ ضرورت ۔یہ سب باتیں تو ہم من و عن مان لیتے ہیں مگر موجودہ حالات کی نیرنگیاں اور مشاہدے میں آرہے عجیب و

شادی کا ادارہ ڈگمگارہا ہے

مبلغ  حضرات جب اصراف و تبذیر پر وعظ فرماتے تو منہ میں جھاگ جما جما کر وازوان، ون وُن اور فروعی مصارف پر جہنم کے فری پاس بانٹتے ہیں۔ سرسری جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہر سال کشمیر میں پچیس ہزار سے زائد شادیاں ہوتی ہیں۔ مطلب پچاس ہزار نفوس زندگی کی نئی دہلیز پر قدم رکھ کر ایک نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس تعداد میں نصف ایسے ہیں جو زندگی کی اگلی کم از کم دس بہاریں عدالتوں، مفتیان اور مقامی پنچایتوں میں گزارتے ہیں کہ ان کی ازدواجی زندگی آپسی کدورت، خاندانی مخاصمت اورغلط فہمیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں یا باپ کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور عمر کے انتہائی حساس مرحلہ پر اُن کی پرورش میں ماں یا باپ کی شفقت کا خلا رہ جاتا ہے۔  پوری دنیا میں شادی کو بحیثیت ادارہ بچانے کے لئے کیتھولک عیسائیوں نے وسیع مہمات چلائیں، اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں۔ چونک

مولانا مہرالدین قمرؔ راجوروی

مولانا  مرحوم مہرالدین قمر راجوروی پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔ اس مردحُر کا جنم جس قوم اور خطہ میں ہوا، افسوس وہاں کسی نے اُن کی قد، قدر و قیمت اور شخصیت کو نہیں پہچانا۔ پورے خطۂ پیر پنچال کے لوگوں کی یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ اُنہوں نے کبھی بھی اپنے خطہ کی تاریخ، یہاں کی اہم شخصیات اور اُن کے سنہرے کارناموں کو محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی قوم اور خطہ کی پہچان اُس کی اہم شخصیات، اُن کی ملی خدمات اور تاریخی کارناموں سے ہوتی ہے جو اس قوم کا ورثہ ہوتا ہے اور جن سے آنے والی نسلوں کو زندگی کے رہنما خطوط فراہم ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے بزرگوں کی خدمات، عملی و تحریکی ورثے کا تحفظ نہ کر سکے وہ کچھ وقفے کے بعد کار زارِ حیات کے منظر نامے سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹ جاتی ہے۔  ڈوگرہ عہدکے راجوری کی تاریخ ادھوری رہے گی اگر اس میں راجوری کے اس عظیم حریت پسند، شعلہ بیاں مقرر، آت